گورکھپور ٹریجڈی لاپرواہی کا نتیجہ ہے

گورکھپور کے ایک اسپتال میں 70بچوں کی موت ایک ملک کے طور پر ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔ ہندوستان کے 70ویں یوم آزادی کے آس پاس اترپردیش کے گورکھپور میں 70 بچوں کی موت ہو گئی۔ کیا اس سے زیادہ شرمناک کوئی اور بات ملک کے لئے ہو سکتی تھی؟10 اور 11 اگست کی رات میں گورکھپور کے بابا راگھو داس میڈیکل کالج اسپتال میں رات 11بجے سے 2بجے کے درمیان 30بچوں کی موت ہو گئی۔ آکسیجن کی سپلائی نہیں ہونے کے باوجود ان بچوں کے رشتہ دار ہاتھ سے چلنے والی مشین سے بچوں کو آکسیجن دینے کی کوشش کرتے رہے۔ جب موت کے منہ میں سمائے ان بچوں کو لے کر نکل رہے لوگوں کی تصویریں پوری دنیا کے میڈیا میں آئیں تو اترپردیش کی سرکار نے وہی کیا جوعام طور پر سرکاریں اس طرح کے معاملوں میں کرتی ہیں۔ بلی کا بکرا ڈھونڈا اور جانچ کا حکم دے دیا۔
ریاستی سرکار نے کہا کہ موت آکسیجن کی سپلائی رکنے کی وجہ سے نہیں بلکہ انفیکشن کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ آکسیجن فراہم کرنے والے کا بقایہ نہیں چکانے کی وجہ سے اس نے سپلائی بند کر دی تھی۔ جانچ پوری ہونے سے پہلے اور یہاں تک کہ پوسٹ مارٹم کے پہلے ہی سرکار اس معاملے میں نتیجے پر پہنچ گئی۔14سے 16 اگست کے درمیان 34 مزید بچوں کی اموات اس اسپتال میں ہوئیں۔
اتر پردیش میں جاپانی انسیفلائٹس کے معاملے سب سے زیادہ گورکھپور سے ہی آتے ہیں۔ اس بیماری سے ملک میں جتنے لوگ متأثر ہوتے ہیں، ان میں سے 75 فیصد اترپردیش کے ہوتے ہیں۔ اس میں اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم یعنی اے ای سی کے مریض بھی شامل ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سینٹروں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کے سامنے بڑے اسپتال میں آنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہوتا۔ گورکھپور میں 120 پرائمری سینٹروں کی ضرورت ہے جبکہ ان کی تعداد صرف 90 ہے۔بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال 300کلو میٹر کے دائرے کے 15اضلاع کے لئے اکلوتا ریفرل اسپتال ہے۔

 

 

 

 

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بیماری کو روکنے کے لئے ضروری انتظامات کیوں نہیں کئے گئے؟جاپانی انسفلائٹس کے لئے ٹیکا لگانا 2006 میں ہی انٹیگریٹیڈ ویکسین پروگرام کے تحت شروع ہوا تھا لیکن 2015 میں گورکھپور میں انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ نے جو جانچ کی ،اس میں پتہ چلا کہ زیادہ تر بچوں کو یا تو ٹیکا نہیں لگا یا پھر جنہیں لگا ہے ،انہیں صرف ایک ٹیکا ہی لگا ہے جبکہ 2 ٹیکا لگنا لازمی ہوتا ہے ۔اس بیماری سے بچائو کے لئے بھی لازمی و ضروری قدم نہیں اٹھائے گئے تھے۔
عوام کی صحت کی بری حالت کسی سے چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔ اترپردیش جیسی ریاست میں تو صورت حال اور بھی خراب ہے۔ اترپردیش سمیت دیگر مقامات پر پرائمری ہیلتھ سینٹروں کی صورت حال فوری طور پر سدھارنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ بی آر ڈی میڈیکل کالج جیسے ٹیرٹائری اسپتالوں پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے۔یہ اسپتال بھی ملازموں، آلات اور ایسی بیماری سے نمٹنے کے لئے ضروری تجربات کی کمی کا سامنا کررہا ہے ۔
سی اے جی کی 2016 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اسپتال میں ضرورت سے 27فیصد کم میڈیکل آلات تھے۔ اس اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ انسیفلائٹس سے نمٹنے کے لئے 2013 میں جن 104 خاص مراکز کی شروعات ہوئی تھی، وہ ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں ۔ ان مراکز پر لوگ یقین بھی نہیں کرتے ،اس لئے بی آر ڈی جیسے اسپتالوں پر اور بوجھ بڑھتا ہے۔ اس پر پوسٹنگ اورآلات کی خریداری میں افسروں کی مداخلت کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں کا معاملہ اور الجھ جاتا ہے ۔
کسی کو اس بات پر حیرانی ہو سکتی ہے اور کسی کو نہیں بھی، لیکن 30بچوں کی موت کے ایک دن کے اندر مرکزی وزیر نتین گڈکری نے کہا کہ سرکار تو چاہتی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ہیلتھ سروسز دینے میںشامل کیا جائے اور انہیں زمین دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے سرکاری اسپتالوں کی خامیوں کو دور کیا جاسکے گا۔’ نیتی آیوگ‘ نے بھی ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ ٹیئر 2 اور ٹیئر 3 کے شہروں میں کچھ خاص بیماریوں کے علاج کے لئے ضلع اسپتالوں کے پرائیویٹائزیشن پر غور و خوض کریں۔حالانکہ طبی شعبے میں عوامی شراکت داری پر بہت اعدادو شمار نہیں ہیں لیکن وقت بوقت میڈیا میں آنے والی رپورٹ کی بنیاد پریہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس سے غریبوں کو فائدہ نہیں ہوتا۔
بی آر ڈی کا سانحہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے ،نہ کہ پیسوں کی کمی کا۔ یہ غریبوں کی ضرورتوں کی اندیکھی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس بھیانک صورت حال کو پرائیویٹ سیکٹر کے پیسوں سے نہیں بلکہ سرکاری خرچ بڑھا کر، بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کو درست کرکے ٹھیک کیا جاسکتاہے۔غریبوں کو مفت جانچ اور دوائیاں مہیا کرانے کا کام ضروری ہے۔ حالانکہ ایسے مشورے سالوں سے سرکاروں کو دیئے جارہے ہیں لیکن جب بھی اس طرح کا سانحہ ہوتا ہے تو خوب ہلہ اور شورو غل ہوتا ہے لیکن کوئی ٹھوس انتظام نہیں ہوتا ہے ۔
(بشکریہ اکانومک اینڈپالٹیکل ویکلی )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *