پر ائیویسی کا حق بنیادی حق ہے

رویش کمار
سرکار کہتی رہی ہے کہ پرائیویسی کا حق بنیادی حق نہیں ہے، عام قانون کا معاملہ ہے لیکن آئینی بینچ نے سرکار کی اس دلیل کو خارج کردیا۔
1973میںایک فلم آئی تھی، یادوںکی بارات۔ اس کا ایک گانا آج بھی سنا جاتا ہے، ’آپ کے کمرے میںکوئی رہتا ہے، تررارا ہم نہیںکہتے زمانہ کہتا ہے۔ ‘ پرائیویسی کی بحث میں آپ چاہیں تو اس گانے کو گنگنا سکتے ہیں، ’ہم نہیںکہتے ہیں زمانہ کہتا ہے۔‘ لکھنے اور گانے والے کو پتہ ہے کہ کسی کے کمرے میں کون رہتا ہے، جھانکنا یا کسی کو بتانا ٹھیک نہیں ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ سپریم کورٹ کی 9ججوں کی بینچ نے جو فیصلہ دیا ہے،اس کے سہارے ہم گنوا چکے پرائیویسی کو حاصل کرسکتے ہیں یانہیں۔ سرکار کہتی رہی ہے کہ پرائیویسی کا حق بنیادی حق نہیں ہے، عام قانون کا معاملہ ہے لیکن بینچ نے سرکار کی اس دلیل کو خارج کردیا۔
پرائیویسی کا حق وہ حق ہے، جس کی خوشبو آئین میںہے۔ جج صاحبان نے بتایا ہے کہ آئین کے باغیچے میںالگ الگ حقوق سے جو خوشبو آرہی ہے، وہ پرائیویسی کے حق کی خوشبو ہے۔ اس خوشبو کے بغیر آئین کی رونق پھیکی پڑ جاتی ہے۔ اس فیصلے میںبس یہی ہوا ہے کہ اس خوشبوکا نام دے دیا گیا ہے کہ یہ یاسمین نہیں، گلاب نہیں، خس نہیں بلکہ پرائیویسی کا حق ہے۔ یہ لڑائی آپ کے لیے جن لوگوں نے لڑی ،پہلے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
90 سال کی عمر میں پرائیویسی معاملے سے قبل عرضی گزار ریٹائرڈ جسٹس کے ایس پتا سوامی کا شکریہ۔ ان کے ساتھ کئی وکیلوں نے بھی اس کیس میں اچھی دلیل رکھی ہے۔ مشہور وکیل شیام دیوان، اروند داتار، جی سبرامنیم، نوجوان وکیل گوتم بھاٹیہ، پرسنّاایس، اپار گپتا کا بھی شکریہ۔ ان لوگوں نے لڑائی عدالت کے علاوہ میڈیا اور سماج کے اسپیس میںبھی لڑی تاکہ لوگوں کو سمجھ میںآئے کہ پرائیویسی ، نجتا کا معاملہ کھاتے پیتے گھروںکا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حق چلا گیا تو کمزور آدمی زیادہ آسانی سے ماراجائے گا۔ سرکاریں اسے چبا جائیںگی۔ آپ کو لگتا ہے کہ چبا جانا تھوڑا زیادہ کہہ دیا تو اگلی قطار کا انتظار کیجئے۔
سابق اٹارنی جنرل ہیں مکل روہتگی۔ آئینی بینچ کے سامنے انھوں نے سرکار کا موقف نہیں رکھاکیونکہ وہ تب تک عہدہ چھوڑ چکے تھے۔ انھوں نے جسٹس اے کے سیکری اور اشوک بھوشن کی بینچ کے سامنے آدھار معاملے میں جو کہا ، اسے یاد رکھنا ضروری ہے۔ مکل روہتگی کی رائے بھی سرکار کی ہی رائے مانی جائے گی اور الگ حوالے میں اس کا ذکر ضروری ہے۔ مکل روہتگی اب اٹارنی جنرل نہیں ہیں لیکن تب انھوں نے کہا تھا کہ شہریوں کو ان کے جسم پر مکمل حق نہیںہے، پرائیویسی کا حق بوگس ہے۔
آپ کے جسم پر آپ کا حق نہیں ہے تو کس کا ہے۔ کیا سرکاروں کو یہ حق ہے کہ آپ کے جسم کاکوئی عضو نکال لے، آنکھ یا کڈنی نکال لے،یہ کہتے ہوئے کہ آپ کا جسم آپ کا نہیں، سرکار کا ہے۔ اس روشنی میں دیکھیں تو اس فیصلے نے ایسی سوچ سے سب کو بچالیا ہے۔ دنیا اور ملک میں بدعنوانی ہے، اسے دور کرنے کے نام پر جینے اور پرائیویسی کے حق سے کھلواڑ نہیں ہوسکتا۔ سبسڈی سے زیادہ ہندوستانی سیاست اور الیکشن کو کالے دھن سے مکت کرنے کی ضرورت ہے جہاں آج بھی بی جے پی سمیت سبھی سیاسی پارٹیاں بغیر پین نمبر اور دینے والے کا پتہ پوچھے پیسہ لے لیتی ہیں۔

 

 

 

 

اے ڈی آر کی رپورٹ سے صاف ہوتا ہے ۔
– قومی پارٹیوں کو 384 کروڑ روپے چندہ ملا ہے جس کا پین نمبر نہیںہے۔
355- کروڑ کا چندہ دینے والوں کا پتہ نہیں ہے۔
آئینی بینچ کے فیصلے کو بار بار پڑھا جانا چاہیے۔ اس سے ایک شہری کے روپ میں آپ کے پرائیویٹ اسپیس کی سمجھ بہتر ہوتی ہے، نجی انتخاب کی سمجھ بہتر ہوتی ہے اور یہ سمجھنے میںطاقت ملے گی کہ آپ کا انتخاب آپ کا ہے،کسی اور کا نہیں ۔ جج صاحبان نے کہا۔
-ٹھیک ہے کہ آرٹیکل 19 اور21میں پرائیویسی کے حق کا ذکر نہیں ہے۔
-یہ کہنا ہندوستان کا آئین پرائیویسی کا حق یقینی نہیںبناتا ہے، صحیح نہیں ہے۔
-جینے کے حق میںبھی پرائیویسی کا حق شامل ہے۔ جینے کے حق اور نجی آزادی کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔
-شخص کا وقار، آزادی کی چاہ، برابری، یہ سب آئین ہند کے بنیادی ستون ہیں۔
-جینے اور ذاتی آزادی آئین کی رچنا نہیں ہے بلکہ آئین انھیں منظوری دیتا ہے۔
-پرائیویسی کا حق، جینے اور نجی آزادی کے حق سے نکلتا ہے۔
-بنیادی حقوق کے مختلف عناصر سے بھی پرائیویسی کا حق نکلتا ہے۔
پرائیویسی کا سوال صرف آدھار نمبر کے حوالے سے نہیںہے۔ اس حوالے میں بھی ہے کہ ایک مذہب کی لڑکی جب دوسرے مذہب کے لڑکے سے شادی کرے گی تو سرکار کی جانچ ایجنسیاںجانچ نہیںکریںگی۔ ہم جنسی کے سوال کو یہ حق مضبوطی دے گا۔ یہ سوال وہاں بھی آتا ہے کہ کیا کوئی سرکاری ایجنسی آپ کا فون ریکارڈ کرسکتی ہے۔ عدالت کی آئینی بینچ نے کہا کہ یہاں پرائیویسی کیا کیا ہے، سبھی کی فہرست تیار نہیں کررہے ہیں، اس کے بعد بھی پرائیویسی کا جو دائرہ بتایا گیا ہے کہ وہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔
آئینی بینچ نے کہا ہے کہجنسی تعلقات، ذاتی تعلقات، خاندانی زندگی کی مانیتا، شادی کرنا، بچے پیدا کرنا ، یہ سب پرائیویسی کا حق ہیں۔ پرائیویسی کا حق وہ ہے جو ذاتی خودمختاری کا بچاؤ کرتا ہے۔ یہ حق تصدیق کرتا ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی کے وائٹل پہلوؤں کو کیسے کنٹرول کرتا ہے۔ آدمی کا انتخاب بھی پرائیویسی کا حصہ ہے۔ پرائیویسی ہماری ثقافت کے تنوع ، تکثیریت کو بھی تحفظ دیتی ہے۔کوئی شخص پبلک پلیس میںہے،اس وجہ سے اس کی پرائیویسی ختم نہیںہوجاتی ہے۔ انسان کے وقار کا عضو ہے پرائیویسی ۔
کورٹ نے کہا کہ آئین کے معنی ، اس کے بننے کے دور کے حوالے سے بند نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ بدلتے وقت کے جمہوری چیلنجوں کے مطابق اس کی ٹھوس تشریح ہوتی رہنی چاہیے۔ پرائیویسی کا حق بنیادی حق ہے۔ کے کے وینو گوپال، حکومت ہند کے اٹارنی جنرل نے آئینی بینچ کے سامنے کہا تھا کہ ریاست فلاحی اسکیموں کے تحت جو حق دیتی ہے، اس کے حق میںپرائیویسی کا حق چھوڑا جاسکتا ہے۔
ہماری رائے ہے کہ پرائیویسی کا حق امیروں کا تصور ہے جو اکثریتی عوام کی خواہشات اور ضرورتوں سے کافی الگ ہے۔ عدالت مانتی ہے کہ اس دلیل میںدم نہیں ہے۔ یہ دلیل آئین کی سمجھ کے ساتھ دھوکا ہے۔ ہمارا آئین ایک شخص کو سب سے آگے رکھتا ہے۔ یہ کہنا کہ غریب کو صرف اقتصادی ترقی چاہیے،شہری اور سیاسی حق نہیں، صحیح نہیںہے۔
آئینی بینچ نے سرکار کے کاموںکا جائزہ، سوال کرنے، اس سے رضامند نہ ہونے کے حق کا بھی تحفظ کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ سب جمہوریت میں شہریوںکو قابل بناتا ہے، اس سے وہ سیاسی انتخاب بہتر کرتے ہیں۔ ایک جگہ تو سرکار کے ناقد پروفیسر امرتیہ سین کا بھی ذکر آیا ہے جسے دیکھ کر سرکار کے مشہور وکیلوں کو اچھا نہیںلگے گا۔ عدالت نے بڑی تفصیل سے سمجھایا ہے کہ سماجی اور اقتصادی ترقی کے شہری سیاسی حقوق سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اسی حوالے سے آئینی بینچ کے فیصلے میں ایک جگہ ذکر آتا ہے کہ ان میں سے کچھ تشاویش کی جھلک نوبل ایوارڈ جیتنے والے امرتیہ سین کے مضامین میںبھی ملتی ہے۔ سین نے قحط کے وقت میںغیر جمہوری سرکاروں اور جمہوری سرکاروںکی حرکتوںکا موازنہ کیا ہے۔ ان کا تجزیہ بتاتا ہے کہ بے لگام ریاست میںسرکار کے لیڈروں کو سیاسی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قحط کی حالت میںعوام کو راحت نہیں مل پاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *