ہندوستانی رگوں میں گنگا جمنی دھارائیں بہتی ہیں

Dengue-Fever

ایک آدمی انسانیت کی بلندی پر اس وقت پہنچ جاتا ہے جب وہ ذات دھرم اور مسلک سے اوپر اٹھ کر صرف انسان کی خدمت میں لگ جاتا ہے اور ایسے لوگوں کی آج بھی کمی نہیں ہے۔ اس کی مثال ہم کچھ ماہ قبل کے ایک واقعہ سے دے سکتے ہیں۔مونس محمد آغا دہلی میں ڈینگو جیسی مہلک بیماری کا شکار ہو کر اسپتال میں موت سے لڑرہا تھا۔یہ اس کی زندگی کا ایک امتحان تھا ۔ اس سخت امتحان کے وقت کچھ ایسا ہوا جس نے ہندوستان کا وہ تابناک چہرہ پیش کیا ،جس کا ذکر کرنالازمی ہے۔ ہوا یوں کہ جب مونس کی حالت بے حد نازک ہوگئی تو رات کوئی بارہ بجے ڈاکٹر نے کہا کہ حالت نازک ہے او اسے platelet چڑھانا ہے۔مونس کا بلڈ گروپ O+ ہے۔ چنانچہ اب وہی بلڈ گروپ چاہئے تھا۔ اب ذرا تصور کیجئے رات بارہ بجے کہاں سے خون آتا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ادھر مونس زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑا ہوا تھا۔ ڈاکٹر کی یہ بات سننے کے چند منٹوں کے اندر ایک نوجوان فوراً بولا میرا خون بھی O+ ہے ، آپ لے لیجئے۔ آپ جانتے ہیں اس کا نام کیا ہے ؟ اس کا نام تلسی داس پٹیل ہے اور وہ ہندو ہے۔ تلسی داس کے خون سے نکلی platelets سے کسی طرح مونس کے اوپر منڈلاتا خطرہ ایک رات کے لئے ٹل گیا۔
صبح ہوتے ہی ایک دوست سہیل ہاشمی فوراً فیس بک پر فون نمبر کے ساتھ O+ خون کی ضرورت کا ایک پوسٹ ڈال دیا۔ آپ یقین کیجئے کہ اس کے دس منٹ کے اندر فون کی گھنٹی بجی۔صرف دہلی کیا ،نہ جانے کہاں کہاں سے لوگ اپنا خون دینے کے لئے اصرار کرنے لگے۔ ان تمام فون کالس میں 95 فیصد افراد ایسے تھے جو بالکل انجان تھے۔ مونس کو چار بار platelets چڑھا جن میں تین تلسی داس ، مادھو چندرا اور چندر شیکھر نام کے افراد کا platelets تھا اور ایک نوجوان ذاکر تھا۔ اب مونس کی رگوں میں ہندو اور مسلم خون کی گنگا جمنی دھاریں بہہ رہی ہیں۔ جس سے مونس کی زندگی بچ گئی اور اب وہ صحت یاب ہو کر گھر آچکا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *