کیا گل کھلائے گی لالو کی ریلی ؟

بہار میںریلیوں کی با ت ہوتی ہے تو لالو پرساد کی بات ضرور ہوتی ہے۔ ان کی اپیل پر پٹنہ میںمنعقدریلیاں سیاسی پارٹیوںکے لیے پیمانہ بنتی رہی ہیں۔ حالانکہ اقتدار سے باہر اپوزیشن میں رہتے ہوئے ریلی منعقد کرنے کا رسک لالو پرساد زیادہ تر مول نہیںلیتے ہیں۔ پھر بھی گزشتہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے قبل جب وہ اقتدار کے حصہ دار نہیںتھے، انھوںنے ریلیاںکی تھیں۔ یہ ریلیاں بڑی ہوئیں لیکن تاریخی نہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل منعقد ریلی میںشریمتی سونیا گاندھی بھی آئی تھیں اور اس سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سپریمو کی سیاسی وقعت کو ملک کی غیر فرقہ وارانہ سیاست میںوسیع قبولیت کے طور پر لیا گیا تھا۔ اب لالو پرساد کی اپیل پر پھر پٹنہ میںآر جے ڈی کی ریلی ہورہی ہے۔
دیش بچاؤ، بھاجپا بھگاؤ ریلی
اس’دیش بچاؤ، بھاجپا بھگاؤ‘ ریلی کے انعقاد کا فیصلہ تو ان ہی دنوں لیا گیا تھا جب ریاست میںمہا گٹھ بندھن کی سرکار تھی۔ مہا گٹھ بندھن کے اس طرح اور اتنی جلدی بکھرنے کا اندازہ کم سے کم لالو پریوار کو تو نہیںتھا۔ اس وقت یہ امید کی گئی تھی کہ آر جے ڈی کو سرکار میں’بڑے بھائی‘ ہونے کا فائدہ ریلی کو ملے گا۔ لیکن یہ امید دھری کی دھری رہ گئی۔ بی جے پی کے خلاف تو ریلی کا انعقاد ہے ہی، اب ریاست کی بدلی ہوئی ایکوئیشن کے سبب جے ڈی یو کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی توجہ کا مرکز ہیں۔ مہا گٹھ بندھن سے الگ ہوکر بی جے پی کے ساتھ نتیش کمار کے اس پالا بدلنے کو آر جے ڈی اور اس کے حامی اسمبلی کے مینڈیٹ کی توہین اور وشواس گھات مانتے ہیں۔
ریلی کے لیے آر جے ڈی کی تشہیری مہم میں اسے بڑا مسئلہ بنایاجارہا ہے۔ ریلی کے ’پرچار ابھیان‘ کے دوران لالو، رابڑی کے دونوں بیٹے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو اور سابق وزیر تیج پرتاپ یادو ، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس پالا بدلنے کو سیدھے نشانے پر لے رہے ہیں۔ اپنے والد کی طرح تیج پرتاپ اور تیجسوی بھی عوام کے بیچ اپنی بھول قبول کرتے ہیں کہ نتیش کمار کو پہچاننے میںان سے چوک ہوئی۔
ملک کے اگلے پارلیمانی انتخابات میں ابھی کم سے کم ڈیڑھ سال باقی ہے لیکن لالو پرساد بی جے پی کو چیلنج دینے کی کسی بھی کوشش میںپیچھے نہیںرہنا چاہتے۔ وہ اپنی بی جے پی مخالف سیاست کو شان دینے کے ہر اوزار کا استعمال یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ریلی میںبہار کے لوگوں کی وسیع حصہ داری تو وہ چاہتے ہی ہیں، ملک میں بی جے پی مخالف سیاست کے تمام بڑے چہروں کو بھی اپنی اس ریلی کے ساتھ دیکھنے دکھانے کے لیے کسی طریقے کو چھوڑنا نہیںچاہتے۔ وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی یا نائب صدر راہل گاندھی یا دونوںکو تو چاہتے ہی ہیں،مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، بی ایس پی سپریمو مایاوتی، چودھری دیوی لال کے جانشین دشینت چوٹالہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ بائیںبازو کی پارٹیوں کے لیڈروں کو اسٹیج پر چاہتے ہیں۔ ان لیڈروں اور دیگر لیڈروںکو ایک اسٹیج پر لاکر لالو پرساد یادو ملک میںبی جے پی مخالف سیاست کے مرکز میںخود کو لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسٹیج وہ ایسا چاہتے ہیںتو میدان میں بھی تاریخی بھیڑ کی امید رکھتے ہیں۔
آر جے ڈی سپریمو نے ریلی کے انعقاد کا فیصلہ تب لیا تھا جب وہ ریاستی سرکار کے بڑے پارٹنر تھے۔ لیکن اب ریاست کی سیاست بدل گئی ہے۔ ایسے سیاستدانوں کی کمی نہیںہے جو اس کی کامیابی و ناکامی کو اقتدار کے ساتھ آر جے ڈی کے رشتے سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے لالو پرساد اور آر جے ڈی میںان کے خاص لوگ چاہتے ہیں کہ ریلی میںبھیڑ تو بے شمار ہو ہی، اس میںمنڈل وادی سیاست سے جڑے سبھی سماجی گروپوں کی حصہ داری بھی ہو اور وہ دکھائی بھی دے۔ ’مائی‘ کی حصہ داری تو خیر تاریخی ہی ہو۔
اس ریلی میںدلتوں کی بھی بڑی حصہ داری یقینی بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ لوگوںکو پٹنہ تک لانے اور لے جانے کا انتظام تو کیا ہی جارہا ہے،ان کے رہنے اور کھانے کا بھی بندوبست کیا جارہا ہے۔ آر جے ڈی کے سبھی ایم ایل ایز ، اراکین پارلیمنٹ، سابق ممبران پارلیمنٹ، سابق وزراء کے ساتھ ساتھ سبھی بڑے لیڈروں کو اس معاملے میںیقینی ٹاسک دیاگیا ہے۔ ریلی کے انعقاد کے روڈ میپ کے عمل کا جائزہ خود لالو پرساد یادو لے رہے ہیں۔
ریلی کے اثرات
ریلی کے کئی سیاسی مضمرات تو ہیں ہی، بہار کے بدلے سیاسی حالات میںاس کی کامیابی و ناکامی دور رس اہمیت کی حامل ہوگئی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے آر جے ڈی سپریمو ریلی کے انعقاد سے عموماً بچتے ہیں۔ لیکن اس بار وہ کسی بھی قیمت پر نہ صرف ریلی کا انعقاد ہی نہیںکرنا چاہتے، بلکہ اسے تاریخی بنانے میں بھی جٹے ہوئے ہیں۔ پچھلے ایک مہینے میںسیاست کا چکر کچھ ایسا چلا کہ بہار کی سیاست میںسب کچھ بدل گیا۔ ریاست کے اقتدار میں’بڑا بھائی‘ آر جے ڈی اور ’سب سے چھوٹا بھائی‘ کانگریس اپوزیشن میں ہے لیکن اپوزیشن میںبیٹھنے کے مینڈیٹ سے اسمبلی پہنچی بی جے پی اقتدار کا حصہ بن گئی۔
اس وقت کے مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بہار میںاب این ڈی اے کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ بڑے بے آبرو ہوکر اقتدار سے باہر آئے آر جے ڈی سپریمو کے لیے اس کی کامیابی اور ناکامی ،ا ن کی سیاسی وقار سے جڑگئی ہے۔ اس کے ذریعہ وہ دکھانا چاہتے ہیںکہ وہ اقتدار میں رہیںیا اس کے باہر، ریاست کی بی جے پی مخالف آبادی ان کے ساتھ ہے۔ اور اس لحاظ سے ملک کی بی جے پی مخالف سیاست میں بہار کی نمائندگی کے اصلی حقدار وہی ہیں۔ ریلی کی کامیابی اس سطح پر بھی نتیش کمار کو لالو پرساد کا جواب ہوگا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ملک میںبی جے پی مخالف سیاست میںنتیش کمار قیادتی کردار کی چاہت رکھتے رہے تھے لیکن ان کی یہ خواہش پوری ہوتی نہیںدکھائی دی اور اس کے لیے انھوںنے کانگریس کو ہی ذمہ دار بتایا تھا۔
ریلی کے اعلان اور اس کے انعقاد کے بیچ بہار کی سیاست پوری طرح بدل گئی۔ مہا گٹھ بندھن کے اقتدار میںآنے کے کچھ ہی دن بعد سے آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے بیچ شیڈو جنگ شروع ہوگئی تھی۔ اس تاریخی مینڈیٹ کا سہرا کس کے سر پر باندھنا چاہیے؟ اسمبلی انتخابات کے دوران سیٹوں کے بٹوارے میںآر جے ڈی اور جے ڈی یو کو برابر برابرکا حصہ ملا تھا۔ لیکن انتخابی نتائج میںلالو پرساد کے آر جے ڈی کو 80 سیٹوں پر تو نتیش کمار کے جے ڈی یو کو 71 سیٹوں پر جیت ملی تھی۔
شیڈو جنگ کا مدعا یہ رہا تھا کہ مہا گٹھ بندھن کو ووٹ کس کے نام پر ملا اور اس کا بڑا لیڈر کون ہے؟ یہ تنازع آخر تک بنا ہی رہا،مہا گٹھ بندھن کے بکھراؤ تک۔ لالو پرساد اور ان کے بیٹے تیجسوی کہتے رہتے ہیں کہ نتیش کمار کی پارٹی نے اکیلے اب تک ایک اسمبلی اور ایک پارلیمانی انتخاب لڑا ہے۔ ان میں سے کسی میں بھی انھیںڈبل فیگر میںسیٹیںحاصل نہیںہوئیں۔ وہ ایسا کہتے ہیں تو غلط نہیںکہتے ہیں۔ لہٰذا لالو پرساد اپنی ریلی کے ذریعہ نتیش کمار اور ان کے جے ڈی یو کے لیڈروں و ترجمانوں کے اس دعوے کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میںمہا گٹھ بندھن کو ووٹ نتیش کمار کے نام پر ملا تھا۔ وہ خود کو نتیش کما رکی بنسبت بہار میںمنڈل وادی سماجی گروپوں کے بڑے لیڈر ثابت کرکے نتیش کمار اور جے ڈی یو کی بولتی بند کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ریلی کی کامیابی لالو پرساد کی سیاست کو نئی اڑان دے گی اور وہ پھر بہار میںپچھڑوں کے بڑے لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

 

لالو کا سیاسی وارث کون؟
لالو پرساد کی یہ ریلی اپنے جانشین کو سب کی منطوری دلانے کی مہم کے آخری مرحلے کی سیاست ہے۔ حالانکہ اب یہ طے ہوگیا ہے اور خاندان میںبھی مان لیا گیا ہے کہ تیجسوی پرساد یادو ہی لالو پرساد کی سیاسی وراثت کے جانشین ہیں۔ یہ بات کوئی چار پانچ سال قبل سے کہی جارہی ہے اور لالو پرساد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے اسے جتاتے بھی رہے ہیں۔ تیجسوی کو مہا گٹھ بندھن سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ کی حیثیت دلانے اور سرکار سے باہر ہونے کے بعد اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنائے جانے سے یہ بات صاف ہوگئی تھی۔ پھر بھی آر جے ڈی سپریمو کو بار بار اسے جتانا پڑتا ہے، کیوں؟ اس کا بہتر جواب وہی یا ان کے انتہائی خاص آر جے ڈی لیڈر ہی دے سکتے ہیں۔ لیکن سیاسی حلقوں کے مطابق لالو پریوار میںجانشین کو لے کر ماحول اب بھی ہموار نہیں ہوا ہے۔ بیٹیاں بھی اپنا حق جتارہی ہیں تو دونوںبیٹوں کو لے کر بھی گھر میں اتفاق رائے نہیں ہے۔ ’جن آدیش اپمان یاترا‘ پر پہلے تیجسوی کے اکیلے جانے کی بات تھی۔ ساری تیاری بھی ہوگئی تھی لیکن گھر میںہی تنازع ہوگیاکہ تیج پرتاپ کیوںنہیں؟
اب اس پچڑے میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سوال کس نے اٹھایا؟ لیکن یہ سوال اٹھا اور تیجسوی کے ساتھ تیج پرتاپ بھی یاترا پر گئے۔ لہٰذا گھر میںہی جانشینی کو لے کر تنازع کے بیچ یہ ریلی ہورہی ہے۔ لالو پرساد چاہتے ہیںکہ ان کی سیاست کی وراثت تیجسوی ہی سنبھالیں۔ آر جے ڈی کے کئی بڑے لیڈروںنے پارٹی میںاورسیاسی حلقے میں بھی مان لیا گیا ہے کہ تیجسوی ہی آر جے ڈی کے یوراج ہیں۔ اب لالو پرساد کے ووٹروں کو اسے قبول کرنا ہے اور ووٹروں کی یہ منظوری 27 اگست کی ریلی میںمل جائے گی۔ اسی دن ملک بھر کے بی جے پی مخالف لیڈر تیجسوی کو اپناآشیرواد بھی دیںگے۔ تیجسوی کا رسمی راج تلک ہو جائے گا۔ ریلی کا یہ مقصد بھی پورا ہوجائے گا۔
لالو پرساد کے پاس وقت بہت کم ہے۔ چارہ گھوٹالے کے معاملوں کی سماعت تیزی سے چل رہی ہے۔ عدالت کے رخ سے صاف ہے کہ وہ معاملوںکو جلد نمٹانا چاہتی ہے۔ یہ لالو پرساد کے لیے پریشانی کا بڑا سبب ہے۔ پھر پچھلے مہینوں میںبی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی نے ریلوے منسٹر رہنے کے دوران آر جے ڈی سپریمو کی بدعنوانی کی کہانیوںکا پلندہ کھول کر ان کی مشکل بڑھادی ، مہا گٹھ بندھن کا بکھراؤ کا فوری سبب مودی کے خلاصہ پر مرکزی جانچ بیورو کی کارروائی ہی بنی تھی۔ لہٰذا ان معاملوںمیںجانچ ایجنسیوں کا بھی تیزی سے آگے بڑھنے کا ہی امکان دکھائی دے رہا ہے۔
حقیقت میںآر جے ڈی سپریمو قانونی طور پر سنگین روپ سے گھر گئے ہیں اور ان سے ابھی ان کی نجات نہیںدکھائی دے رہی ہے۔ پھر یہ دور چارہ گھوٹالہ کا بھی نہیںرہا۔ چارہ گھوٹالہ کے وقت مرکز میںکم و بیش دوست سرکار ہی تھی جو لالو پرساد کی سیاست کے تئیں ہمدردی رکھتی تھی۔ لیکن اب ایسی بات نہیںہے۔ مرکز میںاقتدار پر قابض سیاسی گروپ مانتا ہے کہ لالو پرساد کی پچھڑاوادی سیاست کی ٹھوس بنیاد رہتے ہوئے ، بہار میںاس کی پکڑ مضبوط نہیںہوسکتی ہے۔ ایسے میں ریلی کے ذریعہ وہ اپنے جانشین کو تو عوامی مقبولیت دلا ہی دیںگے ۔ آر جے ڈی کی سیاست کو ختم کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی پر بھی وہ حملہ کریںگے۔ یہ کتنا منطقی ہوگا، یہ ہم نہ تو جانتے ہیں اور نہ ہی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اپنی بات چیت کی مہارت سے لالو پرساد اپنے ووٹر کو کچھ سمجھانے میںکامیاب رہتے ہیں، یہ عام احساس ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار انھیںکتنی کامیابی ملتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *