چھتیس گڑھ بی جے پی کی اندرونی لڑائی کیا رمن سنگھ کو لے ڈوبے گی؟

چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے درمیان گھمسان مچا ہے۔ حالانکہ گھمسان پہلے بھی تھا لیکن اب یہ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔ پچھلے ایک دو مہینوں کے واقعات اور لیڈروں کے بیانات کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پارٹی میں ایک طرف اقتدار کے لئے لڑائی جاری ہے تو وہیں دوسری طرف سیاسی اختلافات کو نمٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ اپنی کرسی بچانے اور خطرہ بن چکے مخالفین کو نمٹانے میں لگے ہیں تو ان کے مخالفیں انہیں نمٹانے میں۔ ان سب کے بیچ سنگھ کے چھتیس گڑھ کے اہم لیڈر پورنیدو سکسینہ کی اقتدار کے گلیاروں میں بڑھتی سرگرمی بی جے پی کے سیاسی ماحول کو دلچسپ بنا رہی ہے۔
بی جے پی کی اندرونی لڑائی
حالانکہ بی جے پی کے اندر شروع سے ہی اقتدار کی لڑائی جاری رہی ہے لیکن مودی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے تک اعلیٰ کمان پر رمن سنگھ کی پکڑ اتنی مضبوط رہی کہ ان کے مخالفین ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے لیکن نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ریاست میں بی جے پی کے اندر نیا ماحول بنا جس سے حالات بدل گئے۔ جب رمن سنگھ کے سخت مخالف نند کمار سائے کا ٹکٹ کاٹ کر ان کی جگہ رام وچار نیتام کو راجیہ سبھابھیجا گیا تب لگا کہ رمن سنگھ نے اپنے ایک اور مخالف کا شکار کر لیا۔ لیکن رمن سنگھ کو جھٹکا تب لگا جب مرکزی سرکا ر نے نند کمار سائے کو نیشنل شیڈولڈ ٹرائبس کمیشن کا صدر بنا کر رمن سنگھ کے متوازی کھڑا کر دیا۔نند کمار سائے نے سب سے پہلے کُنکوری زمین گھوٹالے کی جانچ کروائی، جس سے سرکار کی کرکری طے ہے۔ اسمبلی انتخابات کے بعد ہوئے لوک سبھاانتخابات میں محض ایک سیٹ پر ہارنے والی امیدوار تھیں سروج پانڈے۔ آج سروج پانڈے امیت شاہ کی ٹیم میں نیشنل جنرل سکریٹری ہیں۔ کہا جاتاہے کہ سروج پانڈے کو نمٹانے میں رمن سنگھ کے چہیتے نوکر شاہ کا اہم کردار رہاہے۔ سروج پانڈے کی اہمیت رمن سنگھ کے لئے خطرہ بن رہی تھی لیکن ہارنے کے بعد بھی نیشنل جنرل سکریٹری بن کر سروج پانڈے پھر سے طاقتور ہو گئی ہیں۔ وہیں ریاستی بی جے پی میں نمبر2 مانے جانے والے وزیر برج موہن اگروال نے مودی اور امیت شاہ سے نزدیکی بڑھا کر اپنی طاقت بڑھا لی ہے۔ کل ملا کر مودی اور شاہ کی جوڑی نے رمن سنگھ کی وجہ سے کمزور پڑ چکے ان کے مخالفین کو طاقت دے کر رمن سنگھ کی گھیرا بندی کر دی ہے۔
پی ایم مودی کے طریقہ کار سے واقف جانکار کہتے ہیں کہ مودی اپنے لئے مستقبل کے سیاسی مخالف کو پنپنے نہیں دیتے ۔بطور وزیراعلیٰ لمبی اننگ کھیلنے والے رمن سنگھ اور شیو راج سنگھ چوہان کو مودی ممکنہ خطرے کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ لہٰذا دیر سویر وہ ان کے پر کتریں گے ہی لیکن اگر سیدھے طور پر ان دونوں وزراء اعلیٰ پر ہاتھ ڈالا گیا تو بی جے پی کے اندر سے ناراضگی سامنے آسکتی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ دونوں ریاستوں میں نئے وزیرا علیٰ کے ساتھ انتخاب لڑنا جوکھم بھرا ہوگا، کیونکہ دونوں وزراء اعلیٰ کا یہ تیسرا دور کار ہے اور وہ پوری ریاست کو کئی بار ناپ چکے ہیں۔نیا وزیر اعلیٰ بنانے کی صورت میں اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا کہ اسے پروجیکٹ کیا جاسکے۔
ان تمام باتوں کا اثر چھتیس گڑھ بی جے پی میں مچے گھمسان کی شکل میں دکھائی بھی دے رہا ہے۔ دو مہینے پہلے ہی سروج پانڈے نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد عوامی طور سے یہ بیان دیا تھا کہ اگلا سی ایم کون ہوگا ؟اس کا فیصلہ بی جے پی پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔ یہ کہتے ہوئے سروج پانڈے کی خود اعتمادی دیکھنے کے لائق تھی۔ دوسری طرف اجیت جوگی کو لے کر بھی پارٹی کے دو دھڑوں کے درمیان تلوار کھینچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اجیت جوگی کی برادری کو لے کر ہائی پاور کمیٹی کے فیصلے میں انہیں آدیواسی نہیں مانا گیاہے ۔ اس حکم کے بعد قانوناً جوگی پر ایف آئی آر درج ہونی تھی۔ لیکن بلاسپور انتظامیہ نے جب ایسا نہیں کیا تو اسے لے کر سی ایم رمن سنگھ نشانے پر آگئے۔ نند کمار سائے نے سر عام الزام لگایا کہ ریاستی سرکار سے جوگی کو تحفظ ملا ہوا ہے ۔
اسی بیچ برج موہن اگروال پر زمین گھوٹالے کے الزام لگے۔ اس کے بعد رمن سنگھ کے بیٹے ابھیشیک سنگھ کے سوئس بینک میں اکائونٹ کا مدعا گرمایا۔ ان دونوں معاملوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ اور وزیر زراعت برج موہن اگروال کی لڑائی کو عوامی طور پر سامنے لا دیا۔ برج موہن خیمے کے لوگ آف دی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ زمین معاملے میں پھنسا کر رمن سنگھ اپنے مخالفوں کو نمٹانے کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔ اس معاملے کے سامنے آتے ہی برج موہن اگروال نے اسے اپنے خلاف سازش بتایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے جواب میں وہ اب پرانے چٹھے کھولیں گے۔ یہ معاملہ چل ہی رہ رہا تھاکہ پنامہ کیس میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو برخاست کر دیا گیا۔ اس کے بعد بیٹے ابھیشیک سنگھ کو لے کر رمن سنگھ قومی سطح پر کانگریس کے نشانے پر آگئے ۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ رمن سنگھ کے خلاف اس معاملے کو ہوا دے کر برج موہن زمین معاملے کا بدلہ لے رہے ہیں۔

 

 

 

 

اسمبلی معطلی کا اصل سبب
اس کے بعد خبر آئی کہ رمن سنگھ اور برج موہن کے درمیان سمجھوتہ ہو گیاہے۔ اس کا اثر بھی دیکھنے کو ملا، جب اچانک ہی اسمبلی کی کارروائی معطل کر دی گئی۔ اسے لے کر اپوزیشن نے الزام لگایا کہ ہم رمن سنگھ اور برج موہن کی بدعنوانی کے معاملے کو نہ اٹھاسکیں، اس لئے اسمبلی معطل کی گئی ہے۔ حالانکہ ایک دوسرے کی بد عنوانی کو لے کر ان دونوں لیڈروں کے ذریعہ کئے گئے سمجھوتے کی بات محض اندازہ ہی ثابت ہوئی۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ نے بیان دیا کہ انہون نے برج موہن کے زمین گھوٹالے کی جانکاری مرکزی قیادت کو دے دی ہے۔ جب امیت شاہ راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہوئے تو انہیں مبارکباد دینے کے لئے دونوں لیڈروں نے الگ الگ ملاقات کی اور اپنے جھگڑے پر اپناسائیڈ بھی رکھا۔ برج مہون اگروال سے چیلنج مل ہی رہے تھے کہ رمن سنگھ کے سب سے قریبی امن سنگھ کے خلاف میکی مہتا نے غلط طریقے سے بے شمار جائیداد بنانے کے الزام لگا دیئے۔ حالانکہ ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے رمن سنگھ نے میکی مہتا پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ لیکن اس سے بھی رمن سنگھ کی خوب کرکری ہوئی۔
ریاست میں بی جے پی کی یہ اندرونی لڑائی کتنی بڑھ چکی ہے ،اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتاہے کہ چھتیس گڑھ کے انچارج اتحادی تنظیم سودان سنگھ اپنے رائے پور دورے کے دوران سرکار کے پانچ ہزار دن والے کسی پروگرام میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ زیادہ تر وقت بی جے پی کے اندر کے جھگڑوں کو سلجھانے میں لگے رہے۔ پارٹی ہیڈ کوارٹر میں وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کے ساتھ ہوئی ان کی دو گھنٹے کی بات چیت کو لے کر بھی کافی قیاس لگائے گئے۔ اس میٹنگ سے ریاستی صدر دھرم لال کوشک کو بھی الگ رکھا گیا۔ ایسی چرچا تھی کہ سودان اعلیٰ کمان کا پیغام لے کر آئے تھے ۔حالانکہ یہ پیغام جھگڑا سلجھانے کاتھا یاانتباہ دینے کا،یہ پتہ نہیں چل پایا ۔
غو ر کرنے والی بات یہ ہے کہ جس وقت سودان سنگھ اور رمن سنگھ کی میٹنگ چل رہی تھی، اسی وقت سنگھ کے پورنیدو سکسینہ اسمبلی اسپیکر گوری شنکر اگروال کے ساتھ ان کے گھر اور اسمبلی میں وَن ٹو وَن میٹنگ کررہے تھے۔ پورنیدو اس سے ایک دن پہلے سی ایم ہائوس میں ہی جنم اشٹمی کے پروگرام کے دوران سودان سنگھ سے لمبی چرچا کرچکے تھے۔ پورنیدو سکسینہ سنگھ سینئرکے بے حد قریبی ہیں، چاہے سدرشن ہوں یا پھر موہن بھاگوت ۔جب بھی سنگھ چلانے والے رائے پور آتے ہیں ، پورنیدو سکسینہ کے یہاں ہی رکتے ہیں۔ اب ان کی بڑھتی سیاسی سرگرمی نے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ میڈیا کا ایک طبقہ تو انہیں مستقبل کا وزیراعلیٰ بھی بتانے لگا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سنگھ انہیں مستقبل کے وزیراعلیٰ کے طور پر تیار کررہا ہے۔ جو بھی ہو، یہ تو طے ہے کہ پورنیدو سکسینہ کی سیاسی سرگرمی کسی خاص پالیسی کے تحت بڑھائی گئی ہے۔ اس پس منظر میں اپنے سیاسی مستقبل کو لے کر رمن سنگھ کا یہ بیان بھی اہم ہے ۔حال ہی میں انہوں نے ایک اخبار کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگلا سی ایم تو دہلی سے طے ہوگا لیکن اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ چھتیس گڑھ میں ہی رہنا پسند کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *