کیسے رکے گا کسانوں پر ظلم وستم ؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2022 کا وقت مقرر کیا ہے کہ تب کسانوں کی آمدنی دوگنی ہوجائے گی۔فی الحال ملک کا کسان اپنی پیاز منڈی میں 50 پیسے کلو بیچتا رہے، دودھ سڑک پر پھینکتا رہے، خود کشی کرتا رہے اور جب سب کر کے تھک جائے تو سڑک پر اتر کر آندولن کرے۔لیکن کسان نہیں جانتے کہ جیسے اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے ،ویسے ہی اس سرکار میں آندولن بھی نہیں ہوتے۔ شاید تبھی مندسور سے لے کر مہاراشٹر، تمل ناڈو سے لے کر راجستھان تک، کسانوں نے آندولن تو کیا لیکن ان کے آندولن اپنے آخری انجام تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتے ہیں۔ سرکاری گولی سے لے کر سرکاری وعدوں کے چکر بھیو میں کسان پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ چاہے قرض معافی کی بات ہو یا سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کے مطابق 50 فیصد اضافی ایم ایس پی دیئے جانے کی مانگ۔کسانوں کی ہر مانگ کو سرکار ایک ایسے جال میں الجھا کر پیش کرتی ہے ،جسے کسانوں کے لئے سمجھنا بھی مشکل ،ماننا بھی مشکل اور ٹالنا بھی مشکل ہو جاتاہے۔بالآخر کسان آندولن ملکی سطح پر پھیلنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں ملککے مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، تمل ناڈو کے کسانوں کا جنتر منتر پر انشن اور ستمبر کے مہینے میں ہی راجستھان کے سیکر میں لاکھوں کسانوں کا دھرنا، احتجاج ہوا۔ سبھی آندولنوں کی مانگ تقریبا ایک ہی تھی ’’قرض معافی ‘‘۔سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنا، پیداوار کی مناسب قیمت ملنا وغیرہ۔ لیکن ان تینوں آندولنوں کا حشر کیا ہوا؟ اسے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں راجستھان کے کسانوں کے آندولن کی۔ سیکر میں یکم ستمبر سے 13ستمبر تک چلے وسیع کسان آندولن کا جو انجام ہوا ہے ،اس نے ثابت کر دیا کہ موجودہ سرکار ملک میں کسی بھی آندولن کو اس مقام تک کبھی نہیں پہنچنے دے گی جہاں پہنچ کر کسان کے مسائل ایک ملکی مدعا بن سکے ۔

 

 

 

 

 

 

سیکر آندولن کو ناکام بنانے کی کوشش
آندولن کی وسعت اور اپنی مانگوں کے تئیں کسانوں کے عزم کو دیکھتے ہوئے سرکار نے راجستھان کے کسانوں کی مانگوں کو پورا کرکے ان کے مسائل کا مستقل حل کرنے کے بجائے انہیں آدھی ادھوری رضامندی اور بھروسہ دلانے کی حد تک سمیٹ دیاہے۔حالانکہ اس سے پہلے راجستھان سرکار نے پوری کوشش کی کہ کسانوں کا یہ آندولن ناکام ہو جائے۔ پہلے تو جے پور پوری طرح سے سیکر کو نظر انداز کرتا رہا لیکن جب 4ستمبر کو سیکر میں کسانوں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کا پتلا جلایا گیا اور پورے سیکر میں کاروبار بند ہوا، تب جاکر سرکار کو اس آندولن کی وسعت سمجھ میں آئی لیکن تب بھی سرکار اسے علاقائی طور پر سلجھانے کی کوشش میں ہی لگی رہی۔ضلع انتظامیہ کی طرف سے کسانوں کو بات چیت کے لئے بلایا گیا۔ کلکٹر، کمشنر اور آئی جی کے ساتھ اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے لیڈروں کی بات چیت ہوئی لیکن جیساکہ ہونا تھا، یہ بات چیت بے نتیجہ رہی، کیونکہ کسانوں کی 11نکاتی مانگوں کو پورا کرنا ضلع انتظامیہ کے بس کی بات تھی نہیں تھی۔ آندولن کو ختم کرنے کے لئے سرکار کی طرف سے ایک اور سازش رچی گئی۔ میڈیا اور عوام میں یہ پیغام دینے کے لئے کہ سرکار کسان لیڈروں سے بات چیت کررہی ہے، سرکار نے بھارتیہ کسان سنگھ کو بات چیت کے لئے بلا لیا، جبکہ اس کی اس آندولن میں کوئی حصہ داری نہیں تھی۔ یہ آندولن اکھل بھارتیہ کسان سبھا کی قیادت میں انجام دیا جارہا تھا۔
دراصل بھارتیہ کسان سنگھ، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی کسان تنظیم ہے ۔ صاف ہے کہ بی جے پی سرکار میں آر ایس ایس سے جڑی کوئی تنظیم سرکار کے خلاف سڑکوں پر اترے گی نہیں لیکن عام لوگوں کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ سرکار نے آندولن کرنے والے کسانوں سے بات چیت کی، انہوں نے آر ایس ایس کی اس تنظیم کو بات چیت کے لئے مدعو کیا، جن تک ان کی سیدھی پہنچ ہے اور جو سرکار کے خلاف کچھ نہیں بول سکتے۔
کسانوں کو الجھا دیا سرکاری اسکیموں کے جال میں
پورے راجستھان کی رفتار پر بریک لگا دینے والے آندولنوں سے جب سرکار کی نیند ٹوٹی اور سرکار نے کسانوں کو بات چیت کے لئے بلایا تو لگا تھا کہ کچھ ٹھوس نتائج نکل کر سامنے آئیں گے لیکن جو سامنے آیا وہ پوری طرح سے ناکافی ہے۔ جن 11 نکاتی مانگوں کو لے کر پوری ریاست کے کسان اپنے گھر سے دور لگاتار 13دنوں تک سڑکوں پررہے، ان مانگوں کے عوض میں سرکار نے انہیں اپنی پرانی اسکیموں کا خاکہ سنا دیا ۔جی ہاں، آدھے سے زیادہ مانگوں کے جواب میں انہیں گھسی پٹی اسکیموں کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کی ناکامی نے کسانوں کو سڑکوں پر آنے کو مجبور کیا۔ مکمل قرض معافی کو آدھے ادھورے پر سمیٹ دیا گیا، اس میں بھی ایک لمبے پروسیس کا جھول ہے۔ کسانوں کی مانگ تھی کہ ان کے اوپر جتنا بھی قرض ہے، اسے معاف کیا جائے لیکن سرکار نے اس مانگ کو آدھا ادھورا پورا کیا۔ سرکار 50 ہزار روپے تک کی قرض معافی کو لے کر ہی متفق ہوئی ۔ اس میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ اس قرض معافی کو لے کر ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ وہ کمیٹی دیگر ریاستوں میں ہوئی قرض معافی کا تجزیہ کرکے ایک مہینے میں رپورٹ دے گی اور اس کے مطابق سرکار قرض معافی کو لے کر قدم اٹھائے گی۔
سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں لاگو کرنے کے معاملے میں بھی ٹال مٹول ہی دکھائی دیتا ہے۔ سرکار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سوامی ناتھن کمیشن کی 80فیصد سے زیادہ سفارشیں لاگو کی جاچکی ہیں۔ ریاست میں پہلے سے چل رہی اگریکلچر ڈیولپمنٹ کی تمام اسکیمیں سوامی ناتھ کمیشن کی سفارشوں کے مطابق ہی ہیں، اسے مکمل طور پر لاگو کرنے کو لے کر مرکزی سرکار کو لکھا جائے گا۔ جانوروں کی فروختگی پر لگی روک کو ہٹانے والی مانگ میں بھی ایسی ہی ملمع سازی ہوئی ہے۔نئے قانون کے مطابق تین سال سے کم عمر کے بچھڑوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کسانوں کی مانگ تھی کہ اس پابندی کو ہٹایا جائے کیونکہ اس قانون کے بعد مجبور کسان بھی اپنے جانور نہیں بیچ پا رہے تھے۔ سرکار نے اس معاملے میں پوری راحت دینے کی جگہ تین سال کو گھٹاکر دو سال کر دیا ۔ یعنی اب دو سال سے بڑے بچھڑے بیچے جاسکیں گے۔ کو آپریٹیو سوسائٹیز کے قرضوں میں کٹوتی بند کرنے اور کسانوں کو فصلی قرض دینے کی مانگ پر تو پوری طرح سے پرانی اسکیموں کا ملمع چڑھا دیا گیا ہے۔ کسانوں کے ساتھ میٹنگ میں موجود کوآپریٹیو منسٹر نے بتایا کہ موجودہ سرکار کے دور حکومت میں 57 ہزار کروڑ کے سود سے پاک قرض منظور کئے گئے ہیں۔ وزیر نے پچھلی کانگریس سرکار کے ذریعہ منظور کیے گئے قرض سے اس کا موازنہ کیا اور کہا کہ پچھلی سرکار نے صرف 27.87 ہزار کروڑ کے قرض ہی تقسیم کئے تھے لیکن اس سود سے پاک قرض کو سبھی کسانوں تک پہنچانے کی مانگ کو لے کر وزیر نے کچھ نہیں کہا۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سرکار کی طرف سے کسی کسان آندولن کی دھار کند کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ پچھلے دو تین سالوں میں جتنے بھی کسان آندولن ہوئے، سبھی کو ہر طرح سے دبایاگیا۔ کچھ آندولنوں کو تو تشدد میں بدل دیا گیا۔ حال کے دنوں میں ایسے دو آندولن اہم رہے۔ ایک مہاراشٹر کا آندولن اور دوسرا مدھیہ پردیش کے مندسور کا کسان آندولن ۔
مہاراشٹر آندولن : فائلوں میں دفن ہو گئے وعدے
مہاراشٹر کے کسان آندولن نے بھی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔ قرض معافی اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں لاگو کرانے سے متعلق دیگر مانگوں کو لے کر احمد نگر کے دل پونتانبا گائوں سے کسان ہڑتال کی ابتدا ہوئی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے آندولن کی شکل اختیار کر لی۔ اس آندولن نے پورے مہاراشٹر کو اپنی زد میں لے لیا تھا۔سڑکوں پر اناج، پھل بکھیر کر اور دودھ بہا کر احتجاج کرنے والے کسانوں نے ملک ہی نہیں بیرون ملک میں بھی سرخیاں بٹوری تھی۔ اس آندولن کی شروعات میں بھی سرکار سوتی رہی لیکن جب آندولن نے وسیع شکل اختیار کرلی اور اس سے عام آدمی متاثر ہونے لگے تب سرکار نے کسانوں کو بات چیت کے لئے بلایا۔11 جون کو ممبئی میں کسانوں کی سوکانو کمیٹی اور ریاستی سرکار کے ذریعہ بنائی گئی وزیروں کی کمیٹی کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ اس میں سرکار کی طرف سے کسانوں کو قرض معافی کی یقین دہائی کرائی گئی۔ اس یقین دہائی کے بعد کسانوں نے آندولن ختم کرنے کا فیصلہ لیا۔ لیکن جب قرض معافی کے اعلان کی بات آئی تو پتہ چلا کہ اسے بھی شرط کے ساتھ لاگو کیا جارہا ہے۔ شرط یہ تھی کہ جن کسانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے کم زمین ہے، ان کا ہی قرض معاف کیا جائے گا۔ حالانکہ سرکار نے یہ بھی کہا کہ جن کسانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے زیادہ زمین ہے اور وہ ضرورتمند ہیں، ان کی قرض معافی پر غور کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی اور اس کی رپورٹ کے بعد ان کسانوں کی قرض معافی بھی ہوگی۔ سوامی ناتھ کمیشن کی سفارشیں لاگو کرنے کو لے کریہ فیصلہ ہوا کہ وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس کی صدارت میں ایک کمیٹی بنے گی، جس میں کسانوں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔یہ کمیٹی وزیر اعظم نریندر مودی سے مل کر آگے کی سمت طے کرے گی۔ دودھ کے دام بڑھانے اور کسانوں کو منافع دینے کی مانگ پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جس طرح چینی کے لئے کسانوں اور سرکار کے بیچ 70.30 کا حساب ہوتا ہے، ویسے ہی دودھ کا بھی ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ سرکار 20جولائی تک دودھ پالیسی لانے جارہی ہے۔
سرکار کے یہ سبھی وعدے ہواثابت ہوئے اور اپنی مانگوں کو لے کر کسانوں کو پھر سے سڑکوں پر آنا پڑا۔ قرض معافی کے اعلان کے دو مہینے بعد جب سرکار کی طرف سے اسے لے کر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو کسانوں نے پھرسے آندولن شروع کیا لیکن کسانوں کے اس آندولن کو یوم آزادی کی آڑ میں طاقت کے بل پر کچل دیا گیا۔ قرض معافی کے پیکج کو لاگو نہیں کئے جانے کے خلاف احمد نگر ، ناسک اور پربھنی کے احتجاج کررہے سینکڑوں کسانوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا، کیونکہ اس دن 15اگست تھا۔ اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے بینر تلے ہو رہے اس آندولن کے دوران احمد نگر میں اکٹھا ہوئے سینکڑوں کسان وزیر رام شندے سے ملاقات کر کے اپنی مانگوں کے حق میں ایک میمو سونپنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان پر بے رحمی سے ڈنڈے برسائے۔ یہ کتنا افسوسناک ہے کہ ایک طرف لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے وزیر اعظم کسانوں کے لئے کئے گئے اپنے کاموں پر قصیدے پڑھ رہے تھے اور دوسری طرف اپنے حق کی آواز بلند کررہے کسانوں پر پولیس لاٹھیاں برسا رہی تھی۔
مندسور آندولن ،تشدد کی آگ میں جلی کسانوں کی مانگ
مدھیہ پردیش کے مندسور کسانوں کے آندولن کا انجام تو اور بھی برا رہا۔ جو کسان اپنے حق کے لئے سڑکوں پراترے، انہیں پولیس کی گولی کھانی پڑی۔ 6جون کو ہزاروں کسانوں کا ہجوم مندسور اور پیپلیامنڈی کے بیچ بہی پارشناتھ فار لین پر اکھٹا ہو گیا۔ ان کسانوں نے چکا جام کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کی طرف سے جب کسانوں پر سختی دکھائی گئی تو کسانوں نے احتجاج درج کرایا۔ مٹھی بھر پولیس کسانوںکے بیچ گھر گئی۔ کسانوں کا الزام تھا کہ سی آر پی ایف اور پولیس نے بغیر وارننگ دیئے فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ میں 6 لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد تو پورا مندسور ، نیمچ، رتلام سمیت کئی اضلاع تشدد کی آگ میں جلنے لگے۔ جن مانگوں کو لے کر کسان سڑکوں پر اترے تھے اور آندولن کر رہے تھے، وہ سبھی مانگ تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس کے بعد شروع ہوا سیاسی ڈرامہ۔ سرکار نے مندسور کے ڈی ایم ، ایس پی کا تبادلہ کیا۔ نیمچ اور رتلام کے بھی کلکٹر بدلے گئے۔غور کرنے والی بات یہ رہی کہ سرکار پہلے پولیس فائرنگ میں کسانوں کی موت سے انکار کرتی رہی۔ لیکن گولی کانڈ کے تیسرے دن سرکار نے یو ٹرن لیا اور 8جون کو وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے پولیس فائرنگ میں ہی 5کسانوں کی موت ہونے کی بات مان لی ۔ وزیر اعلیٰ آنسو بہاتے ہوئے میڈیا کے سامنے آئے اور مدھیہ پردیش میں امن بحالی کے لئے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔ حالانکہ 9 جون کو شروع ہوئی شیو راج سنگھ چوہان کی بھوک ہڑتال 10جون کو ہی ختم ہو گئی۔ کانگریس نے اسے دکھاوا قرار دیا اور اس کے بدلے میں 14جون سے 72 گھنٹے کے ستیہ گرہ کا اعلان کیا لیکن اس پوری سیاسی ڈرامے کے بیچ کسانوں کی مانگوں والا اہم مدعا بھی سرکاری گولی کھائے کسانوں کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔

 

 

 

 

 

کیا ہے سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات
٭سیلنگ سرپلس اور بنجر زمین کی تقسیم۔
٭اہم زرعی زمین اور جنگل کارپوریٹ علاقے کو غیر زرعی اسکیموں کے لئے دینے پر روک۔
٭آدیواسیوں اور چرواہوں کو جنگل میں چرائی کا حق۔
٭ایک نیشنل لینڈ یوز کنسلٹینٹ سروس کا قیام۔
٭زرعی زمین کو فروخت مقررکرنے کے لئے ایک سسٹم کا قیام۔
٭سستا ہیلتھ بیمہ قائم ہو، فرسٹ ہیلتھ سینٹروں کو پھر سے قائم کیا جائے۔
٭مائیکروفائننس پالیسیوں کی از سر نو تشکیل ، جو معاشی فنانس کے طور پر کام کرے۔
٭سستی قیمت، صحیح وقت، جگہ پر اچھے بیجوں اور دیگر میٹریل کی فراہمی یقینی بنایا جائے۔
٭کم جوکھم اور کم لاگت والی صنعت جو کسانوں کو زیادہ آمدنی دینے میں مدد کرے کا قیام۔
٭لائیو سیونگ کروپس کے معاملے میں مارکیٹ ہولسٹک پلان کی ضرورت۔
٭انٹرنیشنل ویلیو سے کسانوں کی سیکورٹی کے لئے امپورٹ ڈیوٹی پر تیزی سے کارروائی کی ضروت کا خیال رکھا جائے۔
٭ایم ایس پی پر عملدر آمد میں سدھار ۔دھان اور گیہوں کے علاوہ دیگر فصلوں کے لئے بھی ایم ایس پی کا بندوبست کیا جائے۔
٭ایم ایس پی کی اوسطاً لاگت کے مقابلے میں کم سے کم 50 فیصد سے زیادہ ہو ۔
٭ایسے بدلائوکئے جائیں جو گھریلو اور عالمی بازار کے لئے مقامی پیداوار کی گریڈنگ ،برانڈنگ ، پیکجنگ اور ڈیولپمنٹ کو بڑھاوا دے۔
نیو انڈیا میں کسانوں کی قبر کے لئے جگہ رکھئے گا
ہندوستان میں بدلائو کے نعرے شائننگ انڈیا سے ہوتے ہوئے نیو انڈیا تک پہنچ گئے لیکن اناج پیداکرنے والے کسان آج بھی موت کو گلے لگانے پر مجبور ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( این سی آر بی ) کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ کسان کی خودکشیوں میں 42فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 30دسمبر 2016 کو جاری این سی آر بی کی رپورٹ ’’ایکسی ڈینٹل ڈیتھس اینڈ سوسائڈ ان انڈیا 2015‘‘ کے مطابق 2014 میں 12360 کسانوں اور کھیتی سے جڑے مزدوروں نے خود کشیاں کر لی۔ یہ تعداد 2015میں بڑھ کر 12602 ہو گئی۔ ان موتوں میں تقریباً 87.5 فیصد صرف 7 ریاستوں میں ہوئی ہیں۔ سال 2015 میں سب سے زیادہ مہاراشٹر کے کسانوں نے موت کو گلے لگایا ۔ یہ تعداد 4291 تھی۔ کسانوں کے خود کشی کے معاملے میں مہاراشٹر کے بعد کرناٹک کا نمبر آتا ہے۔ کرناٹک میں اس سال 1569 کسانوں نے خود کشی کی۔ وہیں تلنگانہ میں 1400 ،مدھیہ پردیش میں 1290، چھتیس گڑھ میں 954، آندھرا پردیش میں 916، اور تمل ناڈو میں 606 کسانوں نے 2015 میں خود کشی کی۔ دیگر ریاستوں کی بات کریں تو اسی سال راجستھان اسمبلی کے بجٹ سیشن میں ایک سوال کے جواب میں وہاں کے وزیر داخلہ نے ایک چونکانے والے اعدادوشمار پیشکئے ۔ انہوں نے بتایا کہ کہ ریاست میں 2008 سے 2015 کے دوران 8 سال میں 2870 کسان خود کشی کرچکے ہیں۔ اس سے بھی برا حال چھتیس گڑھ کا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ریونیو منسٹر نے اسی سال مارچ میں اسمبلی میں بتایا تھا کہ ریاست میں جنوری 2013 سے 31جنوری 2016تک 309 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ حالانکہ چھتیس گڑھ کی سرکار کے اس اعدادو شمار پر بھی سوالات کھڑے ہوئے ۔ کیونکہ این سی آر بی کے اعدادو شمار کے مطابق چھتیس گڑھ میں صرف 2015 میں 854 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ پنجاب کی بات کریں تو نئی سرکار آنے کے بعد شروع کے تین مہینوں میں ہی 125 کسان اپنی جان دے چکے ۔یہ رپورٹ بھی غور کرنے والی ہے کہ 1991 سے 2011 کے درمیان تقریباً 2000 کسانوں نے کھیتی چھوڑ دی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *