گورکھپور اسپتال سانحہ اصلی مجرم کون؟

گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل میں 60 سے زیادہ بچوں کی موت تکلیف دہ موضوع بنی رہی۔ بچوں کی موت پر ریاست کے وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ کا بیجا بیان بھی تنقید کا مرکز بنا رہا۔ جانچ اور کارروائیوں کے اعلانات بچوں کے دردناک موت کی ناقابل یقین سانحہ پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ یوپی کی موجودہ بی جے پی سرکار ہوا میں ہاتھ بھانج رہی ہے۔ سبکدوش ہونے والی سماج وادی پارٹی سرکار نے صحت کے مسئلے کو اتنی پیچیدگیوں میں الجھا رکھا تھا کہ گورکھپور حادثے کی ذمہ داری طے کرنے میں یوگی سرکار کے پسینے نکل آئیں گے اور کوئی پکڑ میں بھی نہیں آئے گا۔
میڈیکل اینڈ ہیلتھ منسٹر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے ناسمجھی کا بیان جاری کرکے لوگوں کا غصہ اپنی طرف موڑ لیا لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ گورکھپور اسپتال سانحہ یوپی کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن آشوتوش ٹنڈن کے محکمہ کی بری سروسز کا بھی نتیجہ ہے۔ ریاست میں پروانچل کے جن جن اضلاع میں نام نہاد جاپانی انسیفلائٹس یا اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری پھیلی ہے، وہاں وہاں وینٹی لیٹر سہولت دستیاب کرانے اور آپریٹ کرنے کیلئے بجٹ مہیا کرانے اور ان کے رکھ رکھائو کی ذمہ داری یوپی کی خاندانی بہبود کی وزیر ڈاکٹر ریتا بہو گنا جوشی کے تحت چلنے والے نیشنل ہیلتھ مشن ( این ایچ ایم) پر ہے جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا رہا ہے،کیونکہ لوگوں کو اس معاملے میں این ایچ ایم کے اندرونی ویلن رول کی جانکاری ہی نہیں ہے۔
پس منظر
اب تھوڑا پس منظر میں چلیں۔ 2013 میں اس وقت کی سماج وادی پارٹی کی سرکار کے وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود احمد حسن کے چہیتے ڈائریکٹر برائے صحت و خاندانی بہبود ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورا نے ریاست کے جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم ،متاثرہ اضلاع میں انسیفلائٹس ٹریٹمنٹ سینٹر کی تعمیر کے لئے اترپردیش نیشنل ہیلتھ مشن کو تجویز بھیجا اور ٹرن کے پروسیس پر احمد حسن کی چہیتی کمپنی ’’ پشپا سیلس ‘‘ کو کام دے یا۔ بجاج اسکوٹر بیچنے والی اس کمپنی کو ہیلتھ سے متعلق کروڑوں کا کام دینے کی تب مخالفت بھی ہوئی تھی لیکن احمد حسن اور ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کمپنی کو گورکھپور میں بی آر ڈی میڈیکل کالج میں 100 وینٹی لیٹر لگانے اور مریضوں کے علاج میں سہولت دینے کے لئے ٹیکنیشین مہیا کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
2014 میں نیشنل ہیلتھ مشن کے اس وقت کے ڈائریکٹر امیت کمار گھوش نے اس علاقہ میں ایک ٹیم بھیج کر ’پشپا سیلس ‘ کے کام کی جانچ کی تھی اور گورکھپور میں دو ڈویژنوں کے کمشنروں اور ضلع افسروں سمیت ذمہ دار افسروں کی میٹنگ میں ’پشپا سیلس ‘ کی خراب سروسز کو اجاگر کیا تھا۔ سینٹرل آکسیجن یونٹ کو بجلی کی ہائی ٹینشن لائن کے نیچے قائم کرنے اور پرانی پائپ لائن سے آکسیجن سپلائی کرنے کا معاملہ بھی ان کے سامنے آچکا تھا۔ ریاست کے اس وقت کے وزیر صحت احمد حسن کے دبائو میں گھوش کے نہ چاہنے کے باوجود ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نیشنل ہیلتھ مشن کے چیف ایڈوائزر بنا دیئے گئے۔ فطری بات ہے کہ احسان مند ارورا نے ’پشپا سیلس ‘ پر کوئی کارروائی نہیں ہونے دی۔ ’پشپا سیلس ‘ کمپنی نے جیسے تیسے من چاہے طریقے سے انسیفلائٹس ٹریٹمنٹ سینٹرس قائم کئے اور نااہل اور ناتجربہ کار ملازموں کو بھر کر جان لیوا طریقے سے پیڈیا ٹریک انٹیسیو کیئر یونٹ چلایا۔ کمپنی جو بھی بل بھیجتی ، ڈائریکٹر جنرل کے ذریعہ این ایچ ایم اس کی ادائیگی کرتا جاتا۔
احمد حسن نے اپنی سرکار کے آخری مہینوں میں ڈاکٹر وجے لکشمی کو صحت و خاندانی بہبود کا ڈائریکٹر بنا دیا اور سماجوادی پارٹی کی سرکار کے آخری وقت تک لوٹ پاٹ والا نظام جاری رہا۔اسی درمیان ہائی کورٹ نے ڈینگو، ملیریا ، جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے بے تحاشہ ہو رہی موتوں پر ریاستی سرکار کو سخت انتباہ دیا تھا۔ ہم یہ جانتے چلیں کہ نیشنل ہیلتھ مشن میں جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سمیت سبھی متعلقہ بیماریوں کے پروگرام کے آپریٹ اور انعقاد کی ذمہ داری ’’ نیشنل پروگرام ‘‘ نام کے شعبہ کے پاس ہے۔
این ایچ ایم کے اس وقت کے ڈائریکٹر امیت کمار گھوش نے ڈاکٹر وجے لکشمی کے دبائو میں نیشنل ہیلتھ مشن اترپردیش میں ایماندار شبیہ کے ’نیشنل پروگرام ‘ کے جنرل منیجر ڈاکٹر انیل کمار مشر کو ہٹا کر ان کے خاص ڈاکٹر منی رام گوتم کو جنرل منیجر بنا دیا تھا تاکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل میں ڈاکٹر وجے لکشمی کی کرتوتیں جاری رہ سکیں۔یہ بھی بتاتے چلیں کہ دسمبر 2015 میں ڈاکٹر وجے لکشمی بھی ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ کی طرح ہی این ایچ ایم میں سوا لاکھ کی تنخواہ پر چور راستے سے مشن ڈائریکٹر کے سینئر صلاح کار کے نان کریٹیڈ پوسٹ پر قابض ہو گئیں۔ انہیں این ایچ ایم میں ’’ نیشنل پروگرام ‘‘ سمیت کئی اہم شعبے کا نوڈل آفیسر بنایا گیا تھا۔

 

 

 

 

تقرری میں سیاست
سماج وادی پارٹی کی سرکار میں چیف سکریٹری آلوک رنجن کے اسٹاف آفیسر رہے آلوک کمار کو اپریل میں این ایچ ایم کا مشن ڈائریکٹر بنا یاگیا۔ ان کے آنے کے بعد سابق ڈائریکٹر جنرل رہے ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ اور ڈاکٹر وجے لکشمی کی مزید طوطی بولنے لگی۔ 2016 کے جولائی مہینے میں ڈاکٹر منی رام گوتم کے ریٹائر ہونے کے بعد ڈاکٹر وجے لکشمی نے اپنے دوسرے خاص آدمی بون کی بیماری کے سرجن اور کومی نیکیبل بیماری کے موجودہ جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اے کے پانڈے کو این ایچ ایم میں ’نیشنل پروگرام ‘کا جنرل منیجر بنوا دیا۔ ڈاکٹر پانڈے کو ہفتہ کے تین دن این ایچ ایم اور دو دن ڈائریکٹوریٹ جنرل میں کام کرنے کا حکم جاری کروانے میں ڈاکٹر وجے لکشمی کا خاص ہاتھ تھا۔ دوسری طرف ڈاکٹر منی رام گوتم کو جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم خاتمے میں تعاون دینے کے لئے ریاست میں کام کر رہے غیر سرکاری تنظیم ’’ پاتھ ‘‘ میں ایکسپرٹ کی شکل میں ایک لاکھ سے زیادہ کی تنخواہ پر مقرر کروا دیا۔
موجودہ مشن ڈائریکٹر آلوک کمار نے اس طرح اس انتہائی اہم شعبے کو بے حد ہلکے سے لیا۔ حد تو یہ ہے کہ این ایچ ایم کے ایوالیوشن اینڈ آبزرویشن ڈپارٹمنٹ نے اگلے 6 مہینے کے لئے بھی ڈاکٹر اے کے پانڈے کو ہی گورکھوپر ڈویژن کا انچارج بنایا ہے۔ ڈاکٹر پانڈے ہر ماہ گورکھپور ڈویژن میں کم سے کم تین دن گزار کر’ نیشنل پروگرام‘ سمیت سبھی پروگراموں کی صورت حال سے ریاستی سرکار کو واقف کرانے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اپریل سے لے کر اگست مہینے تک ڈاکٹر پانڈے نے ان اضلاع میں جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے بچائو کے لئے کیا کیا قدم اٹھائے؟ان کی صلاح پر اس پروگرام کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر وجے لکشمی نے کیا کیا؟ان افسروں نے سرکار کو کس طرح کی بریفنگ دی؟یہ حقیقت بھی سامنے آنا ضروری ہے کہ طبی خدمات کے ماہرین مانے جانے والے ڈاکٹر اے کے پانڈے کو حال میں جب چیف میڈیکل آفیسر بنا یا گیا تھا تب ڈاکٹر وجے لکشمی نے انہیں این ایچ ایم میں ہی کیوں روک لیا؟
اترپردیش نیشنل ہیلتھ مشن کے موجودہ مشن ڈائریکٹر آلوک کمار نے سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بدعنوان سرگرمیوں کے لئے مشہور رہے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورا اور ڈاکٹر وجے لکشمی کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے ڈاکٹر اے کے پانڈے کو اہم ذمہ داری دی اور پالی ٹیکنک سے کمپیوٹر ایجوکیشن حاصل کرنے والے سفسا کے ملازم بی کے جین کو ایوالیوشن اینڈ آبزرویشن کا ڈائریکٹر جنرل بنا کر اتنے ڈھیر سارے بچوں کی تکلیف دہ موت کی سازش رچ دی۔اس کے باوجود یوگی سرکار اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ گورکھپور حادثے کی جانچ کے لئے یوگی سرکار کے ذریعہ چیف سکریٹری کی صدارت میں تشکیل پائی جانچ کمیٹی میں نیشنل ہیلتھ مشن کے ڈائریکٹر آلوک کمار بھی شامل ہیں۔ حادثے کے لئے جو لوگ قصوروار ہیں، وہی جانچ کریں گے تو پکڑا کون جائے گا؟حکومت کے ہی ایک اعلیٰ آفیسر کہتے ہیں کہ قصوروار کو ہی جانچ آفیسر بنانے میں یوگی سرکار کو مہارت حاصل ہے۔ اسمبلی میں غیر قانونیتقرری کے معاملے کی جانچ بھی یوگی سرکار نے تقرری گھوٹالے میں ملوث رہے اسمبلی کے چیف سکریٹری پردیپ دوبے کو ہی دے دی تھی۔ اس جانچ کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اسی طرح بچوں کی موت کے معاملے کی جانچ کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
حادثہ نہیں ، قتل
نوبل ایوارڈ یافتہ کیلاش ستیارتھی نے گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں 60 سے زیادہ بچوں کی موت کو حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بند قتل کا معاملہ بتایا ہے اور قصورواروں پر قتل کا مقدمہ چلائے جانے کی مانگ کی ہے۔ گورکھپور کے بابا راگھو داس میڈیکل کالج اسپتال میں گزشتہ دنوں 60 سے زیادہ بچوں کی موت ہو گئی۔ بچوں کی موت کا بنیادی سبب اسپتال میں آکسیجن کی سپلائی کا بند ہو جانا ہے۔ اس کے علاوہ جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے بھی بچوں کی موت ہوئی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسپتال میں لیکویڈ آکسیجن کی سپلائی کرنے والی کمپنی ’’پشپا سیلس ‘‘ نے سرکار کو بقایہ جات ادائیگی کرنے کے بارے میں پہلے ہی لکھا تھا اور سرکار کو غیر انسانی انتباہ بھی دیا تھا کہ ادائیگی نہیں ہوئی تو آکسیجن کی سپلائی فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔ یوگی سرکار کی وزارت صحت بھی اتنی ہی بڑی بے رحم ثابت ہوئی جس نے ’پشپا سیلس ‘کے انتباہ کو سنجیدگی اور اہمیت سے نہیں لیا۔
’پشپا سیلس ‘نے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو بھی 6 اپریل کو بقایہ جات کی ادائیگی کا ریمائنڈر بھیجا تھا۔ اس لیٹر میں لکھا گیا تھا کہ3 اپریل 2017 تک اسپتال پر 52 لاکھ 34ہزار 774 روپے کا بقایہ ہے۔ اگر ملتوی بل کی ادائیگی نہیں ہوئی تو سپلائی نہیں مل پائے گی۔’ پشپا سیلس ‘ کا یہ لیٹر وزیر صحت ، میڈیکل ایجوکیشن کے چیف سکریٹری ، ہیلتھ سروسز ڈائریکٹر اور بی آر ڈی میڈیکل کالج کے منیجر کو بھیجا گیا تھا۔ لیٹر کی کاپی وزیر اعلیٰ کو بھی بھیجی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی سے بچوں کی موت ہونا صحیح حقیقت نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ منسٹر سدھارتھ سنگھ اور میڈیکل ایجوکیشن منسٹر آشوتوش ٹنڈن کی رپورٹ کے حوالے سے اس کی سرکاری توثیق کی کہ آکسیجن سپلائیر نے ایک اگست کو بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو بقایہ جات کی ادائیگی کے بارے میں لیٹر لکھا تھا۔ پرنسپل نے 4 اگست کو میڈیکل ایجوکیشن کے ڈی جی کو لیٹر لکھ کر مطلع کیا تھا اور 5 اگست کو 2 کروڑ روپے کی رقم جاری کر دی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے مانا کہ اس معاملے میں بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشر کی لاپرواہی سامنے آئی ہے جس کے سبب انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر کی سرپرستی میں اسپتال میں تمام غیر قانونی سرگرمیاں چلانے کے الزام میں بی آر ڈی میڈیکل کالج کے انسیفلائٹس محکمہ کے چیف نوڈل آفیسر ڈاکٹر کفیل اسپتال میں آکسیجن سلینڈروں کے بندوبست کے بھی انچارج تھے۔ ان پر آکسیجن سلینڈروں کے بے جا پرائیویٹ استعمال کی بھی شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ امبیڈکر نگر ریاستی میڈیکل کالج کے نگراں پرنسپل ڈاکٹر پی کے سنگھ کو گورکھپور میڈیکل کالج کے پرنسپل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ آکسیجن سپلائی والے پہلو کی جانچ کے لئے چیف سکریٹری راجیو کمار کی صدارت میں جانچ کمیٹی تشکیل کر دی گئی ہے۔ سانحہ کی مجسٹریل جانچ بھی کروائی جارہی ہے۔
’پشپا سیلز‘ کمپنی کی کرتوت
پشپا سیلز کمپنی پہلے بھی تنازعات میں رہی ہے۔ کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو ) کے سینٹینری فیز دو اسپتال میں آکسیجن پائپ لائن بچھانے کے کام میں اس کمپنی کو تین کروڑ کا ٹینڈر محض 80 لاکھ روپے میں دے دیا گیا تھا۔ جون 2014 تک نیورو ڈپارٹمنٹ میں پائپ لائن بچھانے کا کام پورا ہونا تھا لیکن 2015 تک کام پورا نہیں ہوا۔ اسپتال انتظامیہ کی پھٹکار کے بعد 2016 میں کسی طرح کام پورا ہو سکا۔ 2014 میں کانپور کے ہارٹ ڈیسیزانسٹی ٹیوٹ نے بھی اس کمپنی کو خراب وینٹی لیٹر اور خراب کمپروسڈ ایئر پائپ لائن بنانے کے لئے سخت پھٹکار لگائی تھی۔
اسپتال مینجمنٹ نے’ پشپا سیلس ‘کمپنی کو لکھا تھاکہ ’پشپا سیلس‘ فارم نے ادارے میں آکسیجن پائپ لائن لگائی تھی جس پر پانچ سال کی وارنٹی کی ادائیگی بھی ہوئی تھی لیکن انتہائی افسوس ہے کہ کمپریسڈ ایئر کی پائپ لائن میں پانی آ رہاہے اور کمپنی کا لگایا ہوا ڈرایئر بھی ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہے۔ اس سے پائپ لائن کے ذریعہ آپریشن تھیٹر ( او ٹی ) اور آئی سی یو کے وینٹی لیٹرس میں پانی آرہا ہے۔ اسی وجہ سے ایک وینٹی لیٹر خراب بھی ہو چکا ہے ۔ اس بارے میں دو بار شکایت کرنے کے باوجود ڈرائیر نہیں بدلا گیا۔ اب بھی دیر ہوئی تو کمپنی پر سخت کارروائی کی جائے گی اور اس کی پوری زمہ داری کمپنی کی ہوگی۔
یہ شکایتی خط 14جولائی 2014 کو کانپور ہارٹ ڈیسیز انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے’ پشپا سیلس ‘کو بھیجا تھا۔وہی فارم اب گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی فراہمی بند کرنے کو لے کر تنازعات میں ہے۔ لکھنو کے عالمہ باغ میں بجاج اسکوٹر بیچنے والی ایجنسی سماج وادی پارٹی سرکار کی مہربانی سے سرکاری اسپتالوں کو آکسیجن بیچنے لگی۔’ پشپا سیلس ‘کے خلاف تمام شکایتوں کے باوجود سماج وادی پارٹی کی سرکار نے کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ فارم کی لگائی پائپ لائن سے آئی سی یو میں آکسیجن کے بجائے پانی پہنچنے کی سنگین شکایت کے باوجود سرکار نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ سماج وادی پارٹی کی سرکار بہتر صحت کا فرضی نعرہ لگاتی رہی اور’ پشپا سیلس‘ بہتر رشوت دے کر اپنا دھندہ چلاتی رہی اور لوگوں کو مارتی رہی۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بی آر ڈی اسپتال کے چائلڈ ڈیسیز ڈپارٹمنٹ نے 20 جون 2014 کو’ پشپا سیلس ‘سے سرکاری طور پر کہا تھا کہ 100 بیڈ والے دماغی بخار کے محکمہ میں لگائے گئے آکسیجن پائپ لائن کے کمپریسر ، ایئر ویکیوم اور ایمرجینسی ریگولیٹر ٹھیک سے کام نہیں کررہے ہیں۔ نومولود بچوں کے لئے 24 گھنٹے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر متضاد صورت حال سامنے آئی تو ساری ذمہ داری فارم کی ہوگی۔ لیکن فارم نے اس انتباہ کو نظر انداز کر دیا اور اسپتال نے بھی اپنی فارملیٹی پوری کرلی ۔’پشپا سیلس ‘کمپنی نے 2013 میں ہی لیکویڈ آکسیجن پلانٹ کی تعمیر میں ٹینڈر کی شرطوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے اس کمپنی کو اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر ستیش کمار نے سخت وارننگ بھی دی تھی لیکن سرکار میں بیٹھے افسروں نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ یاد کرتے چلیں کہ ’پشپا سیلس‘ کمپنی کو 2013 میں بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پیڈیاٹرک ڈپارٹمنٹ میں100 بیڈ کے دماغی بخار والے وارڈ میں آکسیجن گیس پائپ لائن بنانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔
ٹینڈر کی شرطوں کے مطابق اس کمپنی کو دو مہینے میںکام پورا کرناتھا لیکن کمپنی نے طے شدہ وقت میں کام پورا نہیں کیا۔ اس پر میڈیکل کالج کے اس وقت کے پرنسپل نے گہری ناراضگی ظاہر کی تھی لیکن اکھلیش سرکار کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کمپنی نے نومبر 2013 تک کام پورا کرنے کا بھروسہ دیا لیکن کام پورا نہیں کر سکی۔ دسمبر تک کام پورا نہیں ہوا تب پرنسپل نے کمپنی کو سخت انتباہ دیا۔ 24دسمبر 2013 کو لکھے خط میں پرنسپل نے 15 دن کے اندر کام پورا کرنے کو کہا اور خبردار کیا کہ ایسا نہیں کرنے پر کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پرنسپل نے اس خط کی کاپی میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ساتھ گورکھپور کے کلکٹر اور چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او ) کو بھی بھیج دی تھی۔
میڈیکل ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اپنی جانچ میں پایا کہ’ پشپا سیلس‘ مقررہ وقت پر لیکویڈ گیس پلانٹ قائم نہیں کرسکی اس کے لئے کمپنی کو لاپرواہ قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔جبکہ دستور کے مطابق اگر کوئی کمپنی ٹینڈر کی شرطوں کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے بلیک لسٹ کر دیا جاتاہے۔ سماج وادی پارٹی سرکار اس کمپنی کے احسانات سے اتنی دبی ہوئی تھی کہ کمپنی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں پیسہ باقی ہونے کی جو بات پھیلائی جارہی ہے،وہ منصوبہ بند ہے۔ سرکار پر قصور ڈالنے کے لئے اسے طول دیاجارہاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’پشپا سیلس‘ 2014 سے ہی اسپتال کو لیکویڈ آکسیجن کی سپلائی کررہی ہے۔ نومبر 2016 سے میڈیکل کالج کے ساتھ کمپنی کے پیمنٹ کو لے رتنازع شروع ہوا لیکن اس وقت کمپنی نے آکسیجن سپلائی نہیں روکی۔ ’پشپا سیلس‘ اب تک کروڑوں روپے کا پیمنٹ سرکار سے لے چکی ہے لیکن محض کچھ لاکھ روپے کے لئے آکسیجن کی سپلائی روک دیئے جانے کے واقعہ کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے۔ گورکھپور کے لوگ کہتے ہیں کہ اس حادثے کے پیچھے منصوبہ بند سازش ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن کے ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر کے کے گپتا نے کہا بھی کہ ’پشپا سیلس‘ کے پرانے ریکارڈ کھنگالے گئے ہیں۔
کمپنی کو پہلے بھی کئی بار دیر سے ادائیگی کی گئی ہے۔ لیکن کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ آکسیجن سپلائی ہی بند کر دی جائے۔ کمپنی نے جب آکسیجن سپلائی روکنے کا نوٹس دیاتھا ،اسی وقت میڈیکل کالج مینجمنٹ کو اس مسئلے کا حل کرنا چاہئے تھا۔ گہرائی سے چھان بین ہو تو یہ معاملہ بھی این آر ایچ ایم گھوٹالے کی طرح بڑا گھوٹالہ نکلے۔ حکومت نے ریاست کے سب سے اہم اور بے حد حساس میڈیکل کالج میں آکسیجن سپلائی کا ٹھیکہ ایک نو آزمودہ کمپنی کو دے دیا،اس کی بھی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے۔ سیاسی پہنچ کے سبب ناتجربہ کاراس کمپنی کو میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے افسروں نے بھی کام دینے میں کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہ کمپنی آپریشن ٹھیئٹر کو ماڈیولر بنانے کے آلات بھی سپلائی کرتی تھی۔ این آر ایچ ایم میں بھی غیر رجسٹرڈ سوسائٹی کو 1546 کروڑ روپے دے دیئے گئے تھے۔ اس میں بھی بہت سی چہیتی کمپنیوں کو سرکار نے ٹھیکہ دے دیا تھا۔

 

 

 

 

وہ بھی پھوٹے جن میں ستر چھید
گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج اور اسپتال میں 60 سے زیادہ بچوں کی موت پر سماج وادی پارٹی نے فوراٍ اپنے رد عمل کا پٹارہ کھول دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یاد و سے لے کر ترجمان راجندر چودھری تک بی جے پی سرکار کی بد انتظامی کے خلاف تابڑتوڑ بولنے لگے۔ ایسا کرتے وقت سماج وادی پارٹی کے ان لیڈروں نے اپنے گریبان میں نہیں جھانکا کہ سب کیا دھرا انہی کا ہے اور ٹیکرا یوگی سرکار پر پھوٹ رہا ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بچوں کی موت آکسیجن کی کمی سے ہوئی ہے۔ مرنے والوں کے رشتہ داروں کو آناً فاناً لاش دے کر بھگا دیاگیا۔ مرے ہوئے بچوں کا پوسٹ مارٹم تک نہیں کرایا گیا۔ اکھلیش نے الزام لگایا کہ یوگی سرکار نے سچائی چھپانے کے لئے یہ کیا۔ سرکار بچوں کی جان جانے کا سبب نہیں بتا پار ہی ہے۔ سرکار موتوں کو چھپا رہی ہے۔ مرنے والے بچوں کے رشتہ داروں کو اسپتال کے پیچھے کے راستے سے باہر نکالا جا رہا تھا۔ اکھلیش نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ سطح پر ہوئی جانچ میں بھی آکسیجن کی ادائیگی نہ ہونے کی بات سامنے نہیں لائی گئی تو غلطی کس کی ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ ہو سکتاہے کہ کمیشن کی وجہ سے آکسیجن کی ادائیگی نہ ہوئی ہو۔ سماج وادی پارٹی ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ سماج وادی پارٹی صدر نے گورکھپور اسپتال میں بچوں کی موت کی جانچ پارٹی کی جانچ کمیٹی سے کرانے کا فیصلہ لیا ہے۔ جانچ کمیٹی میں اسمبلی میں اپوزیشن لیڈررام گوند چودھری ، سابق وزیر برہما شنکر ترپاٹھی، ایم ایل سی سنتوش یادو سنی، سابق وزیر مملکت رادھے شیام سنگھ، ضلع صدر پرہاد یادو اور میٹرپولیٹن صدر ضیاء الاسلام شامل ہیں۔
دوسری طرف ’سوراج ابھیان سنستھا ‘نے بچوں کی موت کو سرکار کی مجرمانہ لاپرواہی بتایاہے اور ریاست کے وزیر صحت سے استعفیٰ مانگا ہے۔ ’سوراج ابھیان ‘کے اسٹیٹ ورکنگ کمیٹی ممبر اور یو پی ورکرس فرنٹ کے ریاستی صدر دنکر کپور نے کہا کہ آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ ہونا اور سرکار کا اس طرف کوئی دھیان نہیں دینا ریاستی سرکار کی مجرمانہ لاپرواہی ہے۔ وزیر صحت کے ذریعہ پچھلے تین برسوں کے دوران بچوں کی موت کے جو اعدادو شمار پیش کئے گئے، وہ یہ بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ گورکھپور میں انسیفلائٹس سے بچوں کی موتوں کو روکنے کا کیا گیا وعدہ جھوٹا ثابت ہوا ہے ۔ دنکر کپور نے کہا کہ یوگی سرکار کے بننے کے ریاست کے سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کو فنڈ نہیں بھیجا گیا۔ یہاں تک کہ کئی جگہ دوا کی فراہمی تک نہیں کی گئی ہے۔ حالت اتنی بری ہے کہ ریاست میں ڈاکٹروں سمیت میڈیکل اسٹاف کی بھاری کمی ہے۔ کپور نے حادثے کا شکار ہوئے بچوں کے رشتہ داروں کو 50 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی مانگ کی۔
انسیفلائٹس کا قہر تو محض بہانہ
پروانچل میں انسیفلائٹس کا قہر اب سرکاروں کے بچنے کا بہانہ بنتا جارہا ہے۔ گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئے حادثے میں 60 سے زیادہ بچوں کی موت پر ریاست کے وزیر صحت یہ کہہ رہے ہوں کہ اس موسم میں تو بچے انسیفلائٹس سے مرتے ہی رہتے ہیں تو آپ سمجھ لیں کہ یہ جمہوریت کے مرنے کی پیشنگوئی ہے۔بچوں کی موت پر انسیفلائٹس کا بہانہ یہ بتاتا ہے کہ سرکاروں کو بدی کا مرض لگ گیا ہے ۔ انسیفلائٹس مرض دہائیوں سے بچوں کی جان لے رہا ہے اور سرکاریں بے شرمی سے کہتی ہیں کہ اس موسم میں بچے مرتے ہی ہیں تو یہ کتنے شرم کی بات ہے لیکن ہندوستانی جمہوریت میں لیڈروں کو شرم نہیں آتی ہے۔یہ کتنا دردناک سرکاری اعدادو شمار ہے کہ بارش کے موسم میں اکیلے گورکھپور بی آر ڈی اسپتال میں دو ہزار سے ڈھائی ہزار بچے بھرتی ہوتے ہیں اور قریب پانچ سو بچے مر جاتے ہیں۔ یو پی کے گور کھپور سمیت مشرقی علاقے کے 12 اضلاع کے ایک لاکھ سے زیادہ بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ 2016 میں انسیفلائٹس سے ہونے والی موتوں کی تعداد 15فیصد سے بڑھ کر 514 ہو گئی۔ یہ اعدادو شمار صرف گورکھپور میڈیکل کالج کے ہیں۔ بچے مر رہے ہیں لیکن اس کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ سرکاریں اسے جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم کا نام دیتی رہیں، لیکن بے شرم سرکاروں کو اس بات پرذرا بھی جھینپ نہیں آئی کہ جاپان نے اس بیماری پر 1958 میں ہی کارگر طریقے سے قابو پا لیا تھااور ہم اب بھی لاچار ہیں۔
پروانچل میں پچھلے چار دہائی سے جاپانی انسیفلائٹس سے بچے لگاتار مر رہے ہیں۔ مشرقی خطہ کے اضلاع کے زیادہ تر مریض بچے گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں ہی بھرتی ہوتے ہیں۔ اس اسپتال میں نہ صرف مشرقی اترپردیش کے مختلف اضلاع سے بلکہ مغربی بہار اور نیپال کے مریض بھی بھرتی ہوتے ہیں۔ زیادہ دبائو کے سبب میڈیکل کالج کو دوائیوں ، ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف، وینٹی لٹر، آکسیجن اور دیگر ضرورتوں کے لئے کافی جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔ انسیفلائٹس کی دوائوں، ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف، آلات کی خرید ، مرمت اور ان کے رکھ رکھائو کے لئے الگ سے کوئی بجٹ کا انتظام نہیں ہے ۔ گورکھپور میڈیکل کالج اسپتال میں100 بیڈ کا انسیفلائٹس وارڈ بن جانے کے باوجود مریضوں کے لئے بیڈ اور دیگر وسائل کی بھاری کمی ہے۔ میڈیکل کالج میں علاج کے لئے آنے والے انسیفلائٹس مریضوں میں آدھے سے زیادہ نیم بیہوشی کے شکار ہوتے ہیں اور انہیں فوری وینٹی لیٹر فراہم کرانے کی ضرورت رہتی ہے۔
اس اسپتال میں پیڈیا ٹریک آئی سی یو میں 50بیڈ دستیاب ہیں۔ وارڈ نمبر 12 میں کچھ وینٹی لیٹر ہیں۔ بچوں کی موت پر مرثیہ پڑھنے والے ریاست کے وزیر اعلیٰ سے لے کر مرکز کے وزیر تک گورکھپور میڈیکل کالج اسپتال میں مریضوں کے علاج کے لئے فنڈ کی کمی نہیں ہونے دینے کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصلیت یہی ہے کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج کی طرف سے پچھلے چار پانچ برسوں کے دوران مرکز اور ریاستی سرکار کو جو بھی تجویز بھیجی گئیں، وہ منظور نہیں ہوئیں۔ ان تجاویز میں یہ بھی شامل تھی کہ انسیفلائٹس کے مریضوںکے علاج میں لگے ڈاکٹروں ، نرسوں، وارڈ بوائے اور دیگر ملازموں کی تنخواہیں، مریضوںکی دوائیاں اور ان کے علاج کے کام آنے آلات کی مرمت کے لئے یکمشت بجٹ الاٹ کیا جائے۔ یہ بجٹ سالانہ قریب 40لاکھ کروڑ آتا ہے لیکن اس تجویز کو نہ اس وقت اکھلیش سرکار نے سنااور نہ مرکزی سرکار نے ۔ یہ سچی حقیقت ہے کہ 14فروری 2016 کو گورکھوپر میڈیکل کالج انتظامیہ نے میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل سے انسیفلائٹس کے علاج کے مد میں 37.99 کروڑ روپے مانگے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل نے اس خط کو نیشنل ہیلتھ مشن کے ڈائریکٹر کو بھیج کر اپنی ڈیوٹی نبھا لی اور این ایچ ایم کو بدعنوانی سے فرصت نہیں ملی۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جاپانی انسیفلائٹس کی بیماری سے جو بچے ابھر جاتے ہیں، ان میں سے بھی زیادہ تر بچے معذور ہوکر ہی واپس لوٹتے ہیں۔ ایک غیر مصدقہ رپورٹ ہے کہ مشرقی اترپردیش کے 10 اضلاع میں جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری کے سبب ذہنی اور جسمانی طور سے معذور ہوئے بچوں کی تعداد 50ہزار سے کم نہیں ہے۔ جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری میںا یک تہائی بچے ذہنی اور جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چائلڈ کمیشن نے کئی بار ریاستی سرکار کو ہدایت دی کہ جاپانی انسیفلائٹس اور اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری سے معذور ہوئے بچوں کی بڑی تعداد کا پتہ لگانے کے لئے سروے کرائے اور ان کے علاج ، تعلیم اوربحالی کے لئے ٹھوس کام ہو، لیکن یہ کام سرکاروں کی دلچسپی کے دائرے میں نہیں آتا کیونکہ معذور بچوں سے لیڈروں کو ووٹ نہیں ملتا ۔سروے کا کام سرکار نہیں کرا پائی اور غیر سرکاری اداروں نے بھی اس سروے کے کام میں دلچسپی نہیں لی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *