خواتین کا امپاورمنٹ رفتار انتہائی سست کیوں؟

یوم آزادی (15اگست 2017)کے دن وزیر اعظم سے لے کر دیگر کئی ریاستوںکے وزراء اعلیٰ نے خواتین کے تعلق سے الگ الگ پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔بہار کے وزیر اعلیٰ نے تو خاص طور پر ان کے امپاورمنٹ کی باتیں کہیں۔مگر کیا محض تقریر کرنے سے خواتین کا امپاورمنٹ ہوسکتا ہے؟ اگر ہم اس کا مختصر جائزہ لیںتو دنیا بھر میں خواتین کے تعلق سے امپاورمنٹ کی باتیں کی جاتی ہیں مگر نتیجہ آج بھی مایوس کن ہے۔دنیا بھر کے تمام اہم عہدے مردوں کے قبضے میں ہیں۔ وزیر اعظم سے لے کر عدالتوں،عسکری قوتوں اور بڑی کمپنیوں کے تمام عہدوں پر عورتوں کی تعیناتی کا تناسب ان کی شرح آبادی کے حساب سے بہت کم ہے۔ امریکہ میں کتنی عورتیں وائٹ ہاوس میں بر سر اقتدار رہی ہیں؟ کتنی خواتین سیاست میں سرگرم عمل ہیں؟ کتنی خواتین ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سربراہان ہیں؟
خلوص کی کمی
خواتین کے امپاورمنٹ کی بات پوری دنیامیں ہورہی ہے ۔مگر ان کے امپاورمنٹ کی رفتار جتنی سست رو ہے، لگتا نہیں ہے کہ اس نعرے کے پیچھے خلوص کا مظاہرہ کیا جارہاہے۔2015 میں دنیا بھر میں خواتین وزیروں کی تعداد 730 تھی جو اب بڑھ کر 732 ہوگئی ہے ۔یہ اضافہ کوئی ایسانہیں ہے جس پر خوش ہوا جائے۔ یوروپ اور امریکہ میں خواتین وزیروں کی تعداد افریقہ اور ایشیا کی بہ نسبت قدرے زیادہے۔ البتہ بلغاریہ، فرانس ، نگارا گوا، سویڈن اور کناڈا میں خواتین وزیروں کی تعداد 50فیصد سے اوپر چلی گئی ہے جو کہ ویمن امپاورمنٹ کی ایک اچھی مثال ہے ۔
اقوام متحدہ نے دنیا بھرکی پارلیمنٹوں میں عورتوں کی موجودگی سے متعلق جو نقشہ جاری کیا ہے، اس میں ہندوستان بہت پیچھے ہے اور اس کا نمبر 148ہے۔لوک سبھامیں صرف 11.8 فیصد عورتیں ہیں ۔اقوام متحدہ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سیاسی میدان میں عورتوں کی پسپائی ہمیں خبردار کرتی ہے کہ انتظامی اور اہم امور میں عورتوں اور مردوں کو مساوی مواقع دلانے کے لئے ہمیں تمام ملکوں میں یہ بات دیکھنی ہوگی کہ کہیں قوانین عورتوں کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہے ہیں۔
اعدادو شمار سامنے رکھا جائے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ جہاں افریقہ میں خواتین وزیروں کی تعداد میں نمایا ں کمی ہوئی ہے ،وہیں جنوبی امریکہ میں اس تعداد میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ایشیا میں جہاں ویتنام اور نیپال میں وزیر عورتوں کی تعداد کم ہوئی، وہیں انڈونیشیا میں ذمہ دار اہم اداروں کی سربراہی میں ٰ عورتوں کا حصہ زیادہ رہا۔ سب سے برا حال عرب ریاستوں کا ہے جہاں یہ تعداد بمشکل 9.7 فیصد تک پہنچی ہے ۔
گلاس سیلنگ ایک بہانہ
بزنس کی دنیا میں گلاس سیلنگ کے نام سے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ صنفی امتیاز کے حوالے سے عورتوں کی ترقی میں نادیدہ رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے مختلف حربوں کے استعمال کا ایک طریقہ ہے۔ گلاس سیلنگ تکنیک میں ہوتا یہ ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں بظاہر تو خواتین کو ملازمت دیتی ہیں تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ہم خواتین کے بڑے قدردان اور خیر خواہ ہیں لیکن ان ملازمتوں کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے جو خواتین کی ذہنی صلاحیتوں کی یا تو نفی کرتی ہے یا پھر ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر زیادہ تر کمپنیوں میں خواتین کو بطور سیکٹری، ریسپشنسٹ اور اسسٹنٹ وغیرہ کی نوکریاں آفر کی جاتی ہیں جن کا تعلق پبلک ڈیلنگ سے ہوتا ہے۔ یہ خواتین کمپنی کے اعلیٰ عہدوں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں ۔
جہاں تک مسلم ممالک کی بات ہے کہ یہاں حکومتی عہدوں پر کتنی عورتیں کام کر رہی ہیں؟ مضحکہ خیز سوال ہے۔ کیونکہ مسلم ممالک میں ابھی تک تو یہ بحث ہی جاری ہے کہ عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے یا نہیں؟تو پھر ان کے امپاورمنٹ کے بارے میں کوئی کیا سوچے گا۔ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان میں خواتین کو سیاست میں شامل کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا مگر ان میں سے بیشتر عورتیں سیاسی قبضہ گروپ کے زیر اثر ہیں۔ ان خواتین کی سیاسی بصیرت صفر کے برابر ہے۔ قانون سازی اور پالیسی میکنگ میں ان کا کردار خال ہی کہیں دکھائی دیتا ہے۔پاکستان عالمی طور پرخواتین کے مسائل، ترقی، کرائمز کے حوالے سے دنیا کے 142 ملکوں میں سے 141 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ اسی طرح جینڈر گیپ انڈکس میں میں پاکستان 141 ویں پوزیشن ہے۔ اکنامک پارٹیسپیشن اینڈ اپرچیونیٹی میں بھی پاکستان 141 ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح ایجوکیشن میں پاکستان 132 ویں نمبر پرہے جبکہ ہیلتھ اینڈ سروسز میں پاکستان 119 نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایک سال کے دوران خواتین کو ہراسا ں کرنے کے 2916 واقعات، گھریلو تشدد کے 757 واقعات، غیرت کے نام پر قتل کرنے کے 239 واقعات شامل ہیں۔ اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں گرلز کے 13.2 فیصد سکول بغیر بجلی کے ہیں۔ گرلز کے 9.5 فیصد اسکولوں کی چار دیواری نہیں ہے۔ جبکہ گرلز کے 15 فیصد سکولوں میں پینے کا پانی نہیں ہے۔ اسی طرح گرلز کے 1.6 فیصد سکولوں میں بیت الخلاء نہیں ہیں۔ کمی غرضیکہ خواتین کو پورا حق دینے میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والا ملک پاکستان اسلام کے خلاف سب سے زیادہ خواتین کا استحصال کرتاہے۔

 

 

 

 

خواتین کا استحصال جاری
یوں تو ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تاریخ انسانی کے اس سنہرے دور میں بھی عورت استحصال کا شکار ہے۔ بڑے بڑے اداروں اور کمپنیوں میں اس کی حیثیت اب بھی سیکس سمبل سے زیادہ نہیں ہے۔ ایک دعوے کے مطابق عورت اوسطاً مرد سے زیادہ محنتی اور جفا کش ہے۔ دنیا میں ہونے والی مشقت میں زیادہ حصہ عورت کا ہے لیکن مردوں کے مقابلے میں خواتین مزدوروں کی اجرت آدھی سے بھی کم ہے۔ پوری دنیا میں صرف تین فیصد خواتین ذاتی جائیداد کی وارث ہیں۔ کاروبار کرنے کی خواہشمند خواتین کے لیے منڈی کا ماحول بالکل سازگار نہیں ہے۔ ہمارے دیسی لبرل اور سیکولر مزاج لوگ بھی عورت کی آزادی کو بس بے لباسی تک ملحوظ رکھتے ہیں۔ فیس بک پہ یہ لوگ خواتین کی عریاں تصاویر اور پورن شئیر کرنے کے شوقین ہیں۔اس سے زیادہ ان کی ذہنی استعداد نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والی ’ورلڈز وومن 2015 رپورٹ‘میں صنفی مساوات کی طرف پیش رفت کا اندازا لگایا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو عشروں میں ترقی کے باوجود عالمی مساوات کے لیے عورتوں کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔
پانچ سالہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی ناخواندہ بالغان میں سے آج بھی دو تہائی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے ۔علاوہ ازیں، عورتیں دنیا کے تمام ممالک میں ناخواندہ آبادی کے نصف سے زیادہ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ملینیم اہداف کے حصول کی کوششوں سے لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے مواقعوں کو بہتر کیا گیا ہے لیکن، اس کے باوجود اندازاً 5.8 کروڑ پرائمری عمر کے بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں 3.1 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اقوام متحدہ کی چھٹی وومن جائزہ رپورٹ کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ کم عمری کی شادی یعنی اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے مسئلے میں زیادہ بہتری نہیں آئی تاہم 1995 میں یہ شرح 31 فیصد تھی جبکہ 2010 میں 26 فیصد لڑکیاں اس روایت کا شکار ہوئیں۔
نتائج میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں عورتیں اب بھی مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہوں پر ملازمت کرتی ہیں اور مردوں کی کمائی کا تقریباً 70 سے 90 فیصد کے درمیان کماتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد اب بھی دنیا میں ہر جگہ موجود ہے اور یہ ایک عالمی تشویش ہے۔سی طرح زچگی اور خاندانی فوائد سے متعلقہ قانون سازی کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جیسا کہ لگ بھگ نصف ممالک میں زچگی کی 14 ہفتوں کی چھٹیاں ہیں لیکن اکثر زراعت اور گھریلو کام کاج کرنے والی کارکن خواتین اس سے خارج ہیں۔
برطانیہ کے چارٹرڈ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ پر مبنی ہے۔ اس کی ذیلی سرخی میں کہا گیا ہے کہ ’’ ’’عورتوں کو رائے دہی کا مساوی حق تو1928 سے حاصل ہے مگر تنخواہوں میں برابری کے لئے اْنہیں مزید 98 سال انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ بات ایک ریسرچ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔گارجین کی 13اکتوبر 2011 کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی بڑی کمپنیوں کے ڈائریکٹروں میں عورتوں کا حصہ ہولناک حد تک کم ہے۔غرضیکہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کے امپاورمنٹ کی بات تو کی جاتی ہے مگر اس پر عمل کتنا ہوتا ہے ،یہ سب کو معلوم ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *