کب اور کیسے حل ہوں گے آسام کے مسائل؟

ریاست آسام کے مسائل متعدد ، مستقل اور بھیانک ہیں۔ بنیادی طور پر دو مسائل نے متعدد مسائل پیدا کیے ہیں۔ ان میںسے ایک بنگلہ زبان بولنے والے افراد کی شہریت کا ہے تو دوسرا بوڈو لینڈ ریاست کے مطالبے کا۔ پہلا بنیادی مسئلے سے متعلق معاملہ ان دنوںسپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ دوسرے مسئلے میں تین درجن سے زیادہ بوڈو تنظیمیں پیپلز جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار بوڈو لینڈ موومنٹ (پی جے اے سی بی ایم) کے بینر تلے تحریک چلا رہی ہیں۔ گزشتہ 28 اگست کو ان تنظیموں نے علیحدہ بوڈو لینڈ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے دس گھنٹوں کے لیے بکسا ضلع میںنیشنل ہائی وے 31- کو مظاہرین کی بڑی تعداد کے ساتھ جام کیا اور آمدورفت کو روکا۔ ان کا آئندہ قدم 12ستمبر کو پورے آسام میں عمومی ہڑتال اور یکم اکتوبر کو عمومی بھوک ہڑتال کرنے کا ہے۔ اسی کے ساتھ ریل روکو اور اقتصادی بلاکیڈ بھی ان کے ایجی ٹیشن کے ایجنڈے میںشامل ہے۔
قبل الذکر بنیادی مسئلے کا صاف مطلب ہے کہ یہ تنظیمیں 2003 میںچار اضلاع پر بنی بوڈو لینڈ ٹیریٹوریل کونسل (بی ٹی سی) سے آگے بڑھ کر علیحدہ ریاست چاہتی ہیں۔ بوڈو گروپوں کا کہنا ہے کہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل پی ایم نریندر مودی نے انتخابی میٹنگ میںیقین دہانی کرائی تھی کہ آسام کے کچھ حصوں پر مشتمل علیحدہ ریاست کے ان کے مطالبے کو حل کیا جائے گا مگر مرکز میںاقتدار میںآنے کے بعد اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکا۔ ان گروپوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ برس 2016 میںبھی اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے اس مسئلے کو حل کرنے کا پھر سے وعدہ کیا مگر غیر رسمی بات چیت کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدامات تب بھی نہیںاٹھائے گئے۔
یاد رہے کہ چند برس قبل جب مرکز اور ریاست دونوں میںکانگریس کی حکومتیں موجود تھیں تب جولائی 2012 میںبوڈو ٹیریٹوریل کونسل کے علاقے میں ایسی کشیدہ اور فرقہ وارانہ فضا بنا دی گئی تھی کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چا ر لاکھ بنگلہ زبان بولنے والے غیر بوڈوافراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر 270 ریلیف کیمپوں میںپناہ لینی پڑی تھی۔ تب 20 جولائی 2012 کو شروع ہوا تشدد بہت ہی بھیانک شکل اختیار کر گیا تھا۔ راقم الحروف ان سیکڑوں صحافیوں میںسے ایک تھا جنھوںنے ان کیمپوںکا دورہ کرکے بے گھر ہوئے ان لوگوںکی حالت زاراپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ اس وقت کی حکومت اور بوڈو کونسل کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی و مسلم تنظیموں کی انتھک محنت کا یہ نتیجہ تھا کہ بے گھر لوگوں میں سے بیشتر ہم آہنگی کا کسی قدر ماحول بننے کے بعد اپنے اپنے آبائی مقام پر پہنچ گئے اور کچھ کو بوڈو کونسل کے علاقہ سے باہر زمین پر بنے نئے فلیٹوں میںبسادیا گیا۔ اس وقت تقریباً ایک برس کی محنت کے بعد یہ سب کچھ ممکن ہو پایا تھا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بوڈو ایجی ٹیشن کے ذمہ داروں سے بات چیت کرکے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ 2012 والی بھیانک صورت حال کسی بھی طرح پھر سے نہ پیدا ہو۔ اس صورت حال کا تو تصور کرتے ہی ہر ایک شخص کانپ جاتا ہے۔

 

 

 

 

یہ تو ہوا بوڈو اور غیر بوڈو افراد کا مسئلہ۔ اب آئیے، ذرا دیکھیںکہ آخر شہریت کا مسئلہ کیا ہے؟ نیز 48 لاکھ خواتین کی شہریت گوہاٹی ہائی کورٹ نے کیوںختم کردی؟ اور سپریم کورٹ میںیہ معاملہ کس طرح چل رہا ہے؟
ویسے آسام میں بنگلہ زبان بولنے والوں کی شہریت کا مسئلہ سمجھنے کے لیے کچھ نکات ذہن میںرکھنے ہوںگے۔ ایک طرف 1985 کے آسام معاہدہ کو سپریم کورٹ میںچیلنج درپیش ہے اور ’کٹ اف ڈیٹ‘1971کی بجائے 1951 کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف گوہاٹی ہائی کورٹ کے اپریل 2017 کے فیصلے سے پنچایت سرٹیفکٹ کے مسترد ہوجانے سے 48لاکھ خواتین، جن میںتین لاکھ مرد اور چند لاکھ غیر مسلم خواتین بھی شامل ہیں، کی شہریت ختم ہوگئی ہے اور جس کا معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میںچل رہا ہے۔ تیسری طرف غیر ملکی قرار دیے جانے کے بعد ان افراد کی بڑی تعداد ڈیٹنیشن کیمپوں میںبے بسی کی زندگی گزار رہی ہے ۔ چوتھی طرف مرکز اور ریاست آسام میںبی جے پی کے اقتدار میںآجانے کے بعد نیشنل رجسٹرار آف سٹیزنز (این آر سی) تیار کرنے کا کام جس مستعدی سے ہونا چاہیے تھا، ویسا نہیںہورہا ہے۔ پانچویں طرف یہ حقیقت بھی ہے کہ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کے ہندوؤں،سکھوں، جینیوں،بدھسٹوں،عیسائیوںاورپارسیوںجیسی اقلیتوںجوکہ ہندوستان میںپناہ لیے ہوئے ہیں، کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے کے لیے شہریت سے متعلق قانون کے شیڈول 3- میںترمیم کرکے رہائشی مدت کو 12 برس سے کم کرکے 7 برس کر دیا گیا ہے اور اس سے مسلم پناہ گزینوں خواہ وہ روہنگیائی ہوں یا بنگلہ زبان بولنے والے یا کوئی اور، کو مستثنی رکھا گیا ہے۔
جہاں تک سپریم کورٹ کا معاملہ ہے، اس نے 24 اگست کو آسام کی 48 لاکھ خواتین کی شہریت کے معاملے میںسماعت کرتے ہوئے آسام کی ریاستی بی جے پی حکومت کو کٹہرے میںکھڑا کردیا ہے اور صاف طور پر سوال پوچھا ہے کہ کیا سرکاریں بدل جانے سے سرکاری پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں؟ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا یہ سوال پوچھا جانا خود ایک اہم اور غیر معمولی بات ہے۔
اس کی وہ بھی ہدایت اہم ہے جو کہ اس نے آسام اسٹیٹ کوآرڈینیٹر پرتیک بجیلا کو دی ہے۔ اس ہدایت میںچار ہفتوں کے اندر غیر ملکی قرار دیے گئے باشندوں میںسے ان افراد کی نشاندہی کرنے کو کہا گیا ہے، جن کے پاس اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے صرف گرام پنچایت کا سرٹیفکٹ ہی واحد دستاویز ہے تاکہ ان افراد کے معاملے میںکچھ حتمی طورپر طے کیا جاسکے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس سنہا کی دو رکنی بینچ نے دراصل تین نکتے قائم کیے تھے۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ کیا سرکاروںکے بدلنے سے سرکاری پالیسیاںبدل جاتی ہیں جبکہ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ جو لوگ اس معاملے میں مداخلت کار بننا چاہتے ہیں،وہ اس وقت بھی عدالت میںتاخیر سے آئے تھے، جب 1971 کی بنیاد پر شہریت طے کیے جانے کے معاملے کی سماعت چل رہی تھی۔ عدالت نے سماعت کے دوران بار بار اس تاخیر کو غلط قرار دیا۔ عدالت کا تیسرا نکتہ تھا کہ ریاستی ہائی کورٹ کو منورہ بیگم کا معاملہ سننا چاہیے تھا اور مقدمہ فیصل کرنا چاہیے تھا۔
بہرحال توقع ہے کہ اس تعلق سے سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت جو کہ 12 اکتوبر کو ہوگی، میں اس معاملے میں مزید رفتار آئے گی،جس سے پورے معاملے کو نمٹانے میں یقیناً مدد ملے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *