فوج کے ڈھانچہ میں تبدیلی مقصد استحکام یا زمین ہتھیانا؟

راشٹر واد کا سیاسی دھندہ کرنے والی بی جے پی سرکار نے ملک کی فوج کو تیسرے درجے کا بنا کررکھ دیا ہے۔ فوج کے پاس گولہ بارود کی بھاری کمی ہے۔ معیاری ہتھیار نہیں ہیں،جنگ کے سامان نہیں ہیں۔سیدھی جنگ ہوئی تو 10 دن سے زیادہ لڑنے کی جنگی صلاحیت نہیں ہے جو ہتھیار ہیں ،ان کی بھی دیکھ ریکھ انتہائی پھوہڑطریقے پر ہے جو کہ پُلگائوں حادثے کی طرح کبھی بھی خوفناک شکل میں بدل سکتاہے۔ اس پر لگاتار مجرمانہ غفلت کرنے والی مرکزی سرکار کہتی ہے کہ ساخت اور ڈھانچے کے اعتبار سے بدلائو کرکے فوج کی جنگی صلاحیت بڑھائیںگے۔ 30اگست کا اعلان مرکزی سرکار کا سفید جھوٹ ہے۔
زمین اصل نشانہ
دراصل بی جے پی لیڈروں کی نگاہ ہندوستانی فوج کے دائرہ اختیار میں تقریباً 25 ہزار ایکڑ زمین پر ہے۔ ہزاروں ایکڑ بیش قیمتی زمین چھیننے کے لئے سرکار نے فوج کی ساخت میں بدلائو کی پینترا بازی کی ہے۔ فوج سے قیمتی زمین چھین کر اسے بڑے صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کو دیئے جانے کی تیاری ہے۔ اس کا خلاصہ ہونے میں بھی اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ بروز بدھ 30 اگست کو وزیر دفاع (جو اب سابق ہوچکے ہیں ) ارون جیٹلی نے اسی دن ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا سے کہا کہ فوج میں ساخت کے بدلائو کو لے کر لیفٹیننٹ جنرل ڈی بی شیک تکر کمیٹی کی شفارشیں مظور کر لی گئی ہیں۔ اس فیصلے کی بنیاد میں فوج کے 39 زرعی فارموں (ملٹری فارمس ) کی تقریباً 25 ہزار ایکڑ زمین کو ایکوائر کرنے کی نیت چھپی ہوئی ہے۔
ملٹری فارمس کی ہزاروں ایکڑ بیش قیمتی زمین چھین کر فوج کی جنگی صلاحیت کیسے بڑھائیں گے؟اس سوال پر اگر آپ غور کریں تو اس کے پیچھے کی سرمایہ دارانہ سازشوں کے تار صاف صاف دکھائی دینے لگیں گے۔ آپ اسی سے سمجھ لیں کہ مرکزی کابینہ 30اگست کو فیصلہ لیتی ہے اورا سی دن جیٹلی اس کا اعلان کرتے ہیں، جبکہ پردے کے پیچھے کی اصلیت یہ ہے کہ ملٹری فارمس کی زمینوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کئی مہینے پہلے شروع کر دی گئی تھی۔ ملٹری ڈیریوں کی گایوں کو نیلام کرنے کا عمل کئی مہینے پہلے سے شروع تھا۔ فوجی سربراہ کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔ سرکار کے فیصلے کا سرکاری اعلان ہونے کے پہلے ہی ملٹری فارمس کی زمینیں ضبط کرنے کی کارروائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ ایسی کیا جلد بازی تھی ارون جیٹلی جی! ملٹری فارمس کی زمینیں لے کر اور فوجوں کو ملنے والا لاکھوں لیٹر دودھ چھین کر آپ ہندوستانی فوج کی جنگی صلاحیت بڑھا رہے تھے یا کوئی اور غیر فوجی صلاحیت کو ترقی دینے کی تگ و دَو میں لگے تھے۔ کہیں اسی تگ و دَو اور جلد بازی کے سبب تو نہیں آپ کے وزیر دفاع کا عہدہ ہاتھ سے نکل گیا۔
خیر ملک کے 39 ملٹری فارموں میں جو اعلیٰ نسل کی ہزاروں گائیں پلتی ہیں، انہیں جلد جلد نیلام کرنے کی سرگرمی چل رہی ہے۔ گئو رکشا کے نام پر ملک بھر میں ماحول خراب کرنے والی پارٹی کے اقتدار کے علمبردار یہ بتا دیں کہ فوج کی اعلیٰ نسلوں کی گایوں کو نیلام کر کے انہیں کن اہل ہاتھوں میں دیں گے اور ان گایوں کی ناگفتہ بہ حالت کے لئے کون ذمہ دار ہوگا؟مرکزی سرکار اس سوال کا جواب نہیں دے گی اور گئو رکشک بھی اپنی سرکار سے یہ سوال نہیں پوچھیں گے۔بی جے پی کا راشٹرواد اور گئو رکشا کی یہی مکروہ اصلیت ہے ۔
شیک تکر کمیٹی کی سفارشات
شیک تکر کمیٹی کی سفارشوں کا سب سے متنازع پہلو ہے فوج کے 39 ملٹری فارمس کو بند کر دینے کی تجویز اور اس پر مرکزی سرکار کے ذریعہ دی جانے والی فوری منظوری۔اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز یہ ہے کہ سرکاری منظوری کے پہلے ہی زمین ضبطی کی کارروائی کا خاموش طریقے سے شروع ہوجانا۔ مرکز کے اس فیصلے کا بہت بڑا خمیازہ ہندوستانی فوج کو آنے والے وقت میں بھگتنا پڑے گا۔ ہندوستانی فوج کے زرعی فارمس احمد نگر، گوالیار، جبل پور، سکندر آباد، بیل گاوی، مہو، جھانسی، دیما پور، گواہاٹی، جورہاٹ، پانا گڑھ، کولکاتہ ،انبالہ ،جالندھر، آگرہ، پٹھان کوٹ، الٰہ آباد،لکھنو، سیتا پور، کانپور، رانی کھیت، جموں، سری نگر، کارگل اور اودھم پور سمیت ملک کے کئی حصوں میں ہیں۔ 25 ہزار ایکڑ والے کل 39 ملٹری فارمس میں تقریباً 50ہزار اعلیٰ نسل کی دودھ دینے والی گایوں کے علاوہ ہزاروں دیگر جانور پلتے ہیں۔ اسی میں فوج کے ڈیری فارم بھی ہیں جو فوجوں کے لئے دودھ اور دیگر دودھ سے بنی اشیاء فراہم کراتے ہیں۔ ملٹری فارمس کی دیکھ ریکھ میں تقریباً تین سو کروڑ کا خرچ آتا ہے جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ کمائی ملٹری فارموں میں ہونے والی کھیتی سے ہوتی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ شیک تکر کمیٹی کی سفارشوں کو منظوری دینے کا کابینی ڈرامہ اگست مہینے کی آخری تاریخ میںہوا جبکہ اس کے کافی پہلے ہی ملٹری فارموں کو بند کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔15 اگست کے پہلے ہی ملک کے 12 ملٹری فارمس بند کئے جا چکے تھے۔ مزید 27 ملٹری فارمس کو بند کرنے کا عمل سرکاری منظوری کے ڈرامہ کے پہلے سے شروع ہے۔ مرکزی سرکار کی اخلاقیات کا کیا معیار ہے ،یہ اس حقیقت سے ہی سمجھ میں آجائے گا کہ ملک میں اعلیٰ نسل کی فریسوال گائیں فروغ دینے کا سہریٰ ملٹری فارمس محکمے کو جاتاہے۔ ملٹری فارمس محکمے کے ویٹرنی ماہرین نے نائیدرلینڈ کی ہیسٹن فریسین گایوں اور ساہیوال گایوں کے میل سے اعلیٰ قسم کی گائیں تیار کی تھیں، جن پر دنیابھر کے ماہرین حیوانات کو حیرت ہوئی تھی۔
بہترین ڈیری مینجمنٹ کرنے اور فوج کو خالص دودھ مہیا کرانے کی اچھی منصوبہ بندی کے لئے اقوام متحدہ ہندوستانی فوج کی تعریف کر چکا ہے۔ ایسے قابل فخر اور تاریخی محکمے کو صرف زمین ہتھیانے کی گرج سے بند کیا جا رہا ہے۔ فوجوں کو فری راشن کا انتظام بند کرنے کے بعد راشٹروادی بی جے پی سرکار نے فوجوں کو ملنے والے خالص دودھ کا راستہ بھی بند کر دیا ہے۔ ملٹری ڈیری فارموں سے سالانہ تقریباً پانچ سو لاکھ کلو دودھ کی پیداوار ہو رہی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی فو ج کا سب سے پہلا ملٹری فارم 1889 میں یوپی کے الٰہ آباد میں قائم کیا گیا تھا ۔اس کے بعد یہ ملک کے دیگر حصوں میں متعارف ہوا۔ الٰہ آباد ملٹری فارم کی ڈیری میں فریسوال نسل کی تقریباً ہزار گائیں ہیں، جن کی قیمت تقریبا ساڑھے تین سو کروڑ روپے ہے۔دو سو سے زیادہ ملازمین اور مزدور اس ڈیری میں گایوں کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ یہی ان کی معاش کا ذریعہ بھی ہے۔ الٰہ آباد کا ملٹری فارم اور ڈیری تقریباً 700 ایکڑ زمین پر پھیلا ہے۔ صرف الٰہ آباد کی ڈیری سے فی سال تقریباً 15 لاکھ لیٹر سے زیادہ دودھ کی پیداوار ہوتی ہے۔ ڈیری بند کرنے کے مرکزی سرکار کے حکم سے ملازموں میں کافی غصہ ہے۔ سرکار کے اس فیصلے کے خلاف اگست مہینے میں ہی ملازمین نے سڑک پر اتر کر احتجاج بھی کیا تھا۔
کرناٹک میں احتجاج
ادھر کرناٹک میں بھی مرکز کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بنگلورو میں سری رام فوج نام کی تنظیم نے آندولن کا بگل بجا دیا ہے اور زبردست احتجاج سے اس کی ابتدا کی ہے۔ بیل گاوی کے ملٹری فارم کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف بڑے عوامی احتجاج کی ندا لگا دی گئی ہے ۔ سری رام سینا کے صدر پرمود متالک نے کہاہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ ملک کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ فوجوں کو دودھ سے محروم کرنے کا جرم ملک سے غداری جیسا سنگین جرم ہے۔ مظاہرین نے وزیر دفاع (اب سابق ) ارون جیٹلی کے خلاف زوردار نعرے لگائے اور ان پرزمین مافیائوں کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگایا ۔ بیل گاوی کا ملٹری فارم ڈیڑھ سو ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ وہاں اعلیٰ نسل کی 700 گائیں ہیں۔ تین ہزار لیٹر دودھ روزانہ نکلتا ہے جو مراٹھا لائٹ انفنٹری ریجمنٹ سینٹر میں ٹریننگ حاصل کرنے والے فوجوں کو مہیا ہوتاہے۔
ایک طرف گولہ بارود کی کمی، دوسری طرف تباہی کو مدعو کرر ہے ویپن ڈیپو ابھی حال ہی میں فوج پر کیگ کی رپورٹ پارلیمنٹ کے ٹیبل پر رکھی گئی تھی۔ یہ آڈٹ رپورٹ نہیں، ہندوستانی فوج کی اصلیت اجاگر کرنے والی خوفناک اسٹیٹس رپورٹ ہے۔ فوج کی زمینوں پر نظر لگائے بیٹھے برسراقتدار افراد نے کیگ کی رپورٹ پر توجہ نہیں دی۔ سرکار نے اہمیت نہیں دی تو میڈیا نے بھی تھوڑی تھوڑی خبر چھاپ کر ، دکھا کر ذمہ داری پوری کرلی۔ آپ تسلی سے پوری رپورٹ پڑھیں تو آپ کا دماغ خراب ہو جائے گا کہ کن سڑی ہوئی عجیب و غریب حالات میں ہمارے فوجی، فوج میں نوکری کررہے ہیں۔ پوری فوج اندرونی دھماکے کے دہانے پر بیٹھی ہے۔
یہ بات اشارے میں نہیں بلکہ سیدھے اور واضح طور پر کہی جارہی ہے کہ فوجوں کو سرحد پر دشمن فوجوں سے اتنا خطرہ نہیں ، جتنا اندرونی خطروں سے ہے۔ پلگائوں (مہاراشٹر ) میں ہندوستانی فوج کے سب سے بڑے ویپن ڈیپو میں 31 مئی 2016 کو بھیانک دھماکہ کے سبب ہوئے خوفناک آتش زنی میں دو فوجی افسروں سمیت 20 فوجیوں کی دردناک موت کے بعد بھی وزارت دفاع کی آنکھ نہیں کھل رہی۔ پلگائوں میں سینٹرل آرڈیننس ڈیپو حادثے میں ڈیڑھ سو ٹن سے زیادہ گولہ بارود برباد ہو گیا۔ 71 سو ایکڑ میں پھیلے پلگائوں ویپن ڈیپو ہتھیاروں کے لحاظ سے فوج کا سب سے حساس مرکز ہے۔ جہاں عام گولیوں سے لے کر ہر طرح کے گولہ بارود اور ہرہموسا میزائیل تک رکھی ہیں۔ پلگائوں سے ہی ملک بھر میں پھیلے 14 فوجی ڈیپو کو ہتھیار کی سپلائی ہوتی ہے لیکن پلگائوں سمیت کسی بھی ویپن ڈیپو میں سیکورٹی نام کی تعمیل نہیں ہوتی۔ ترپال سے ڈھکے شیڈ میں خطرناک ویپن رکھے ہوئے ہیں۔ فوج آج بھی عام گاڑیوں سے گولہ بارود ڈھو رہی ہے۔

 

 

 

 

 

خطرات سے لاپرواہی
فوج کے ٹاپ کمانڈ سے لے کر وزارت دفاع تک کو بار بار آگاہ کیا جارہاہے کہ فوج کی بڑی عمارتیں کسی بھی وقت بھیانک حادثے کا شکار ہوکر منہدم ہو سکتی ہیں۔ ایسا تب ہے جب گولہ بارود کی بھاری کمی سے ہندوستانی فوج سامنا کررہی ہے اور دو دشمن ملکوں سے تنائو چل رہاہے۔ فوجی قانون کے مطابق فوج کے پاس ہر وقت اتنا گولہ بارود ہونا چاہئے کہ لڑائی چھڑنے کی حالتمیں اوسطاً 40 دن تک کام چلتارہے لیکن سی اے جی کی رپورٹ سرکاری طور پر یہ خلاصہ کرتی ہے کہ فوج کے پاس ’کم سے کم ممکنہ خطرے کی سطح ‘تک کا گولہ بارود نہیں ہے۔ بس اتنا ہے کہ جنگ ہونے پر اسے کسی طرح بطور دوا 10 دن اور کھینچ تان کر 20 دن تک لے جایا جاسکتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ گولہ بارود ریزرو کی یہ’ کم سے کم سطح ‘ بھی لگاتار بنا کر نہیں رکھا جارہا ہے۔ سرکار اس طرف دیکھ ہی نہیں رہی۔ فوج کے ٹاپ کمانڈر نیتا گری میں مست ہیں اور اقتدار پر بیٹھے اعلیٰ لیڈر فوج کی زمینیں چھیننے کی تکڑم رچنے میں مصروف ہیں۔ انتہائی خطرناک حالات میں فوج کے کام کرنے کی حالت شیک تکر کمیٹی کے تجزیہ میں بھی کہیں شامل نہیں ہے۔
شیک تکرکمیٹی کی سفارشوں اور اس کی سرکاری منظوری دونوں ہی افسوسناک ہیں۔ ملٹری فارمس کی زمینیں چھین کر وہاں کام کرنے والے فوجی ملازموں کو اب جنگی اکائیوں میں بھیجا جائے گا۔ایسے ناتجربہ کار فوجی ملازمین ’’ کامبیٹ فورس ‘‘ کا حوصلہ بڑھائیں گے یاوہاں بھیڑ بڑھائیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل شیک تکر کمیٹی کی رپورٹ ایسے کئی سنگین سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ کمیٹی نے فوج میں سدھار کو لے کر جو سفارشیں کی ہیں،ان میں آرمی ویپن کور کے ناکارہ پن کو دور کرنے کو لے کر کوئی تجویز نہیں ہے۔ دفاعی پرجیزنگ پالیسی میں مکمل بدلائو کی ضرورت کمیٹی کی سفارشوں میں کہیں شامل نہیں ہے۔ ملٹری ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی پرچیزنگ بورڈ کی نگرانی فوج کے تینوں ونگوں کے صدور کو کرنی چاہئے ،نہ کہ دفاعی سکریٹری کو۔ بیوقوفانہ دفاعی پرچیزنگ پالیسی کی وجہ سے ہی دفاعی پرچیزنگ میں تمام دشواریاں کھڑی ہوتی ہیں۔ شیک تکر کمیٹی نے جنگ کے لئے ضروری وار ،ویسٹ ریزرو بڑھانے اور اسے پختہ رکھنے کا بھی کوئی سجھائو نہیں دیا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ بار ویسٹ ریزرو بڑھنے کے بجائے تیزی سے گھٹ رہا ہے۔
ہندوستانی فوج کی موجودہ جنگی صلاحیت عددی حساب سے کافی کمزور ہے۔ شیک تکر کمیٹی کی سفارشوں کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ غیر لڑاکو محکموں میںکام کر رہے فوجی اہلکاروں کو لڑاکو محکموں میں تعینات کرنے کی تجویز دے دی گئی اور اسے سرکار نے منظور بھی کرلیا ۔جو فوجی پہلے سے لڑاکو محکموں میںتعینات ہیں، ان کے پاس لیول ویپن اور ضروری گولہ بارود نہیں ہیں۔ انہیں ملٹری اسٹینڈرڈ کے مطابق مسلح کرنے کے بجائے الگ سے غیر آپریشنل بھیڑ کو لڑاکو دستوں کے ساتھ کھپانے کا بیوقوفانہ سجھائو دے کر شیک تکر کمیٹی نے ہندوستانی فوج کو مضحکہ خیز حالت میں ڈال دیا ہے۔ لازمی سامان کے بغیر فوجوں کو لائن آف کنٹرول پر بیٹھا دیا جائے تو وہ کیا کر لیں گے؟اس فطری سوال پر نہ تو شیک تکر کمیٹی نے دھیان دیا اور نہ مرکزی سرکار کو اس طرح دھیان دینے کی کوئی فکر ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل شیک تکر نے جوانوں سے افسروں کی بیگاری کرائے جانے کے چلن کو ختم کرنے کا سجھائو کیوں نہیں دیا؟نان کامبیٹ ڈیوٹی سے نکال کر 57 ہزار فوجی اہلکاروں کو کامبیٹ ڈیوٹی میں جھونک کر 25ہزار کروڑ روپے بچانے کی جگاڑ بتانے والے لیفٹیننٹ جنرل شیک تکر بیٹ مین (عام بول چال کی زبان میں کمیشنڈ افسروں کے گھریلو نوکر ) کے کام میں لگے ہزاروں فوجیوں کو جہنم سے نجات دلانے کی سفارش نہیں کرتے ۔
لیفٹیننٹ جنرل شیک تکر ایک سینئر فوجی آفیسر کے نظریئے سے ہندوستانی فوج میں سدھار کے بندوبست کا تجزیہ نہیں کررہے تھے بلکہ ان کی رپورٹ دیکھیں تو صاف لگے گا کہ وہ ایک آڈیٹر کی طرح کام کر رہے تھے۔ شیک تکر کمیٹی نے 188 سفارشیں کی ہیں۔ یہ سب کی سب فوج کے نقطہ نظر سے خارج کرنے کے قابل ہیں۔ مرکزی سرکار نے ان میں سے 99 سفارشیں مان لیں۔ ان 99 سفارشوں میں فوج، فضائیہ اور بحریہ تینوں میں سدھار کے بے معنی مسئلے شامل ہیں۔ ان میں سے 65 سفارشوں پر آناً فاناًکام شروع ہو چکا ۔وزیر دفاع ارون جیٹلی چالاک آدمی ہیں۔ انہوں نے وزارت دفاع کے ڈھانچے کو پھر سے تشکیل کئے جانے کی شیک تکر کمیٹی کی سفارش پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ شیک تکر کمیٹی نے فوج ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں سدھار اور لازمی ساختی پھیر بدل کے اہم ڈمنشن کی طرف دھیان نہیں دیا۔ جبکہ یہ حلقہ فوج کی کامبینٹ صلاحیت مضبوط کرنے کے لئے سب سے ضروری ہے۔
کامبیٹ صلاحیت کا مطلب ہی ہوتا ہے دشمن کے مقابل متوازی کھڑے ہونے، اسے چیلنج دینے اور اس سے جنگ لڑنے میں اہل ہونا۔ نان کامبیٹ محکموں میں تعینات فوجی ملازمین کی کامبیٹ صلاحیت کیا ہوگی ،اس کا ہم ابھی ہی اندازہ کرسکتے ہیں۔ ہمارے جو فوجی کامبیٹ اکائیوں میں تعینات ہیں، ان کے پاس ہماری سرکار نے کون سے ہتھیار دے رکھے ہیں۔ ہمارے فوجوں کے پاس مشکل سے ایک کلو میٹر مار کرنے والی تھکی ہوئی ’’انساس‘‘ سائیکلیں ہیں جبکہ دشمنوں کے پاس کم سے کم دو کلو میٹر تک کی مار کرنے والی صلاحیت کامیبٹ ریڈی سائیکلیں ہیں۔ ملک کو دو طرف سے گھیرنے والی دشمن فوجیں اَن آرمڈ وہائیکلس ( یو اے وی )، ایم 4اسالٹ رائفلس، ماڈرن گلاک ماڈل 19، کی پستولیں،سرامک پلیٹوں والی بلیٹ پروف جیکٹ، باڈی آرمر ، سیٹ لائٹ فونس، جی پی ایس ٹریکرس سمیت کئی دیگر جدید سازو سامان سے لیس ہیں۔ ہندوستانی فوج کو ان ضرورتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ لڑاکو فوج کی یہ پہلی بنیادی ضروریات ہیں۔ لیکن اس پر وزارت دفاع کوئی دھیان نہیں دے رہی۔ شیک تکر کمیٹی نے بھی اس طرف آنکھیں بند رکھیں۔
ناکارہ وزارت دفاع نے ملک کی ویپن فیکٹریوں کی ترقی پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ نتیجتاً آج یہ حالت ہے کہ ہم اپنے لئے ضروری گولہ بارود بھی نہیں بنا پارہے ہیں۔ جدید اسلحوں کی تو بات ہی چھوڑیئے۔ فوجی آلات کی صنعت کی بھی بات چھوڑیئے، جو آلات ہمارے پاس ہیں، ان کے رکھ رکھائو کا حال یہ ہے کہ آرڈیننس ڈیپو کوڑے اور ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ ویپن ڈپارٹمنٹ زبردست بدعنوانی کا اڈا بنا ہو اہے ، بے تحاشہ افراتفری ہے۔ نااہلیت ہے اور غیر ذمہ داری ہے لیکن وزارت دفاع مست ہے۔ ویپن فیکٹریاں اربوں روپے کا نقصان کر رہی ہیں لیکن یہ شیک تکر کو نہیں دکھائی دیتا۔ ملک کی ویپن فیکٹریاں ہندوستانی فوج کی کامبیٹ صلاحیت کو دیمک کی طرح کھا کر کھوکھلا کر رہی ہیں پھر بھی سرکار کے ساتھ ساتھ ہمارے فوجی سربراہ بیان دیتے رہتے ہیں کہ ہم ایک ساتھ چین سے بھیلڑ لیں گے اور پاکستان سے بھی۔ ملک کی سیکورٹی کا ان لوگوں نے مذاق بنا رکھا ہے۔
کارگل جنگ کے بعد بھی مرکزی سرکار نے سبرامنیم کمیٹی کی تشکیل کی تھی، لیکن ان کی سفارشیں کوڑے کے ڈبے میںڈال دی گئیں۔پھر بی جے پی سرکار نے شیک تکر کمیٹی کی تشکیل کی لیکن اس کی بھی سفارشوں سے اپنے مطلب کا حصہ چن کر اسے کوڑے کے ڈبے میںڈال دیا۔ آئی اے ایس افسروں اور لیڈروں کے جانبدارانہ احساس سے جب تک وزارت دفاع نجات نہیں پائے گی، ہندوستانی فوج کی تب تک کوئی سدھار نہیں ہو سکتی۔ لیفٹیننٹ جنرل شیک تکر کے دل میں جنرل نہیں بن پانے کا ملال ہے۔ شاید اسی لئے انہوں نے فوجی سربراہوں کا وقار کم کرنے والی سفارشیں کیں اور مرکز کو تجویز دے ڈالا کہ فوج کے تینوں ونگوں سے جڑے مسئلوں پر وزارت دفاع میں بیٹھے غیر فوجی نوکر شاہوں (آئی اے ایس ) لیڈروں اور تینوں فوجی سربراہوں سے کو کورڈینیشن قائم کرنے کے لئے چار ستارہ جنرل کا الگ سے عہدہ قائم کیا جائے۔ یعنی چار ستارہ جنرل سارے فیصلے طے کرنے لگیں تو باقی تین فوجی سربراہان اپنے آپ ہی ڈھکن ہو جائیں گے۔ فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ شیک تکر کمیٹی کی رپورٹ فوجی ڈھانچے میں بدلائو کی نہیں، بلکہ غیر فوجی اور غیر تعلیم یافتہ عناصر کی مداخلت کا راستہ کھولنے والی رپورٹ ہے۔

 

 

 

 

 

دستیاب گولہ بارود بھی گھٹیا سطح کے
ہندوستانی فوج ایک طرف گولہ بارود کی بھاری کمی کا سامنا کررہی ہے تو دوسری طرف اسے جو گولہ بارود مل رہے ہیں ،وہ بھی گھٹیا سطح کے ہیں، یہ سرکاری حقیقت ہے۔ ملک کے ویپن فیکٹری بورڈ کی طرف سے ملنے والے گھٹیا گولہ بارود کو ٹھیک کرنے کے بارے میں 2013 سے لگاتار لکھا جارہاہے لیکن اس میں کوئی اصلاح نہیں کی گئی ۔فوج کی ضرورت کے مطابق گولہ بارود کی پیداوار بھی نہیں کی جارہی ۔ زیادہ تر گولہ بارود اور آلات خارج کرکے واپس بھیج دیئے جارہے ہیں لیکن انہیں بھی سدھار کر واپس نہیں بھیجا جارہاہے۔ وہ صورت حال آج تک (خبر لکھے جانے تک ) قائم ہے۔ ویپن اسٹاک کی حالت صومالیہ جیسے بد امنی پھیلے ملک کی افراتفری کو یاد دلاتی ہے۔یہ کبھی بھی دھماکوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ پلگائوں میں ملک کا سب سے بڑا ویپن ڈیپو 2016 میں تباہ ہو چکا ہے۔ پچھلے ہی سال مارچ کے مہینے میں جبل پور کے نزدیک خمریہ آرڈیننس فیکٹر میں ڈمپ پڑے 20 سال پرانے گولہ بارود میں بھی آگ لگنے سے سلسلہ وار دھماکے ہوئے اور ڈیپو جل کر خاک ہو گیا۔ تقریبا تین درجن دھماکے ہوئے تھے جس میں کئی عمارتیں جل کر برباد ہو گئی تھیں۔چار کلو میٹر تک کے دائرے میں نقصان ہوا تھا۔
اس حادثے کے بعد نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی خطرناک فوجی ویپن کے بے جا رکھ رکھائو پر تشویش ظاہر کی تھی اور وزارت دفاع سے جواب طلب کیا تھا۔ کمیشن نے وزارت دفاع سے کہا تھا کہ خمریہ ڈیپو میں بھاری مقدار میں ناقابل استعمال اور ناقابل قبول اسلحوں کے ڈمپ ہونے سے پورے جبل پور شہر کو خطرہ ہے۔ خمریہ آرڈنینس فیکٹر میں پہلے بھی کئی بار دھماکے ہو چکے ہیں لیکن کمیشن کے اس اندیشے کا سرکار پر کوئی اثر نہیں پڑا اور اب بھی سب ویسا ہی چل رہاہے۔ پلگائوں سینٹرل آرڈیننس ڈیپو 2005 میں بھی بھیانک آتش زنی کا شکار ہوا تھا۔ ایسے حادثوں کی قطار لگی ہے۔ 2000 میں بھرتپور کے ویپن ڈیپو میں بھیانک آگ لگی تھی۔ ایک سال بعد ہی 2001 میں پٹھان کوٹ اور گنگا نگر کے ویپن ڈیپو میں کروڑوں کا گولہ بارود جل کر خاک ہو گیا ۔پھر اگلے سال 2002 میں دمپر اور جودھپور کے ویپن ڈیپو میں آگ لگی ۔ 2007 میں کوندر و کے ویپن ڈیپو اور 2010 میںپاناگڑھ کے ویپن ڈیپو میں زبردست آگ زنی ہوئی۔ 8دسمبر 2015 کو وشاکھاپتنم میں بحریہ کے ہتھیار ڈیپو میں زبردست آگ لگی تھی۔فوجی امور کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2000 سے ملک بھر کے ہتھیار ڈیپو میں ہوئے دھماکوں اور آگ زنی کی وجہ سے پانچ ہزار کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ آفیسر اور جوانوں کی موت کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ ان حادثوں سے وزارت دفاع نے کوئی سبق نہیں لیا اور ویپن ڈیپو آج تک ویسے ہی خستہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔
ملک کا سینٹرل گولہ بارود ڈیپو پلگائوں میں ہے۔ اس کے علاوہ بھٹنڈا، ڈپر اور بھرت پورمیں تین بڑے گولہ بارود ڈیپو ہیں۔ ملک میں 6 ویپن فیکٹریاں چاندا، بڈمل، خمریہ، دیہو روڈ، کِرکی اور وارنگائوں میں ہیں۔ اس کے علاوہ گولہ بارود بھرنے اور دیگر دفاعی مصنوعات تیار کرنے والی آرڈیننس فیکٹریاں امبا جھاری، کاشی پور، کانپور، کٹنی اور اٹارسی میں ہیں۔ ویپن ڈیپو اور ویپن فیکٹریوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری ویپن فیکٹری بورڈ ( او ایف بی ) کی ہے۔ مصنوعات کی کوالٹی کی نگرانی کرکی میں کوالیٹی ایشورینس کنٹرول کرتا ہے۔اس نظم و نسق کے باوجود سب کچھ خستہ اور افراتفری میں ہے۔
پلگائوں سینٹرل آرڈیننس ڈیپو کی خراب حالت اور حادثے کے خدشات کے بارے میں وزارت دفاع کو بار بار آگاہ کیا جارہا تھا۔ اس میں خطرناک بات یہ تھی کہ ڈیپو میں رکھی انتہائی دھماکہ خیز بارودی سرنگوں سے ٹرائنا ئٹوٹولیون ( ٹی این ٹی ) جیسا خطرناک رسائن لگاتاررس رہا تھا۔ اس طرف وزارت دفاع کا بار بار دھیان دلایا جارہا تھا۔ وزارت دفاع پلگائوں حادثے میں مارے گئے دو افسروں سمیت 20 فوجیوں کے قتل کے قصوروار ہیں،کیونکہ ماسٹر جنرل آف آرڈیننس نے بھی دفاعی سکریٹری کو اس خطرے کے بارے میں جولائی 2011 کو ہی سرکاری طور پر مطلع کرتے ہوئے فوری طور پر احتیاطی بندوبست کرنے کے لئے کہا تھا لیکن دفاعی سکریٹری ( آئی اے ایس آفیسر ) اس فائل پر کنڈلی مارے بیٹھے رہ گئے اور 2016 میں بھیانک حادثہ ہو گیا۔ 31 مئی 2016 کو حادثہ ہونے تک وزارت دفاع خطرناک ہتھیاروں کی بحالی کے کوئی اقدا مات نہیں کرسکی تھی اور وہی صورت حال آج بھی بنی ہوئی ہے۔
وزارت دفاع کنفیوژڈ
ہندوستانی فوج کی بکتر بند لڑاکو گاڑیوں (اے ایف بی) اور آرٹیلری (توپ خانہ) کے استعمال میں آنے والے اعلیٰ صلاحیت کے گولہ بارود کی دستیابی تو کم از کم قابل قبول خطرے کی سطح تک کی بھی نہیںہے۔ اعلیٰ صلاحیت والے 170 قسم کے گولہ بارود میں125 طرح کے گولہ بارود کی دستیابی کم از کم قابل قبول خطرے کی سطح کے کافی نیچے ہے۔ یعنی ہندوستانی فوج میںاعلیٰ سطح کے گولہ بارود کی 74 فیصد کمی ہے جو 10 دن کی جنگ کے لیے کم ہے۔ فوجی معیار کے مطابق دس دن سے کم کے گولہ بارود کی دستیابی تشویش ناک مانی جاتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ توپ خانوں اور ٹینکوں میں استعمال آنے والے اعلیٰ صلاحیت کے گولہ بارود کو ایکٹویٹ کرنے والے فیوژ کی سپلائی بھی ضرورت کے مطابق نہیںہو رہی ہے۔ فوج کی آرٹیلری رجمنٹ میںتوپ خانوںمیں لگنے والے فیوژ کی کمی 89 فیصد پائی گئی۔ کیگ نے بھی اسے تشویش ناک کہا ہے۔ فیوژ کے بغیر گولے اور میزائلیںفائر ہی نہیں کر سکتیں۔ فیوژ کی کمی کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ احمق افسران نے فیوژ کی دستیابی یقینی بنائے بغیر میکینکل فیوژ کی جگہ الیکٹرانک فیوژاستعمال کرنے کا فرمان جاری کردیا۔ بھارتیہ الیکٹرانک نگم لمیٹڈیعنی انڈین الیکٹرانک کارپوریشن لمیٹڈ (ای ایس آئی ایل) اس کی سپلائی نہیںکرپائی۔
اس بیچ اگر جنگ چھڑ جائے تو توپ خانے ڈنڈی دکھاتے نظر آئیںگے۔ فیوژ کی دستیابی نہ ہونے کے سبب 83 فیصد اعلیٰ صلاحیت والا گولہ بارود فوج کے استعمال کے لائق نہیں ہے۔ فوج کی تربیت میںکام آنے والے گولہ بارود کی بھی بھاری کمی ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اس کمی کی وجہ سے فوجیوں کی گولہ بارود کی ٹریننگ کئی سالوں سے بند پڑی ہوئی ہے۔ فوج کی خاصیت پر اس کا بہت برا اثر پڑ رہاہے۔ ملک کی آرڈننس فیکٹریاں گولہ بارود کی پیداوار نہیں کر پا رہی ہیں اور وزارت دفاع پر قابض نوکرشاہ گولہ بارود امپورٹ کرنے کے عمل میں اڑنگے ڈالتے رہتے ہیں۔ فوج کی دستاویز بتاتی ہیںکہ گولہ بارود کی کمی کے باوجود اسے امپورٹ کرکے کمی کو پورا نہیں کیا گیا۔ سال 2013 سے لے کر آج تک گولہ بارود امپورٹ نہیںکیا گیا،جبکہ سرکار لگاتار یہ کہتی رہی ہے کہ فوج کی ضرورتیں پوری کی جا رہی ہیں۔
فوجی طاقت سے ہی بڑھتی ہے قوم کی طاقت
مرکز کے اقتدار پر بیٹھی بی جے پی سرکار راشٹربھکتی کی اس طرح مارکیٹنگ کر رہی ہے جیسے عام آدمی پارٹی ایمانداری کی مارکیٹنگ کرتی ہوئی کامیاب ہو گئی۔ ایک پارٹی کی ’راشٹربھکتی‘ اور دوسری پارٹی کی ’ایمانداری‘ میںکوئی فرق نہیںہے۔ راشٹر بھکتی کی نوٹنکی کرنے والے حکمرانوں کی سمجھ میںیہ نہیںآتا کہ فوج کی طاقت جتنی بڑھے گی، ملک کی طاقت بھی اتنی ہی بڑھے گی، لیکن سرکار ٹھیک برعکس کر رہی ہے۔ بی جے پی سرکار نے ملک کی فوجی طاقت کو تتر بتر کرکے رکھ دیا ہے۔ چین کی فوجی طاقت کے سامنے ہندوستانی فوجی طاقت بونی ہے۔ اس سچ کو ٹالنا دیش بھکتی نہیں بلکہ اسے قبول کرنا اور فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کی قواعد میںلگ جانا اصلی دیش بھکتی ہے۔ یہاںتک کہ پاکستان بھی تیزی سے اپنے ہتھیاروں کا ذخیرہ بڑھا رہا ہے۔ لیکن ہم راشٹر بھکتی کا ناٹک کرنے میںمحو ہیں۔ اقتدار کے چاپلوسوں کی بات پر مت جائیے، چین کے ساتھ چلا ڈوکلام تنازع تھما نہیں ہے، ابھی زیر التوا ہے۔ ابھی چین اپنے اقتصادی مسئلے طے کر رہا ہے۔ چین کا ڈھیر سارا پیسہ ہندوستان میںلگا ہوا ہے، اسے درست کرنے کے لیے ابھی اس نے اپنے ناخن اندر کر رکھے ہیں۔آپ اتنا سمجھ لیںکہ بغیر کسی آپسی سمجھ داری اور رضا مندی کے نہ مودی چین جاتے اور نہ ہی چین جانے سے عین قبل وزیر دفاع ہٹتے۔ آپ سمجھ رہے ہیںنہ۔
بہرحال ملک کی فوجی طاقت بڑھانے اور اسے مضبوط کرنے میںمرکزی سرکار کی کتنی دلچسپی ہے، یہ گولہ بارود، فوجی آلات او رہتھیاروں کی کمی کی سرکاری دستاویزات سے لیے گئے مندرجہ بالا حقائق سے صاف ہے۔ فوج کی جنگی صلاحیت بڑھانے کے طریقوں پر مطالعہ کرنے کے لیے بنائی گئی شیکتکر کمیٹی کے 11 ممبران نے پتہ نہیں کیا مطالعہ کیا کہ وہ ساری ضروری باتیں ہی چھوٹ گئیں جن سے ہندوستانی فوج مضبوط ہوتی۔ شیکتکر کمیٹی نے وہ ساری تجاویز دیں جن سے لیڈر مضبوط ہوتا ہے اور سیاست مضبوط ہوتی ہے۔ تبھی تو ہزاروں ایکڑ میںپھیلے ملٹری فارمس ضبط کر لینے کا سجھاؤ دیا گیا۔ اس کمیٹی کو چین سے کارگر جنگ لڑنے کے لیے ضروری ماؤنٹین اسٹرائک کور کی فوری تشکیل کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، جبکہ اس طرف حکومت ہند کی بے رخی فوج کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ شیکتکر نے مرکزی سرکار کے اس فریب کی طرف دھیان نہیںدلایا کہ فوج کا 2.47 لاکھ کروڑ کا بجٹ صرف کہنے کے لیے ہے، کیونکہ فوجی بجٹ کا70 فیصد حصہ فوج کی تنخواہ اور بحالی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ فوجی بجٹ کا محض 20 فیصد حصہ فوجی آلات کی خریداری کے لیے بچتا ہے۔ فوج کو ہر سال صرف آلات کی خریداری کے لیے کم سے کم 10 ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کے پاس بچتے ہیں محض 15 سو کروڑ روپے۔ ہندوستانی فوج کے لیے رائفلیں، گاڑیاں،میزائلیں، توپیں اور ہیلی کاپٹر خریدنے کی لازمیت پر چار لاکھ کروڑ روپے کے لیے زیر التوا پڑی ہوئی ہیں، جبکہ فوج کی جنگی صلاحیت کوعالمی معیار پر درست رکھنے کے لیے یہ کام نہایت ضروری ہے۔ دفاعی خدمات سے جڑے لوگ ہی پوچھتے ہیںکہ حکومت ہند فوج کے ساتھ ایسا کیوںکر رہی ہے؟ ساؤتھ بلاک (وزارت دفاع) میں بیٹھے ایک سینئر فوجی افسر نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ مرکزی سرکار نوکر شاہی کے چنگل میں ہے۔ آئی اے ایس افسر جو چاہتے ہیں، سرکار وہی کرتی ہے۔ آئی اے ایس افسروں کا گروہ نہیںچاہتا کہ فوج کو سہولیات ملیں اور فوج کے افسر ان کے متوازی بیٹھیں۔ ایسی ہی گھٹیا سوچ والے نوکر شاہوں کی چوکڑی نے فوج کو ملنے والی تمام سہولیات اور بھتے کٹوا دیے ۔ یہاںتک کہ فوج کو ساتویںپے کمیشن کی سفارشوں کے مطابق تنخواہ دینے میںبھی فضیحت کردی گئی۔ فوجیوںکو ملنے ولا مفت راشن بند کرادیا اور اب دودھ بھی محال کر دیا۔ ایسے کیسے ہوگا اپنا راشٹر مضبوط؟

 

 

 

 

مفید گولہ بارود ندارد، خارج اسلحہ کا جمع ہورہا ہے پہاڑ
حکومت ہند کی عجیب و غریب چال ہے۔ ملک کی فوج کو گولہ بارود اور ضروری فوجی سازو سامان مہیا نہیں کرایا جارہا ہے لیکن ہتھیاروںکے ذخیروں میںخارج گولہ بارود اور اسلحہ کا پہاڑ جمع ہوتا جارہا ہے۔ یہی اسلحہ تباہ کن واقعات کی وجہ بنتے ہیں لیکن سرکار اس کے نمٹارے کے لیے کوئی اقدام نہیںاٹھا پاتی۔ اس کے بجائے توتو میں میںاور ایک دوسرے کے سرپر ٹوپی ڈالنے کی اوچھی حرکتوں میں لگی رہتی ہے۔ فوج کی سرکاری دستاویز بتاتی ہیں کہ ملک کے مختلف آرڈننس ڈپو میں 1617.94 کروڑ کا گولہ بارود ڈمپ پڑا ہے ، جسے تکنیکی خامیوںکی وجہ سے رجیکٹ کردیا گیا تھا۔ اس خارج گولہ بارود میں13 قسم کا اسلحہ ہے۔ وزارت دفاع نہ اس کی تکنیکی خامیاں درست کرا رہی ہے اور نہ ہی اسے نمٹا رہی ہے۔ جو خارج گولہ بارود مرمت کے لائق ہے، اسے بھی بنانے میں کئی سال سے ٹال مٹول ہورہی ہے۔ سرکار کا شہداپن دیکھئے کہ سال 2009 سے آج تک گولہ بارود ڈمپ پڑے ہوئے ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں7.62 ایم ایم بیلٹیڈ امیونیشن کی ساڑھے چار کروڑ گولیاں (راؤنڈس) کے ڈمپ ہونے کا ایک ایسا معاملہ اجاگر ہوا ہے جو کام کے لائق تھا لیکن اسے معینہ مدت سے قبل ہی خارج کرکے کنارے کردیا گیا۔ ان گولیوں کو سال 2009 سے 2011 کے بیچ وارنگاؤں آیودھ فیکٹری میں تیار کیا گیا تھا۔ ان کی قیمت اس وقت 129.26کروڑ روپے تھی۔ اس کی فعالیت 18 سال مقرر تھی لیکن مقررہ ’لائف‘ سے کافی پہلے ہی اسے ڈی گریڈ کرکے خارج کر دیا گیا، جس سے کروڑوں کا نقصان ہوا۔ ایسے گولے بارود بڑی مقدار میںملک کے مختلف آیودھ ڈپو میںڈمپ پڑے ہوئے ہیں، جو کبھی بھی ہماری ہی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
راشٹر بھکتی کی سزا جنرل کو بیزاری میں ملی
ملک کے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے قوم کی فکر میںاس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ہتھیاروں اور فوجی سازو سامان کی کمی کے بارے میںآگاہ کرتے ہوئے خط لکھ دیا تو لیڈروں،نوکر شاہوں او رصحافیوں نے گروہ بناکر ان کی مخالفت کی اور انھیںبیزار رکرکے رکھ دیا۔ لیکن آخرکار سرکاری طور پر وہی ثابت ہوا، جس کی تشویش میںجنرل وی کے سنگھ نے پی ایم کو خط لکھا تھا۔ آپ پھر سے یاد کرتے چلیںکہ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا تھا کہ فوج میں گولے بارود کی بھاری کمی ہے۔ ٹینک رجمنٹ اور آرٹیلری (توپ خانہ رجمنٹ) بے حد ضروری گولے بارود کی کمی سے نبرد آزما ہورہی ہے۔ پیدل فوج کے پاس ہتھیاروں کی شدید کمی ہے۔ فضائیہ کا سازو سامان اپنی قوت کھو چکا ہے۔ ضرورت والے سارے اہم ہتھیار اور آلات کی حالت بہت خستہ ہے۔ ان میںمیکینائزڈ فوج، توپ خانے، ہوائی سیکورٹی، پیدل فوج اور اسپیشل فوج کے ساتھ ہی انجینئرس اور سگنلز بھی شامل ہیں۔ ہوائی سیکورٹی کے لیے استعمال میں لائے جانے والے 97 فیصد ہتھیار اور آلات پرانے پڑ چکے ہیں۔ آرمی کے ایلیٹ اسپیشل فورس کے پاس ضروری ہتھیاروں کی کمی ہے۔ بری فوج کے جوانوں کے پاس ہتھیاروں کی کمی کے ساتھ ساتھ ان کے پاس رات میںدشمن سے لڑنے کی کیپسٹی نہیں ہے۔ اینٹی ٹینک گائڈیڈ میزائلوںکی موجودہ پیداواری صلاحیت اور دستیابی بے حد کم ہے۔ لمبی دوری تک مار کرنے والے توپ خانے میںپناکا او راسمرچ راکٹ سسٹم کی خطرناک سطح تک کمی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ نے گولے بارود کی کمی کے ساتھ ساتھ اسٹوریج کے لچر انتظام کے بارے میںبھی وزیر اعظم کو مطلع کیا تھا۔ انھوںنے لکھا تھا کہ فوج کی حالت اطمینان بخش حالت سے کافی دور ہے۔ پڑوس کے دو دشمن ممالک کا خطرہ ہے او ردو ملکوںکی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہندوستانی فوج کے کندھے پر ہے، ایسے میں فوج کی خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل وی کے سنگھ نے سجھاؤ دیا تھا کہ چین کی سرحد پر تعینات انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کو آپریٹ کرنے کا حق فوج کو ملنا چاہیے اور فوج میںہوائی بیڑے کی ضرورتوں کو بلاتاخیر پورا کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس دور کی مرکزی سرکار، جنرل وی کے سنگھ کے خط پر بوکھلا گئی اور فوج کو سدھارنے کے بجائے جنرل وی کے سنگھ کو ہی سدھارنے میںلگ گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *