دہلی کی 123 وقف جائیدادیں معاملہ اب بھی لٹکا ہوا کیوں ؟

اسے ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جاے کہ دہلی کی جن 123 وقف املاک کو ڈی نوٹیفائی کرکے دہلی وقف بورڈ کی تحویل میں کردینے کا یو پی اے کے تحت اس وقت کی مرکزی حکومت نے ساڑے تین برس قبل فیصلہ کیا تھا، اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ قانونی یاانتظامی اڑچنوں یا کسی گروپ کی ناپسندیدگی کا مستقل شکار ہورہا ہے۔ این ڈی اے حکومت نے آرین کمیٹی کی رائے لی جو کہ وقف املاک کو دہلی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کے فیصلہ کے حق میں آئی مگر معترضین کو تب بھی اطمینان نہیں ہوا اور وہ اس کے برخلاف فیصلہ چاہتے ہیں۔چونکہ ان وقف املاک کو دہلی وقف بورڈ کے حوالے کردینے کا مقصد یہی ہے کہ ان املاک سے دہلی وقف بورڈکو آمدنی ہو اور پھر وہ آمدنی فلاحی کاموں اور کمیونٹی کے امپاورمنٹ میں خرچ ہو۔ اس لئے مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی سے یہی توقع ہے کہ وہ آرین کمیٹی رپورٹ پر جلد عمل درآمد کراکے اس تعطل کو ختم کریں گے
2014 میں یو پی اے کی حکومت نے دہلی کی 123 وقف املاک کو ڈی نوٹیفائڈ کرکے وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔یو پی اے کے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے این ڈی اے حکومت نے آرین کمیٹی کی تشکیل دی جس نے وقف بورڈ کے حق میں اپنی سفارش مرکزی حکومت کو پیش کی۔یہ سفارش سنگھ پریوار بشمول وشو ہندو پریشد کو پسند نہیں ہے ۔وہ وقف املاک کو مسلمانوں کی ملکیت نہیں مانتا ہے لہٰذا اس نے مرکزی حکومت سے اس پر پھر سے غور کرنے کے لئے کہا ہے۔ان ہم خیال تنظیموں کی اپیل پر حکومت نئی کمیٹی بنانے کے امکانات پر غور کررہی ہے ۔

 

 

 

 

وقف املاک کی مجموعی صورت حال
قابل ذکر ہے کہ ملک میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ 5 لاکھ12 ہزار 556 وقف جائیدادیں ہیں۔ اترپردیش، بہار، مہاراشٹر ، ہریانہ، راجستھان ، مغربی بنگال اور کچھ دیگر ریاستوں میں وقف کی جائیدادوں پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر ان تمام جائیدادوں کو بازیاب کرکے مسلم کاز میں استعمال کیا جائے تو ان سے ہونے والی آمدنی اتنی ہوگی کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سرکاری امداد کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ وقف املاک سے اس وقت سالانہ 163 کروڑ روپے کی آمدنی ہورہی ہے اور اسے ڈیولپ کرکے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے ۔
قومی راجدھانی دہلی میں سینکڑوں وقف جائیدادیں ہیں۔ان میں سے 123 جائیدادوں کا ڈی نوٹیفکیشن یو پی اے کے دور حکومت میں ہوچکا تھا ۔ 2 مارچ، 2014 کو مرکز میں کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت کے ذریعے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے 1911 سے 1915 کے دوران برطانوی دور حکومت میں حاصل کئے گئے دہلی کے 123 وقف املاک کو ایکوائر کیے جانے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے کر انہیں دہلی وقف بورڈ کے حوالے کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔(’چوتھی دنیا‘ کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ اس نے 2 مارچ، 2014 کو ڈی نوٹیفکیشن سے تقربیاً دو ماہ قبل (27 جنوری، 2014 کے اپنے شمارہ میں) اس تعلق سے 123 وقف املاک کی مکمل فہرست کے ساتھ انکشافاتی رپورٹ پیش کی تھی اور پھر اپنے 17 مارچ کے شمارہ میں اس تاریخی فیصلہ کو کور کیا تھا)۔
حالانکہ اس وقت یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ مذکورہ 123 املاک میں سے 60 املاک لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس، جب کہ بقیہ 63 دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی فی الوقت تحویل میں ہیں۔ ان تمام املاک میں سے کچھ تو سرکار کے استعمال میں ہیں، تو کچھ بعض مسلم تنظیموں اور اشخاص کے قبضے میں ہیں۔اسی طرح اوبرائے ہوٹل، خسروپارک، دہلی پبلک اسکول، سی جی او کمپلیکس، اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسی پچاسوں عمارتیں گنوائی جاسکتی ہیں جن پر یا تو غاصبانہ سرکاری قبضے ہیں یا پھر سرکاری اداروں کی سرپرستی میں بلڈرز اور کارپوریٹ گروپ کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ان سب کے علاوہ بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق 300مزید جائدادوں کا سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے قبضہ میں ہونا بتایا جاتا ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں ان جائیدادوں کا وقف بورڈ کو واپس کرنا ممکن ہوسکے گا؟
بہر کیف اس ڈی نوٹیفکیشن کے بعد ان جائیدادوں کو واپس کرنے کا عمل شروع ہونے ہی والا تھاکہ یو پی اے کی سرکار ختم ہوگئی اور مرکز میں این ڈی اے کی سرکار بن گئی۔این ڈی اے کی سرکار نے سابقہ فیصلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس پرکاراروائی شروع کرنے کا ارادہ کیا مگر درمیان میں وشو ہندو پریشد حائل ہوگئی ۔22 مئی 2014کو وشو ہندو پریشد نے دہلی ہائی کورٹ میں یو پی اے حکومت کے مذکورہ بالا آرڈر کو چیلنج کر دیا ۔وی ایچ پی کا یہ کہنا تھا کہ یہ جائدادیں سرکاری ہیں اس لئے ان پر مسلمانوں کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ حالانکہ وی ایچ پی نے 1984 میں بھی برنی کمیٹی کے فیصلہ کے خلاف عدالت کا رخ کیا تھا اور تب سے معاملہ زیر التوا تھا۔ 2011 میں عدالت نے وی ایچ پی کے دعویٰ کو خارج کردیاتھا ۔ظاہر ہے جب عدالت نے وی ایچ پی کے دعویٰ کو خارج کردیا تھا تو پھر اسے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوجانا چاہئے تھا مگر معاملہ چونکہ مسلمانوں سے متعلق ہے اور ایسے معاملوں میں سنگھ پریوار جلد حرکت میں آتا ہے لہٰذا اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔

 

 

 

 

نظر ثانی ایک چال
تقریباً ڈیڑھ سال پہلے موجودہ حکومت نے ڈی نوٹیفائڈ جائیداد کو وقف کے حوالے کرنے کے پروسیس کو آگے بڑھانے کا ارادہ کیا لیکن وی ایچ پی ایک مرتبہ پھر اس میںرکاوٹ ڈالنے کے لئے حرکت میں آئی اور اس فیصلے پر مرکز کو نظر ثانی کرنے کی اپیل کردی۔چونکہ مرکز میں اب این ڈی اے کی حکومت ہے اوراس کے لئے ہم خیال تنظیموں کی کسی بھی اپیل کو نظر انداز کرنا مشکل ہے اس لئے مرکزی حکومت نے مئی 2016 میں یو پی اے حکومت کے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کے لئے ریٹائرڈ جوڈیشیل آفیسر جے آر آرین پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔اس کمیٹی کو یہ طے کرنا تھا کہ ڈی نوٹیفائڈ کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط ؟ کمیٹی نے اپنا کام فوری طور پر شروع کردیا اور متعلقہ ذمہ داروں اور دہلی وقف بورڈ کے افسران سے ملاقات کرنے کے بعد جس نتیجے تک پہنچی ،ان پر اپنی سفارشات مرکزی حکومت کو سونپ دی۔
سفارشات سے پیدا ہوئے مسائل
رپورٹ نے حکومت کے سامنے ایک پیچیدہ مسئلہ کھڑا کردیا ۔دراصل وی ایچ پی کسی بھی صورت میں ان جائیدادوںکو مسلمانوں کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جبکہ آرین کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جو سفارش کی ہے ، وہ وی ایچ پی اور دیگر ہم خیال تنظیموں کی منشا کے برخلاف ہے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں ڈی نوٹیفائڈ جائیدادوں کو وقف کے حوالے کرنے کی سفارش کی ہے۔ جبکہ سنگھ پریوار چاہتا تھا کہ آرین کمیٹی اپنی سفارشات مسلمانوں کے خلاف کرے۔اب وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ کمیٹی اپنے مقصد میں ناکام رہی ہے کیونکہ ان جائیدادوں کا استعمال کمرشیل ہورہاہے۔جبکہ دہلی وقف بورڈ نے کمیٹی کے سامنے جوحقائق پیش کئے تھے، ان میں یہ بات بتائی گئی تھی کہ یہ تمام جائیدادیں مذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہیں۔ ان جائیدادوں پر مساجد ،مقابر، مذہبی ادارے اور مدارس چل رہے ہیں جو کہ وقف بورد کے ماتحت ہیں۔سنگھ پریوار کی بعض تنظیموں کے میدان میں کودنے کے بعد اب کچھ سرکاری آفیسر بھی ان کی ہی زبان بولنے لگے ہیں اور کہنے لگے ہیں کہ آرین کمیٹی میں ان جائیدداوں کی بحالی کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ سالوں سے عدالت میں زیر غور تھا اور 20اگست 2014 کو ہائی کورٹ نے اس معاملہ کو بند کرتے ہوئے اس کے حل کی ذمہ داری اس وقت کی مرکزی حکومت (یو پی اے حکومت ) کو سونپ دی تھی اور ہدایت دی تھی کہ متعین مدت میں اس کو حل کرے۔ ساتھ ہی عدالت نے فیصلہ ہوجانے تک حکم امتناعی نافذ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ یو پی اے حکومت نے وقف کی 123 وقف جائداوںکو وقف بورڈ کے سپرد کرنے کے لے 2014 میں نوٹیفکشین جاری کیا تھا ۔ وشو ہندو پریشد نے پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
وزیر برائے اقلیتی امور کی آزمائش
اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف وزیر مملکت مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ وقف املاک کو تیز رفتار طریقے پر ڈیولپ کرکے اس کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس رقم کو مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے میں استعمال کیاجائے گا اوروقف ایکٹ 1995 کے تحت حکومت کی طرف سے وقف املاک کے سلسلے میں بنائی گئی مختلف اسکیموں کے عمل در آمد کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا جبکہ ان کی پارٹی کی ہم خیال تنظیمیں بشمول وی ایچ پی وقف املاک کو مسلمانوں کی ملکیت ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں اور اسی وجہ سے جب بھی ان املاک کو مسلمانوں کو سونپنے کی بات آتی ہے تو یہ کسی نہ کسی طرح اس میں رخنہ ڈال دیتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس متضاد صورت حال میں وزیر موصوف کا یہ بیان کس معنی میں لیا جائے اور وہ مسئلے کا حل کس طرح کریںگے۔ اگر وہ اس معاملے میں واقعی مخلص ہیں تو 2014 کی 123 ڈی نوٹیفائڈ جائیدادوں کو مسلمانوں کے حوالے کرنے میں انہیں سیاسی اپروچ کا استعمال کرکے نہ صرف دہلی کی وقف جائیدادیں بلکہ ملک کی تقریباً پانچ لاکھ جائیدادوں کو بازیاب کرانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *