طلاق بدعت غیر آئینی بن ہی گئی

گزشتہ 23 اگست 2017 کو قومی راجدھانی دہلی سے قریب ریاست اترپردیش کے مشہور شہر میرٹھ کے سردھنا تھانہ میں درج ہوئی ایک ایف آئی آر کے مطابق سردھنا قصبہ کے سراج خاں نامی شخص نے اپنی حاملہ بیوی ارشندہ جو کہ تین بچوں زبیر (4برس )، زینت (3 برس ) اور رحمت (ایک سال ) کی ماں ہے، کو مبینہ طور پر جہیز کے ایشو پر تکرار کے دوران بھری پنچایت کے سامنے ایک بار میں تین طلاق( طلاق بدعت )یعنی تین بار لفظ طلاق بول کر اسے اپنی زندگی سے نکال دیا۔ پھر جب سراج خاں کو سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کا حوالہ دیا گیا تو اس نے اسے قبول کرنے سے صاف طور پر انکار کردیا۔ اسی دوران اس متاثرہ خاتون کا اسقاط حمل بھی ہوگیا۔متاثرہ سے ملی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ملزم سراج خاں ، سسر ریاض خاں، ساس معینہ، نند زینت، درخشاں اور رضوانہ نیز چچیا سسر سلیم کے خلاف دفعہA 498، 322، 504، 506، 316 اور 3/4 جہیز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کے تحت درج کی ہے۔تھانہ انچارج دھرمیندر سنگھ راٹھور کا کہنا ہے کہ چونکہ اب تین طلاق کو لے کر قانون کی کوئی دفعہ نہیں ہے، لہٰذا اسے جہیز ہراساں ہی مانا جائے گا۔
اس معاملہ پر آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ عنبر کا سوال ہے کہ جو لوگ ایسا کریں گے، انہیں کونسی سزا دی جائے گی؟وہ کہتی ہیں کہ سپریم کورٹ اپنے حکم کی خلاف ورزی کرنے اور تین طلاق دینے والوں کے خلاف سزا بھی مقرر کرے تاکہ اس پر مؤثر روک لگ سکے اور متاثرین کو انصاف مل سکے۔ انہوں نے ’’ چوتھی دنیا ‘‘ سے یہ بھی کہا کہ ویمن مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کے لئے عرضی داخل کرکے عدالت سے اپیل بھی کرے گا۔ شائستہ عنبر کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالت نے جہاں پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ طلاق پر قانون سازی کرے ،وہیں حکومت سپریم کورٹ کے حکم کو ہی قانون بتا کر اپنا پلہ جھاڑتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تین طلاق کا معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بجائے معلق رہ جائے گی اور مسلم خواتین کے ساتھ ناانصافی جاری رہے گی۔
میرٹھ کے اس تکلیف دہ واقعہ سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ تین طلاق ہندوستان کے مسلم معاشرہ میں موجود ہے اور اس کا استعمال بعض حلقوں میں ہوتا بھی ہے۔ لہٰذا سپریم کورٹ کا مختلف عرضیوں پر فیصلہ وقت کا تقاضہ بھی ہے۔ ویسے یہ سوال الگ ہے کہ یہ فیصلہ اس مسئلہ کو کتنا حل کرپائے گا اور متاثرہ خواتین کو انصاف بھی کتنا دلاپائے گا؟لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ اس فیصلہ نے ہندوستان کی سیاست اور مسلم مذہبی قیادتوں کو ہلا کر رکھ دیاہے ۔ سب سے دلچسپ رد عمل تو یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اس ایشو کے تمام فریقین فیصلہ کو اپنے حق میں بتارہے ہیں اور ہر فریق اپنے ماننے والے کو یہ کہہ رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس کے حق میں ہی فیصلہ سنایا ہے۔ سب سے پہلے مرکزی حکومت کو لیں۔اس نے اسے خواتین کے حقوق کی لڑائی میں جیت بتایا اور پی ایم مودی نے اسے تاریخی قرار دیا۔ سیاسی پارٹیوں میں بی جے پی کے نزدیک یہ ’نیو انڈیا ‘ کی طرف بڑھتاقدم بنا تو کانگریس کے لئے ترقی پسندانہ قدم ٹھہرا۔
عورتوں کی تنظیمیں تو خوشی سے پھولے نہ سمائیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے تین پیراگراف کے بیان میں اس کا خیر مقدم کیا۔ ملی تنظیموں ، اداروں و دیگر اکابرین اور علماء کرام کی آراء الگ الگ ٓآئین ۔ کسی نے خیر مقدم کیا تو کسی نے شریعت میں اسے مداخلت سے تعبیر کیا۔ ویسے بڑے اکابرین کا عمومی انداز یہ بھی رہا کہ وہ صاف بات کہنے اور بورڈ کے بیان کو ناقابل فہم مان کر کوئی بات کہنے سے کتراتے رہے۔
اب آئیے ،سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ سپریم کورٹ کا397 صفحات پر مشتمل فیصلہ آخر ہے کیا؟مکمل آئینی بینچ کل پانچ ججوں پر مشتمل تھی۔ دلچسپ بات تو یہ بھی تھی کہ ان پانچ ججوں میں ہر ایک الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر سکھ تو جسٹس عبد النظیر مسلم، جسٹس کورین جوزف عیسائی ، جسٹس آر ایف نریمن پارسی اور یو یو للت ہندو تھے۔ ان ججوں میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا فیصلہ الگ الگ سنایا اور پھر دیکھا گیا کہ مجموعی طور پر کون فیصلہ اکثریتی اور کون اقلیتی ہے۔ پھر اکثریتی فیصلہ کو واقعی فیصلہ مان لیاگیا۔

 

 

 

 

شروع میں کنفیوژن چیف جسٹس کھیہرکے ذریعے سب سے پہلے فیصلہ سنانا شروع کرنے سے ہوا کیونکہ وہ تین طلاق کو غیر آئینی اور اسے آئین ہند کے ذریعے فراہم کردہ بنیادی حقوق کی بعض دفعات کے خلاف بھی نہیں مان رہے تھے۔پھر جب ایک ایک کرکے سبھی کا فیصلہ سنا دیا گیا تب مجموعی طور پر صورت حال سامنے آئی۔ جسٹس کھیہر کے فیصلہ کے حق میں جسٹس عبد النظیر کا فیصلہ آیا جبکہ باقی تین ججوں نے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا۔
اکثریتی اور اقلیتی فیصلوں میں واقعتا فرق کیا ہے، یہ مندرجہ ذیل تفصیل سے واضح ہوتا ہے۔ جسٹس نریمن اور جسٹس للت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ایک مجلس میں لگاتار تین طلاق غیر آئینی، من مانی اور آئین کی دفعات 14 اور 21 سے متصادم ہے۔ جسٹس نریمن نے یہ بھی کہا کہ شریعت میں جو بات گناہ ہو ،وہ قانون کا درجہ اختیار نہیں کرتی ہے۔جسٹس کورین نے اپنے الگ فیصلہ میںنریمن کے اس فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انسٹینٹ تین طلاق غیر آئینی ہے اور دفعہ 14 سے متصادم ہے ۔ البتہ ان کا یہ بھی کہنا ہوا کہ تین طلاق کو قرآن کا کوئی سینکشن حاصل نہیں ہے ۔اس طرح یہ فیصلہ اکثریتی فیصلہ بن گیا ۔ اسی طرح جسٹس کھیہر اور جسٹس عبد النظیرکا فیصلہ ہے کہ پرسنل لاء مذہب کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس بنیاد پر اسے دفعہ 25 کا تحفظ حاصل ہے۔ ان دونوں ججوں نے پارلیمنٹ سے قانون بنانے کو بھی کہا۔ جسٹس کورین نے جسٹس کھیہر کے پہلے فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا کہ پرسنل لاء کو دفعہ 25 کا تحفظ حاصل ہے۔ لہٰذا یہ فیصلہ بھی اکثریتی فیصلہ بن گیا۔ البتہ جسٹس کورین نے یہ بھی کہا کہ وہ جسٹس کھیہر اور جسٹس عبد النظیر کے اس فیصلہ سے اتفاق نہیں کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ اس پر قانون بنائے ۔یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ 6 ماہ میں قانون بنانے والا فیصلہ جسٹس کھیہر اور جسٹس عبد النظیر کا اقلیتی فیصلہ ہے۔
جہاں تک تین طلاق کے تعلق سے تین ججوں کا جو اکثریتی فیصلہ ہے، اس کا باریک بینی اور گہرائی سے مطالعہ کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ پورے طور پر یہ صاف نہیں ہے کہ تین طلاق واقعی 3/2 کی اکثریت سے غیر آئینی یا مسترد قرار دیا گیا ہے۔ ایک کامن فیصلہ میں پانچ ججوں میں سے دو ججز نریمن اور للت نے کہا کہتین طلاق اسٹیٹوٹری لاء یعنی مسلم پرسنل لاء (شریعت ) ایپلی کیشن ایکٹ 1937 کا عنصر تھا اور من مانی ہونے کے سبب غیر آئینی تھا۔
اس طرح ان دونوں نے اس عام سوال پر رائے دینے سے گریز کیا کہ کیا مذہبی پرسنل لا ز تمام شہریوں کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کے حق دینے کی گارنٹی دیتی ہوئی دفعہ 25 کے تحت آئینی چھان بین سے محفوظ ہیں۔ عیاں رہے کہ شریعت ایکٹ 1937 میں تین طلاق کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔
اسی طرح دوسرے کامن فیصلہ میں چیف جسٹس کھیہر اور جسٹس عبد النظیر نے کہا کہ پرسنل لاء کا جز ہوتے ہوئے تین طلاق کی پریکٹس آئین کی دفعہ 25 سے محفوظ ہوتی ہے اور اس میں عدالت کے ذریعہ مداخلت نہیں کی جاسکتی ہے۔ مگر انہوں نے اسی سانس میں یہ بھی ہدایت دی کہ اس پریکٹس کو پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بناتے ہوئے ختم کیا جائے۔
اس طرح منقسم اور متضاد ہوتی ہوئی ان آراء کے درمیان فیصلہ کا پورا وزن پانچویں جج جسٹس کورین کی طرف شفٹ ہوگیا۔ خلاصہ کو دیکھتے ہوئے جسٹس کورین سے توقع کی جاتی ہے کہ انہوں نے جسٹس نریمن اور جسٹس للت سے تین طلاق کی آئینیت پر اتفاق کیا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ 397صفحات کے فیصلہ میں صرف 27صفحہ کا ان کا فیصلہ کسی ایک طرف جاتا ہوا دکھائی پڑتا ہے اور بڑا کلیدی بن جاتاہے۔ جسٹس کورین تین طلاق کو اس لئے ناقابل عمل نہیں مانتے ہیں کہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ اس لئے کہ یہ ان کے مطابق ’’غیر قرآنی ‘‘ اور اسی لئے شریعت کی خلاف ورزی کرنے والاہے۔ کہنے کو تو وہ نریمن اور للت سے اس بات پر اتفاق نہیں کرتے ہیں کہ1937کا ایکٹ تین طلاق کو ریگولیٹ کرنے والا قانون ہے اور اس لئے یہ دفعہ 14 کے ٹیسٹ کا موضوع ہوگا‘‘ ۔
دراصل یہ وہ مرکزی ستون ہے جو کہ جسٹس نریمن اور جسٹس للت کی دلیل کو ایک ساتھ لے آتا ہے اور کسی بھی اور مناسب انداز میں جسٹس کورین کے فیصلہ کو ان دونوں کے فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوئے نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ پر غور کرنے پر کسی کو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ دو ججز ایسے ہیں جو تین طلاق کی آئینی استثنائی ( Immunity ) کے حق میں ہیں جبکہ باقی دو اسے غیر آئینی مانتے ہوئے مسترد کرتے ہیں اور پانچویں یعنی ایک تو اسے قانون بھی نہیں مانتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسٹس کو رین اور باقی دونوں ججز نریمن اور للت کے درمیان اختلاف کی روشنی میں کوئی شخص 3/2 کی گمراہ کرتی ہوئی اکثریت سے کیا مطلب نکالے جس کے سہارے تین طلاق مبینہ طور پر غیر آئینی قرار دی گئی؟
یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ پھر آخر کوئی شخص اس فیصلہ کا مطلب کیا نکالے ؟یہ واضح ہے کہ سائرہ بانو ورسز یونین آف انڈیا مقدمہ کے تینوں ججز اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ تین طلاق امتیازی صنفی (Gender Discriminatory) ہے اور اسی لئے غیر آئینی ہے۔ دراصل یہ وہی سوال تھا جس کا جواب سب کو مطلوب تھا۔
بہر حال یہ تو ممکن ہوہی گیا ہے کہ تینوں ’اکثریتی ‘ ججوں کو کسی خلاصہ ارادے کی سطح پر اور ان کے فیصلوں کی روشنی میں جوڑا جائے اور یہ مطلب نکالا جائے کہ تین طلاق ایک ناپسندیدہ اور غیر ضروری پریکٹس ہے اور اسے بحیثیت قانون برقرار نہیں رہنا چاہئے۔بہر حال اب یہ دیکھنا ہے کہ تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیتا ہو ایہ فیصلہ اس طلاق بدعت یا مغلظہ کوختم کرنے میں کتنا مؤثر ثابت ہوگا؟
کیا کہتے ہیں مسلم اکابرین ؟
مولانا محمد ولی رحمانی،جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
طلاق، تعد ازدواج اور حلالہ سے متعلق ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت میںجاری مقدمہ کا فیصلہ باہم ٹکرا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ پرسنل لاء پورے طور پر محفوظ رہے گا، وہ آئین ہند کی دفعہ 25 کے دائرے میں آتا ہے۔فیصلہ کا یہ حصہ تمام مسلمانان ہند کی کامیابی ہے۔یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ شرعی احکام مسلم پرسنل لاء کا حصہ ہیں اور ان میں ترمیم یااضافہ کا حق عدالت کو حاصل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے دوسرے حصے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انٹینٹ تین طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس لحاظ سے یہ فیصلہ باہم ٹکرارہا ہے۔
مولانا محمد سالم قاسمی، نائب صدر، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند : ملک کے آئین میں سبھی مذہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے ۔کسی کے مذہب کے پرسنل لاء میں مداخلت سراسر غلط ہے ۔ویسے سپریم کورٹ کا تین طلاق سے متعلق جو اکثر یتی فیصلہ آیا ہے اس میں بہت سے اگر مگر موجود ہیں۔لہٰذا ان کی بھی وضاحت مطلوب ہیں۔
مولانا سید ارشد مدنی، صدر جمعیت علماء ہند : میری نظر میں یہ فیصلہ شریعت کے خلاف ہے مگر میری مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ ہرگز مایوس نہ ہوں اور صبرو ضبط اور امن سے کام لیں اور خیر کا راستہ نکالتے ہوئے اسلام کو اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اتارنے کی کوشش کریں۔ ویسے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومت میں موجودہ اعلیٰ مقتدر حضرات کی خصوصی دلچسپی سے یہ بات صاف محسوس ہوتی ہے کہ آنے والاوقت مسلمانوں کے لئے اور بھی مسائل کو جنم دے سکتاہے جن کے لئے انہیں ذہنی طور پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ معاملہ صرف طلاق تک ہی محدود نہیںہے بلکہ برسراقتدار بی جے پی اور آر ایس ایس کے ذریعے ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے اور یونیفارم سول کوڈ کو تھوپنے کے ایجنڈہ کا ہی ایک حصہ ہے۔جلد ہی قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد فیصلہ کے خلاف اپیل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
مولانا سید جلا ل الدین عمری، امیر جماعت اسلامی ہند: سپریم کورٹ کایہ فیصلہ متفقہ فیصلہ نہیں ہے۔لہٰذا اسے 3/2 کے تناسب میں اکثریتی فیصلہ کہا جارہاہے۔ میری نظر میں اس فیصلہ سے خواتین کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا ہے۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ تین طلاق کے متاثرین کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس اکثریتی فیصلہ میںبہت سی باتیں ابھی واضح اور صاف نہیں ہیں۔ فرض کیجئے کہ کسی نے اس 6ماہ کی مدت میں ایک مجلس میں تین طلاق دے دی تو متاثرہ عدالت جائے گی۔ اس صورت میں پھر کیا ہوگا؟ مرد کہے گا کہ اس نے تین طلاق دے دی اور وہ الگ ہوگئی مگر عدالت اس پر عمل کرے گی کہ تین طلاق غیر آئینی ہونے کی بنا پر نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت پھر کیا ہوگا؟کیا مرد کی خواہش کے خلاف عورت اس کے گھر آکر رہے گی؟جہاں تک سزا کا معاملہ ہے،اس سلسلے میں وضاحت آنا باقی ہے۔

 

 

 

 

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی، ناظم عمومی ،مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند: قرآن و حدیث میں ایک نشست میں تین طلاق کامرد کو اختیار ہی نہیں دیا گیا ہے اور ہم اسی کو مانتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر کوئی مسلمان ایک نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ صحیح نہیں ہو گا۔البتہ کچھ مسلمان اس کو مانتے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اس کے باوجود یہ سوچنے کی بات ہے کہ حکومت کو یہ موقع کیوں ملا اوراسے یہ موقع کس نے دیا کہ وہ پرسنل لاء میں مداخلت کے لئے عدالت میں حلف نامہ داخل کرے؟ ضرورت ہے کہ تمام مذاہب کے پرسنل لاء محفوظ رہیں۔ ایسا لائحہ عمل ہم سب کو مل کر بناناچاہئے۔
مولانا سید احمد بخاری ، شاہی امام، جامع مسجد دہلی : سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تناظر میں یہ نوبت یہاں تک کیوں آ پہنچی؟اس مسئلہ کو کس نے بگاڑا اور کس کی وجہ سے یہ مسئلہ عدالت عظمیٰ کے سامنے پہنچا۔ اگر اسکی اصلاح وقت رہتے کرلی گئی ہوتی تو آج یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتا۔اس کے لئے ہم خود ذمہ دار ہیں ۔میرا پختہ خیال ہے کہ طلاق ثلاثہ کا فیصلہ قرآن کی روشنی میں عبد اللہ کے نہیں اللہ کے قول پر ہونا چاہئے ۔میرا یہ بھی خیال ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں چند ایسے افراد ہیں جو کہ ٹھیکہ دار بن کر کام کو انجام دیتے رہے ہیں۔ بورڈ میں یوں تو سبھی مسالک کی نمائندگی ہے مگر چند ایسے ارکان ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کو یہ دن دیکھنے کو ملا۔ ویسے یہ سچ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے سبب متاثرین کے لئے اس پلیٹ فارم سے کوئی ایسا کام نہیں کیا گیا جس سے انہیں کسی بھی طرح کا ریلیف مل سکے۔
مفتی محمد مکرم احمد، شاہی امام، مسجد فتح پوری ، دہلی: یہ امت کی سخت آزمائش کا وقت ہے۔ تعجب اور افسوس ہے کہ عدالت نے شریعت کی اہمیت بھی نہیں سمجھی اور مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی۔ حالانکہ جسٹس کھیہر اور جسٹس عبد النظیر نے تین طلاق کو غیر قانونی نہیںبتایا مگر حکومت سے اس پر قانون بنانے کو کہا۔ سوال یہ ہے کہ اب جب عدالت کہہ رہی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق نہیں ہوگی اور مرد عورت کو ساتھ رکھے تو پھر کیاہوگا کیونکہ شرعی طور پر تو وہ طلاق ہوگئی۔ تب تو حرام حلال کا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔
مولانا خالد رشید فرنگی محلی، رکن مجلس عاملہ ، مسلم پرسنل لاء بورڈ: سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قابل احترام ہے۔ ویسے 10ستمبر کو بھوپال میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ میں اس کے مختلف پہلوئوں پر غوروخوض کیا جائے گا اور اسی میں اس فیصلہ کے تعلق سے ریویو پٹیشن دینے کے بارے میں طے کیا جائے گا۔سوال یہ بھی ہے کہ تین طلاق ہوجانے کی صورت میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنائے جانے سے پہلے 6 ماہ کے دوران کیا ہوگا؟متاثرہ کو راحت کیسے ملے گی۔عدالت کا حکم ہوگا کہ طلاق نہیں ہوئی، لہٰذا نکاح برقرار رہے گا جبکہ مرد کہے گا کہ ہم تو طلاق دے چکے۔مشکل یہ ہے کہ اگر دوسرے انداز سے لیا جائے گا تو صرف ایک ہی بارکی طلاق ہوگی اور دوبار کاموقع باقی رہے گا مگر یہ کس رو سے ہوگا؟عدالت کے نزدیک یہ کتنا اور کیسے قابل قبول ہوگا؟ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنانے کے لئے عدالت کے کہنے سے مسلمانوں کے دوسرے مذہبی قوانین میں بھی مداخلت کا دروازہ کھل جائے گا جو کہ ملک کے سبھی مذاہب کے لئے مسائل پیدا کرے گا۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم، چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز: اس اکثریتی فیصلہ نے مسلمانوں میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان بے شمار سوالات پیدا کئے ہیں۔ میں تو یہ نہیں کہوں گا کہ یہ فیصلہ حکومت کی منشا کے مطابق ہے یا یہ یونیفارم سول کوڈ کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ مسلم پرسنل لاء اور آئین ہند کے ماہرین کو پورے فیصلہ پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہئے اور غور و فکر میں پوری وضاحت سے اور ہر ابھرتے ہوئے سوال چاہے وہ مشکل ہو، پیچیدہ ہو، انہیں اٹھایا جاناچاہئے۔ تاکہ ابھرتے ہوئے سوالات اور ملک میں آرہے بدلائو کا جواب فراہم کیا جاسکے اور مسلم سماج کو اعتماد ہوسکے۔ اس سلسلے میں غور وفکر کرتے ہوئے کئی پہلوئوں کو سامنے رکھا جاسکتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں بالعموم مسلم ممالک میںپرسنل لاء کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ قانون اور عائلی قوانین کے ماہرین کی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں۔ نیز خواہ کتنی ہی کم تعداد میں طلاق شدہ خواتین ہوں ، ان کے عائلی حالات کیا ہیں،ان کی سماجی ،اقتصادی صورت حال کیا ہیں؟بالفاظ دیگر طلاق شدہ خواتین پر اثرات کیا پڑرہے ہیں؟ان سب کاجائزہ لیا جاسکتاہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنانے کی بات آئی ہے۔ حکومت کی نیت پر شبہ کئے بغیر مسلم سماج کے مختلف مسالک کے افراد بالخصوص مسلم برسنل لاء بورڈ کو پسندیدگی یا ناپسندیدگی سے بالاتر ہوکر مسلمانوں کا متفقہ نقطہ نظر کیا ہو، حکومت کو قانون بناتے وقت اتفاق رائے سے علم و تجربہ کی روشنی میں چاہے شاہ بانو سے لے کر آج تک جو کچھ بھی ہوا ہو، کوشش کرنی چاہئے کہ تمام تفصیلات پیش کئے جائیں۔ فراست کا تقاضہ یہ ہے کہ تما م ابھرتے ہوئے سوالا ت جو سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ کی وجہ بنے ہیں، ان پر غور وفکر کرنا، عملی شکل بنانا، عوام اور ماہرین کواعتماد میں لینا چاہئے۔تبھی ہم چیلنجوں کا سامنا کرسکتے ہیں۔
ظفر یاب جیلانی ، سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ اور معروف قانون داں: تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت طویل ہے۔ اس کا بغور مطالعہ کئے بغیر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔ فیصلہ میں کونسی بات مسلمانوں کے حق میں ہے اور کونسی بات اسلامی قانون کے خلاف، یہ سب تو دیکھنا ہوگا۔ایک اہم بات تو یہ بھی ہے کہ مسلم خواتین کی اکثریت جو شریعت اسلامی کی پابند ہیں اور وہ تین طلاق کو حتمی طلاق تسلیم کرتی ہیں اور اس طرح کے واقعہ پر مطلقہ ہونے پر عدت گزارنے کے بعد عقد ثانی کرتی ہیں تو ان کے لئے کیا راستہ ہوگا؟اگر تین طلاق دینے والا مرد اپنی مطلقہ کے عقد ثانی کی شکایت کرتا ہے تو کیا موقف اور شکل پیدا ہوگی؟یہ سب غور کرنے کے نکتے ہیں۔

 

 

 

پروفیسر طاہر محمود، ماہر قانون: سچ تو یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے دیرینہ معاملہ میں ملک کی عدالت عظمی کوئی حتمی فیصلہ نہیںکرسکی۔ میرے خیال میں چیف جسٹس کھیہر کے فیصلہ میں جس پر بینچ کے واحد مسلم جج عبد النظیر نے صاد کیا ہے،کئی تضاد ہیں۔ایک طرف تو یہ کہا گیا ہے کہ طلاق ثلاثہ اہل اسلام کے مذہب کا لازمی عمل ہے، اس لئے اسے آئین ہند کی ان دفعات کاتحفظ حاصل ہے جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے، دوسری جانب حکومت کو حتمی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قانون بناکر اس عمل میں مسلم ممالک کی طرز پر اصلاحات نافذ کرے۔ اسی کے ساتھ ساتھ خود عدالت کی طرف سے کم از کم 6ماہ کے لئے مسلم شوہروں کے اس عمل پر حکم امتناعی بھی لگایا گیا ہے۔ویسے دوججوں کا یہ فیصلہ اقلیتی فیصلہ کے درجے میں ہے جو کہ ناقد نہیں ہوگا۔
مولانا یعصوب عباس، معروف شیعہ عالم دین:سپریم کورٹ کا یہ قابل تحسین اور اچھا فیصلہ ہے۔ اس تاریخی فیصلہ سے تین طلاق کی روایت ختم ہوئی۔ اسے تو بہت پہلے ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ اس سے ملت کو بحیثیت مجموعی بہت نقصان پہنچ رہا تھا۔ بعض لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ تین طلاق کی متاثرین بہت کم خواتین ہیں مگر میرا کہنا یہ ہے کہ بات کم یا زیادہ کی نہیں ہے،بات تو دراصل غلط روایت اور رواج کی ہے۔ اس کا جاری رہنا حق وانصاف اور عدل کے خلاف تھا۔
مولانا کلب رشید ،مروف شیعہ عالم دین: ایک مکتبہ فکر کو چھوڑ کر عالمی سطح پر دنیائے اہل سنت میںبھی چاہے کسی بھی مسئلہ میں اختلاف ہو مگر باب طلاق میں پورے طور پر امام جعفر صادق ؒکو سلام جو کہ بالواسطہ یابلاواسطہ چاروں اماموں کے استاد ہیں، یہ ثابت ہے کہ اس مسئلہ میں سب نے طریقہ امام جعفر صادقؒ کو قبول کیا ہے جو کہ طریقہ قرآن ہے۔ عدالت عظمی ہند کا مسئلہ طلاق میں طلاق بدعت کو نکار دینا اس طریقہ طلاق قرآن و سنت کی عظمت کو بیان کرتا ہے جسے کوئی رد نہیں کرسکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ قابل خیر مقدم ہے ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *