کیا ہوگا فیک نیوز کا نیا ایڈیشن ؟

رویش کمار
فیک نیوز کا ایک اور ہم سفر ہے پیڈ نیوز۔ پیسہ لینے کا عنصر پیڈ نیوز میں بھی ہے اور فیک نیوز میں بھی ہے۔ انتخابات میں پیڈ نیوز کی کیا دہشت گردی ہے،آپ کسی بھی پارٹی کے امیدوار سے پوچھ لیجئے۔ اب پیڈ نیوز نیوز کے کئی طریقے آگئے ہیں۔ الیکشن آتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف اسٹنگ آپریشنوں کا سیلاب آجاتا ہے۔ سروے میں اپوزیشن کو کمزور بتایا جانے لگتا ہے۔ یو پی الیکشن میں غلط سروے چھاپنے کو لے تنازع بھی ہوا تھا۔ پیڈ نیوز میںہوتا یہ ہے کہ پیسہ لے کر امیدوار کے بارے میں خبر چھپتی ہے کہ عوامی سیلاب امڈا، فلاں فلاں کی چل رہی ہے لہر۔ اسی کی نئی نسل ہے فیک نیوز۔ ہم نے انٹرنیٹ پر پیڈ نیوز کو لے کر سرچ کیا تو کئی جانکاریاں سامنے آئیں۔ آپ جانتے ہیںکہ ہر الیکشن میں پیڈ نیوز پکڑنے کے لیے ریاستی اور ضلعی سطح پر الیکشن کمیشن میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (ایم سی ایم سی )بناتا ہے۔
2013 میں الیکشن کمیشن کی ایک رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق 17 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میںپیڈ نیوز کے 1400 معاملے سامنے آئے تھے۔ یہ سبھی انتخابات 2010 سے 2013 کے درمیان ہوئے تھے۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میںپنجاب میں523، گجرات میں 414 اور ہماچل پردیش میں 104 پیڈ نیوز کے معاملے سامنے آئے۔ وہیں2013کے کرناٹک اسمبلی الیکشن میںپیڈ نیوز کے 93 معاملے سامنے آئے۔
2014 کے پارلیمانی انتخابات میںمیڈیا کی جو شکل تھی، وہ بے مثال تھی۔ یہ الیکشن بھی پیڈ نیوز سے بچ نہیںسکا تھا۔ کئی بار پیڈ نیوز کے معاملات کی رپورٹیںبھی نہیںہوتی ہیں۔ ان کے طریقے اتنے بدل گئے ہیں کہ پکڑنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ابھی تک پیڈ نیوز کی الگ سے تشریح نہیںکی گئی ہے اور نہ ہی اس کے لیے سزا کا پروویژن کیا گیا ہے۔ 2014کے پارلیمانی انتخابات میں پیڈ نیوز کے 787 کیس سامنے آئے تھے۔ سب سے زیادہ 223معاملے راجستھان میں اور 152 معاملے پنجاب میںدرج ہوئے تھے۔ آندھرا پردیش میں116 اور اترپردیش میں 86 معاملے درج ہوئے ۔ آندھرا میں116 کنفرم کیس تھے، لیکن پیڈ نیوز کے بارے میں 2168 نوٹس جاری ہوئے تھے۔ 2014 کے انتخابات میں پیڈ نیوز کے معاملے میںامیدواروں کو 3100 نوٹس جاری کئے گئے تھے۔
پیڈ نیوز تو نہیںرک رہی ہے۔ اب فیک نیوز بھی آگئی ہے۔ 2017 کے پنجاب اور یوپی کے اسمبلی انتخابات میںبھی پیڈ نیوز کے معاملے درج کئے گئے ۔ اکتوبر 2011 میںپیڈ نیوز کے الزام میں یو پی میں ’راشٹریہ پریورتن دل‘ کی ایم ایل اے اُملیش یادو کی رکنیت خارج کردی گئی تھی۔ لیکن کسی بڑی پارٹی کا امیدوار پیڈ نیوز کرتا ہوا برخاست نہیںہوا ہے۔ اس سلسلے میںایک اور نیتا پکڑے گئے ہیں، جن کا معاملہ عدالت میں بھی ثابت ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار میںآبی وسائل،پبلک رلیشن اور پارلیمانی امور کے وزیر نروتم مشرا کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 2008 کے اسمبلی الیکشن میں پیڈ نیوز کے معاملے میں مجرم پایا گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یہ صدر جمہوریہ کے الیکشن میں ووٹ نہیںکرسکے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ان پر تین سال کے لیے الیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس لحاظ سے نروتم مشرا 2018 کے اسمبلی انتخاب میں امیدوار نہیں بن پائیںگے۔ کمیشن نے پایا کہ نروتم مشرا نے 2008 کے انتخاب میںدتیہ اسمبلی میںپیڈ نیوز پر خرچ کی گئی رقم کو اپنے خرچے میںنہیںدکھایا ہے۔ حالانکہ پیڈ نیوز کے معاملے میںقصوروار پائے جانے کے بعد بھی یہ اپنے عہدے پر بنے ہوئے ہیں۔

 

 

ہوشیار رہنے کی ضرورت
ایک بات کو لے کر محتاط رہیے گا۔ میڈیا کو فیک نیوز کہنے میں خطرہ ہے۔ اس کا فائدہ ٹرمپ جیسے لیڈر اٹھا ہی رہے ہیں، نیوز چینلوں کو فیک نیوز کہہ کر۔ جو فیک نیوز ہے، اسے فیک نیوز کہا جائے۔ صحافیوں سے امید کی جاتی ہے کہ خبر چھاپنے سے قبل تین چار بار تصدیق کرلیں۔ لیکن اب آپ سے بھی امید کی جاتی ہے کہ خبر پر یقین کرنے سے قبل کئی سورس سے کنفرم کرلیں۔ اب تو نیوز ہاؤسنگ سوسائٹی کے وہاٹس ایپ گروپ سے بھی آنے لگا ہے۔ لیڈروں کے اپنے ٹویٹر ہینڈل ہیں، یو ٹیوب چینل ہیں۔ وہی جھوٹ رہے ہوں تو آپ کیا کریںگے ۔ سیاسی پارٹیوں نے وہاٹس ایپ گروپ میںمحلے تک کے لوگوںکو گھیر لیا ہے۔ گروپ کا ممبر بناکر سیاسی کچرا ٹھیلتے رہتے ہیں، جس میں سے زیادہ تر فیک نیوز ہی ہوتی ہیں۔ اس سیریز کے شروع میں ہم نے آپ کو ملینیم بگ یعنی ’وائی ٹو کے‘ کی مثال دی تھی۔ اب آپ کو 2001 کے دہلی اور شمالی ہند کے کئی علاقوں میں پھیلے منکی مین کی مثال دینا چاہتے ہیں۔
منکی مین نہ منکی تھااور نہ ہی مین تھا۔ مگر مین،ویمن، چلڈرن منکی مین کے آنے اور کاٹ لینے کے تصور میںکھوگئے۔ رات بھر جاگتے تھے۔ کسی نے اسے دیکھا نہیں، مگر بتانے والوں کی کمی نہیںتھی کہ منکی مین کیسا ہے۔ اس وقت میڈیا بھی منکی مین کو خوب کور کرتا تھا۔ مجھے جہاںتک یاد ہے، منکی مین کی پہلی خبر یو پی کے ایک ہندی اخبار میںکہیں کونے میںچھپی تھی۔ منکی مین کو لے کر تصورات ہوا میںاڑنے لگے۔ سب نے منکی مین کے بارے میں اس طرح سے بیاںکیا کہ آپ سن کر ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں گے۔ منکی مین کا ایسا وبال اٹھا تھا کہ پولیس اور سرکار بھی اس میںمصروف ہوگئی۔ کبھی پولیس نے کہا کہ یہ غیر سماجی عناصر کا کام ہے۔ چشم دیدوں کے مطابق کم سے کم دو لوگ ہیں، جو مل کر یہ انجام دے رہے ہیں۔ بتائیے چشم دید کو یہی پتہ نہیںکہ منکی مین کیسا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان کی بنیاد پر پولیس ماننے لگی کہ دو لوگ ہیں۔ دہلی پولیس سے اس وقت امید کی جانے لگی کہ وہ منکی مین کاپوٹریٹ بنائے، جیسے دہشت گردانہ حملوںکے بعد دہشت گردوں کا بنتا ہے۔ ایک بار تو پولیس نے کہہ دیاکہ نہ تو وہ انسان ہے اور نہ ہی بندر ہے،کوئی اور جانور ہے۔ پولیس کیا کرتی۔ رات بھر لوگ دہشت میں رہتے،کوئی کہیںگرتا،یا کوئی اپنا ہی سایہ دیکھ کر منکی مین چلانے لگتا۔ آخر میںہار کر دہلی پولیس نے 50,000 کا انعام رکھ دیا۔ وزارت داخلہ سے ریپڈ پولیس فورس مانگی گئی۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل کردی گئی، جس کا کام تھا منکی مین کی جانچ کرنا۔ ایک فلم آئی تھی، حیدر۔ اس کے معاون مصنف تھے بشارت پیر۔ اچھے صحافی ہیں اور ان کی کتاب ہے کرفیو نائٹ۔ بشارت کی بھی ایک رپورٹ ہے منکی مین پر۔ 20 جون 2001 کی ان کی اسٹوری بتاتی ہے کہ دہلی پولیس نے منکی مین کے اسرار سے پردہ اٹھادیا ہے۔ ایکسپرٹ کمیٹی کی رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ منکی مین تھا ہی نہیں۔ اس اسٹوری میں اس وقت کے جوائنٹ کمشنر سریش رائے نے کہا ہے کہ منکی مین میں بندر یا کوئی بھی جانور شامل نہیںہے۔ ایکسپرٹ کمیٹی میںنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومین بہیویئر (این آئی ایچ بی) اور سینٹرل فورنسک لیباریٹری (سی ایف ایل) کے ممبر بھی تھے۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ منکی مین کے پیچھے پاکستان کی آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیںہے اور نہ ہی کسی غنڈہ گروہ کا ہاتھ ہے۔ دہلی پولیس کے کمشنر اجے راج شرما نے تو 50 ہزار کا انعام بھی رکھ دیا تھا۔ انھیںلگتا تھا کہ یہ کسی گروہ کاکام ہے۔ سال 2001 کا مئی اور جون مہینہ منکی مین میں ہی بیت گیا۔ پولیس کو اس سے جڑی 379 فون کالس ملی تھیں، جس میںسے 303 بوگس نکلے۔ اس سے جڑے واقعات میں70 لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ ایک کیس میںشمال مشرقی دہلی کے رگھوناتھ پاٹھک کو ان کے بھائی نے ہی مارا تھا۔ لوگ طرح طرح کے تصور کرنے لگے تھے۔ پولیس نے مانا کہ میڈیا کی کوریج نے اس پاگل پن کو اور بڑھادیا۔ آپ کو بتا دیں کہ اس وقت کئی چینلوں نے منکی مین کی بائٹ کے لیے پانچ پانچ رپورٹر س کی ٹیم بنائی تھی،جو رات بھر دہلی میں گھوما کرتے تھے۔ ان ہی میںسے کئی آج ’پرائم ٹائم ‘ کے اینکر ہیں۔ ظاہر ہے ، 2001 میںمنکی مین کے ذریعہ جو پریکٹس کی تھی، وہ اب کام آرہی ہے۔
ویسے ہمارے چینلوں نے 2012سے پہلے کے سال میںیہ بھی خوب چلایا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے۔ فیک نیوز نام میںبھلے ہی جونیئر ہو مگر اس کام میں ہندوستان کے نیوز والے بھی کم سینئر نہیںہیں۔ غنیمت ہے کہ لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ سب بکواس ہے۔

 

 

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نوٹ بندی کا سہارا
نوٹ بندی کے دوران 2000 کے نوٹ میںکسی چِپ کے لگے ہونے کی خبر دکھادی گئی ۔ ویسے نوٹ بندی کے سبب آتنکواد اور نکسلواد کے مٹ جانے یا رک جانے کا دعویٰ بھی کردیا گیا۔ پہلی بار آتنکواد اور نکسلواد کو مٹانے کے لیے دنیا میںنوٹ بندی کا سہارا لیا گیا۔ فرق یہ آیا ہے کہ کالا دھن اب نوٹوں میں پکڑا جارہا ہے۔ کچھ لوگ آج بھی 2000 کے نوٹ میںچپ تلاش کررہے ہیں، جو ہے ہی نہیں۔ جبکہ اسی وقت ریزرو بینک آف انڈیا نے منع کردیا تھا کہ نوٹ میںاس طرح کی کوئی چپ نہیں ہے۔ اس وقت پانچ سو اور ہزار کے ساڑھے چودہ لاکھ کروڑ روپے چلن میںتھے۔ یہ وزیر سنتوش گنگوار کا بیان تھا۔ آج تک ریزرو بینک آف انڈیا نہیںبتا سکا کہ نوٹ بندی کے بعد 500 اور 1000 کے کتنے نوٹ واپس آئے؟ حال ہی میںپارلیمانی کمیٹی کے سامنے ریزرو بینک کے گورنر اُرجت پٹیل نہیں بتا سکے کہ کتنے نوٹ واپس آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹوںکی گنتی چل رہی ہے۔ریزرو بینک نے کاؤنٹنگ مشین خریدنے کے لیے ٹینڈر نکالا ہے۔ گورنر نے جنوری میںپارلیمانی کمیٹی سے کہا تھا کہ اگلی بار جب کمیٹی کے سامنے حاضر ہوں گے تو بتادیں گے کہ کتنے نوٹ واپس آئے۔ کتنے نوٹ واپس آئے ہیں؟ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کیونکہ تبھی پتہ چلے گا کہ کتنے نقلی نوٹ یا کالا دھن سرکولیشن میںتھے۔ اگر 14.50 لاکھ کروڑ ہی آئے تو پھر نوٹ بندی کیسے کامیاب کہی جائے گی۔ اس پر سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے چٹکی لیتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹ بندی کے آٹھ مہینے بعد اگر ریزرو بینک کاؤنٹنگ مشین خرید رہا ہے تو کم سے کم لیز پر لے سکتا تھا۔ راہل گاندھی نے چٹکی لیتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ سرکار کو میتھس ٹیچر کی ضرورت ہے، کسی کو پی ایم او میںاپلائی کردینا چاہیے۔ ویسے جب آپ سے بینک گن کر نوٹ لیتے ہیں تو ریزرو بینک کو بھی گن کر ہی دیتے ہوں گے۔ جب بینکوں نے نوٹ بندی کے دوران واپس کئے گئے نوٹ تبھی کے تبھی گن لیے تو اب تک ریزرو بینک کیسے نہیںگن پارہا ہے۔ کیا ریزرو بینک یہ نہیںبتا سکتا کہ بینکوں نے اپنی طرف سے گن کر اتنے نوٹ دیے ہیں، ہم اپنی طرف سے ایک اور بار گن رہے ہیں۔
1995 میںگنیش جی کی مورتی کو دودھ پلانے کا سبق ہمیں ابھی تک ٹھیک ٹھیک یاد ہے۔ نومبر 2016 میںتو ملک کی کئی ریاستوں کے لوگ دکانوں کے آگے لائن میں لگ گئے کہ چینی اور نمک کی قلت ہونے والی ہے۔ وہاٹس ایپ سے میسج آیا تھا کہ چینی اور نمک کی قلت ہونے والی ہے۔ یوپی کے اس دور کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو افواہ بتاتے رہے اور ضلع افسر کو ہدایت دینے لگے کہ افواہ پھیلانے والوں پر سخت کارروائی کریں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کو بھی بیان دینا پڑا کہ نمک کی کوئی کمی نہیں ہے۔ افواہوں کا کیا، وہ اڑتے اڑتے ممبئی پہنچی کہ نمک 200 روپے کلو ہوگیا ہے۔ ممبئی پولیس کو ٹویٹ کرنا پڑا کہ یہ افواہ ہے ۔ کئی جگہوں سے یہ بھی خبر آگئی کہ دکاندار واقعی 200سے لے کر 600 روپے کلو نمک بیچ رہے ہیں۔ حیدرآباد پولیس بھی اس افواہ یگیہ کو روکنے میںکافی محنت کررہی تھی۔
ہم فیک نیوز سے مایوس اس لیے بھی نہیںہوتے کیونکہ ہم نے کبھی بھی فیک نیوز کو مایوس نہیںکیا ہے۔2009 میںراکیش اوم پرکاش مہرہ نے ’دہلی 6‘ بنائی تھی۔ یہ فلم بھی منکی مین پر مبنی تھی۔ منکی مین کا ذکر کرنا ضروری تھا۔ گنیش جی کی مورتی کو دودھ پلالیا۔ ’وائی ٹو کے‘ کے تحت دنیا کے کمپیوٹر تباہ ہونے کا دور بھی دیکھ لیا، منکی مین بھی جھیل لیا اور اب فیک نیوز جھیل رہے ہیں۔ میںیہ سوچ رہا ہوں کہ اب ہم اس کے آگے کیا کرنے والے ہیں۔ جو بھی ہوگا، وہ فیک نیوز کا کون سا نیا ورزن ہوگا، جو ہمیں پاگل بنانے والا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *