گورکھپور سانحہ کے بعد بہار کے اسپتالوں میں الرٹ کتنا حقیقی، کتنا دائمی؟

گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج ہاسپٹل میں آکسیجن کی کمی کے سبب بچوںکی موت نے پورے ملک کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آزادی کے اتنے سالوںکے بعد بھی ہم لوگ سہولت کے معاملے میں کتنے پیچھے ہیں۔ سرکاری طور پر ساٹھ سے زیادہ بچوں کی جان جانے کے بعد دیگر ریاستوںمیں ہر جگہ اسپتال میںزندگی بچانے کے آلات و ادویات سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایساواقعہ دوبارہ کسی سرکاری یا نجی اسپتال میں نہ ہو، ا س کے لیے حکومت و انتظامیہ بھی سرگرم ہوگئی ہے۔ بہار کے نامی گرامی اسپتالوںمیںبھی جائزہ لینے کا دور جاری ہے اور کوشش ہے کہ وقت رہتے سب کچھ درست کردیا جائے تاکہ گورکھپور کا واقعہ نہ دوہرایا جاسکے۔ لیکن لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ آخر اتنی دیر بعد کیوں؟
ریاست کے سب سے بڑے اسپتال پٹنہ میڈیکل کالج ہاسپٹل ( پی ایم سی ایچ) میںآکسیجن کو لے کر جب جانچ کی گئی تو پایا گیا کہ ابھی یہاں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ حالانکہ پرنسپل نے گورکھپور حادثہ کے بعد یہ نظام بنایا ہے کہ ہر روز آکسیجن کے اسٹاک کو چیک کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ آکسیجن کی کمی نہ ہونے پائے۔ پی ایم سی ایچ میں سنگین نوزائیدہ بچوںکا علاج ہو، اس کے لیے بچہ وارڈ میں24 بیڈوں کا الگ سے این آئی سی یو بن کر تیار ہے لیکن آکسیجن پائپ لائن کا انتظام نہ ہونے کے سبب این آئی سی یو شروع نہیں ہو پارہا ہے۔ این آئی سی یو افتتاح کا انتظار کررہا ہے۔ نتیجتاً پرانے آئی سی یو میںنوزائیدہ بچوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ایک بیڈ پر تین بچوں کا علاج کیا جارہا ہے۔ ایسے میںجب آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو چھوٹا سلنڈر لانا پڑتا ہے۔ یہ صورت حال خواتین اور زچگی کے وارڈ، ٹاٹا اور ہتھوا وارڈ میں بھی ہے۔ اسپتال سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لکھیندر پرساد کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں آکسیجن سے لے کر سبھی طرح کا انتظام درست ہے۔ رہی بات بچہ وارڈ میں این آئی سی یو شروع نہیںہونے کی، تو وہاں آکسیجن پائپ لائن کا کام ہونا ہے۔ بجلی کی سپلائی کے لیے متعلقہ کمپنی سے بات چیت چل رہی ہے۔ جلد ہی 24 بیڈوں کے این آئی سی یو کی سہولت ملے گی۔
پٹنہ کے دوسرے سب سے بڑے سرکاری اسپتالاندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز آئی جی آئی ایم ایس کے جنرل وارڈ میںابھی تک آکسیجن پائپ لائن کا انتظام تک نہیںکیا گیا ہے۔ یہاں کاغذوں پر ہی سبھی وارڈ میںآکسیجن پائپ لائن بچھانے کی بات چل رہی ہے۔ جبکہ آئی جی آئی ایم ایس کے جنرل وارڈ میں 500 سے زائد بیڈ ہیں، جہاں مریض بھرتی رہتے ہیں۔ جنرل وارڈ میںخاص طور سے بچہ وارڈ،ہڈی، جنرل میڈیسن ڈیپارٹمنٹ،سانس امراض محکمہ، یورولوجی ڈپارٹمنٹ،کینسر وغیرہ کچھ ایسے وارڈ ہیں جہاں آکسیجن کی کافی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاںمریضوںکو چھوٹے سلنڈر سے آکسیجن کی سپلائی کی جارہی ہے۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ مریض کے متلعقین سلنڈر کے لیے ادھر اُدھر بھٹکتے رہتے ہیں۔ اگر وقت پر ٹیکنیشنین نہیں ملا تو مریض کو آکسیجن بھی نہیںمل پاتی ہے۔ پٹنہ سے باہر نکلے تو سیوان صدر کے اسپیشل نیو برن کیئر یونٹ میںنوزائیدہ بچوں کے علاج کے لیے 11 ریڈئنٹ وارمرمشینیں لگائی گئی ہیں لیکن ان میںسے آٹھ مشینوں میںآکسیجن کا بندوبست نہیںہے۔ کہنے کے لیے پانچ آکسیجن کنسٹریٹر مشینیںلگی ہیں لیکن تین آکسیجن کانسٹریٹر مشینیںکام نہیںکرتی ہیں۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو11 میں سے 3 میشنیں ہی پوری طرح کام کرنے کے لائق ہیں۔ ان کو چلانے کے لیے چار ڈاکٹروں اور قریب ایک درجن اے این ایم کی ڈیوٹی لگائی ہے۔ ضرورت پڑنے پر کبھی نہ تو اے این ایم ملتی ہے اور نہ ڈاکٹر۔

 

 

 

 

بکسر صدر اسپتال میںکل58آکسیجن سلنڈر اور چارالیکٹرک آکسیجن مشینیں موجود ہیں۔ صدر اسپتال میںپہلے کے مقابلے میںزندگی بچانے کے وسائل میںکمی ہوئی ہے، جس کے سبب آئی ایس او کی سہولت بھی اس اسپتال کی چھن چکی ہے۔ صدر اسپتال کے سبھی وارڈوں میںآکسیجن سلنڈر کافی ہونے کے ساتھ اسٹور میںبھی سات سلنڈر ابھی محفوظ رکھے گئے ہیں۔ ا س کے ساتھ ہی الیکٹرک سے چلنے والی تین یونٹیں بھی موجود ہیں۔ صدر اسپتال کے لیے کل 32 اور ایس این سی یو کے لیے کل 26 سلنڈر ہیں، جن میں26 سلنڈر ریفل ہونے کے لیے پٹنہ بھیجے گئے ہیں۔ گوپال گنج صدر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں محض دو آکسیجن کانسٹریٹ مشین کے بھروسے ہی آکسیجن کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس مشین میںقاعدے کے مطابق ایک بار میںایک ہی مریض کو جوڑا جاسکتا ہے۔ لیکن ایمرجنسی وارڈ میںاس مشین میں ایک ساتھ دو تین مریض بھی جوڑے جاتے ہیں۔ جوبندوبست ہے،اسی کے بیچ مریضوں کو آکسیجن دستیاب کرائی جاتی ہے۔ وارڈ میںمشین کم کرنے پر کئی بار پریشانی ہوتی ہے اور اگر مریض کی تعداد بڑھتی ہے تو دستیاب آکسیجن سلنڈر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہیںسلنڈر دستیاب نہیںہونے پر پریشانی بڑھ جاتی ہے۔دیکھا جائے تو کم و بیش پورے بہار کے اسپتالوں میںابھی سدھار کی بہت گنجائش ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ بہار سرکار اور محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران خود حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسپتال کے انچارج بھی معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سدھار کی سمت میںلگے ہوئے ہیں۔
گورکھپور میں آکسیجن سپلائی بند ہونے سے بچوںکی اجتماعی موت کے واقعہ کے بعد بہار کے بڑے اسپتال الرٹ پر ہیں۔ پی ایم سی ایچ ، این ایم سی ایچ، ڈی ایم سی ایچ دربھنگہ، ایس کے ایم سی ایچ گیا سمیت بڑے اسپتالوںمیںانتظام کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ گیا و مظفر پور کے میڈیکل کالج میںاے ای ایس سے متاثر بچوں کی کافی تعداد میںبھرتی ہونے کے سبب ان کی شدید نگرانی کی جارہی ہے۔ محکمہ صحت کی ہدایات کے بعد پی ایم سی ایچ میںبڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ بچہ وارڈ میں سینٹرلائزڈ آکسیجن سپلائی پائپ لائن میں فوری طور پر 30 اور پوائنٹ بڑھانے کے لیے محکمہ کے سربراہ نے سپرنٹنڈنٹ کوخط بھیجا ہے جبکہ ایمرجنسی میںرکھے ایکسپائری فائر فائٹنگ سلنڈر کو فوری طور پر ہٹادیا گیا۔ پی ایم سی ایچ کے لیے اضافی ڈیڑھ سو آکسیجن کے سلنڈر کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ بچہ وارڈ میں250 بیڈ ہیں۔ سیرئس بیمار بچوںکے علاج کے لیے 40 بیڈ ہیں جہاں آکسیجن پائپ لائن ہیں۔ محکمہ کے سربراہ ڈاکٹر اے کے جیسوال نے بتایا کہ فوری طور پر 30 اور آکسیجن پوائنٹ بڑھانے کے لیے سپرنٹنڈنٹ سے کہا گیا ہے تاکہ سیرئس بچوں کے تعداد بڑھنے پر علاج کیا جاسکے۔ وارڈ میں 50 آکسیجن سلنڈر رکھے گئے ہیںتاکہ ایمرجنسی میںاستعمال کیا جاسکے۔
اچھی بات یہ ہے کہ گورکھپور حادثہ سے سبق لیتے ہوئے ایسے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حادثہ سے قبل ایسی کارروائی کیوںنہیںہوتی ہے؟ مریضوں خاص طور سے بچوںکی جان لے کر ہی اسپتالوں کے نظم کو لے کر ہم لوگ سنجیدہ یوںہوتے ہیں۔ وزیر صحت منگل پانڈے کہتے ہیںکہ ہم چوک کی کوئی گنجائش نہیںچھوڑیں گے۔ ریاست کے ہرایک شہری کی جان ہمارے لیے قیمتی ہے۔ سب کو بہتر طبی سہولت ملے، یہی ہماری سرکار کی ترجیح ہے۔ شری پانڈے کا ماننا ہے کہ گورکھپور میںجو ہوا، وہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے۔ بہار سرکار خاص طور سے محکمہ صحت پوری کوشش کررہا ہے کہ جو کچھ بھی کمیاںہیں یا جو کمیاںہمارے علم میںمختلف ذرائع سے آرہی ہیں،انھیں جلد سے جلد درست کردیا جائے۔ منگل پانڈے اپیل کرتے ہیںکہ اس بڑے کام میں سبھی تعاون کریں تاکہ علاج کے فقدان میںکسی کی جان نہ جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *