لالو کی ریلی کا اثر کتنا پائیدار؟

اسے جادو نہیںتو پھر کیا کہیے گا ، 17 اضلاع سیلاب سے متاثر، اقتدار جانے کا غم اور تقریباً پورے خاندان پر چارہ سے لے کر لاراگھوٹالے کا قانونی گھیرا،اس کے باوجود اگر پٹنہ کا تاریخی گاندھی میدان 27 اگست کو لالو کی ایک للکار پر لگ بھگ بھر جاتا ہے تو یقین مانئے یہ لالو کا جادو ہی ہے۔ لالو پرساد نے یہ کارنامہ پہلی بار نہیںکیا ہے،ایسے کئی مواقع آئے جب یہ کہہ دیا گیا کہ لالو پرساد اب بہار کی سیاست میںبڑے کھلاڑی نہیںرہ گئے، لیکن ہر بار لالو پرساد نے اپنے ناقدین کو مایوس ہی کیا ہے۔
ناقابل مسترد
ریاست کی سیاست پر باریکی سے نظر رکھنے والے کہتے ہیںکہ آپ لالو پرساد سے سیاسی طور پر نفرت کر سکتے ہیں لیکن انھیںمسترد نہیں کر سکتے۔ بہار کا جو سماجی اور ذات پات کا تانا بانا ہے، اس میں لالو پرساد کا کردار اور ان کی طاقت گزشتہ دو دہائیوں سے سب دیکھ او ر سمجھ رہے ہیں۔ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے یہ اندازہ لگالینا ضروری ہوگا کہ لالو کے حامی کتنے بدل رہے ہیں؟ کیا ریاست کا موجودہ سیاسی تانا بانا لالو حامیوںکو بدلنے کا موقع دے رہا ہے یا پھر انھیںاس بات کے لیے مجبور کر رہا ہے کہ چاہے لالو میںلاکھ برائی ہو پر فی الحال ان کے پاس اس سے بہتر متبادل نہیں ہے۔ لالو پرساد نے سماج کے جس طبقے کو بولنے اور کچھ پانے کا موقع دیا، وہ سماج چاہے انچاہے آج بھی لالٹین تھامے گاندھی میدان میں دکھائی دے رہا ہے۔ بغیر لاگ لپیٹ کے کہا جائے تو یہ بات سولہ آنے سچ ہے کہ یادووں اور مسلمانوں کو پوری حمایت آج بھی لالو پرساد کو مل رہی ہے جو 27 اگست کو بھاجپا بھگاؤ، دیش بچاؤ‘ ریلی میںدکھائی دیا۔ لالو پرساد کی اس ریلی کا ملک اور ریاست کی سیاست پر اثر پڑنا طے ہے کیونکہ اس ریلی نے کئی سیاسی اہداف کو ایک ساتھ بھید دیا ہے۔
لالو پرساد عموماً دو موقعوں پر ریلیاںبلاتے ہیں۔ جب وہ سیاسی طور پر بہت مضبوط حالت میںہوں یا پھر جب بحران کے وقت انھیں سیاسی طاقت ملک اور ریاست میںپنے مخالفین کو دکھانے کی ضرورت ہو۔ لالو کی یہ ساتویںریلی تھی۔ اس سے قبل وہ چھ ریلیاں کر چکے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی ریلی 1997 کی مہا غریب ریلی تھی۔ اتنی بڑی ریلی لالو دوبارہ نہیں کرسکے۔ دوسری پارٹیاں بھی اتنی بھیڑ نہیںاکٹھی کرسکیں۔ 2013 میںنریندر مودی کی ریلی میںاکٹھی ہوئی بھیڑ اسی کے آس پاس تھی، جب اس ریلی میںبم دھماکہ ہوا تھا۔ 2003 میںلالو نے’ تیل پلاون لاٹھی گھماون ‘ ریلی کی تھی۔ یہ دنیا کی انوکھی ریلی تھی، جس میںلوگ لاٹھی لے کر آئے تھے۔ 2007 میں’چیتاؤنی ریلی‘ اور 2012 میں’پریورتن ریلی‘ لالو کرچکے ہیں۔ ان کی پہلی ریلی 1995 کی’ غریب ریلی‘ تھی۔ جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد انھوں نے یہ ریلی بلائی تھی۔

 

 

 

 

 

پس منظر
جب ہم ’بھاجپا بھگاؤ، دیش بچاؤ‘ ریلی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے پس منظر پر بھی غور کرنا ہوگا۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک کی سیاست میں چھانے کے لیے لالو پرساد اور نتیش کمار میںمقابلہ آرائی ہورہی تھی۔ نتیش کمار نے جے ڈی یو کی کمان اپنے ہاتھ میںلے کر ملک کا دورہ شروع کردیا تھا اور نریندر مودی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا مرکز بننے کی کوشش کرنے لگے۔ گاہے بگاہے بحث بھی ہونے لگی کہ 2019 میںنریندر مودی کے خلاف نتیش کمار اپوزیشن کا چہرہ بن بن سکتے ہیں۔ حالانکہ نتیش کمار ایسی خبروں کی تردید کرتے رہے، لیکن ان کے حامی اور کئی تجزیہ نگار نتیش کمار بنام نریندر مودی کی لڑائی 2019 میںبتانے اور دکھانے لگے۔ لالو پرساد کو یہی بات ناگوار گزری۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب بہار میں 2015 میںنتیش کمار کی سرکار مہا گٹھ بندھن کے بینر تلے بنی تو اسی وقت لالو پرساد نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ نتیش کمار بہار کی باگ ڈور سنبھالیں گے اور میںپورے ملک میںگھوم کر نریندر مودی کو بے نقاب کرنے کا کام کروںگا۔
جیسے ہی نتیش کمار کے قدم بہار کے باہر پڑنے لگے، لالو پرساد اور بھی چوکنے ہو گئے۔ اب تک وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ قومی سیاست میںنتیش کمار کی دخل اندازی اب رکنے والی نہیں ہے اور دیر سویر دہلی اور پٹنہ دونوںمیں ہی نتیش کمار کا چہرہ نظر آنے لگے گا۔ اسی پس منظر میںلالو پرساد نے راجگیر میںمنعقد اپنی پارٹی کے پروگرام میں 27 اگست کی ریلی کا اعلان کردیا۔ لالو پرساد نے کہا کہ 27 اگست کی یہ ریلی اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھے گی۔ اس ریلی سے جو پیغام جائے گا،اس سے پورے ملک کے عوام نریندر مودی کے خلاف متحد ہو جائیںگے۔ غور طلب ہے کہ جس وقت ریلی کا اعلان کیا گیا تھا،اس وقت نتیش کمار مہا گٹھ بندھن کے لیڈر تھے اور بہا رمیںسیلاب بھی نہیںتھا۔ ریلی کا واحد مقصد یہ تھا کہ نریندر مودی کے خلاف جو اپوزیشن مہم چھیڑنی ہے، اس کے قائد لالو پرساد ہی نظر آئیں۔ لالو پرساد چاہتے تھے کہ نتیش کمار نے دہلی کے باہر جو اچھل کود مچائی ہے، وہ اس ریلی میں ڈوب جائے اور ریلی سے یہ پیغام نکلے کہ لالو پرساد ہی ساری اپوزیشن پارٹیوں کو بی جے پی اور نریندر مودی کے خلاف متحد کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن ریلی کی تاریخ آتے آتے بہار کی سیاست پوری طرح سے کروٹ لے چکی تھی۔ آر جے ڈی اقتدار سے باہر ہوچکی تھی اور ریاست میںجے ڈی یو اور بی جے پی کی سرکار بن گئی تھی۔ ریاست کے 17 اضلاع سیلاب سے متاثر تھے۔ لالو اور ان کے خاندان پر چارہ سے لے کر لارا گھوٹالے کا شکنجہ کسا جاچکا تھا۔ ظاہر ہے ریلی ہونے تک حالات کافی بدل چکے تھے۔ لیکن لالو پرساد ایسے سیاسی چیلنجز سے نمٹنے میںماہر ہیں۔ اپنے کو چاروںطرف سے گھرا دیکھ کر لالو پرساد نے اپنے دونوں بیٹوں کو ضلعوںمیںبھیجا اور پٹنہ و رانچی میںبیٹھ کر خود پوری کمان اپنے ہاتھ میںلے لی۔
چار مقاصد
لالو کو اب تک پتہ لگ گیا تھا کہ جو ریلی پہلے اپوزیشن اتحاد کا قائد بننے کے مقصد سے ہونی تھی، اسے اب اپنے سیاسی وجود کو بچانے کا ہتھیار بنانا ہے۔ اپوزیشن اتحاد ترجیحات میںدوسرے مقام پر آگئی اور سارا دھیان آر جے ڈی اوراپنے بیٹوں کو قائم کرنے میںلگا دیا۔ تیجسوی اور تیج پرتاپ پٹنہ سے باہر نکلے اور اپنے حامیوں سے کہا کہ نتیش کمار نے دھوکہ دیا۔ لالو بار بار اپیل کرتے رہے کہ غریبوں اور کمزور طبقوں کے خلاف آر ایس ایس اور بی جے پی نے سازش رچی ہے او رنہیںجاگے تو پور ا ملک خطرے میںپڑ جائے گا۔ لالو کو اس بات کا احساس تھا کہ سیلاب کے سبب سیمانچل اور چمپارن کے علاقے سے ان کے حامیوںکو آنے میںدقت ہوگی،اس لیے انھوںنے اپنا پورا دھیان مگدھ اورپٹنہ کے آس پاس کے علاقوںمیںلگا دیا۔
26 اگست کی رات سے ہی آر جے ڈی حامی پٹنہ میںاکٹھے ہونے لگے۔ جیسے ہی یہ خبر رابڑی نواس تک پہنچی، لالو اپنے پرانے رنگ میںدکھائی دینے لگے۔ عوام کی نبض ٹٹولنے میںماہر لالو پرساد نے اعلان کردیا کہ ریلی میںپورا پٹنہ آر جے ڈی حامیوں سے بھر جائے گا۔ دیر رات تک لالو الگ الگ ضلعوں سے فیڈ بیک لیتے رہے اور جب تسلی ہو گئی کہ کل سب کچھ ٹھیک رہے گا، تبھی سونے گئے۔
27 اگست کوگاندھی میدان کا پورا شو لالو پرساد کے نام رہا۔ ریلی کا پہلا مقصد تھا، اپنی طاقت مخالفین کو دکھانا۔ اپنے پہلے مقصد میں لالو کامیاب رہے۔ خوفناک سیلاب کے باوجود متاثرہ اضلاع سے لوگ ریلی میںآئے۔ تعداد بھلے ہی کم تھی لیکن ان پر ضلعوں کی موجودگی نے یہ جتا دیا تھا کہ یہ لوگ ہر حال میںلالو کے ساتھ ہیں۔ ریلی میں مسلمانوںکی تعداد کم دکھائی دی اور اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ سیمانچل اور چمپارن کے زیادہ تر اضلاع سیلاب سے متاثر تھے۔ ریلی میںآئے بہت سارے لوگوں سے بات چیت کرنے پر پتہ چلا کہ پہلی بار وہ لوگ آپس میں چندہ کرکے پٹنہ آئے ہیں۔ عموماً یہ پہلی بار ہوا کہ بہت سارے لوگ اپنا خود انتظام کرکے پٹنہ آئے۔ لالو پرساد نے بھی اپنی تقریر میںاس کا ذکر کیا اور اس کے لیے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔ریلی میں جٹی بھیڑ کو لے کر الگ الگ رائے ہے،لیکن کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے یہ ضرور دھیان میںرکھنا چاہیے کہ کن کن حالات میںاس ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ ریاست کے زیادہ تر یادو اور مسلمان لالو پر بھروسہ کرتے ہیں۔
ریلی کا دوسرا مقصد تھا ، اپنے دونوںبیٹوںکو قائم کرنا۔ لالو نے تیجسوی یادو کو اپنے جانشیں کے طور پر پیش کیا۔ تیج پرتاپ کی تقریر ٹھیٹ گنوئی انداز میں کرائی گئی۔ مطلب لالو کے چاہنے والے جس انداز میں انھیںدہائیوںسے سنتے اور دیکھتے آئے ہیں، اس کی جھلک تیج پرتاپ میںدکھائی دی۔تیج پرتاپ نے کہا کہ وہ کرشن ہیں اور تیجسوی ارجن اور ہم دونوں بھائی مل کر کوروں کی فوج کو تباہ کردیں گے۔ اس سے لالو نے یہ پیغام بھی صاف دلادیا کہ دونوںبھائیوںمیںمقابلہ آرائی نہیںہے اور دونوںساتھ ساتھ ہیں۔
ریلی کا تیسرا مقصد تھا کچھ اور پارٹیوں کو آر جے ڈی کے ساتھ جوڑنے کی بساط بچھانا۔ لالو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ صرف ’مائے‘ کے بھروسے اقتدار حاصل نہیںکیا جاسکتا ہے، اس لیے رابڑی دیوی نے اپنی تقریر میںجیتن رام مانجھی کو بے دخل کرنے کا ذکر کیا۔

 

 

 

 

انھوں نے کہا کہ مانجھی کو ہم نے باہر سے حمایت دی لیکن نتیش کمار کو اپنے علاوہ کوئی برداشت نہیںہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو پیار دینے والی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی بھی ان پر کافی مشتعل دکھائی دیں۔ رابڑی نے وزیر اعلیٰ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ان کے ڈی این اے میںکھوٹ بتایا تھا،اس کے ساتھ وہ چلے گئے۔ عوام نے بھی اپنے ناخن اور بال بھیجے۔ نہ جانے ناخن اور بال کو گڑھے میںپھینکا، کیا کیا؟ نتیش کمار سے دیکھا نہیںگیا ۔ تیجسوی پر جھوٹا کیس کرایا گیا،جبکہ نتیش کمار کے خلاف چل رہے مقدمے کو چھپاکر رکھا ہے۔ بھوج پوری کہاوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، چلنیا دوسے سوپ کے جیکرا اپنے بہتر چھید۔ انھوںنے کہا کہ چارہ چور لالو کو کہا جاتا ہے۔ سریجن گھوٹالہ ہوا ہے۔ تین چار ضلعوںمیںنکلا ہے۔سیم کیس ہے تو نتیش کمار کیوںنہیںاستعفیٰ دے رہے ہیں۔ نتیش کمار اور سشیل مودی کیوںنہیںگدی چھوڑیں گے۔ نالندہ ضلع کی ایک ذات کی بحالی ہورہی ہے۔ نتیش کا یہ سب کھیل تماشہ ہے۔ ہمارے خاندان پر کیس کراکر ڈرانا چاہتا ہے۔ جہاںبلائے گا، وہاںجائے گا۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ جو بہار کے عوام کہیںگے، وہی کریںگے۔ ہم تو دعوت دیتے ہیں سی بی آئی والے کو۔ وہ گھر میںبیٹھے اور جانچ کرے۔ گھر میں کیا ملے گا؟ رابڑی نے کہا کہ رات بھر میں ہی نتیش کمار اور سشیل مودی کابیاہ ہوگیا۔ صحیح میں نتیش کا نام پلٹورام رکھا گیا۔ رابڑی دیوی بولیں کہ ہمت ہے تو نتیش کمار اکیلے چناؤ لڑیں۔ نتیش نہ گھر کے نہ گھاٹ کے رہیں گے۔ دو تین مہینے میں کیا ہوگا،اس کا دیکھئے گیا۔ لالو پرساد نے پاسی سماج پر ہورہے مظالم کا ذکر اپنی تقریر میں کیا اور کہا کہ میںنے تاڑی کا ٹیکس فری کردیا لیکن نتیش نے تاڑی پر روک لگادی۔ ہماری سرکار بنے گی تو تاڑی کو پھر فری ٹیکس کردیں گے۔ لالو نے بی جے پی اور نتیش کمار کے خلاف سبھی کا تعاون مانگا۔ مطلب صاف ہے کہ رابڑی اور لالو پرساد نے ایسے لوگوںکو اپنے پاس آنے کی دعوت دی جو بی جے پی اور نتیش کے خلاف ہیں۔ رابڑی اور لالو کی اس دعوت کااثر آنے والے دنو ں میںدکھائی دینا طے ہے۔
ریلی کا چوتھا مقصد تھا اپوزیش اتحادکی بنیاد رکھنا، تو اس میںبہت حد تک لالو پرساد کامیاب ہی رہے۔ بھلے ہی مایاوتی نے ساتھ نہیںدیا لیکن سونیا اور راہل گاندھی نے اپنا پیغام بھجوادیا۔ جھارکھنڈ سے ہیمنت سورین اور بابو لال مرانڈی کا ایک ساتھ آنا بڑی بات ہے۔ اکھلیش آئے بھی اور لالو پرساد کے قائل ہوکر گئے۔ سب سے بڑی بات یہ رہی کہ ممتا بنرجی پورے جوش کے ساتھ ریلی میںآئیں اور جم کر لالو کی تعریف کی۔ جینت چودھری اور طارق انور نے لالو کا ساتھ دیا۔ شرد یادو نے ریلی میں آکر صاف کردیا کہ وہ ڈرنے والے نہیں اور نتیش کمار کو چین سے نہیں رہنے دیںگے۔ کہا جائے تو یہ ریلی ہر لحاظ سے لالو کے مقصد وک پورا کرنے میںکامیاب رہی۔ حالانکہ لالو کے مخالفین کہہ رہے ہیں کہ یہ لالو کی سب سے کمزور ریلی تھی۔ خیر بحث تو اب اس بات پر ہونی چاہیے کہ لالو نے ریلی کے ذریعہ جو سیاسی بساط بچھائی ہے اور جو چالیںچلی ہیں، اس کا جواب لالو کے مخالفین آنے والے دنوں میںکس طرح دیں گے۔ شروعاتی جھٹکوں کے بعد لالو آگے بڑھ چکے ہیں۔ 2019 کی جنگ ہونی ہے،اس لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی اور نتیش کمار لالو کو روکنے کے لیے اگلا قدم کیا اٹھاتے ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *