معین قریشی معاملے میں ’چوتھی دنیا‘کے انکشافات رنگ لائے:پربھات رنجن

معین قریشی کے تعلق سے چوتھی دنیاکے سینئرایڈیٹرپربھات رنجن نے ’’چوتھی دنیا‘‘کے شمارہ378میں کچھ انکشافات کئے تھے جوکہ بعدمیں رنگ لائے اورسیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گیا۔حوالہ سرغنہ معین قریشی کی اونچی پہنچ کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی گرفتاری پر پورا سسٹم انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پیچھے پڑ گیا۔ کہا جانے لگاکہ قریشی کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھا گیا ہے۔ اکانومک جرائم کرنے والے آدمی کے بچاؤ میں سارے قانونی اختیارات اور حقوق انسانی دھڑا دھڑ سامنے رکھے جانے لگے۔ کہا جانے لگا کہ کسی بھی آدمی کو وجہ بتائے بغیر اور مؤثر قانونی مدد دیئے بغیر حراست میں نہیں لیا جاسکتا ۔ دہلی ہائی کورٹ نے تو قریشی کی گرفتاری پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جواب تک طلب کرلیا۔ یہی تحفظ ملک کے عام شہریوں کو بھی مل پاتا تو ملک کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا ہے کہ معین کے لنک کئی بڑے لوگوں اور حوالہ کاروباریوں سے ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کہتے ہیں کہ معین قریشی کے منی لانڈرنگ اور حوالہ دھندے کی لپیت میں یو پی اے دور حکومت کے دو وزیر سیدھے طور پر پھنس رہے ہیں۔ انکم ٹیکس محکمہ نے ان لیڈروں اور قریشی کے ساتھ بڑی رقم کے لین دین کے لنک پکڑے ہیں۔ ان دونوں وزیروں کے حوالہ ریکٹمیں شامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ یو پی اے سرکار کے دور حکومت میں ہوئے 2جی اسکیم میں پھنسی ایک بڑی کمپنی سے لی گئی 1500 کروڑ روپے کی رشوت کی رقم معین قریشی نے ہی حوالہ کے ذریعہ باہر بھیجی تھی۔ پیسے کا لین دین ہانگ کانگ میں ہوا تھا۔ چھان بین میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ معین قریشی نے حوالہ کے کام میں مرکزی خفیہ ایجنسی کے آفیسر کے رشتہ داروں کے ہانگ کانگ کے بینک اکاؤنٹس کا بھی استعمال کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ ان ٹرانجکشن کے ٹریل دستیاب ہوچکے ہیں۔ جانچ میں کئی اور سابق وزیروں کے بھی نام سامنے آنے کی امید ہے۔ معین قریشی پورے اقتدار کے گلیارے میں دلالی کا نیٹ ورک پھیلا کر منی لانڈرنگ اور حوالہ کا کاروبار چمکا رہا تھا۔ سی بی آئی کے ذرائع کہتے ہیں کہ معین قریشی کو ملک سے غداری کی سرگرمیوں میں بھی منسلک رہنے کا خدشہ ہے جس کی گہرائی سے چھان بین چل رہی ہے، قریشی کے پاکستان سے گہرے لنک پائے گئے ہیں، جو خفیہ ایجنسیوں کی راڈاہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے عدالت سے کہا ہے کہ معین قریشی چھان بین میں تعاون نہیں کررہا ہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *