آخر کیسے رکیںگے ریل حادثے؟

جس طرح ریل حادثے بڑھ رہے ہیں، ایسے میںیہ خوف عام لوگوں میںگھر کرتا جارہا ہے کہ یہاںریل کا سفرحادثوںکا سفر ہے۔ ریل حادثوں پر خوب سیاست ہورہی ہے لیکن حادثوںکی تہہ میںجانے،اسے روکنے اور قصورواروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے راستے پر کوئی بات یا پہل نہیں ہورہی ہے۔ جس تیزی سے ریل حادثے ہورہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے گہرائی سے چھان بین کی کوشش ہونی چاہیے۔ آخر یہ حادثے تیزی سے کیوں بڑھے اور یوپی ہی اس کا سب سے زیادہ شکار کیوں ہورہا ہے؟ ان سوالوں کی جانچ بہت ضروری ہے۔
مسئلہ کا حل کیاہے؟
ریل کے وزیر کو بدلنے سے حادثے نہیںرکنے والے۔ 23 اگست کو یوپی کے اوریا کے پاس جو ریل حادثہ ہوا، وہ کیا بتاتا ہے؟ فریٹ کوریڈور والے روٹ پر کام کررہا ڈمپر مین لائن روٹ پر آکر کیسے کھڑا ہوگیا؟ بھاری بھرکم ڈمپر کو مین لائن روٹ پر رکھنے کا مطلب ہی تھا بڑے ریل حادثے کو دعوت دینا۔ یہ تکنیکی بھول ہے یا سیدھی سیدھی سازش؟ اسے کوئی معمولی عقل والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے۔ مین ٹریفک والی ریل پٹری پر بھاری بھرکم ڈمپر کھڑارہا اور کسی بھی شخص یا ریل کے ملازم کا دھیان نہیںگیا؟
یہ فطری سوال بہت ہی غیر فطری حالات کی طرف اشارہ دے رہاہے۔ ایک ہفتہ میںدو بڑے ریل حادثے یوپی کے کھاتے میں درج ہوئے ہیں۔ اوریا میںکیفیت ایکسپریس حادثہ سے کچھ دن ہی قبل 19 اگست کو مظفر نگر کے کھتولی میںکلنگ اتکل ایکسپریس ٹرین حادثہ کا شکار ہوگئی، جس میںسرکاری طور پر 23 مسافر مرے اور سو سے زیادہ لوگ بری طرح زخمی ہوئے۔ مقامی لوگ مرنے والوںکی تعداد زیادہ بتاتے ہیں۔ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ ٹرین کی پـٹریاں کافی الگ ہٹ کرقریب بنے گھروںسے ٹکرائیں او رگھر مسمار ہوگئے۔کیفیت ایکسپریس میںبھی تقریباً سو مسافر زخمی ہوئے۔ غنیمت ہے کہ موقع پر کسی کے مارے جانے کی خبر نہیںملی۔
ریل حادثوں میں عام لوگوںکی جان جاتی ہے ، لوگ بڑی تعداد میںزخمی ہوتے ہیں، کئی لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں،لیکن ریلوے کے ’معذور‘ افسر کتنی معصومیت سے کہتے ہیں کہ ریت سے بھرا ڈمپر ریلوے ٹریک پر پلٹ گیا اور ڈرائیور بغیر اطلاع دیے وہاںسے بھاگ گیا۔یہ بڑے افسروں کا پرانا طریقہ ہے، کسی معمولی آدمی کو بلی کا بکرا بناکر ٹانگ دینے کا۔ڈرائیور کے بھاگنے کی دلیل دے کر ریل انتظامیہ بالواسطہ طور پر یہ اقرار کررہا ہے کہ پورے کا پورا محکمہ ، اس کے افسر اور اہلکار اندھے ہیں،جنھیں ریل کی پٹریوں پر گرا ہوا بھاری بھرکم ڈمپر تک نہیںدکھائی نہیںدیتا۔۔یا پھر اس کے پیچھے کوئی منظم سازش ہے۔
ان سوالوں پر سیدھے وزارت داخلہ کو دھیان دینا چاہیے اور مرکزی خفیہ ایجنسی سے جانچ کرانی چاہیے۔ وزارت ریل تو ریل انتظامیہ سے ہی جانچ کرائے گا اور وہ جانچ کسی معمولی ملازم، ٹھیکیدار یا ڈرائیور کو قصوروار بتاکر سمیٹ دی جائے گی او رافسران اپنی کھال بچانے میںہمیشہ کی طرح کامیاب ہوجائیںگے۔
الرٹ رہنے کی ضرورت
جس طرح اترپردیش میں ریل حادثوں کی رفتار بڑھی ہے،اس کے تئیںریاستی سرکار کو بھی الرٹ ہونا ہوگا۔ ریلوے پر چھوڑ دینے سے سازشوںکا سرا ا محفوظ رہ جاتا ہے۔ گورنمنٹ ریل پولیس (جی آر پی) کو اپنے دھندے اور بڑے افسروں کی تیمارداری سے فرصت نہیںرہتی۔ مخبروںکا جال بچھانے اور انفارمیشن سسٹم تیار کرنے کی ابتدائی ذمہ داری آخری فہرست میںبھی شامل نہیںرہی ہے۔ لہٰذا ریل کی دنیا میںبہت افراتفری ہے اور مجرموںکا زبردست بول بالا ہے۔ مقامی خفیہ اکائی (ایل آئی یو) کے ایک بڑے افسر نے کہا کہ یہی مجرم دہشت گردا نہ سرگرمیوںکو بھی انجام دینے میںکام آتے ہیں۔ لیکن اس کا پتہ تبھی چلے گا جب سرکاری ریل پولیس اپنا انفارمیش سسٹم تیار کرے گی۔ کیفیت ایکسپریس اور کلنگ اتکل ایکسپریس حادثہ ملا کر ریاست میںگزشتہ 15 سال میں15 بڑے حادثے ہوئے ہیں، جن میںپانچ سو سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایک حادثے میں10 بچوںکی افسوسناک موت ہوچکی ہے۔ان پندرہ ریل حادثوںمیںزخمی ہوئے لوگوںکی تعداد تو ہزار کے قریب ہے۔ ان میںکچھ مارک حادثوں میں19 اگست 2017 کو مظفر نگر میںہوا کلنگ – اتکل ایکسپریس حادثہ، بھدوہی میں25 جولائی 2016 کو ٹرین اور اسکول وین تصادم، نومبر 2016 میں کانپور شہر سے 60 کلو میٹر دور پکھرایاں اسٹیشن کے پاس اندور – پٹنہ ایکسپریس حادثہ (150 لوگ مارے گئے تھے)، 20 مارچ 2015 کو رائے بریلی کے بچھراواں میں ہوا وارانسی ایکسپریس حادثہ،یکم اکتوبر 2014 کو گورکھپور کے نندا نگر میں کرشک ایکسپریس اور لکھنؤ -برونی ایکسپریس تصادم، 20 مارچ 2012 کو ہاتھرس میںریلوے کراسنگ حادثہ، 10 جولائی 2011 کو فتح پور کے پاس ہوا کالکا ایکسپریس حادثہ، 16 جنوری 2010 کو ٹونڈلہ میںشرم شکتی ایکسپریس او رکالندی ایکسپریس کی ٹکر، 21 اکتوبر 2009 کو متھرا کے پاس میواڑ ایکسپریس اور گوا سمپرک کرانتی ایکسپریس ٹرینوںمیںٹکر، 12 مئی 2002 کو جونپور میںشرم جیوی ایکسپریس حادثہ اور 4 جون 2002 کو کاس گنج میں ایکسپریس ریلوے کراسنگ حادثہ شامل ہے۔
حادثوں کے اعداد وشمار گنانے کا کوئی مطلب نہیں لیکن اس کا مطلب ریل کی وزارت،مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کو الرٹ کرنے سے ہے۔ ان تین سالوںمیںملک بھر میںتقریباً 10 بڑے ریل حادثے ہوچکے ہیں، جن میں ساڑھے تین سو سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں او رسیکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ لیکن سرکار اس طرف اپنی سنجیدگی نہیںدکھارہی ہے۔
ذمہ دار کون؟
ریل حادثو ں کے پیچھے دہشت گردی کی سازشوں کے امکان یا خدشہ سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا۔ خفیہ پولیس کے افسران کہتے ہیںکہ گزشتہ سال نومبر 2016 میںکانپور شہر سے 60 کلومیٹر دور پکھرایاں اسٹیشن کے پاس اندور- پٹنہ ایکسپریس کے پٹری سے اترجانے کا واقعہ دہشت گردانہ سازش کا نتیجہ تھا۔ اس حادثے میں سرکاری طور پر ڈیڑھ سو لوگ مارے گئے تھے۔ اس حادثے کو آئی ایس آئی کے اشارے پر انجام دیا گیا تھا۔
اسے دھیان میںرکھتے ہوئے مظفر نگر میںہوئے کلنگ – اتکل ایکسپریس حادثے کے پیچھے بھی سازش کے اندیشے کے ذرائع تلاش کئے جارہے ہیں۔ ریل کی پٹری کٹی ہوئی پائی گئی، جس کی وجہ سے اتنا بڑا حادثہ ہوا۔ ریل کی پٹری کٹی ہونے سے یہ اندیشہ گہرایا کہ اس کے پیچھے کہیںتوڑ پھوڑ کی سازش تو نہیںہے۔ اسے دھیان میںرکھتے ہوئے اتر پردیش سرکار نے یوپی کے اینٹی ٹیررسٹ اسکوائڈ کو بھی اپنے اینگل سے حادثے کی جانچ کے لیے کہا ہے۔
ریلوے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ریل کی پٹریوںپر کام چل رہا تھا،اس وجہ سے پٹری ٹوٹ سکتی ہے۔لیکن مظفر نگر کے کھتولی ریلوے اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ راجندر سنگھ نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی ٹریک کی مرمت ہونے کی انھیں جانکاری نہیںہے، جبکہ ایسا کوئی بھی کام ہوتا ہے تو اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کو رسمی طور پر اطلاع دی جاتی ہے۔ اگر مرمت کا کام ہوتا ہے تو انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو پتہ رہتا ہے، لیکن محکمہ کو ایسی کوئی جانکاری نہیںہے۔

 

 

 

 

سازش یا محکمہ کی لاپرواہی؟
کچھ حادثوںکے پیچھے کی وجہ توڑ پھوڑ کی سازش ضرور رہی ہے لیکن زیادہ تر حادثے ریلوے کے افسروں اور ملازمین کی لاپرواہی سے ہوتے ہیں۔ ریل محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے ریلوے سیکورٹی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آلات کا ٹھیک سے کام نہ کرنا، لاپرواہ اسٹاف اور پٹری میںپڑی دراریں زیادہ تر مہلک معاملوں کی وجہ ہوتی ہے۔ ریلوے سیکورٹی کے مسئلے پر مطالعہ کے لیے بنی کاکوڈکر کمیٹی نے ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 441 واقعات کی جانچ کی تھی اور پایا تھا کہ ان میںسے محض 15فیصد حادثے سازش اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے ہوئے۔ یعنی زیادہ تر حادثے ریلوے انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوئے،جنھیں ٹالا جاسکتا تھا۔ اس افسر نے کہا کہ ریلوے مسافروں سے پیسہ وصول کرتا ہے،لہٰذا اس کا پہلا فرض ہے کہ وہ اپنے گاہگوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کا بھی دھیان رکھے اور پختہ بندوبست کرے۔ لیکن ریلوے ایسا نہیںکرتا، جو سیدھا سیدھا کریمنل نیگلی جنس کے دائرے میںآتا ہے۔
نیشنل ریلوے سیفٹی فنڈ میں تقریباً ایک لاکھ 19 ہزار کروڑ روپے کا پروویژن ہے لیکن یہ فنڈ کیسے خر چ ہوتا ہے،اس کے بارے میںلوگوںکو کچھ بھی پتہ نہیں چلتا۔ اس میںکوئی شفافیت نہیںہے۔ سب مل بانٹ کر کھانے پینے کا انتظام ہے وزارت مالیات کافی عرصہ سے کہتا رہا ہے کہ ریل محکمہ کو یہ فنڈ اندرونی انتظام سے جٹانا چاہیے۔ ٹریفک نیٹ ورک کی حفاظت کے لیے بجٹ میںاور زیادہ پیسے کا پروویژن کیے جانے کی دلیل کا تبھی جواز ہوگا جب ریل وزارت مسافروں کی حفاظت کی گارنٹی دے گی۔
المیہ یہ ہے کہ کاکوڈکر کمیٹی پانچ سال قبل ہی کہہ چکی ہے کہ پرانے اور غیر محفوظ ہوچکے ڈبوں کو جدید لنک ہاف مین بش کوچوںسے بدلا جانا چاہیے۔ لیکن اس پر ریل وزارت کوئی توجہ نہیںدے رہی ہے۔ مسافروںکی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔ ریل محکمہ کا منافع لگاتار بڑھ رہا ہے لیکن سیکورٹی بندوبست کا طور طریقہ کچھ بھی آگے نہیںسرک رہا ہے۔ ٹریک کو محفوظ رکھنے کے لیے الٹراسونک فلو ڈٹیکشن جیسی تکنیک سمیت تمام جدید انتظام دستیاب ہیں۔ ان اقدامات سے بڑھتے ہوئے مسافروںکی حفاظت بہتر طریقے سے ہوسکتی ہے۔ لیکن ریل وزارت انھیںاپنانے میں کوئی دلچسپی نہیںلے رہی ہے۔
کوشل وکاس کتنا مفید؟
بڑھتے ہوئے ریل حادثوں کے نظریہ سے دیکھیںتو وزیر اعظم کی کوشل وکاس یوجنا لفاظی ہی ثابت ہورہی ہے۔ تکنیکی ملازمین کے فقدان میں غیر ماہر مزدوروں سے کام لیے جانے کے سبب ریل حادثوں کا خطرہ لگاتار بڑھ رہا ہے، لیکن بے روزگاری دور رکرنے والی نام نہاد کوشل وکاس یوجنا کو طاق پر رکھ دیا گیا ہے۔ریل محکمہ اپنے ہی ٹرینڈ آپرنٹسوں کو نوکری پر ریگولر نہیںکررہا ہے او رباہر سے ٹھیکے پر مزدوروں کو لے کر کام کررہا ہے۔ ایسے ہی ہزاروںٹرینڈ آپرنٹس ایک لمبے عرصے سے آندولن کر رہے ہیں۔
ابھی حال ہی میںہزاروںآپرنٹسوں نے راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر بھی انشن کیا او رپردرشن کا سلسلے وار پروگرام چلایا۔ آخر کار سرکارنے اس معاملے کا نمٹارہ کرنے کے بجائے مظاہرین کوہی وہاںسے کھدیڑ بھگایا۔ ریلوے آپرنٹس ڈبل اسکل کے زمرے میںآتے ہیں۔ آئی ٹی آئی اور آپرنٹس جیسے کورس کی طرح کے امتحانات پاس کرنے کے بعد انھیں نیشنل کونسل آن ووکیشنل ٹریننگ (این سی وی ٹی) کی طرف سے سرٹیفکٹ دیا جاتا ہے۔ ان آپرنٹسوں کو پہلے ریلوے میں ایڈجسٹ کرلیا جاتا تھا۔ یہ عمل بند کردینے اور پہلے سے مقرر ٹرینڈ آپرنٹسوں کو نوکری سے نکال باہر کرنے کی وجہ سے ملک کے تقریباً 40 آپرنٹس خود کشی کرچکے ہیں۔ ٖٹرینیز کا کہنا ہے کہ انھوںنے ریلوے میںٹریننگ کی ہے،لہٰذا انھیں ریلوے کا ہی کام آتا ہے، باہر انھیںکوئی نوکری نہیںدیتا۔
دوسری طرف ریلوے میں سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری کمی ہے۔ یہ سرکاری حقیقت ہے ۔ ریل وزارت کرایہ میںلگاتار اضافہ کرتی جارہی ہے لیکن سیکورٹی اہلکاروں کی بھرتی میںاس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ابھی حال ہی میںریل وزارت نے پارلیمنٹ میں یہ اقرار کیا تھا کہ ریلوے سیکورٹی محکمے میں گروپ (ج) اور گروپ (د) میں خالی جگہوںکی کل تعداد ایک لاکھ 22 ہزار 763 ہے۔ ان اعدادو شمار کا سرکاری طور پر اعتراف اس بات کا بھی جواب ہے کہ سرکار کو مسافروں کی حفاظت میںکوئی دلچسپی نہیںہے۔
ہرسال کرایہ بڑھانے والی وزارت ریل نے حادثوں میں مرنے والے مسافروں کو دیا جانے والا معاوضہ پچھلی دو دہائیوںسے نہیںبڑھایا ہے۔ چار لاکھ روپے کا معاوضہ 1997 میںطے ہوا تھا، وہی اب بھی مل رہا ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار 1962میںریل حادثے میںمارے جانے والوں کے لیے دس ہزار روپے کا معاوضہ طے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1963 میں اسے بڑھاکر بیس ہزار روپے کردیا گیا۔ 1973 میں معاوضہ کی رقم بڑھاکرپچاس ہزار روپے کردی گئی۔ پھر 1983 میںیہ ایک لاکھ روپے ہوگئی۔ 1990میںمعاوضہ دو لاکھ کردیا گیا اور 1997 میں اسے چار لاکھ روپے کیا گیا، اس کے بعد سے یہ معاوضہ وہیںاٹکا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *