یو پی بلدیاتی انتخابات میں بھی ایس پی کو جھٹکا

ضلع پنچایت کی 11سیٹوں پر پچھلے دنوں ہوئے ضمنی انتخاب میں8 سیٹوں پر بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار جیت گئے۔ اس میں 2 پہلے ہی بلا مقابلہ فاتح قرار دیئے گئے ہیں۔ بی جے پی نے سماج وادی پارٹی کے گڑھ اورَیا میں اپنے امیدوار کو ضلع پنچایت صدر کی کرسی پر بیٹھانے میں کامیابی حاصل کی لیکن نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے ضلع کوشامبی میں بی جے پی کو جھٹکا لگا جہاں آزاد امیدوار کو جیت حاصل ہوئی۔
رام پور، لکھیم پور کھیری، اورَیا ، کوشامبی ، غازی پور، فرخ آباد بلند شہر، مئو ، میرٹھ ،سنت کبیر نگر اور ہاتھرس میں ضلع پنچایت صدر کا عہدہ نو کنفیڈنس موشن اور استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہوا تھا ۔اس میں رام پور سے چندر پال سنگھ اور لکھیم پور کھیری سے سومن سنگھ پہلے ہی بلا مقابلہ فاتح قرار دیئے گئے۔دیگر 9سیٹوں کے لئے 22اگست کو ووٹ پڑے۔یہ انتخاب پارٹی سمبل پر نہیں ہوتا، لہٰذا کوئی بھی پارٹی سرکاری طور پر کسی کو امیدوار ہونے کا اعلان نہیں کرسکتی ۔لیکن مقامی سطح پر پارٹیوں نے اپنے لوگوں کی امیدواری کو بالواسطہ طور سے حمایت دی تھی۔
نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے حلقہ کوشامبی میں پارٹی کو جھٹکا لگا کیونکہ سماج وادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئی سبکدوش ہونے والی ضلع پنچایت صدر مدھو پتی کو زبردست شکست کا سامنا کرناپڑا۔ انہیں محض8 ووٹ ملے جبکہ جیتنے والی آزاد امیدوار انامیکا سنگھ کو 20 ووٹ ملے ۔ ایک ووٹ غیر قانونی قراردیا گیا ۔مدھو پتی کچھ دنوں پہلے ہی کرسی بچانے کے لئے بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں۔ان کی امیدواری کو لے کر پارٹی کی لوکل یونٹ کی سطح پر کافی اندرونی اختلاف تھا جس کا اثر انتخاب میں بھی دکھائی دیا۔ حالانکہ نامزدگی کے وقت بی جے پی کے ضلع صدر بھی موجود تھے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
اوریا میں پہلی بار سماج وادی پارٹی کی شکست ہوئی ۔وہاں دیپو سنگھ راجاوت نے سماج وادی پارٹی کی حمایت یافتہ امیدوار سدھیر سنگھ یادو کو6 ووٹوں سے ہرایا۔ ایک ووٹ خارج ہوا۔ جیل میں ہونے کی وجہ سے 2 ممبر ووٹ نہیں ڈال پائے ۔اوریا میں نامزدگی کے دوران کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ اسی ہنگامے میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کو احتجاج کے دوران پچھلے دنوں حراست میں لیا گیا تھا۔سابق صدر پردیپ یادو کو جیل جانا پڑا۔ اوریا ضلع بننے کے بعد پہلی بار وہاں سے غیر سماج وادی پارٹی کا کوئی فرد ضلع پنچایت صدر کے عہدہ پر قابض ہوا ہے۔ ادھر بہو جن سماج پارٹی لیڈر اور سابق وزیر رام ویر نائب صدر ہاتھرس میں اپنے بھائی کی کرسی بھی نہیں بچا پائے۔

 

 

 

 

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ہاتھرس میں اب رام ویر کی پکڑ کمزور ہورہی ہے۔ پنچایت صدر کے ضمنی انتخاب میں وہ اپنے بھائی رامیشور اپادھیائے کو جیت نہیں دلا پائے۔ رام ویر کے بھائی کو سماج وادی پارٹی اور کچھ دیگر پارٹی کے ذریعہ حمایت یافتہ امیدوار اوم وتی نے رامیشور اپادھیائے کو ہٹایا۔ رام ویر کے بھائی کے خلاف نو کنفیڈنس موشن منظور ہونے کے سبب سیٹ خالی ہوئی تھی۔ میرٹھ اور بلند شہر سیٹ پر بی جے پی حمایت یافتہ امیدواروں نے سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کو ہرا کر جیت حاصل کی ۔
میرٹھ کی سیٹ سماج وادی پارٹی کی سیما پردھان اور بلند شہر کی سیٹ سماج وادی پارٹی کے ہریندر یادو کے پاس تھی۔ دونوں کے خلاف نو کنفیڈنس لایا گیا تھا اور دونوں کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ میرٹھ میں بی جے پی کے کلویندر سنگھ جیتے، جنہیں 17 ووٹ ملے جبکہ ان کے مد مقابل سپنا ہُڈا کو 16 ووٹ ملے۔ بلند شہر میں بھی بی جے پی کے امیدوار پردیپ انتخاب جیت گئے ۔ مئو سے بی جے پی کی حمایت یافتہ ارمیلا دیوی اور فرخ آباد سے گیان دیوی کٹھیریا انتخاب جیت گئیں۔ غازی پور میں بھی سماج وادی پارٹی کی حمایت یافتہ امیدوار آشا جیتنے میں کامیاب رہیں۔ سنت کبیر نگر ضلع میں ضلع پنچایت صدر عہدہ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار نینا دیوی ضلع پنچایت صدر مقرر ہوئیں۔ اسی طرح ضلع پنچایت صدر کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے زور دار چھلانگ لگائی جبکہ بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس پوری طرح صاف ہو گئی۔
بلاک ضمنی انتخاب میں جیتی بی جے پی
لکھنو کے مال اور ملیح آباد میں بلاک پرمکھ کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی حمایت یافتہ امیدواروں نے جیت حاصل کی۔ ملیح آباد میں نیشا سنگھ چوہان اور مال میں خاتونہ منتخب ہوئیں۔ ملیح آباد بلاک پرمکھ انتخاب میں ووٹ گنتی کے بعد بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار نیشا سنگھ چوہان کی جیت کااعلان کیا گیا۔ انہوں نے اپنے مد مقابل سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی حمایت یافتہ امیدوار چندر بھوشن یادو عرف منا سنگھ یادو کو 15ووٹوں سے شکست دیا۔
اس انتخاب میں 90 علاقائی پنچایت ممبروں میں سے 89 نے ووٹ ڈالے۔ نیشا سنگھ چوہان کے حق میں 51 اور چندر بھوشن یادو کے حق میں 36 ووٹ پڑے۔ گنتی کے دوران 2 ووٹ رد کر دیئے گئے ۔ مال بلاک کے پرمکھ کے انتخاب میں بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار خاتونہ نے سبکدوش ہونے والے پرمکھ راجکماری کو ہرایا۔ 86 وی ڈی سی ممبروں میں سے تین ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے اور چار ووٹ غیر قانونی ہو گئے۔ خاتونہ کو 44 اور راجکماری کو 35 ووٹ ملے ۔
اس بار خاص طور پر ملیح آباد بلاک پرمکھ کا انتخاب دلچسپ تھا، کیونکہ اس سیٹ کے لئے چندر بھوشن یادو عرف منا سنگھ یادو مضبوط دعویدار تھے ۔مناسنگھ موہن لال گنج کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کیشور کی لڑائی کے دنوں کے ساتھی رہے ہیں لیکن سیاست میں دوست سے زیادہ مفاد عزیز ہوتا ہے۔ لہٰذا کوشل نے دل بدلو نیشا سنگھ چوہان کی حمایت کرنا فائدہ مند سمجھا۔ کوشل کیشور کے اس قدم سے ناراض ہوکر بی جے پی کے لکھنو ضلع صدر رام نیواس یادو نے رکن پارلیمنٹ کوشل کیشور کے خلاف وجہ بتائو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔
ملیح آباد بلاک پرمکھ کی سیٹ خدا داد خاں کے خلاف آئے نو کنفیڈنس موشن کے سبب خالی ہوئی تھی۔ خدا داد خاں کے خلاف 90 میں سے 65 بی ڈی سی نے حلف نامہ دے کر نو کنفیڈنس کا اظہار کیاتھا۔ ابھی بلاک پرمکھ کا انتخاب جیتنیوالی نیشا سنگھ چوہان کالی چرن کالج کے سابق ڈائریکٹر انیل سنگھ چوہان کی بیوی ہیں۔ انیل سنگھ چوہان حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی امیدوار کے حق میں جم کر انتخابی تشہیر کر رہے تھے۔ بعد میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ مال بلاک پرمکھ کے لئے خاتونہ خان کو حمایت دینے کے مسئلے پر بھی بی جے پی ضلع صدر نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کیشور کے خلاف وجہ بتائو نوٹس جاری کیا تھا لیکن راجناتھ سنگھ کا خاص ہونے کے سبب کوشل کیشور بچے رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *