بوتل سے نکلا بوفورس کا جن کیا اب سونیا کو بھی پلیٹ میں لے گا؟

طرح طرح کی سیاسی مشکلوں کا سامنا کررہی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی پھر ایک نئی مصیبت میں پھنستی دکھائی دے رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ 1986 سے گاندھی خاندان کے گلے کی پھانس بنا بوفورس کا جن ایک بار پھر سیاست کی بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹگ کمیٹی نے بوفورس معاملے سے جڑی کچھ بے حد خفیہ فائلوں کے غائب ہونے پر گہری ناراضگی تو ظاہر کی ہی تھی، اب سونیا گاندھی کے خلاف 2014 میں رائے بریلی سے لوک سبھا کا انتخاب لڑ چکے سپریم کورٹ کے وکیل اجے کمار اگروال نے اس کیس کی جلد سنوائی کے لئے سپریم کورٹ میں ایک مفادعامہ کی عرضی دائر کر کے معاملے کو نیا طول دے دیا ہے۔ عرضی میں سی بی آئی پر ملزموں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے پورے معاملے کو رفع دفع کرنے کا بھی الزام ہے۔ اگروال کی اس عرضی اور سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما کو لکھے ان کے تازہ خط کے سبب سپریم کورٹ سے پارلیمنٹ کے گلیاروں تک یہ معاملہ ایک بار پھر حرکت میں آگیا ہے۔

 

 

 

ضروری فائل کے کچھ حصے غائب
دراصل ،پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹنگ کمیٹی سے متعلق سیکورٹی معاملوں کی ذیلی کمیٹی نے پچھلے دنوں ہندوستان کے آڈیٹر جنرل ( کیگ ) کی رپورٹس کی جانچ کی۔ اس جانچ کے دوران ایک چونکانے والی بات سامنے آئی۔ پتہ چلا کہ بوفورس دلالی سے متعلق کیگ کی رپورٹ میں اٹھائے گئے اعتراضات کا ابھی تک ازالہ نہیں کیا گیا ہے۔اس معاملے میں جب کمیٹی کے صدر بیجو جنتا دل صدر بھرت رہری مہتاب نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر اور سکریٹری برائے دفاع کو طلب کیا، تب ایک نیا خلاصہ ہوا۔ معلوم ہوا کہ وزارت دفاع کی بوفورس گھوٹالے سے متعلق ضروری فائلوں کے کچھ حصے ہی غائب ہیں۔ ڈیفنس کمیٹی کے سخت رخ کے بعد سی بی آئی اب ان فائلوں سے گم ہوئے یا غائب کئے گئے صفحات کی تلاش میں لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہی صفحات میں بوفورس دلالی واقعہ کے وہ فارمولے چھپے ہیں جن کے تار گاندھی خاندان سے جڑے مانے جاتے ہیں۔
سی بی آئی ڈائریکٹر کو گزشتہ 3اگست کو لکھے خط میں بی جے پی لیڈر اور وکیل اجے اگروال نے بوفورس معاملے سے جڑے ان واقعات کا سلسلہ وار بیورا دیا ہے جو 10 جن پتھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یو پی اے کے دور حکومت کے دوران کئے گئے ان کاموں کو بوفورس دلالی کے اصلی گہنگاروں کو بچانے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اجے اگروال کا کہنا ہے کہ سی بی آئی نے 2003 میں بوفورس معاملے کے ملزم اٹاویو قطروچی کے لندن میں 2 بینک کھاتے منجمد کرا دیئے تھے۔ بتایا جاتاہے کہ ان کھاتوں میںدلالی کی 42کروڑ رقم جمع تھی۔ بی ایس آئی اے جی بینک لندن میں چل رہے یہ کھاتے بالترتیب 55151516ایم اور 55151516ایل قطروچی اور اس کی بیوی ماریہ کے نام تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 11-12 جنوری 2006 کو ان دونوں کھاتوں پر لگی روک اچانک ہٹا لی گئی۔ اس کے لئے ہندوستانی سرکار کے ایڈیشنل سالسٹر جنرل بی دتہ کو باقاعدہ لندن بھیجا گیا۔ حالانکہ کھاتوںپر لگی روک ہٹانے کی خبر ملتے ہی اگروال نے عدالت میں عرضی دے کر فیصلے پر اپنا اعتراض درج کرایا لیکن اس پر 16جنوری کو سنوائی ہوئی اور اسی بیچ کھاتوں میں جمع رقم کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔
عرضی میں مانگ کی گئی ہے کہ لندن کے ان دونوں بینک کھاتوں سے ادھر ادھر کی گئی دلالی کی رقم کہاں اور کسے بھیجی گئی، اس کی نئے سرے سے جانچ ضروری ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کھاتوں پرلگی روک ہٹانے کا فیصلہ یو پی اے سرکار نے کس کے اشارے پر لیا؟کھاتوں کو ڈی فریز کرنے کی جانکاری متعلقہ عدالت کو کیوں نہیں دی گئی، جبکہ معاملہ عدالت میں زیر غور تھا۔ یہی نہیں، 2009 میں قطروچی کے خلاف جاری ریڈ کارنر نوٹس بھی واپس لے لی گئی۔ ایسے کئی سوالات ہیں جن کی اگر گہرائی سے جانچ کی جائے تو سونیا گاندھی سمیت ان کے کئی قریبی شبہات کے گھیرے میں آسکتے ہیں۔ شک ظاہر کیا جارہاہے کہ قطروچی کے کھاتوں سے نکلی دلالی کی رقم آخر میں سونیاگاندھی کے کچھ قریبی لوگوں کے کھاتوں میں جمع کی گئی تھی، جو محترمہ گاندھی کے لئے بالآخر پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
عرضی گزار اجے اگروال نے اپنی عرضی میں بوفورس دلالی معاملے میں ہندوجا بندھوئوں (شری چند، گوپی چند اور اشوک ہندوجا ) کو دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ بری کئے جانے کے فیصلے پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ معلوم ہو کہ بوفورس دلالی معاملے کے ملزم ہندوجا بھائیوں کو دہلی ہائی کورٹ نے 31 مئی 2005 کو دیئے فیصلے میں بری کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سی بی آئی نے عدالت عالیہ میں اپیل بھی نہیں کی۔ اس ایشو پر اپوزیشن پارٹیوں نے ہائے توبہ مچائی تو سی بی آئی نے یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیاکہ اسے مرکزی سرکار کی وزارت قانون نے اپیل دائر کرنے کی منظوری ہی نہیں دی ہے۔ بعد میں اجے اگروال نے ایک عوامی مفاد میں عرضی کے ذریعہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی چیلنج دیا۔ 18اکتوبر 2005 کو عدالت نے ان کی یہ عرضی منظور تو کرلی لیکن تب سے اس کیسنوائی کچھوا چال سے چل رہی ہے۔ مثلاً 12اگست 2010 کے بعد اس کیس کی اگلی سنوائی 6سال بعد 1دسمبر 2016 کو ہوئی۔ اس سے سرکار اور سی بی آئی کے ارادوں کو صاف طور پر سمجھا جاسکتاہے۔ اگروال نے اب اس عرضی کی جلد سنوائی کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل لگائی ہے۔

 

 

 

 

بوفورس گھوٹالہ پر طائرانہ نظر
اب ذرا بوفورس گھوٹالے کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ دراصل 24مارچ 1986 کو ہندوستانی سرکار کی وزارت دفاع اور سویڈن کی اے بی بوفورس کمپنی کے درمیان 155 ایم ایم کی 400 ہوٹجر توپوں کی خرید اری کا معاہدہ ہوا۔ 1437 کروڑ کے اس سودے میں 64کروڑ کی دلالی لئے جانے کا الزام تھا۔ جب 16اپریل 1987 کو سویڈش ریڈیو نے یہ خلاصہ کیا کہ اس دفاعی سودے میں کچھ بااثر لیڈر وں اور فوج کے افسروں کو دلالی کی رقم دی گئی ہے تو پارلیمنٹ سے سڑک تک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس گھوٹالے میں نشانے پر تھے۔ انہی کی سرکار میں وزیر دفاع رہے وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے اسے سیاسی ہتھیار کی شکل میں استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں مہم چھیردی۔ نتیجتاً1989 میں راجیو گاندھی کو اقتدار گنوانا پڑا۔
وی پی سنگھ کی قیادت میں جنتا دل کی سرکار بننے پر 22 جنوری 1990 کو سی بی آئی نے اس گھوٹالے پر ایف آئی آر درج کی، جس میں بوفورس کمپنی کے چیئر مین مارٹن اورڈیو، کمپنی کے ہندوستان میں نمائندہ وِن چڈھا اور ہندوجا بندھوئوں کو ملزم بنایا گیا۔ لمبی چھان بین کے بعد 1999-2000 میں سی بی آئی نے اس معاملے میں مارٹن اورڈیبو، ون چڈھا ، اتالوی شہری اٹاویو قطروچی ، سابق وزیر دفاع ایس کے بھٹناگر اور برطانوی بھارتی ہندوجا بھائیوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کئے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ سنگین الزامات کے باجود قطروچی جولائی 1993 میں ملک سے باہر بھاگ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی خاندان سے اپنی قربت کی وجہ سے قطروچی لمبے وقت تک قانون اور عدالت کی خلاف ورزی کرتا رہا۔ ملزم ہونے کے بعد بھی وہ کبھی عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔ منموہن سنگھ سرکار کے وقت 4مئی 2011 کو سی بی آئی عدالت نے قطروچی کو یہ دلیل دے کر کیس سے بری کردیا کہ سرکار اب اس کی حوالگی پر عوام کی گاڑھی کمائی کا اور پیسہ خرچ نہیں کرسکتی۔ سرکار 64کروڑ کے اس گھوٹالے کا سچ جاننے کے نام پر ویسے ہی تقریباً 250 کروڑ پھونک چکی ہے۔ بعد میں 13جولائی 2013 کو قطروچی کی موت ہو گئی۔
قطروچی کے علاوہ بوفورس معاملے کے تین ملزم مارٹن اورڈیبو، ایس کے بھٹناگر اور وِن چڈھا بھی اب تک دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ہندوجا بھائیوںکو ہائی کورٹ کے ذریعہ بری کئے جانے کے فیصلے کے خلاف کی گئی اپیل سپریم کورٹ میں ٹھنڈے بستے میں پڑی ہے جبکہ ان کے خلاف ڈھیروں ثبوت اب بھی موجود ہیں۔
پچھلے دنوں بوفورس گھوٹالے سے متعلق خبریں میڈیا میں آنے کے بعد یہ ایشو پارلیمنٹ میں بھی گرماتا رہا۔ کچھ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے پورے معاملے کی نئے سرے سے جانچ کرانے کی بھی مانگ کی۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں دلالی کی رقم کھانے سے بڑا سوال ملک کی سیکورٹی سے جڑا ہوا ہے۔ اجے اگروال نے اپنی عرضی میں یہ سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ جب فرانس کی سوفما توپیں فوجی افسروں اور تکنیکی ماہروں کی نظر میں بوفورس توپوں کے مقابلے بہتر تھیں اور فرانس اس کی تکنیک اور گولہ بارود ینے کو بھی تیار تھا تو بوفورس توپیں خریدی ہی کیوں گئیں؟اگر ہماری فوج کے پاس بوفورس سے زیادہ دوری تک نشانہ لگانے والی سوفما توپیں ہوتی تو شاید کارگل جنگ میں اتنی بڑی تعداد میں ہمارے جوانوں کی موت نہیں ہوتی اور ہم جنگ میں فتح بھی جلد حاصل کر لیتے۔
بہر حال پارلیمنٹ میں اٹھے سوالوں کے بعد عرضی گزار اگروال نے ٹرانزٹ ڈائریکٹوریٹ کو بھی ایک خط بھیجا ہے۔ 28جولائی کو بھیجے گئے اس خط میں دلالی کی رقم کو غیر قانونی طریقے سے ٹرانسفر کرنے ،قطروچی کے کھاتوں پر لگی روک ہٹانے کی فیما اور منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جانچ کرانے کی مانگ کی گئی ہے۔ ظاہر ہے اگر سپریم کورٹ ،سی بی آئی اور ٹرانزٹ ڈائریکٹوریٹ بوفورس معاملے کی نئے سرے سے جانچ کراتے ہیں تو گھوٹالے کی نئی تہیں تو کھلیں گی ہی، ساتھ ہی سونیا گاندھی بھی جانچ کی زد میں ضرور آئیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *