بدعنوانی کااڈّا بنا یوپی سول ایوی ایشن محکمہ

اترپردیش کے سرکاری ہوائی جہاز سے فوج کی جاسوسی ہوتی ہے۔ حساس فوجی علاقے کی سرکاری طیارے سے ویڈیو گرافی کرائی جاتی ہے۔ یہ کتنی حیرت کرنے والی بات ہے۔ اس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کی مانگ کی جارہی ہے لیکن کوئی سنتا ہی نہیں۔ یوپی سرکار کے لیے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی خرید و فروخت میں ہوئے ہزاروں کروڑ کے گھوٹالے کی بھی مرکزی جانچ ایجنسی سے چھان بین کرائے جانے کی مانگ ہورہی ہے۔ سی بی آئی سے جانچ کرانے کی آئینی ضد کسی شہری کے لیے بہت بھاری پڑرہی ہے۔ سرکار اس سے ناراض ،متعلقہ محکمہ اس سے ناراض ،انتظامیہ اس سے ناراض اور عدالت بھی اس سے ناراض۔ سرکار اور متعلقہ محکموں کی ناراضگی تو ظاہر ہے لیکن عدالت کی ناراضگی کا کیا مطلب ہے؟ عدالت کا جواز دودھ اور پانی کے گھال میل کو الگ الگ کرنے میںہے لیکن یوپی میںیہ جواز ثابت نہیںہورہا ہے۔ اگر کسی معاملے کی جانچ چل رہی ہوتو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی اس میںمداخلت نہیں کرتی،لیکن الہ آباد ہوئی کورٹ کی لکھنؤ بینچ بدعنوانی اور ملک کی سیکورٹی سے جڑے حساس معاملے کی چھان بین میںمداخلت کرنے اور جانچ افسر کو آڑا ترچھا کرنے میں قطعی جھجک نہیںکرتی۔ عدالت کو اس بات کا بھی برا لگ جاتا ہے کہ کسی شہری نے جج اور بھاڑے کے سرکاری وکیل کی شکایت سپریم جج ، صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے کیوںکردی اور وزیر اعظم کے حکم پر وزارت داخلہ نے معاملے کی جانچ کیوں شروع کردی؟
بدعنوانی کا اڈّا
اترپردیش کاسول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ ایک عرصہ سے بدعنوانی، بے ضابطگیوں اور مشکوک سرگرمیوںکا اڈا رہا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہی اس محکمہ کے چیف ہوتے رہے ہیں۔ سرکاری ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹروں پر ساری تفر یحیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی وزیر اعلیٰ ایوی ایشن محکمہ کی کرتوتوں پر خاموشی اختیار کیے رہتا ہے اور افسر موج کرتا رہتا ہے۔ ملائم، مایاوتی، اکھلیش کے دور میںتو سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ کا کباڑہ ہی نکل گیا۔ اب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سول ایوی ایشن کی ٹوپی نند گوپال نندی کو پہنادی ہے۔ وزیر کوئی بھی ہو، سچ یہی ہے کہ سنت کال میں بھی پرانے پاپی ہی یوگی کا پنیہ بھوگ رہے ہیں۔ جس سیاق و سباق میںیہ خبر لکھی جارہی ہے، وہ طویل عرصہ تک چلے آرہے سیریل اسکینڈل اور ملک مخالف حرکتوں کا سیریل ہے۔ اس سیاق و سباق کو دفن کرنے کی تمام غیر آئینی کوششیں ہوتی چلی آرہی ہیں لیکن جمہوری کوششوں سے وہ اتنا ہی سگ بگاکر باہر آجاتا ہے اور ریلیونٹ بنا رہتا ہے۔
اترپردیش سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ کے گھوٹالے، سرکاری ہوائی جہاز سے فوج کی جاسوسی ور افسروںکی دیش مخالف حرکتوںپر ہم بعدمیںتفصیل سے چرچا کریںگے،پہلے ہم یہ دیکھتے ہیںکہ اس معاملے میںکس طرح باہم متضاد سرکاری دلیلیںدی گئیں۔ جھوٹے حقائق رکھے گئے، کس طرح ان جھوٹے حقائق پر عدالت نے مہر لگائی اور کس طرح پورے معاملے کو قانون کی گتھیوں میںپھینٹ کر رکھ دیا گیا تاکہ یہ معاملہ کبی نہ سلجھے۔ حکومت سے لے کر عدالت تک، کسی نے بھی غیر جانبدارانہ جانچ کے ذریعہ اصلی سچ جاننے کی کوشش نہیںکی، اسے ڈھکنے ہی کی کوشش کی۔ گھوٹالوںکو اجاگر کرنے کے سبب ہی ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے ملازم دیوندر کمار دیکشت کو نوکری سے نکال باہر کیا گیا۔ عدالت نے یہ مانا کہ دیکشت کے خلاف لگائے گئے الزامات کو رسمی طور پر درج کیے بغیر انھیںنکالا گیا۔ فی الحال یہ معاملہ عدالت میںزیر التوا ہے۔ اسی ملازم نے ایوی ایشن کے تین ہزار کروڑ کے گھوٹالے اور افسروں کی قوم مخالف سرگرمیوںے خلاف الہ آباد کی لکھنؤ بینچ میں عرضی داخل کردی کہ عرضی گزار نے ایک دیگر زیر التوا عرضی کے بارے میں عدالت کو جانکاری کیوںنہیں دی؟ عرضٰ گزار نے اس غلطی کے لیے معافی مانگتے ہوئے دونوں عرضیوں کو ایک ساتھ ’کلب‘ کرنے کی فریادکی لیکن عدالت نے ایک نہیںسنی۔ یہاںتک کہ عرضی گزار نے اپنی عرضی واپس لے کر اسے دوبارہ فائل کرنے کی بھی اجازت چاہی، لیکن عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی او رعرضی خارج کردی۔ ادھر سرکار نے اپنی جانچ رپورٹ میںکسی بھی گھوٹالے اور قوم مخالف سرگرمیوںکو سرے سے مسترد کردیا۔ عرضی گزار نے عدالت کا دھیان اس طرف بھی دلایا کہ سرکار کی جا نچ رپورٹ فرضی ہے، حکومتی سطح پر ایسی کوئی جانچ ہی نہیںہوئی۔ کاغذی طور پر جو جانچ کمیٹی بنائی گئی، اس میں وہی لوگ شامل تھے،جن پر گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ ان ہی’ کوتوالوں‘ نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کو بے داغ بتا دیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ ایسی عرضیاں تو پہلے بھی داخل ہوئی ہیں اور خارج ہوئی ہیں۔

 

 

 

 

دیکشت کی کمزوری
دیکشت کے پاس اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی اقتصادی قوت نہیںتھی، لہٰذا انھوںنے آئین کے ذریعہ فراہم کردہ بنیادی حق کے تحت ایک عام شہری کی حیثیت سے صدر جمہوریہ ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، وزیر اعظم،مرکزی وزیر قانون اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر عرضی خارج کرنے والے دو ججوں اے پی شاہی اور اے آر مسعودی کے رول کی جانچ کی مانگ کردی۔ اس ڈیمانڈ لیٹر میں ایوی ایشن کے گھوٹالے اور قوم مخالف سرگرمیوں کی جانچ کی مانگ بھی شامل تھی لیکن ہائی کورٹ نے اس میںسے صرف ججوں کی شکایت کا سیاق وسباق اٹھالیا اور اس وقت کے ایگزیکٹو چیف جسٹس وی کے شکلا کے حکم پر لکھنؤ بینچ کی طرف سے دیوندر کمار دیکشت پر عدالت کی توہین کا معاملہ درج کردیا گیا ۔ ادھر دیکشت نے بھاڑے کی سرکاری وکیل جے دیپ نارائن ماتھر کے خلاف جانچ کے لیے بھی وزیر اعظم کو خط لکھ دیا تھا۔
وزیر اعظم آفس نے دیکشت کے خط کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ کو ضروری کارروائی کرنے کو کہا۔ وزارت داخلہ کے حکم پر انٹیلی جنس بیورو نے معاملے کی خفیہ جانچ شروع کردی۔ اس جانچ کے سلسلے میں آئی بی کے افسر اے کے تیواری نے جے دیپ نارائن ماتھر سے بھی پوچھ تاچھ کی لیکن اس پر ہائی کورٹ کو غصہ آگیا۔ جے دیپ نارائن ماتھر نے عدالت سے شکایت کی اور کہا کہ اے کے تیواری نے شکایت نامہ کی بنیاد پر چھان بین کرنے کی بات تو کہی لیکن مانگنے پر شکایت نامہ (کمپلینٹ) کی کاپی انھیںنہیں دی۔ لکھنؤ بینچ کے جج شری نارائن شکل اور ویریندر کمار نے یہ جانچے بغیر کہ اے کے تیواری کس جانچ ایجنسی کے افسر ہیں، فوراً یوپی کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو طلب کر کے اے کے تیواری کو یکم اگست 2017 کو کورٹ میںحاضر کرنے کو کہا۔ اطلاع ملنے پر یکم اگست کو انٹیلی جنس بیورو نے عدالت کو یہ سرکاری طور پر جانکاری دی کہ اے کے تیواری یوپی پولیس کے نہیں، بلکہ آئی بی کے افسر ہیں۔ آئی بی نے سرکاری طور پر اے کے تیواری کے کام کو سراہا اور بتایا کہ آئی بی کے افسر ہونے کے ناتے چھان بین کے درمیان وہ اپنا تعارف بتانے کے لیے پابند نہیں ہیں۔ معاملے میں آئی بی کا انوالومنٹ دیکھ کر عدالت نے اس معاملے کو ہی بند کردیا۔ یکم اگست کے اپنے فیصلے میں ججوںنے لکھا کہ ماتھر نے شکایت نامہ (کمپلینٹ) کی کاپی کورٹ میں پیش کی ہے، لیکن ماتھر سے یہ نہیں پوچھا کہ جب آئی بی کے افسر نے انھیںکاپی دی ہی نہیں تھی توکمپلینٹ کی کاپی انھیںکہاںسے مل گئی؟ دیوندر کمار دیکشت پر چل رہے توہین عدالت کے معاملے میںکورٹ کی آرڈر شیٹ کی کاپی بھی ماتھر نے کورٹ میںپیش کی۔ کورٹ نے اس کا اپنے فیصلے میںبھی ذکر کیا لیکن ماتھر سے یہ نہیں پوچھا کہ کنٹمپٹ کا معاملہ چلنے کے بارے میںانھیںکیسے پتہ چلا؟
بہرحال عجائبات کاایک اور منظر ساتھ ساتھ دیکھتے چلیں ۔ دیوندر کمار دیکشت پر چل رہے کنٹمپٹ کے معاملے میںڈویژن بینچ کے جج اجے لامبا اور داکٹر وجے لکشمی نے 21 جولائی 2017 کو چارج فریم کرنے کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس تاریخ کو جب دیکشت کورٹ پہنچے اور چارج فریم کرنے کو کہا تب کورٹ نے انھیںجانکاری دی کہ کنٹمپٹ کی فائل سیل کور میںرکھ دی گئی ہے۔کورٹ نے فائل سیل کیے جانے کی وجہ نہیں بتائی اور اسے بتانے میںاپنی مجبوری کا اظہا رکیا۔
حیرتناک پہلو
حیرتناک پہلو یہ بھی ہے کہ حق اطلاعات کے تحت ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ سے کچھ جانکاریاں مانگنے پر ڈائریکٹوریٹ نے ایک وکیل نتیانند منی ترپاٹھی کو بتایا کہ عدالت میںچل رہے کنٹمپٹ معاملے کے سبب محکمہ کوئی اطلاع نہیںدے سکتا۔ کیونکہ اس معاملے میںسول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر دیوندر سروپ فریق ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص (وکیل) کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیںہے، اسے کنٹمپٹ کیس کے بارے میں بتانے کاکیا جواز تھا؟ اور دوسری سنگین بات یہ ہے کہ کنٹمپٹ معاملہ سیدھے کورٹ کی طرف سے درج ہوا ہے، پھر سول ایوی ایشن محکمہ کے ڈائریکٹر اس کے فریق کیسے ہو گئے؟ سوال یہ بھی ہے کہ مختلف ججوں کے مشکوک رول کی جانچ کے لیے دیوندر کمار دیکشت کے علاوہ کسی پریت پال سنگھ نے بھی وزارت قانون کو خط لکھا تھا اور ان دونوں خطوں پر مرکزی سرکار نے ضروری کارروائی کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو آفیشیل لیٹر بھیجا تھا۔ دیکشت کہتے ہیں کہ اکیلے ان کے خلاف ہی کنٹمپٹ کا معاملہ کیوںچلایا گیا اور اسے اچانک بیچ میںہی پراسرار طریقے سے سیل کیوںکردیا گیا؟ اس طرح کے کئی سوال ہیں اور ایسی کئی گتھیاں ہیں،جن کے پیچ و خم بہت اونچی سطح کی ملی بھگت اور سانٹھ گانٹھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سانٹھ گانٹھ سی بی آئی جانچ کے بغیر اجاگر نہیںہوسکتی اور سسٹم سی بی آئی سے جانچ نہ ہونے دینے پر آمادہ ہے۔
اترپردیش سرکا ر کے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹروں کی شہنشاہانہ اڑانوں،میلہ مہوتسو میںٹیکسی کی طرح مہمانوںکو ڈھونے اور ہوائی جہازوں کو بے وقوفانہ طریقے سے اڑاکر نقصان پہنچانے کی تمام خبریں ،شکایتیں آپ نے سنی ہوںگی۔ لیکن اترپردیش سرکار کے ہوائی جہازوں کا استعمال اپنے ہی ملک کے خلاف جاسوسی کے لیے ہوتا ہو، سرکاری ہوائی جہازوںسے مشکوک عورتوںکا آنا جانا ہوتا ہو، غیر ملکی عورتوںکو ہیلی کاپٹر سے سرحد پار کرائی جاتی ہو اور ان واقعات کو لے کر سرکار، سرکاری طور پر جھوٹی اطلاع درج کراتی ہو، یہ عام طور پر نہیں سنا جاتا۔ لیکن آپ سن لیں،یہ اترپردیش کی ایرونٹکس کی اصلیت ہے۔

 

 

 

 

حقائق نظرانداز کیے گئے
عدالت میں جانے سے قبل اترپردیش سرکار اور سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے سامنے جو سنگین شکایت آئی تھی، سرکارنے اس کا نوٹس نہیںلیا۔ پھر عدالت نے بھی نوٹس نہیںلیا۔ ہم اس کا نوٹس لیتے چلیں۔ شکایت یہ تھی کہ سرکاری ہوائی جہاز سے کانپور کے حساس فوجی علاقے کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔ اس ویڈیو ریکارڈنگ کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے کام کرنے والے عناصر شریک تھے۔ ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے فون سے لگاتار پاکستان کالس ہوتی رہیں۔ پاکستان کے ٹیلی فون نمبرز بھی دیے گے تھے، جہاںجہاںایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے دفتر سے کال کی جاتی تھیں۔ لاگ بک میںرسمی انٹری کیے بغیر مشکوک عورتوں کو ہوائی جہاز کے ذریعہ لکھنؤ لایا گیا اور دہلی لے جایا گیا۔ بعد میںلاگ بک فرضی طریقے سے بھردی گئی۔ اڑان والے دن کی خالی لاگ بک کی کاپی اور بعد میںبھرے ہوئے لاگ بک کی فوٹو کاپی بھی محکمے کو دیدی گئی تھی۔ ڈولفن ہیلی کاپٹر سے ایک نامعلوم غیر ملکی عورت کو نیپال کی سرحد تک پہنچایاگیا اور ہوائی جہازوںکی خرید میںغیر ملکی کمپنی کے ساتھ مل کر خوب گھوٹالہ کیا گیا، یہ ساری باتیں سرکار کو اور بعد میںعدالت کو بتائی گئی تھیں۔ ان شکایتوں کے پس منظر میں اترپردیش سرکار نے باقاعدہ یہ کہہ دیا کہ جانچ کمیٹی تشکیل ہوئی،جانچ ہوئی اورشکایتیںفرضی پائی گئیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ سرکار کا یہ بیان ہی فرضی ہے۔ سرکار اپنا ہی جھوٹ بھول گئی اور سچ سرکار کے ذریعہ ہی منکشف ہوگیا۔ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ سے اڑان سے متعلق ’آتھو رائزیشن رجسٹر‘مانگا گیا تو محکمہ نے پہلے تو آناکانی کی پھر بعدمیںکہہ دیاکہ رجسٹر دیوندر کمار دیکشت نے غائب کردیا۔ محکمے نے کہا کہ اس پر دیکشت کے خلاف کانپور کی چھاؤنی (کینٹ) تھانے میںایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ جبکہ اس بارے میںپوچھنے پر چھاؤنی تھانے کا آفیشیل جواب آیا ہے کہ دیوندر کمار دیکشت کے خلاف کوئی بھی مقدمہ درج نہیںہے۔
اب جبکہ سرکار کا جھوٹ خود بخود سامنے آگیا تو یہ سو ال بھی سامنے آیا کہ اتنی سنگین شکایتوںکو چھپانے یا دبانے کی ریاستی سرکار نے کوشش کیوں کی؟ قوم مخالف سرگرمیوں میںکہیںبڑے لیڈر اور بڑے نوکر شاہ تو شامل نہیں؟ جب شکایتوںکی جانچ ہی نہیںہوئی تو شکایتیںبے بنیاد بتا کر خارج کیسے کی جاسکتی ہیں؟ شکایتوںمیںدم ہے کہ اترپردیش سرکار کے ہوائی جہازوں کا بیجا استعمال ہوتا رہا ہے۔ چاہے وہ قوم مخالف سرگرمیوںکے لیے ہوتا رہا ہو یا عیش و آرام کے لیے۔ اتر پردیش سرکار نے رسمی طور رسے کہا تھا کہ ان شکایتوںکی باقاعدہ تین رکنی جانچ کمیٹی نے چھان بین کی اور اسے بے بنیاد پایا۔ لیکن کچھ ہی وقفہ کے بعد سرکار اپنا ہی جواب بھول گئی۔ جب دوبارہ سرکار سے ان شکایتوںکا حوالہ دیتے ہوئے جانچ کمیٹی تشکیل ہونے کا بیورا مانگا گیا تو سرکار نے سیدھے کہا کہ ان شکایتوںکی جانچ کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل نہیںکی گئی تھی۔ لہٰذا سرکار کے اس جواب سے وہ سارے سوال بے بنیاد ثابت ہوگئے کہ کس کے حکم سے جانچ کمیٹی تشکیل ہوئی، کمیٹی کے صدر اور رکن کون تھے اور جانچ کی رپورٹ کیاہے وغیرہ وغیرہ۔
عیش و آرام اور موج مستی میںسرکاری ہوائی جہازوں کے استعمال کا معاملہ سماجوادی سرکار کے سیفئی مہوتسو کے وقت بھی اٹھا تھا۔ وزیر اعلیٰ اکھیلش اس پر خوب ناراض بھی ہوئے تھے لیکن سیفئی مہوتسو ختم ہونے کے بعد ہی انھوںنے پریس کانفرنس کر کے صفائی دی تھی۔ جب تک مہوتسو چلا تب تک اکھلیش سرکار ٹھمکے دیکھنے میں مست رہی اور زمین کے لوگ اپنے لیڈروں،افسروں، ان کے خاندان کے ممبران اور فلمی ہستیوں کو لانے لے جانے میںمنٹ منٹ پر آسمان میںگھرگھوں کررہے سرکاری طیارے اور ہیلی کاپٹروںکو دیکھ دیکھ کر نہال ہوتے رہے۔ تب اڑان ایندھن پر ہوئے خرچ کو لے کر بھی سوال اٹھے تھے۔ سرکار کے جواب سے یہ بھی پتہ چلا کہ اترپردیش سرکار کے پاس کافی ’فیول ایفشیئنٹ‘ طیارے اور ہیلی کاپٹر ہیں۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے تب یہ ’سچ سچ ‘ بتایا تھا کہ مہوتسو پر پانچ چھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ نہیں ہوئے۔ حالانکہ یہ اعداد و شمار ہر بیان کے ساتھ ادھر ادھر کھسکتے رہے۔ جب پورے مہوتسو پر کل خرچ پانچ چھ کروڑ ہی آیا تو اسی جھوٹے حساب سے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی چکر گھنیوںپر آئے خرچ کا بھی اصل حساب لگایا جاسکتا ہے۔ سیفئی مہوتسو کے درمیان سرکاری طیارے اور ہیلی کاپٹر کی اڑانوں پر کتنا خرچ آیا، سرکار نے نہیں بتایا۔ ایک جنوری 2013 سے 31 دسمبر 2013 کے بیچ سرکاری طیاروں کے ایندھن پر محض چار کروڑ، 21 لاکھ، 26 ہزار 448 روپے کا خرچ آنے کی بات بتاکر سرکار کنی کاٹ گئی۔ یہ بھی ویسا ہی سچ ہے جسے کچھ عرصہ بعد سرکار خود ہی جھوٹ بتا دیتی ہے اور ایک نیا سچ رچ لیتی ہے۔
سچائی کیسے سامنے آئے؟
سچ آخر کیسے باہر نکلے؟ سی بی آئی سے جانچ ہو جاتی تو سچ باہر آسکتا تھا۔ سچ جاننے کے جو آئینی جمہوری طور طریقے تھے،وہ کام نہیںآرہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن جیسے ہتھیار کو مایاوتی اور اکھلیش یادو کی پہلی سرکاروں نے پنگو بنا کر رکھ دیا ۔ یوگی کے آنے کے بعدبھی کوئی خاص بدلاؤ نہیںہے۔ ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے آنے جانے کا بیورا رکھنے والی لاگ بک اور جرنی لاگ بک کو سرکار نے پائلٹوں کی کہاںکہاںیاترا ہوائی اور کہاںکہاں ری فیولنگ ہوئی ، اس کی تفصیل آپریٹنگ اکائی کے ذریعہ مرتب نہیںکی جاتی۔ بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ بے وقوفانہ طریقے سے اڑانے کے سبب جو بیش قیمتی طیارے حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کا بیورا بھی عام شہری کو نہیںمل پاتا ۔ بس اتنی جانکاری مل پاتی ہے کہ تین ہوائی جہاز اور تین ہیلی کاپٹر اڑان کے لائق ہیں اور تین طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر اڑان کے لائق نہیں رہے۔ اڑان کے لائق کیوںنہیں رہے؟ اس کاکوئی جواب نہیںملتا۔
ابھی باڑھ ہے تو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی سرکاری ہیلی کاپٹر سے خوب اڑان بھر رہے ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہوائی معائنہ کررہے ہیں۔ لیکن سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو اڑان کا خاصا شوق تھا۔ وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ کی اس وقت کی پرنسپل سکریٹری انیتا سنگھ سول ایوی ایشن محکمے کی بھی انچارج ہوا کرتی تھیں۔ وہ وزیر اعلیٰ اکھلیش سے لے کر ملائم سنگھ تک کی ہوائی سہولت کا دھیان رکھتی تھیں۔ اسی خاص سہولت کے ارادے سے 90 کروڑ کی لاگت سے بیل 412- ہیلی کاپٹر خریدا گیا تھا۔ اس ہیلی کاپٹر کی خرید کے لیے اکھلیش نے انیتا سنگھ اور ایوی ایشن کے سکریٹری ایس کے رگھوونشی کو ایئر شو دیکھنے کے لیے خاص طور پر سنگاپور بھیجا تھا۔ اکھلیش سے قبل وزیر اعلیٰ مایاوتی نے بھی سال 2010 میں40 کروڑکا اوگسٹا ہیلی کاپٹر خریدا تھا۔ لیکن بے وقوف پائلٹوں اور خراب رکھ رکھاؤ کے سبب وہ ایک ہی سال میںخراب ہوگیا۔ اکھلیش سرکار نے اس کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے پھونک ڈالے۔ ہیلی کاپٹر کی مرمت کے نام پر اوگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی نے ریاستی سرکار سے من چاہی قیمت وصول کی تھی۔ مایاوتی کے دور میںیوپی سرکار کے لیے اوگسٹا ہیلی کاپٹر خریدنے میںکوئی کمیشن نہیںلیا گیا ہوگا، اس کی کوئی گارنٹی نہیںدے سکتا۔ سند رہے، یہ وہی اوگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی ہے جس نے 53 کروڑ ڈالر کا ٹھیکہ پانے کے لیے لیڈروں، نوکرشاہوں کو قریب ساڑھے تین سو کروڑ روپے کی رشوت دی تھی۔ یہ اجاگر ہونے پر 12 وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروںکی خرید کے لیے اینگلو ا طالوی کمپنی اوگسٹا ویسٹ لینڈ کے ساتھ سال 2010 میںکیے گئے تین ہزار 600 کروڑ روپے کے قرار کو جنوری 2014 میںرد کردیا گیا تھا۔

 

 

 

 

فرضی نوکرشاہوںکے فرضی حکم
اقتدار کے گلیارے سے جو چٹھیاںجاری ہورہی ہیں، ان کے فرضی ہونے کا چانس زیادہ ہے۔ یہ ملائم اور اس کے بعد اقتدار میںآئیںمایا وتی کے دور حکومت سے جاری ہے۔ اس کے بعد تو یہ چلن ہی ہوگیا۔ زیادہ تر سرکاری حکم کارروائی کی زمین پر یا عدالت کی دہلیز پر جاکر اسی لیے ناکارہ ثابت ہورہے ہیں کیونکہ اترپردیش سرکار نوکرشاہوں کے فرضی دستخط سے کارروائیاں کررہی ہے یا جو نوکرشاہ متعلقہ محکمہ میںکبھی رہا ہی نہیں،اس کے نام اور دستخط سے بھی حساس حکم جاری کررہی ہے۔ اترپردیش میںڈمی نوکرشاہوں کے ذریعہ مشکوک اور متنازع حکم جاری کرانے کادھندہ لمبے عرصے سے چل رہا ہے۔ سرکار نے اتنے جھوٹ رچ دیے ہیںکہ اب اسے یاد بھی نہیںرہتا کہ کہاںجھوٹ بولا اور کہاں سچ۔ اسی گڈمڈ میںسرکاری دستاویز ہی سرکار کی جعلسازیاںاجاگر کررہے ہیں۔
گورننس کی مشینری چلانے والے نوکرشاہوںمیںاتنی بھی حیا نہیںہے کہ اپنے گورکھ دھندے کی پرچھائیں سے کم سے کم وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکمے کو بخش دیں۔ ریاست کے کچھ حساس محکموں میںسے ایک سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ نوکر شاہوں کے فرضی دھندے کا گودام ہے۔ کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر سنگھ اسی محکمہ کی پیدائش تھے،جو اپنے دھندے باز ہنر کی وجہ سے پائلٹ ہوتے ہوئے بھی نوکرشاہوںکے سینئر عہدے پر بیٹھے اور کیبنٹ سکریٹری ہوکر تمام آئی اے ایس افسروںاور لیڈروںکو خوب ناچ نچایا۔ اب صرف نام بدل گیا ہے۔ دوسرے سفید پوش چہرے سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ میں اسی کالے دھندے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے کالے دھندے اور سرکار کے کالے ’سچ‘ کی کچھ مثالیں دیکھیں۔ سرکار نے ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے کئی ملازمین افسروں کو نوکری سے باہر نکالا تھا۔ سرکار کے ذریعہ جاری برخاستگی کے احکام پر ایسے سینئر نوکرشاہوں کے دستخط بنائے گئے جو حوالہ دی گئی تاریخوںمیںایوی ایشن محکمے میں کبھی تعینات ہی نہیںرہے۔ ان فرضی احکامات کی بنیاد پر ملازمین کو نوکری سے بے دخل کردیا گیا لیکن برخاستگی کی کوئی قانونی بنیاد نہیںبنی۔ ایوی ایشن کے کچھ افسر تو یہ بھی کہتے ہیںکہ فرضی احکام پر نوکری سے نکالے گئے کئی ملازمین کے نام پر تنخواہ وغیرہ جوںکی توںنکالی جاتی رہی ہیں۔
برخاستگی کے احکامات
برخاستگی کے کچھ احکامات پر ایوی ایشن محکمے کے ڈائریکٹر کے طور پر سینئر آئی اے ایس پردیپ کمار کے دستخط پائے گئے۔ سرکار کہتی ہے کہ پردیپ کمار ایوی ایشن محکمے کے ڈائریکٹر کبھی رہے ہی نہیں۔ پھر بیچارے ملازمین کی برخاستگی کا پروانہ کاٹنے والے پردیپ کمار کون ہیں؟ ایوی ایشن محکمے کے ملازمین کے سامنے صرف بے روزگارہونے کا سوال نہیں ہے،ان کے سامنے پردیپ کما رکی پہچان کا بھی سوال ہے۔ برخاست ملازمین ایسے سوال پچھلے قریب ڈیڑھ دو دہائی سے ڈھور ہے ہیں۔ سرکار کی دستاویز خود ہی اس سنگین فرضی واڑے کا پردہ فاش کرتی ہیں۔ سرکار کی دودستاویز دیکھئے۔ عجیب لیکن سچ۔ ایک دستاویز 30 جنوری 2013 کی ہے جس میںسرکار کہتی ہے کہ پردیپ کمار نے 8 مارچ 2002 کو ایوی ایشن محکمے میں ڈائریکٹر کا چارج سنبھالا تھا اور 19 مارچ تک وہ اس عہدے پر بنے رہے اب اترپردیش سرکار کی ہی دوسری دستاویز دیکھیے۔ 21 فروری 2013 کوجاری یہ سرکاری دستاویز بتاتی ہے کہ 8 مارچ 2002 سے 19 مارچ 2003 کے بیچ کی مدت کی مختلف تاریخوں میں پردیپ کمار آبکاری، ماحولیات، جنگلات،پنچایتی راج اور داخلہ محکمہ میںسکریٹری کے عہدے پر تعینات رہے۔ یعنی مذکورہ تاریخوں میںپردیپ کمار ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ میںتعینات نہیںتھے۔ پھر ملازمین کی برخاستگی کا حکم کیسے جاری ہوگیا؟ کس نے جاری کیا؟ برخاستگی کے حکم پر جس پردیپ کما رکے دستخط ہیں، وہ پردیپ کمار کون ہیں؟ سرکار کی دو متضاد دستاویز کیا بتاتی ہیں؟ سرکاری فرضی واڑے کے اس سنگین واقعہ پر سرکارنے کوئی کارروائی کیوں نہیںکی؟ یہ سوال سامنے تو ہیں، لیکن آپ یقین مانئے،اس پرنہ کوئی کارروائی ہوگی او رنہ ہی کوئی جواب آئے گا۔
ایسا ہی افراتفری کا شکار رہا ہے ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ
اترپردیش کے ایوی ایشن محکمہ میںکتنی بدنظمی اور بدعنوانی ہے،یہ آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا۔ تھوڑی کسر باقی ہوتو مایاوتی کے دور کا ایک اور سیاق و سباق دیکھتے چلیں۔ وہ ایک ستمبر 2008 کی رات تھی۔ پائلٹ سے ریاست کے کیبنٹ سکریٹری بنے ششانک شیکھر سنگھ نے اس دور کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کو لے کر ہیلی کاپٹر سے اڑان بھری۔ مایاوتی کو پہلے سنت کبیر نگر،پھر فیض آباد لے جایا گیا۔ جس سنگل انجن ہیلی کاپٹر پر مایاوتری کو بٹھاکر رات میںلے جایا گیا، وہ ہیلی کاپٹر رات کی فلائنگ کے لیے قانوناً بین ہے۔ اس میںرات میںاڑان کے لیے آلات نہیںہیں۔ رات میںجب مایاوتی کو لے کر وہ ہیلی کاپٹر سنت کبیر نگر سے اڑا تو ٹیک آف کے لیے کاروںکی بتیاںجلانی پڑیں۔ پھر فیض آباد میںنائٹ لینڈنگ کا خطرناک رسک اٹھایاگیا۔ اس کے بعد لکھنؤ سے طیارہ منگایاگیا۔ تب مایاوتی واپس لوٹیں۔ سنگل انجن والا خستہ ہیلی کاپٹر خود ششانک اور ونگ کمانڈر آر این سین گپتا اڑا رہے تھے۔ بین شدہ ہیلی کاپٹر کو رات میں اڑانے کا مسئلہ سینٹریل ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) میںطول پکڑے،اس کے لیے اڑان دستاویزوںمیں وقت کو لے کر فرضی حقیقت درج کی گئی۔
فیض آباد میںایئرپورٹ اتھارٹی کا کوئی ایئر ٹریفک کنٹرول نہیںہے، لہٰذا ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کا وقت شام سوا چھ بجے اور لکھنؤ سے ریسکیو کے لیے گئے طیارے کا ٹیک آف ٹائم ساڑے چھ بجے درج کردیا گیا۔ لیکن لکھنؤ کے ایئر ٹریفک کنٹرول میںمایاوتی کو لے کر آئے سپر کنگ ہوائی جہاز کے لکھنؤ پہنچنے کا وقت سرکاری طور پر رات سوا آٹھ بجے درج ہے۔ اگر ہوائی جہاز نے ساڑے چھ بجے شام فیض آباد سے لکھنؤ کے لیے اڑان بھری تو اسے لکھنؤ پہنچنے میں سوا دو گھنٹے کیوںلگے؟ وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی کو لے کر ایوی ایشن محکمے کی لاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ مایاوتی کو ’ریسکیو‘ کرکے لانے کے لیے بھیجے گئے ہوائی جہاز کو بھی ڈکلیئرڈ نااہل پائلٹ ہی اڑا رہے تھے۔ ان میںایک تھے بزرگ کیپٹن پی سی ایف ڈیسوزا، جو میڈیکلی انفٹ تھے اور دوسرے تھے کیپٹن وی وی سنگھ،جو اس وقت تقریباً 62 سال کے تھے اور ڈی جی سی اے کی شرطوںکے مطابق اڑان کے لیے اہل نہیںتھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *