ڈیجیٹل انڈیا کا خواب کمیونیکیشن سسٹم کو ٹھیک کرنے سے ہی پورا ہوگا

ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔اب ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے یا سرکار کی، یہ تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن بات مطلب کی ہے۔اس لئے آپ سے میں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ہم ڈیجیٹل انڈیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سرکار کا ماننا ہے کہ ہمیں ہر چیز کو ڈیجیٹلائز کرنا چاہئے۔ اپنا اکائونٹ ہو، اپنی بات چیت ہو، ہر چیز کو ہم کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لے آنا چاہئے۔ بات بہت خوبصورت ہے۔لیکن ہمارے ملک میں جہاں خواندگی انگلی پر گنے جانے والی فیصد میں ہو، وہاں جب ہم اسے انٹروڈیوز کرتے ہیں، تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری تیاری نہیں کی۔ ڈیجیٹل کنسیپٹ کیا ہے، یہ کیسے ورک کرے گا، ہم نے ملک کے لوگوں کو یہ سب سمجھانے کی کوشش نہیں کی۔ موبائل کمپنیوں نے اس ملک میں اپنا جال بچھا دیا۔ سرکار نے اس کی مدد بھی کی۔ موبائل کمپنیوں کے جال کا فائدہ ان کمپنیوں کو تو ہوا، لیکن اس سے ملک کو بڑا نقصان ہوا۔ نیلی فلمیں، تھری ایکس فلمیں، پورن فلمیں وہ سب موبائل کے ذریعہ لوگوں کے ہاتھ میں آگئیں۔ ہم نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ان کی ذمہ داری کیا ہے؟اس موبائل سے ہم کیا نئی چیز کر سکتے ہیں؟
اب ایک نئے قدم کے طور پر سارا کاروبار جس میں پیسے کا ٹرانزیکشن ، بینک میں پیسہ ڈالنا، بینک سے پیسہ نکالنا، پیسے کو کہیں ٹرانسفر کرنا وغیرہ کے بارے میں سرکار نے کہا کہ اسے ہم ڈیجیٹل کریں۔اب وہ زور دے رہے ہیں کہ موبائل کے ذریعہ آپ پیسہ نکالئے، پیسہ بھیجئے، اپنے بینک کھاتے کا آپریٹ کیجئے ۔اب تو یہ ایک نئی چیز ہو گئی۔ آدھار کارڈ جس پر سپریم کورٹ کہہ رہا ہے کہ یہ حق رازداری کی ممکنہ طور پر خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔اس کے باوجود موبائل کمپنیاں فون کرکے کہہ رہی ہیں کہ آپ ہمیں اپنا آدھار کا نمبر دیجئے۔ ایک بڑی کمپنی نے آدھار سے جڑا سبھی ڈاٹا غیر ملکوں میں بیچ دیا۔ شاید اب دوسری موبائل کمپنیاں بھی اس کام کو کرنا چاہتی ہیں۔ سرکار اور سپریم کورٹ نے تو نہیں کہا،لیکن موبائل کمپنیاں آدھار کارڈ کی مانگ کرنے لگیں۔
آج کا موضوع اس سے زیادہ سنگین ہے۔ سنگینی یہ ہے کہ جو سرکار ملک کو ڈیجیٹل دور میں لے جانا چاہتی ہے، وہ تین سال میں، ہمارا مواصلاتی ذریعہ جو موبائل سے کمیونیکیشن ہوتا ہے ،ہموار رفتار سے چلے ،یہ طے نہیں کرپائیں۔میں بنارس ،ممبئی، ، کولکاتہ ،چنئی اور بنگلورو، جہاں جہاں گیا، کہیں پر بھی موبائل سے بات کرنا اپنے سر کو پیٹنا اور اپنا ایریٹیشن بڑھانا ہے۔ آپ ایک بار بات شروع کرتے ہیں ۔بات کا پہلا حصہ ختم ہوتا ہے اور آپ دوسرے حصے میں جانا چاہتے ہیں کہ فون کٹ جاتاہے۔ آپ دوسرے حصے کو ختم کرتے ہیں، پھر فون کٹ جاتاہے۔ ایک بات کم سے کم تین یا چار بار کال ڈراپ ہوئے، پوری نہیں ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف سرکار کے لوگ اس پر دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ پہلے روی شنکر پرساد تھے اور اب منوج سنہا ہیں۔ روی شنکر پرساد پہلے تلوار بھانجتے تھے، اب منوج سنہا تلوار چلاتے ہیں۔ منوج سنہا کہتے ہیں کہ کال ڈراپ کم ہو رہا ہے اور انہیں کی ریگولیٹری باڈی ٹرائی کہتی ہے کہ کال ڈراپ بڑھ گیا ہے۔ پتہ نہیں، آپ کو یہ تجربہ ہوا ہے یا نہیں، لیکن ہمارے بہت سارے دوستوں کو تجربہ ہوا ہے کہ کال ہموار رفتار سے پوری ہو جائے تو مان لیجئے کہ آپ نے گنگا نہا لیا۔ اتنا بڑا پاکیزہ کام ہو گیا یا اتنا بڑا کام ہو گیا کہ آپ نے اصل بات بغیر فون کٹے ہوئے پوری کر لی۔ اب موبائل کمپنیاں یہ بھی نہیں کر رہی ہیں کہ کال ڈراپ ہورہی ہیتوکم سے کم ڈیوریشن ہے، اس ڈیوریشن کو نئی کال میں کنورٹ کریں۔ کیونکہ کال تو چار سیکنڈ، پانچ سیکنڈ، چھ سیکنڈ میں کٹ گئی ۔پھر آپ نئی کال لگا دیتے ہیں۔یہ نہیں کہ جس نمبر پر بات ہورہی ہے نئی ٹیکنالوجی آپ کے پاس ہے ،اس نمبر پر اگر بات ہورہی ہے تو جو وقت ہے ایک کال کا،وہ پورا مان لیا جائے۔ایسی ٹیکنالوجی آپ کے پاس ہے کہ ایک کال کے پیسے میں وہ تین کال کے پیسے لے رہے ہیں۔یہ موبائل کمپنیاں جو کھلی لوٹ کررہی ہیں،کیاوہ اپنے من سے کر رہی ہیں یا انہیں سرکار کا تحفظ حاصل ہے یا یہ جو گائوں کی زبان میں اربوں کھربوں روپے سے زیادہ موبائل کمپنیاں کما رہی ہیں،کیا اس میں سیاسی چندہ بھی کہیں جارہاہے ،چاہے وہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن کی پارٹی ہو۔ کوئی سوال تو نہیں اٹھا رہا ہے اور اس سے سیدھے سیدھے پریشان یا جڑے ہوئے لوگ جو سوال اٹھا رہے ہیں ،وہ سر پیٹ رہے ہیں کہ کہیں تو کس سے کہیں۔اب کریلا نیم چڑھا ۔بینک ٹرانزیکشن یا ہم سامان خریدتے ہیں تو سرکار کہتی ہے کہ کارڈ سے سامان خریدو، تو ہم کارڈ سے سامان خریدتے ہیں۔ اب وہ جو دکاندار ہے، وہ نمبر ملاتا رہ جاتا ہے، لیکن نمبر نہیں ملتا ہے۔ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جن کا نمبر فوراً مل جاتاہے، بینک سے کارڈ کا کنیکشن ہو جاتا ہے تو ان کا تو پیسہ نکل گیا لیکن بہتوں کے ساتھ ایسا ہوتاہے کہ وہ چھ منٹ، آٹھ منٹ کھڑے رہتے ہیں، تب جاکر نمبر ملتا ہے۔ اس بیچ کئی ایک کے ساتھ تو ایسا ہوتا ہے کہ پیسہ نکل جاتاہے اور ان کو موبائل میں میسیج آجاتاہے لیکن اس دکاندار کی مشین میں سے پرچی نہیں نکلتی ہے۔ وہ کہتا ہے ہم کو دوبارہ پیسے دو، نہیں تو ہم سامان آپ کو نہیں دیں گے ۔آپ کی جیب سے پیسہ جا چکا ہوتاہے ۔اگر آپ اسے دوبارہ دے بھی دیں گے تو وہ کہے گا کہ 24 گھنٹے میں آپ کا پیسہ واپس آجائے گا۔ میرا تو نہیں آیا۔میرا دو تین ہوٹلوں کا تجربہ ہے۔ وہاں سے پیسہ میرے اکائونٹ میں تو نہیں آیاجبکہ آٓٓپ میں سے بہتوں کے اکائونٹ میں آیا ہوگا۔ یہ جو بڑے پیسے والے ہیں، ان کو ان کی کوئی فکر نہیں ہے۔ چھ ہزار ،دس ہزار، بیس ہزار ایک بار میں چلا گیا، کوئی فکر نہیں کرتے لیکن ہم جو درمیانی طبقہ یا نیم درمیانی طبقہ کے لوگ ہیں، جو ٹرانزیکشن سرکار کی خواہش کے مطابق کرنا چاہتے ہیں، ہماری جیب سے پیسہ کٹتا چلا جاتاہے۔ اس کے پہلے ہم نے کئی بار رپورٹ کی،لیکن رپورٹ کی کوئی تردید نہیں آئی۔

 

 

 

 

ایک کمپنی ہے پے ٹی ایم ۔ سرکار کی فائننس منسٹری کے افسروں نے اس بند ہوتی کمپنی کو اتنا بڑا بنا دیا کہ ہمارے ملک میں اس وقت بہت سارے لوگوں کے اکائونٹ خالی ہو گئے۔ وہ سارا پیسہ پے ٹی ایم کے ذریعہ کہاں چلا گیا؟ان کے اکائونٹس کا پتہ نہیں۔ پے ٹی ایم کے یہاں انہوں نے شکایت کی، پے ٹی ایم نے سنی نہیں۔ پولیس نے بھی نہیں سنی۔ لوگ اپنا سر پیٹ کر بیٹھ گئے۔ اب پے ٹی ایم کے ذریعہ ہمارا سارا ٹرانزیکشن اور کنیکشن چینی کمپنیوں کے پاس ہے۔ ان کا ہیڈ آفس بھی چین میں ہے۔ چین کو ہم نے اپنی معیشت کو آپریٹ کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ دوسری طرف ہم چین کے ساتھ گال بجا رہے ہیں، زبانی لڑائی لڑ رہے ہیں، نقلی لڑائی لڑ رہے ہیں، اتنا ہی نہیں، اس سے بھی اہم چیز ، ہمارے اس پیسے کی گارنٹی اب کوئی نہیں لیتا۔ ہم بینک کے ساتھٹرانزیکشن کررہے ہیں اور ہم سے غلطی سے اکائونٹ کا کوئی ایک غلط نمبر دب گیا، اب وہ پیسہ ہمارے اکائونٹ سے کہاں چلا جاتاہے ۔پہلے تو کچھ سسٹم تھا بھی کہ اگر غلط اکائونٹ ہو، تو پیسہ رک جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب پیسہ چلا گیا تو آپ ڈھونڈتے رہئے، کس اکائونٹ میں گیا، کہاں گیا، اپنا سر پیٹتے رہئے۔ اب تو موبائل میں کراس کنکشن ہوتا ہے، جیسے پہلے لینڈ لائن میں ہوتاتھا۔ آپ ملا کسی کو رہے ہیں، اکائونٹ کسی اور کے اکائونٹ میں چلا گیا۔ آپ کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کہاں گیا۔کیونکہ کراس کنکشن میں تو پتہ بھی نہیںچلتا۔ بات چیت میں تو پھر بھی پتہ چلتاہے کہ ہم جس سے بات کررہے ہیں،وہ آدمی نہیں ہے، جس سے ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ ان ساری چیزوں کی ذمہ داری، کم سے کم فائننشیل لاس کی ذمہ داری تو سرکار کو لینی چاہئے۔یہ ویلفیئر سرکار ہے، ہمارے ووٹ سے چنی ہوئی سرکار ہے۔ ہماری معاشی ،سیاسی مفا اور ملک کے مفاد کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری ہندوستانی سرکار کی ہے۔ ہندوستانی سرکار اگر ہمارے کھاتے کی سیکورٹی کرنے کے طریقے نہیں نکالتی تو پھر اس سرکار کا ہمارے لئے مطلب کیا ہے؟اس کا مطلب سرکار ہم سے یہ کہہ رہی ہے کہ تم اکائونٹ کا پیسہ رکھو،لیکن اپنے گھر میں رکھو۔ بینک میںمت جمع کرو۔ بینک میں جمع کروگے تو اب تو یہ ہوگیاہے کہ بینک میں جمع کرو تو ٹیکس دو، بینک سے نکالو تو ٹیکس دو، ایک مقررہ مدت سے کم رکھو تو ٹیکس دو، مقررہ مدت سے زیادہ رکھو تو ٹیکس دو، ہر چیز میں ٹیکس اور سامان خریدنے جاتے ہیں تواس کا ٹیکس اور وہ دو دو جگہ جاتاہے ۔ میں یہ نہیں سمجھ پاتا کہ ان ساری چیزوں کے بارے میںسرکار نے ملک کو تو کچھ بتایا نہیں لیکن آج کی سب سے بڑی فکر ہے کہ ہمارا کمیونیکشن سسٹم روز بروز گھٹیا ہوتا چلا جارہا ہے۔ ٹرائی کی رپورٹ کہتی ہے کہ جولائی 2017میں کال ڈراپ تاریخ کی سب سے زیادہ کال ڈراپ ہے اور وزیر کہتے ہیں کہ کال ڈراپ کم ہو رہی ہے۔ سچائی کیا ہے؟یہ ویسی ہی سچائی ہے جو ہمارے سامنے ننگی کھڑی ہے کہ ہم لوگوں سے بات نہیں کرپاتے ،ہم ٹرانزیکشن نہیں کر پاتے ، ہمارے پیسے کا کوئی حساب نہیں ہے۔ ہمارے پیسے کی کوئی سیکورٹی نہیں کرتا ہے۔بس جیسا ہے ، ویسا ہے۔ تشہیر کے طور پر ہم سے یہ بتایا جاتاہے کہ اس کی سب سے محفوط معیشت ہندوستان میں ہے، جو دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی ، ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ، جتنا بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ہے، سب بہت محفوط ہے، لیکن ہمیں دکھائی تو نہیں دیتا۔ ہمارے تجربات تو اس کے برعکس ہیں۔ ہم تو ہمت کرکے آپ سے کہہ بھی رہے ہیں لیکن بہت سارے بیچارے نیم درمیانی طبقہ یا درمیانی طبقہ کے لوگ تو یہ سمجھ ہی نہیں پارہے ہیںکہ وہ کہیںتو کس سے کہیں،پولیس سنتی نہیں،آپ جانتے ہیں ملک میں صرف تین ایسے تھانے ہیں، جہاں فائننشیل سائبر کرائم کی شکایت ہو سکتی ہے۔ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ان کی آدھی عمر نکل جائے گی کہ وہ تھانے کہاں ہیں؟آن لائن شکایت لیتے نہیں۔وزیراعظم جی کے یہاں ان کا جو میل ایڈریس ہے، اس پر اگر کچھ بھیج دو تو فوراً وہاں سے آٹومیٹک جنریٹیڈ جواب آتا ہے کہ بہت بہت شکریہ۔ آپ کا لیٹر ملا۔ اس کے اوپر جانچ ہوگی یاآپ کو اس کا جواب ملے گا۔ اس سے آگے کبھی کسی کے پاس کچھ اور آیا ہو، ہمیں تو نہیں پتہ۔ اگر آپ کو پتہ ہو توہمیں بتایئے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔یہ تو ڈیجیٹل سسٹم،کمیونیکشن سسٹم بگڑا ہوا ہے۔وہ کیا اس ملک کے خلاف کسی دوسرے ملک کی سازش ہے۔ ہمارے کون لوگ اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیراعظم اس پر دھیان کیوں نہیں دے پارہے ہیںکہ کمیونیکشن سسٹم کیوں بگڑ رہا ہے۔ میں پُریقین ہوں کہ وزیر اعظم جی کا کال ڈراپ نہیں ہوتاہوگا۔ کیونکہ ان کا ہوتا تو یقینی طور پر انہیں فکر ہوتی۔ انہیں ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے 125کروڑ ملک کے باشندوں کا ایک بڑا فیصد حصہ اس کال ڈراپ سے پریشان ہے اور اس کا رشتہ سیدھے سیدھے ہمارے فائننشیل ٹرانزیکشن سے جڑ جاتاہے، ہمارے کھاتے سے جڑ جاتاہے۔ جس کے پاس دو چار لاکھ ہوتے تھے، وہ پہلے پیسہ چھپاکر رکھتے تھے۔ وہ یہ مان کر چلتے تھے کہ ہمارا پیسہ چھپا ہوا ہے اور کوئی ہمارے گھر ڈاکہ نہیں ڈالے گا۔ اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ جس کے پاس بھی پیسہ ہے، اس کو اپنے بچے کی فکر ہو گئی ہے کہ کب اس کا اغوا ہو جائے گا؟کب اس کے بچے کے گلے پر چاقو رکھ کر فون آئے گا ک اتنا پیسہ دو، کیونکہ آپ نے ہر چیز کو آدھار سے جوڑ دیا ہے۔ آپ کا بینک اکائونٹ پتہ کرنا ایک منٹ کا کام ہے۔ اس چکر بھیو میںہم پہنچتے جارہے ہیں، میری درخواست ہے کہ سرکار اس پر تھوڑا سا دھیان دے۔یہ ضروری ہے،نہیں تو ہم، ہم مطلب ہمارا پورا ملک ایک بڑی پریشانی میں پھنس سکتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *