قرض معافی کے نام پر کسانوں سے مذاق

یہ تو شروع سے معلوم تھا کہ بی جے پی ابھی ہی نہیں، اپنے پہلے اوتار بھارتیہ جن سنگھ سے لے کر مودی کے اوتار تک اپنی ترجیحات میں کسانوں کو کہیں نہیں رکھ رہی ہے۔کسان اس کے لئے ایک ایسا بچہ ہے جو بغیر چاہے پیدا ہوا ہے اور جسے اسے زبردستی پالنا پڑ رہا ہے۔ انتخاب جیتنے کے لئے تو بی جے پی کسانوںکی دُہائی دیتی ہے لیکن ان کے لئے کچھ کرنے کی کوئی اسکیم نہ بی جے پی کی ہے، نہ بی جے پی کی سرکار کی ہے اور نہ ان ریاستوں کی ہے جہاں بی جے پی کی سرکاریں ہیں۔ دراصل یہ بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ کسانوں نے 2014کے انتخابات میں اس امید میں مرکزی سرکار کو دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر ووٹ دیئے کیونکہ وزیرا عظم مودی نے کہا تھا کہ انہیں لاگت سے ڈیڑھ گنا زیادہ فصل کی قیمت ملے گی اور اسے سرکار یقینی کرے گی۔ اس وقت کسانوں کو نہیں معلوم تھا کہ جس ایک لفظ ’’ جملہ ‘‘ کا استعمال امیت شاہ نے کردیا ہے، یہ بھی جملہ ثابت ہوگا۔15سے 20لاکھ روپے ہرایک کے بینک کھاتوں میں دینے کا وعدہ نریندر مودی نے کیا تھا، جسے امیت شاہ نے کہا تھا کہ وہ صرف ایک جملہ تھا۔ جملہ یعنی جھوٹ۔ کیا ویسا ہی جھوٹ کسانوں کو ان کی فصل کی ڈیڑھ گنی قیمت دینے کے وعدے کی شکل میں کیا تھا۔ یہ سراسر جھوٹ تھا۔ کیونکہ اس کا کوئی راستہ، کوئی چرچا،کوئی اسکیم دکھائی نہیں دیتی۔ ابھی اترپردیش کے انتخابات میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ اترپردیش سرکار کی پہلی کابینی میٹنگ میں قرض معافی کا فیصلہ ہوگا ۔کابینہ کی پہلی میٹنگ کچھ دنوں تک ٹلی، سرکار کا کام چلا، لیکن جب باضابطہ میٹنگ ہوئی تو اس میں کسانوں کی قرض معافی کا اعلان ہوا۔ ایک لاکھ تک کے قرض کو معاف کرنے کا اعلان یوگی سرکار نے کیا۔ لیکن اس اعلان پر عمل کے لئے یہ کہا گیا کہ بجٹ کا انتظار کرنا چاہئے۔لوگوں نے بجٹ کا بھی انتظار کیا اور اب، جب اس کی سچائی سامنے آرہی ہے تو لوگوں کے ہوش غائب ہیں۔ کسانوں کو لگ رہاہے کہ انہیں طمانچے پر طمانچے نہیں، بلکہ جوتے پر جوتے لگ رہے ہیں۔
اترپردیش کے کسانوں کو یہ بھی لگتا ہے کہ جیسا اترپردیش میں ہورہا ہے، وہ بغیر وزیراعظم مودی کی رضامندی کے نہیں ہو رہا ہے۔ اس میں ارون جیٹلی کی وزارت خزانہ شامل ہے، مرکز کی سرکار شامل ہے اور اترپردیش کی سرکار ان کی رائے سے ممکنہ طور پر یہ سارے کام کررہی ہے۔ اس وقت ایک لاکھ روپے تک فصلوں کے قرض کو معاف کرنے کے حکم پر عمل کے لئے ہر ضلع میں قرض معافی کے سرٹیفکیٹ بانٹے جارہے ہیں۔ اب اس قرض معافی کی حقیقت کسانوں کے درد کا مذاق اڑا رہی ہے اور انہیں سر پیٹنے کے لئے مجبور کررہی ہے۔ مغربی یو پی میں افسروں اور بینکوں کے حساب نے ایک لاکھ کی جگہ باغپت کے کسان کے صرف 8پیسے اور بجنور کے کسان کے صرف 9پیسے ہی معاف کئے ہیں۔ 50اور 100 روپے معاف ہونے والے کسانوں کی لسٹ بہت لمبی ہے۔ کسان اس کو لے کر پریشان ہیں اور خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ خود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تقریباً دس دن پہلے کسانوں کی قرض معافی کے تحت سرٹیفکیٹ بانٹنے کی شروعات کی تھی۔ ایک لاکھ روپے تک کے قرض معافی کے سرٹیفکیٹ لینے گئے کافی کسانوں کے ہوش تب اڑ گئے جب کسی کو 500 تو کسی کو 100 اور 50 روپے معافی کی جانکاری ملی۔ کسان اب اس معاملے کی جانچ کی مانگ کررہے ہیں لیکن کس سے جانچ کی مانگ کررہے ہیں،اسی سے جانچ کی مانگ کررہے ہیں ،جس نے انہیں اس طرح کادھوکہ دیا ہے۔

 

 

 

 

 

بجنور کی مثال لیں، تو یہاں14188 کسانوں کا قرض معاف ہونا ہے۔ پہلے فیز میں 5 ہزار 26 کسانوں کو سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔کئی کسانوں کو صرف 100 روپے تو کئی کسانوں کو صرف 10 روپے، 38 روپے معافی کے سرٹیفکیٹ ملے۔ 114کسانوں کا ایک لاکھ تک کا قرض ضرور معاف ہوا۔ ایک کسان نے 60 ہزار کا قرض لیا تھالیکن سرٹیفکیٹ میں صرف 18 روپے ہی معاف ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے کم قرض معاف والے کسانوں کی تعداد تقریباً 23 ہے۔ ان میں 9پیسے سے لے 377 روپے تک کی قرض معافی والے کسان بھی شامل ہیں۔ نگینہ کے کسان بلیا کے 9 پیسے، باسٹا کے چرن سنگھ 84پیسے ، آکو کے رام دھن کے 2روپے ، افضل گڑھ کے بھاگیش کے 6روپے، بھنڈوار کے ہیرا کے3 روپے، نظیم آباد بینک چوک کے جسونتی کے 21روپے، ہیرک پور کے دیارام کے 91.52 روپے، ناٹور کی پدمہ دیوی کے 115روپے، دھام پور کے بلجیت سنگھ کے 126 روپے، کیرت پور کے دولت سنگھ کے 377 روپے معاف ہوئے ہیں۔ اتنی بڑی رقم سرکار نے معاف کر دی، اس کے لئے سرکار کو شاباشی دی جائے یا کسانوں کی بدقسمتی کو یا اس جھوٹ کو، جو جھوٹ اترپردیش کے انتخابات میں قرض معافی کے نام پر کسانوں سے بولا گیا۔
مغربی اترپردیش کے دوسرے ضلع باغپت میں بھی کسانوں کے 8پیسے تک ہی معاف ہوئے ہیں۔ لوہارا کے کسان ستیہ پال کے 12روپے،کانٹا کے دھیرج کے 14.38 پیسے، فیض پور کرانا کے ترپال سنگھ کے 8روپے، حسابدا کے سَوراج سنگھ کے 156.61 روپے، نیتھلا کے مہیش کے 20.66 روپے، پالی کے تیج پال سنگھ کے 959 روپے معاف کیے گئے۔ اسی طرح کسان انعام الدی کے کینرا بینک شاخ پوسار اڈا میں 8 پیسے، سریش پال سنگھ کے سنڈیکیٹ بینک اکائونٹ میں 6روپے، ہیرن گائوں کے پنجاب اینڈ سنگھ بینک کے اکائونٹ میں 6روپے ، ہرا گائوں کے بابر سنگھ کے 9روپے ستپال کے 12روپے قرض معاف ہوئے ہیں۔ 50 روپے تک کے قرض معاف ہونے والے تقریباً 22کسان ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ قصے صرف انہی دونوں کے ہیں یا لگ بھگ ہر ضلع کے ہیں۔ ہماری جانکاری کے حساب سے اترپردیش کے زیادہ تر اضلاع میں یہی حالت ہے۔ تو ہم کیا مانیں،کیا یہ افسروں کی چالاکی ہے یا بینک افسروں کے اعدادو شمار کا کھیل ہے یا سرکار جان بوجھ کر ووٹ لینے کے بعد کسانوں کو جوتے پر جوتے لگا رہی ہے۔ سچائی کیا ہے؟اترپردیش سرکار اس مسئلے پر خاموش ہے۔ نہ اگریکلچر سکریٹری کچھ بول رہے ہیں، نہ وزیر اعلیٰ کچھ بول رہے ہیں اور نہ محکمہ اطلاعات کچھ بتا رہا ہے، بس قرض معافی کے سرٹیفکیٹ بانٹے جارہے ہیں۔ اس کی تشہیر ہوئی لیکن کتنے کے سرٹیفکیٹ دیئے گئے،اس بات کو اترپردیش سرکار گول کرگئی ہے۔

 

 

 

 

 

اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسا مذاق ، ایسا جھوٹ ،ایسا دھوکہ، اس کے پہلے کسانوں کے ساتھ کبھی نہیں ہوا۔ اس پر طرہ یہ کہ کبھی مدھیہ پردیش کے وزیرزراعت، کبھی کسی دوسری ریاست کے وزیر زرعت، کبھی بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ اکثر بات چیت میں کہہ دیتے ہیں کہ کسانوں کے ذریعہ خود کشی کیا جانا ،ایک فیشن ہے اور قرض معافی کی مانگ اپوزیشن پارٹیوں کی سازش ہے۔ اگر اپوزیشن پارٹیوں کی سازش تھی یا کسان، کانگریس یا سماج وادی پارٹی کی سازش تھی تو بی جے پی کو ایسا وعدہ انتخاب میں کرنا ہی نہیں چاہئے تھا کہ ایک لاکھ روپے تک کے قرض کو سرکار آتے ہی معاف کر دے گی۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ آگے سے جھوٹ بولنا بند ہو جائے گا لیکن دُکھ ضرور ہوتا ہے، جب وہی سرکار خود کو ووٹ دینے والے کسانوں کے ساتھ ایک بھدا مذاق کرتی ہے۔ کیا اس کیذمہ داری وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کی ہے؟انہیں ضرور پتہ ہوگا کہ قرض معافی کے نام پر کس طرح کے سرٹیفکیٹ بانٹے جارہے ہیں۔ اگر انہں نہیں پتہ تو اس کا مطلب وزیراعلیٰ دفتر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کررہا ہے اور اگر انہیں پتہ ہے اور وہ خاموش ہیں تو پھروہ اس سازش میں شامل ہیں یا یہ مرکزی سرکار کے اشارے پر ہورہا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کے کسان لیڈر جو اکثر کسانوں کے مفاد کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں ،وہ بھی اس مسئلے پر خاموش ہیں۔ اترپردیش بی جے پی تو بالکل ہی خاموش ہے۔یہ خاموشی یہ بتاتی ہے کہ بی جے پی کے لیڈر اور ان کی سرکا کسانوں کے ساتھ بھدا مذاق کرنے کے حمام میں پوری کی پوری ننگی کھڑی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *