مظفر نگر 4 برس بعد بدل گئی سیاست و معاشرت

اوائل ستمبر 2013 میںایک ہفتہ تک چلا فرقہ وارانہ فساد ہر لحاظ سے عجیب و غریب تھا۔ اس نے اس خطہ کی سیاست و معاشرت سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ فساد شروع ہونے سے ٹھیک پہلے 7 ستمبر کو نگلہ منڈور کی پنچایت میںمنچ پر بیٹھے سبھی بی جے پی لیڈران کی اب بلّے بلّے ہے۔ جن تین بی جے پی لیڈروں پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) لگا تھا، وہ ارکان اسمبلی بن گئے۔ ایک وزیر بھی بن چکے ہیں۔ تین افراد جو اسٹیج پر تھے، آج رکن پارلیمنٹ ہیں۔ یہ ہے سیاسی تبدیلی لیکن جہاںتک معاشرتی تبدیلی کی بات ہے،جاٹ و مسلم اتحاد ٹوٹ گیا۔ اس کی وجہ سے اس خطہ کا سماج منقسم ہوگیا۔ یہ دونوں ایک ساتھ سیاست کرتے تھے، کھیت و کھلیان میںساتھ ساتھ تھے۔ سب کچھ متاثر ہوگیا۔ اس فساد میںتقریباً ایک لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے۔ نصف اب بھی ادھر ادھر کیمپوں ، میک شفٹ رہائشوں یا کسی کے مستعار مکانوں میںرہ رہے ہیں۔ انھیںجس طرح کی زندگیاں گزارنی پڑ رہی ہیں، وہ قابل رحم ہے۔
’ٹو سرکلز ڈاٹ نیٹ ‘ سے وابستہ صحافی آس محمد کیف کہتے ہیںکہ مظفر نگر فساد کی نوعیت انوکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاںکی پولیس کے نصاب میںاس فساد کو شامل کیا گیا ہے۔ مرادآباد ٹریننگ سینٹر اور اکیڈمی دونوں میںفساد کا خد و خال ، گزشتہ فساد سے فرق،ایکشن ری ایکشن اور مجوزہ اقدام پڑھایا جارہا ہے۔ پولیس افسروںکا کہنا ہے کہ یہ ایک الگ قسم کا فساد تھا، جس پر مستقبل میںروک تھام کے اقدامات سکھائے جارہے ہیں۔
سیاست دانوں کا کردار
اس ضمن میںجو سوال سب سے پہلے اٹھتا ہے، وہ یہ ہے کہ 7 ستمبر 2013 کی مذکورہ وشال سبھا آخر تھی کیا؟ ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کی 8 ستمبر 2017 کو کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میںریلیز کی گئی رپورٹ ’’بے گھر اور بے آسرا – مظفر نگر اور شاملی کے مہاجرین کو کیے گئے ٹوٹے وعدوں کی داستان‘‘ کے مطابق یہ سبھا اسی علاقے میں ایک جھگڑے میں ہوئی دو ہندو لڑکوں کی اس زمانے میں ہوئے قتل پر بات چیت کرنے کے لیے بلائی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی دیگر مقامات پر اس جھگڑے سے متعلق بڑی سبھائیں بلائی جاچکی تھیں،جن میںمسلمانوںکے ذریعہ منعقد سبھائیں بھی شامل تھیں۔ بہرحال 7 ستمبر کی اس سبھا میںجاٹ کمیونٹی کے ہندو لیڈروں نے ایک لاکھ سے بھی زیادہ لوگوںکے مجمع سے خطاب کیا۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس سبھا میں بی جے پی کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر بھڑکیلی تقریریںکیں، جن میںہندوؤں کو ان ہلاکتوں کا انتقام لینے کے لیے اکسایا گیا۔ اس سبھا کے بعد پڑوس کے اضلاع میں تشدد بھڑک اٹھا، جس میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے او رتقریباً 140 گاؤںکے ہزاروں خاندان اپنے گھروںسے بھاگ کر راحت کیمپوںمیںپناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
ان بے گھر افراد میں سے بیشتر بڑی کسمپرسی میںزندگی گزار رہے ہیں۔ آئیے ، ان کا موجودہ حال جانتے ہیں ایک خصوصی رپورٹ سے، جسے اگست 2016 اور اپریل 2017 کے دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا اور’ افکار‘ نام کی شاملی میںواقع این جی او و دیگر نے ایک درجن متعلقہ ری سیٹلمنٹ کالونیوں میں 65 خاندانوںسے مل کر اور 190 خاندانوں کی دستاویزوں کا جائزہ لینے کے بعد تیار کیا ہے۔ یہ 190 وہ خاندان ہیں، جو کہ ہرجانہ کی عدم موجودگی میںاپنی زندگیوںکی از سر نو بحالی کی جدو جہد میں لگے ہوئے ہیں۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت بین الا قوامی اور ہندوستانی قانون کے تحت 2013 میںاجڑے ہوئے ان لوگوں کو فوری اور مناسب حل فراہم کرنے نیز حقوق انسانی کے تحفظ دینے میںناکام رہی ہے۔ ان فسادات کے چار برس بعد بھی مظفر نگر میں سیکڑوں خاندان اپنے حقوق اور وقار سے مستقل محروم ہیں۔ دراصل مظفر نگر کے متاثرین کے لیے یہ ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کے محققین کی دوسری رپورٹ ہے جبکہ پہلی رپورٹ اس برس کے شروع میںاتر پردیش کے انتخابات سے عین قبل جاری کی گئی تھی، جس میںانصاف کے لیے گینگ ریپ کی شکار خواتین پر فوکس کیا گیا تھا۔ (دیکھئے ’مظفر نگر گینگ ریپ رپورٹ- سیاسی پارٹیوںکی بے حسی‘، شمارہ نمبر 350، 27 فروری سے 5 مارچ 2017)۔
بے گھروں کے کیمپوں کا جائزہ
مہاجرین کے کمیپوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے اس حالت میںرہنے کے سلسلے میںیہ خبر بھی میڈیا میںآتی رہی ہے کہ یہ لوگ مفت زندگی گزارنے کے عادی ہوگئے ہیں اور اسی حالت میںرہنا چاہتے ہیں اور اپنے آبائی گاؤں کے گھروں میںواپس جانے میں ان کی اب کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اس سلسلے میں معروف حقوق انسانی کارکن ہرش مندر جو کہ ان کیمپوں میںمستقل کام کر رہے ہیں اور وہاںکے حقائق سے اپنی رپورٹوں کے ذریعہ دنیا کو واقف بھی کرا رہے ہیں،کہتے ہیں کہ ’’میںنے سرکاری آفیسروں کو کہتے سنا ہے کہ فساد کے متاثرین بنیادی طور پر کیمپوں میںاس لیے رہ رہے ہیںکہ انھیںمفت کھانا چاہیے۔ میںچاہوںگا کہ یہ دعویٰ کرنے والے سرکاری آفیسر فساد کے متاثرین پر الزام تراشی اور چھینٹاکشی سے پہلے کسی ایک کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک رات گزاریں اور دیکھیںکہ کیا کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے ایسے حالات کو پسند کرے گا، جہاںوقار، رازداری اور صحت مند صورت حال کی کمی ہو اور اسے سخت موسم اور حکومت کی عداوت کا سامنا کر نا پڑے۔‘‘
ان بے گھر لوگوںکی حالت زار کا جائزہ لیتے وقت معلوم ہوتا ہے کہ 26 اکتوبر 2013 کو ریاستی حکومت نے سب سے زیادہ متاثر نو گاؤں، ان کے خاندانوں کی منتقلی اور باز آبادکاری کے لیے ایک بار کے ہرجانہ کے طور پر 50 ہزار کی رقم دینے کا اعلان کیامگر اس کے ساتھ شرط یہ تھی کہ ’’متاثرین کو ایک حلف نامہ پر دستخط کرنا ہے جس میں لکھا ہے کہ وہ اپنے گاؤں کو لوٹ کر واپس نہیں جائیںگے اور وہاں اپنی جائیداد کو ہوئے کسی بھی نقصان سے متعلق معاوضہ نہیں مانگیں گے۔‘‘ یہ یقیناً کتنی عجیب و غریب شرط تھی۔ یعنی تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد 50 ہزار روپے کی رقم ہرجانہ کے طور پر اس شرط پر ریاستی حکومت کی طرف سے دیے جانے کا اعلان کیا جارہا تھا کہ متاثرین کو اپنے آبائی مقامات پر واپس نہیںجانا ہے اور نہ ہی وہاں ان کی جائیداد کو پہنچے کسی نقصان کا ہرجانہ مانگنا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آزادی کے بعد کسی بھی فساد میںحکومت کی جانب سے ایسی شرط کبھی نہیںپیش کی گئی ہے۔ اس لیے یہ بہت ہی حیران کرنے والی شرط تھی۔
علاوہ ازیں یہ بھی ہوا کہ دسمبر 2013 میں فسادات سے متعلق کئی عرضیوںکی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے راحت کیمپوں میں 50 سے زائد بچوںکی موت کی میڈیامیں آئی خبروںپر تشویش جتائی اور ریاستی حکومت کو فوراً ہی اصلاحی اقدامات اٹھانے کا حکم دیا۔ بعد ازاںریاستی حکومت نے راحت کیمپوںکو ہٹانا شروع کردیا اور خوف کے سائے میںاپنے گھروں کو پیچھے چھوڑ بھاگ کر راحت کیمپ میںآئے لوگوں کو جبراً بے دخل کردیا۔ ایمنسٹی کی یہ رپورٹ کہتی ہے کہ متعدد غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے تقریباً 30 ہزار مسلمانوں کو مظفر نگر میں واقع 28 اور شاملی میںواقع 37 ری سیٹلمنٹ بستیوں کو منتقل کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اب تک منتخب نو گاؤں کے، مظفر نگر میں980 او رشاملی میں820 خاندانوں کو ہرجانہ ملا ہے لیکن ان گاؤں کے 200 خاندان منتقلی کے ہرجانہ کے ہنوز منتظر ہیں۔ مذکورہ نو گاؤں میں مظفر نگر کے 6 گاؤں پھگانہ، کوٹبی کوٹبا، ککڑا، محمد پور رائے سنگھ اور مونڈ بھر اور شاملی کے 3 گاؤں لساڑھ حسن پور، لانک اور بہاؤڑی ہیں۔

 

 

 

 

 

صرف 9 گائوں کا انتخاب کیوں ؟
ریاستی حکومت کی طرف سے صرف نو گاؤں کو منتخب کرنا بھی ناقبل فہم رہا۔ اس تعلق سے ہرش مندر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محض نو گاؤں کو منتخب کرکے ریاستی انتظامیہ نے فساد کے متاثرین کے تئیںبے رخی اور فرق و امتیاز کا رویہ اختیار کیا ہے۔ حکومت نے محض ان گاؤںکو منتخب کیا ہے جہاںجان و مال کا قابل ذکر نقصان ہوااور ان گاؤںکی اندیکھی کی جہاں سے لوگ خوف کے مارے اپنے گھروںکو چھوڑ کر بھاگ گئے یا پھر اس لیے چھوڑ آئے کہ ان کے گھروں کو برباد کردیا گیا تھا یا آگ لگادی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ فساد کے فوراً بعد سپریم کورٹ میں متاثرین کے لیے باز آبادکاری اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتی کئی رٹ عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے ان سبھی عرضیوںکو ایک ساتھ منسلک کیا اور 26 مارچ 2014 کو محمد ہارون بنام انڈین یونین معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی سرکار کو صورت حال سے او رزیادہ مؤثر انداز سے نمٹنے کے لیے قدم اٹھانے کی ہدایت دی۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تھا کہ ’’مظفر نگر اور منسلک علاقوں میںفرقہ وارانہ تشدد کو نہ روکنے کی لاپرواہی کے لیے ہم واضح طور پر ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔‘‘ خاص بات یہ تھی کہ عدالت نے ہرجانہ کا فوراً بھگتان کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ جن لوگوں کو 50 ہزار روپے کا ایک بار کا ہرجانہ ملا تھا اور پھر جنھوںنے اپنے گاؤںکو لوٹنے کی کوشش کی تھی، انھیں ہرجانہ کی رقم واپس نہیںلوٹانی ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ریاستی حکومت کے قبل والے فیصلے کا نفی تھا۔ عجب بات تو یہ ہے یہ سب کچھ اتر پردیش میںبی جے پی نہیں بلکہ سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دور میںہو رہا تھا۔

عام تاثر ہے کہ مظفر نگر میں ہوئے تشدد میں اجڑے ہوئے لوگوں کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لیے ریاستی حکومت کی معاشی ہرجانہ کی ایک بار کی پیش کش زیادہ معاون ثابت نہیںہوئی۔ پورے نقصان کی بھرپائی کو محض ہرجانہ تک محدود نہیںرکھا جاسکتا ہے اور اس میںبحالی،باز آبادکاری او راطمینان کے عناصر بھی شامل ہیں، جنھیںتقریباً پوری طرح سے نظرانداز کردیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ شناخت شدہ نو گاؤں میںسے کئی خاندانوں کو بھی اس ہرجانہ کی ادائیگی نہیںہوئی، جس کے وہ حقدار تھے۔
مشہور سماجی کارکن فرح نقوی کا کہنا ہے کہ اندرونی طور پر اجڑے ہوئے شہریوں کی زندگیوں کو پھر سے بنانے میںمدد کے لیے منتقلی کا ہرجانہ ضروری ہے مگر یہ اس ظاہری نقصان کی بھرپائی پیکیج کا محض ایک جز ہے، جس کے لیے ان سبھی شہریوں کے تئیں وہ ریاست جواب دہ ہیں، جن کی حفاظت میںوہ ناکام رہی ہے۔ ٹکراؤ کی وجہ سے جبراً اجاڑے گئے متاثرین کے لیے نقصان کی بھرپائی نہ صرف انھیں پروقار زندگی کی تعمیر نو کے لیے اہل بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ ان کی خلاف ورزی کی سنجیدگی کو قبول کرنے، ان کے درد کو دور کرنے کے لیے ریاست کی ناکامی اور جواب دہی کے اصول کو قائم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
متاثرین کا درد
اس رپورٹ میں حکومت کے ذریعہ سب سے بری طرح متاثر کے طورپر شناخت کیے گئے نو گاؤں کے تقریباً 190 خاندانوں نے ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کو بتایا ہے کہ انھیں ریاست کے ذریعہ ہرجانہ سے محروم رکھا گیا ، جس کے نتیجے میں ان میںسے کئی خاندان اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات کو برداشت کرنے میںنا اہل ہیںاور بہت ہی بری حالت میںعارضی راحت کا لونیوں میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ رپورٹ میںایمنسٹی کا یہ انکشاف نہ صرف چونکانے والا ہے بلکہ انسانی نقطہ نظر سے بہت ہی تکلیف دہ ہے۔
ان کیمپوںمیںرہ رہے متاثرین کی داستان الم سن کر ایک شخص اپنے آپ پر قابو نہیںکر پاتا ہے۔ ادریس بیگ ری سیٹلمنٹ کالونی مظفر نگر میںایک شخص 75 سالہ محمد اسلام ہیں، جن کے پانچ بیٹے ہیںمنتیاز، شمشاد، راشد، زبیداور دیشاد۔ منتیازاور شمشاد دونوں کے پانچ بچے ہیں جبکہ راشد کے دو بچے ہیں۔ فسادات سے قبل منتیاز، شمشاد اور راشد کاکڑا گاؤں میںالگ الگ رہتے تھے۔ ان کے راشن کارڈ میںالگ الگ پتے ہیں۔ حملوںکے بعد سبھی خاندانوں کو اپنے گاؤں چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا اور اب یہ سب فساد متاثرین کی کالونی میںرہتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2014 میں ہرجانہ کے طور پر 50 ہزارروپے صرف محمد اسلام کو ملے تھے اور ان کے تمام بیٹوں کو اس بنیاد پر ہرجانہ سے محروم رکھا گیا تھا کہ وہ ایک خاندان کی مانند ایک ساتھ رہتے ہیں۔ یعنی ان کی مجبوری کی حالت کا بھی خیال نہیںرکھا گیا تھا۔
اس تعلق سے شمشاد کا درد بھرا بیان اس وقت کی ریاستی حکومت کی پول کھولتا ہے۔ شمشاد کہتے ہیںکہ ’’ہم زیادہ تر وقت بھوکے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیںہیں۔ جہاںکہیں تعمیراتی کام چل رہا ہے، وہاں بھی ہمارے لیے کوئی کام نہیںہے۔ ہم میںسے زیادہ تر لوگ بے روزگار ہیں۔ میرے والد کو جو معاوضہ ملا تھا، وہ خرچ ہوچکا ہے۔میںنے سرکاری آفیسروں کو اپنا راشن کارڈ دکھایا مگر ان کا کہنا ہے کہ مجھے کوئی ہرجانہ نہیں ملے گا۔ یہ واقعی ناانصافی ہے۔ میرے بچے قریب کے سرکاری اسکول میںپڑھنے کے لیے جا رہے ہیں مگر اب میںسوچتا ہوںکہ مجھے ان کی پڑھائی روک دینی چاہیے اور اپنے ساتھ کام ڈھونڈنے کے لیے لے جانا چاہیے۔‘‘ مشکل تو یہ ہے کہ اس طرح کا دردبھرا بیان بھی حکومت یا انتظامیہ کو پریشان نہیںکرپاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور متاثرہ سمینہ کہتی ہیںکہ ’’میرے شوہر اپنے خاندان کے بارے میںفکر کرتے کرتے مر گئے۔ ہمیںکوئی ہرجانہ نہیںملا۔ ہمارے پاس کوئی گھر نہیں ہے اور اب ہم کام چلاؤ گھر میںرہتے ہیں۔ مجھے اپنے بچوںکی دیکھ بھال کرنی ہے اور نوکری ملنا بہت مشکل ہے۔ ہم بہت قرضہ میں ہیں۔ میںاسے کیسے چکا سکتی ہوں؟ کسی کسی دن تو تھوڑا سا کھانا بھی خریدنا مشکل ہوتا ہے اور ہمیںبھوکا ہی رہنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی بیمار ہوگیا تو میںکیا کروںگی؟ میںعلاج کا خرچ کیسے اٹھاپاؤںگی؟
اس سلسلے میں افکارانڈیا فاؤنڈیشن نامی این جی او کے ایک ذمہ داراکرم اختر چودھری کا خیال ہے کہ ’’ہم لو گ کئی خاندانوںسے ملے ہیں، جنھیں ہرجانہ سے محروم رکھا گیا ہے ، کیونکہ حکومت نے کئی خاندانوں کو ایک جوائنٹ فیملی کی شکل میںجوڑنا شروع کردیا تھا۔ آپ مجھے بتائیے، چار بھائی جنھوںنے اپنی زمین، اپنا گھراپنی پوری ملکیت پیچھے چھوڑدی ہو اور جو شادی شدہ ہیں اور جن کے بچے ہیں ، وہ کیسے ایک بار دیے گئے پچاس ہزار روپے میںزندگی جی سکتے ہیں؟‘‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرجانہ کے لیے جو سروے کیا گیا تھا، اس میںبھید بھاؤ کیا گیا ۔ یہ کہتے ہیں کہ ’’دراصل فساد کے متاثرین کو ہرجانہ دینے کے بارے میںبا اثر گاؤں والوں اور گاؤ ں کے پردھان کو طے کرنا تھا۔ جب سروے کیا جارہا تھا تو معاوضہ کے لیے اہلیت طے کرنے والے پیمانوں میںسے ایک نکتہ یہ تھا کہ آپ کو گاؤں کے پردھان کے ذریعہ دستخط شدہ حلف نامہ پیش کرنا ہوگا، جو یہ ثابت کرے گا کہ آپ گاؤںمیںرہ رہے تھے اور ایک گھر میںرہ رہے تھے۔ ہم نے کئی معاملے دیکھے ہیں جہاںپر دھان نے اپنے حقوق کا غلط استعمال کیا ہے اور فساد سے متاثرین کو خواہ مخواہ پریشان کیا ہے۔‘‘

 

 

 

 

کالونیوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی
فساد کے متاثرین کے لیے تعمیر کی گئی کالونیوںمیں بنیادی سہولتوں کی زبردست کمی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مظفر نگر میں28 میں سے 8 کالونیوں اور شاملی میں37 میں سے 11 میںبیت الخلاء نہیں ہے جبکہ شاملی میں صرف 3 فیصد کالونیوں میںپبلک بیت الخلاء ہیں۔ مظفر نگر میں61 فیصد کالونیوں میں اور شاملی میں 70 فیصد کالونیوں میںڈرینج کی سہولت نہیں ہے۔ مظفر نگر میں82 فیصد کالونیوں اور شاملی میں 97 فیصد کالونیوںمیںپینے کا صاف پانی دستیاب نہیںہے۔ مظفر نگر میں54 فیصد کالونیوں او ر شاملی میں 81 فیصد کالونیوںمیںنجی بجلی کنکشن نہیںہے۔ اس سلسلے میں افکار فاؤنڈیشن کے اکرم اخترچودھری کا کہنا ہے کہ ’’ری سیٹلمنٹ کالونیوںمیںبیت الخلائ، پینے کا پانی او ردیگر بنیادی سہولتیں نہیں ہونے کے اہم اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ریاست میںسیاسی پارٹیوں کے لیے ایک اہم ایشو نہیں ہے۔ یہاںتک کہ ریاست میںانتخابات کے دوران کسی نے بھی فسادات کے ان متاثرین کی زندگی گزارنے کے تعلق سے مسائل پرکوئی بات نہیں کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ان کی پرواہ نہیں کرتا۔‘‘
اس تعلق سے فساد کے متاثرین کے لیے قائم انصاف کمیٹی کے چیئرمین محمد سلیم کہتے ہیں کہ ’’کئی کالونیوں میںجہاںفساد کے متاثرین رہتے ہیں، وہاں پانی، بجلی یا مناسب بیت الخلاء کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے۔ رات میںعورتیں بیت الخلاء میںجانے سے ہچکچاتی ہیںوہ ایک ساتھ جھنڈ میںجاتی ہیں۔ یہاںبہت گندگی ہے۔ یہاںہمیشہ پانی جمع رہتا ہے اورپانی کے نکلنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ یہاںاتنے مچھر ہیں کہ لو گ بیمار رہتے ہیں۔‘‘
ابھرتے ہوئے سوالات
یہ ہے ستمبر 2013 میں ہوئے فسادات کے چار برس بعد مظفر نگر اور شاملی اور ان کے متاثرین کی موجودہ صورت حال ۔ سوالات یہ ہیں کہ فسادات آئے اور گئے مگر چار برس بعد پچاس ہزار متاثرین ابھی تک بے گھر کیوںہیں؟ ان کی واپسی کے بارے میں سول سوسائٹی یا حکومت ، ریاستی او رمرکزی کے، ذریعہ کیوں نہیں سوچا گیا؟ کیا یہ بے گھر ہوکر اسی طرح اپنی زندگیاں گزارتے رہیں گے؟ اور جب تک یہ کیمپوں میں ہیں،تب تک بین الاقوامی و قومی قوانین کے تحت انھیںمناسب انداز میںبنیادی سہولتیںکیوںفراہم نہیںکی جارہی ہیں اور انھیں غیر انسانی طریقے سے زندگی گزارنے پر کیوںمجبور کیا جارہا ہے؟
سوال یہ بھی ہے کہ جب 2002 میں ہوئے گجرات سانحہ کے بیشتر متاثرین اپنے اپنے آبائی مقامات پر پہنچ چکے، مختلف ادوار میںآسام میںبنگلہ زبان بولنے والے افراد کبھی بوڈو تو کبھی کسی اور معاملے میںبے گھر ہوئے اور ان میںسے بھی زیادہ تر اپنے اصل گاؤں میںواپس لوٹ گئے تو مظفر نگر اور شاملی کے بے گھر کب تک کیمپوں یا ری سیٹلمنٹ کالونیوں میں زندگیاںگزارتے رہیں گے؟
ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا رپورٹ کی سفارشات
حکومت اترپردیش سے
-1مظفر نگر فسادات کے دوران خاندانوں کو ہوئے نقصانات پر ریویو کے لیے ایک آزاد طریقہ کار بنایاجائے اور نقصان کی بھرپائی پورے طور سے ہو، جس میںمعاوضہ ، باز آبادکاری اور ازسر نو تعمیر شامل ہوں۔
-2 اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ری سیٹلمنٹ کالونیوں میںرہنے والے تمام خاندانوں کو بلاتاخیر رہائش،کھانا، پانی اور علاج معالجہ سمیت فوری طور پر ضرورتوں کو پورا کرنے میںمدد حاصل ہو۔
-3ری سیٹلمنٹ کالونیوں کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے او رمظفر نگر فسادات کی وجہ سے اجڑے لوگوں کے ساتھ مشورہ کرکے ان تمام لوگوں کے لیے وافر رہائش، پانی، صفائی، علاج و معالجہ ودیگر حقوق کو یقینی بنانے کے لیے اقدام کیے جائیں۔
حکومت ہند سے
-1فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط قانون بنائے، جس میں راحت، واپسی اور بازآبادکاری کے بین الاقوامی حقوق انسانی اصول شامل ہوں۔
-2 بین الاقوامی حقوق انسانی پیرامیٹرس کے مطابق اندرونی طور پر اجڑنے پر ایک جامع قومی پالیسی بنائی جائے، جس میںاجڑنے کے اسباب اور اقسام کے بارے میںمعلومات جمع کرنے اور اجڑنے کو روکنے،فوری طور پر ضرورتوں کو پورا کرنے اور مہاجرین / متاثرین سے مشورہ کے ساتھ مربوط حل کو ممکن بنانے کے اقدام کو کرنے والے پروویژن ہوں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *