کیوں آپڑی ضرورت اترپردیش کو’ اپکوکا ‘کی؟

ریاست اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ کی موجودہ بی جے پی حکومت نے منظم گروپوں کے ذریعے جرائم سے نمٹنے کے لئے خصوصی قانون اترپردیش کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (اپکوکا) تجویز کیا ہے۔ یہ تجویز ایک ایسے وقت آئی ہے جب دیگر چند ریاستوں کی طرح اترپردیش میں بھی گائے کے تحفظ کے نام پرلنچنگ(ہجومی تشدد ) جیسے واقعات کی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں لیکن یہ بات واضح رہے کہ لنچنگ سے نمٹنے کے لئے تحسین پونا والانے مانو سرکشا قانون (مسوقا )کے نام سے قانون کا جو ڈرافٹ پیش کیا ہے جس کی تفصیلات ’’چوتھی دنیا نذر قارئین کرتا رہا ہے اور جسے متعدد اپوزیشن پارٹیوں کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حمایت ملی ہے مگر مرکزی حکومت نے اس جیسے مخصوص قانون کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہوئے جسے مسترد کردیا ہے، اس سے یو پی حکومت کی موجودہ تجویز کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تجویز تو صرف ریاست اترپردیش میں منظم گرپوں کے ذریعے انجام دیئے جارہے اور بڑھتے جرائم کو روکنے کے لئے ہے۔ بعض مبصرین تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کتنا اچھا ہوتا کہ یوگی حکومت اس کے بدلے بھیڑ کے ذریعے لنچنگ کو روکنے کے لئے کسی مخصوص قانون کو لانے کی بات کرتی۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا واقعی اترپردیش میں جرائم اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ انہیں موجودہ قوانین سے قابو میں نہیں لایا جاسکتا ہے ، لہٰذا ایک نئے اور مخصوص قانون ’اپکوکا ‘ کو وضع کیا جائے۔ جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ چند دیگر ریاستوں کی طرح اترپردیش میں بھی جرائم یقینا تیزی سے بڑھے ہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ موجودہ قوانین خصوصاً آئی پی سی ، سی آر پی سی اور ایویڈنس ایکٹ کے پروویژنز ان سے نمٹنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ ان قوانین نے پولیس کو جو اختیار دیئے ہیں،ان کی مدد سے ان بڑھتے ہوئے جرائم پر بلا شبہ قابو پایا جاسکتا ہے ۔بس شرط یہ ہے کہ بڑی تندہی اور سختی سے ان موجودہ قوانین کو نافذ کیا جائے۔ ویسے جو لوگ لنچنگ جیسے واقعات سے نمٹنے کے لئے ’مسوقا‘ جیسے مخصوص قانون کی بات کرتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فضا قائم کرکے بھیڑ کے ذریعے لنچنگ سے نمٹنے کے لئے کوئی خصوصی قانون فی الوقت موجود نہیں ہے۔

 

 

 

ویسے یہ بھی سچ ہے کہ اترپردیش میں اس وقت جرائم جس طرح بڑھے ہوئے ہیں، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ مجرمین کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ویسے ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ تعداد یوگی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اچانک بڑھی ہے۔جرائم کی بڑھوتری کا سلسلہ تو پہلے سے اور بہت پہلے سے جاری ہے جسے ملائم اور اکھلیش دونوں کی سرکاریں روکنے میں ناکام رہی تھیں۔لہٰذا آج اترپردیش میں بڑھتے ہوئے جرائم سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ یوگی حکومت کی کمزور گورننس یا حکمرانی اور کمزور پولیسنگ کے مظہر ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کو اس ریاست میں مؤثر انداز میں قائم کیا جائے۔
یہاں یہ سوال یقینا اہم ہے کہ جرائم کے بڑھنے کی آخر وجوہات کیا ہیں؟سچ تو یہ ہے کہ پورے ملک بشمول اتر پردیش میں جرائم کے بڑھتے رہنے کے اسباب دراصل غربت، سماجی ڈھانچہ، زراعتی سیکٹر کی ناکامی، کروڑوں مرد و عورت کی بے روزگاری، سیاست کا موجودہ انداز اور نوعیت، پولیس فورسز کے ساتھ تقرری سے لے کر پوسٹنگ تک بے جا مداخلت اور کرمنل مقدمات سے نمٹنے کیلئے عدلیہ کی انتہائی سست رفتاری کے ساتھ ساتھ کرمنل -سیاست داں تال میل نیز قانون ساز اداروں میں ملزم اراکین کا پہنچ جانا ہیں۔لیکن ان اسباب پر کیا کوئی توجہ دے گا؟
اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے کہ ریاست مہاراشٹر جہاں ’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘ (مکوکا ) نافذ ہے اور بسا اوقات اس کا بھی معصوموں اور بے گناہوں کے خلاف بے جا استعمال کیا جاتا ہے،میں صورت حال قطعی مختلف ہے ۔ وہاں واقعی خطرناک منظم کرمنل گروپس موجود ہیں۔مہاراشٹر میں اس مخصوص صورت حال سے نمٹنے کے لئے ’مکوکا ‘ نافذ کیا گیا تھامگر یہ بھی ریکارڈ میں ہے کہ یہ مخصوص قانون’ مکوکا ‘بھی منظم گروپوں کے ذریعے کئے جارہے جرائم میں کمی نہیں لاسکا ہے ۔
نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی ) کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2000 میں جرائم کی تعداد 6لاکھ 3ہزار 408 سے 2015 میں 8 لاکھ 28ہزار 10 تک بڑھ کر پہنچ چکی تھی اور یہ سلسلہ ہنوز تیزی سے جاری ہے۔
’مکوکا‘ کے سلسلے میں تحقیق و تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سے پولیس کو بے جا زیادتی اور عام قوانین کو نافذ کرنے میں اپنی کمزوریوں کو چھپانے کا بہانہ ملا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے ملک کے شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق بری طرح پامال ہوئے ہیں۔ ایسا بھی دیکھا گیاہے کہ ان قوانین کی آڑ میں سیاسی مخالفین اور بسا اوقات عام شہری جو کہ حاشیہ پر رہ رہے مارجینلائزڈ افراد کے کاز کو اٹھاتے ہیں ،ٹارگٹ کئے جاگئے ہیں۔
لہٰذا یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ مہاراشٹر میں ’مکوکا ‘ کے رہتے ہوئے آئینی و جمہوری اقدار کی جس طرح پامالی اور خلاف ورزی ہوئی، اترپردیش میں بھی ’اپکوکا ‘ کے نفاذ ہوتے ہی کم و بیش حقوق انسانی اور آئینی و بنیادی حقوق کی مامالی اور خلاف ورزی کا اندیشہو احتمال اسی طرح کا پیدا ہوجائے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کی طرح اترپردیش میں بھی جرائم کا بڑھتا ہوا رجحان مزید بڑھے گا اور مجرمین کا راج اترپردیش جیسی بڑی ریاست کوتباہ وبربادکرتا رہے گا۔
لہٰذا توقع ہے کہ حکومت اترپردیش ’’اپکوکا ‘‘ کی تجویز سے باز آئے گی اور اس کے بدلے بہتر گورننس اور مؤثر پولیسنگ اس ریاست کو فراہم کرے گی جو کہ یقینا ہندوستان کی اس سب سے بڑی ریاست کے وقار کو بڑھائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *