مغربی بنگال ’جادو پور یونیورسٹی‘ اور ’ عالیہ یونیورسٹی ‘کے تئیں حکو مت کارویہ الگ الگ کیوں

نور اللہ جاوید
مغربی بنگال حکومت کی دو یونیورسٹیاں ’’جادو پور یونیورسٹی‘‘ اور اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلئے قائم ’’عالیہ یونیورسٹی‘‘ ریاست کے زیر انتظام ہیں۔ ان دونوں یونیورسٹیوں کیلئے قوانین ، ضوابط اور اصول یکساں ہیں ۔بس صرف فرق یہ ہے کہ جادو پوریونیورسٹی وزارت تعلیم کے تحت چلتی ہے اور عالیہ یونیورسٹی وزارت اقلیتی امور ومدرسہ تعلیم کے تحت ہے۔لیکن دونوں یونیورسٹیوں کے لئے حکومت کے قوانین و ضوابط یکساں ہیں اور ان دونوں کو یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے متعین کردہ قوانین اور رہنماء اصول کی پاسداری بھی یکساں طور پر کرنی پڑتی ہے ۔مگر ان دونوں یونیورسٹیوں کے انتظامیہ اور حکومت کے رویوں میں آپ ہمیشہ نمایاں فرق محسوس کریں گے۔ان دونوں یونیورسٹیوں کو عوام اور میڈیا بھی الگ نگاہ سے دیکھتی ہے۔سوال ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ جب ایک ہی حکومت کی یہ دونوں یونیورسٹیاں ہیں تو حکومت اور انتظامیہ کے رویوں میں فرق کیوں ہے؟آئیے پہلے ان دونوں یونیورسٹیوں کے تئیں حکومت اور انتظامیہ کے رویوںکو جانیں اور پھر اس کے بعداس کی وجہ بھی ہم جاننے کی کوشش کریں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

 

 

 

حکومت اور انتظامیہ کے رویے
عالیہ یونیورسٹی میں گزشتہ ایک مہینے سے وائس چانسلر اور دیگر امور پر طلباء احتجاج کررہے ہیں ،تعلیمی نظام ٹھپ ہے، اساتذہ موجودہ حالات سے بیزار ہیں ۔ وہ پڑھانے کیلئے آتے ہیں مگر احتجاج کی وجہ سے واپس چلے جاتے ہیں ۔اس درمیان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے احتجاج و ہڑتال کو ختم کرنے اور یونیورسٹی میں تعلیمی نظام کو بحال کرنے کی کوئی پہل نہیں ہوئی ۔اور میڈیابالخصوص اردو میڈیا جو عموماً اقلیت اور ملت کے ترجمانی کے زعم میں مبتلا رہتی ہے،میں بھی اس پر غیر جانبدار ی سے کوئی رپورٹنگ نہیں ہوئی۔گزشتہ 11اگست کو جب عالیہ یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کونسل کی میٹنگ ہورہی تھی تب طلباء ای سی کے ممبران سے ملاقات کرنا چاہتے تھے مگرسیکڑوں کی تعداد میں پولس اہلکار وں کو تعینات کردیا گیا ۔طلباء کے احتجاج کی وجہ سے ای سی کی میٹنگ کویونیورسٹی کے راجر ہاٹ کیمپس سے متصل مدینۃ الحجاج میں منتقل کیا گیا ۔ میٹنگ کے بعد نکل رہے ممبران کی گاڑیوں کے سامنے طلباء نے سوکر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولس نے طاقت کا مظاہرہ کیا اور طلباء پر لاٹھی چارج کردیا اور 9سے زاید طلباء کو گرفتار کرلیا گیا ۔طلباء کے خلاف کئی غیر ضمانتی دفعات لگائے گئے ہیں ۔ایک ہفتہ ہونے کو ہیں،(تا دم تحریر یعنی 17اگست ) اب تک یہ طلباء جیل میں ہیں۔
عالیہ یونیورسٹی کی طرح مغربی بنگال کی مشہور جادو پوریونیورسٹی میں 10اگست کو مغربی بنگال حکومت کے یونین انتخابات کو ختم کرکے طلباء کونسل کے نظام کو بحال کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج شروع ہوا، طلباء ایگزیکٹیو کمیٹی پر دبائو بنارہے تھے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف مذمتی خط لکھیں۔اس کیلئے طلباء نے وائس چانسلر اور دیگر عہدیداروں کا 48گھنٹے سے زاید وقفے تک محاصرہ کیا ۔اس درمیان کئی مرتبہ وائس چانسلر طلباء سے بات چیت کی کوشش کی اور میڈیا سے بھی بات کی ۔ وائس چانسلر نے طلباء سے کہا کہ ان کی یونیورسٹی ریاست کے زیر انتظام ہے، اس لیے وہ ریاستی حکومت کے خلاف نہیں جاسکتے ہیں؟مگر اس سوال پر کہ کیا طلباء کے احتجاج کو طاقت کے ذریعہ ختم کرایا جائے گا ۔وائس چانسلر نے واضح طور پر کہدیا کہ اگر ان کا محاصر ہے اور وہ باہر نہیں نکل پارہے ہیں مگر اس کے باووجود وہ اپنے طلباء کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔آخرکار تین دن بعد طلباء کے شدید دبائو کے سامنے جھکتے ہوئے جادو پور یونیورسٹی انتظامیہ ممتا بنرجی کی حکومت کو خط لکھنے پر رضا مند ہوگئی۔خط کا متن ملاحظہ کیجئے ’’آپ نے جو طلباء یونین انتخابا ت پر پابندی اور اس کی جگہ یونین کونسل کے نظام کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ غیر جمہوری ہے۔نہ صرف یونیورسٹی کے طلباء بلکہ اساتذہ اور ریسرچ اسکالر بھی اس کے خلاف ہیں ‘‘۔

 

 

 

پہلا موقع نہیں
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جادو پور یونیورسٹی میں ہڑتال کے دوران وائس چانسلر اور دیگر انتظامی عملہ طلباء کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آئے۔گزشتہ سال جے این یو میں مبینہ طور پر ملک مخالفت نعرہ اور کنہیا کمار و عمر خالد کی گرفتاری کے بعد جادو پور یونیورسٹی میں بھی جے این یو طلباء یونین کی حمایت جلوس نکالا گیا اور اس میں بھی ملک مخالف نعرے لگائے گئے۔اس موقع پر یہاںپر بھی سیاست شروع ہوئی ، طلباء کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا مگر اس موقع پر جادو پور یونیورسٹی کے وائس چانسلرسورنجن داس سامنے آگئے ہیں اور بیان جاری کیا کہ’’ملک مخالف نعرے بازی میں ہمارے طلباء شامل نہیں ہیں ، جلوس میں بیرونی عناصر داخل ہوگئے تھے، جہاں تک اظہار رائے کی آزادی اور یونیورسٹی کی خود مختاری کا سوال ہے تو ہم اس کی نہ صرف حفاظت کریں گے بلکہ اس بات کو یقینی بھی بنائیں گے ہمارے طلباء اظہار رائے کی آزادی کے تحت اپنے نظریات اور فکر کو عوام کے سامنے پیش کریں‘‘۔اسی طرح دو سال قبل جب جادو پوریونیورسٹی میں پولس داخل ہوئی اور اس کے بعد احتجاج شروع ہوا توجادو پور یونیورسٹی کے سابق طلباء ’ دانشور اور سول سوسائٹی متحد ہوکر جادو پور یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ آخرکا ر حکومت نے اس وقت کے وائس چانسلر سے استعفیٰ لے لیا۔
مذکورہ بالاتفصیلات سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک ہی اصول و ضوابط اور قوانین کے تحت چلنے والی دو یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کے رویوں اور انتظامیہ کے طریقے کار میں نمایاں فرق ہے۔ ایک طرف جادو پوریونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں جوہمہ وقت طلباء کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں،ان کی اظہار رائے کی آزادی کی حفاظت اوران کے مطالبات کو حکومت کو آگاہ کرنے کیلئے خط تک لکھنے کو تیار ہوجاتے ہیں تو دوسری طرف عالیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں جو ایک مہینے سے جاری ہڑتال پر توجہ دینے کی ضرورت تک محسوس نہیں کرتے ہیں ۔تعلیمی نظام ٹھپ ہو یا ختم ہوجائے اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں ، معمولی احتجاج پر طلباء پر لاٹھی چار چ اور گرفتارکرلیا جاتا ہے مگر وائس چانسلر جو طلباء کے گارجین ہوتے ہیں انہیں ان طلباء کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟در اصل جادو پوریونیورسٹی ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جس کا ووٹ بینک سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کی پوری توجہ صرف تعلیمی معیارکی بلندی پر ہے اور نہ حکومت اس پر سیاست کرتی ہیں اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ حکومت کے آگے سجدہ ریز ہوکر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جادو پوریونیورسٹی کے وائس چانسلر سرکاری پروگراموں میں نہ شرکت کرتے ہیں اور نہ وہ اس کیلئے متمنی ہیں ۔جب کہ عالیہ یونیورسٹی کا تعلق ووٹ بینک سے ہے۔ اس یونیورسٹی کو اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے نام پرقائم کیا گیاہے ۔اس لیے عالیہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو دکھلا کر مسلمانوں سے ووٹ مانگا جاتا ہے اور مسلمان ووٹ بھی دیتے ہیں۔اس کی وجہ سے پوری یونیورسٹی سیاسی اکھاڑہ بن گیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ سے لے کر طلباء اور اساتذہ سبھوں کا سیاسی استعمال ہوتا ہے اور ہورہا ہے ۔کیا یہ تعجب خیز بات نہیں ہے کہ جادو پوریونیورسٹی کے طلباء حکومت کے بل کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ سے خط تحریر کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دوسری طرف عالیہ یونیورسٹی کے طلباء ہیں جوبار بار یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ان کی لڑائی اور احتجاج ممتا بنرجی حکومت کے خلاف نہیں ہے اوروہ صرف وائس چانسلر کے طریقہ کار اور ان کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، اس کے باوجود ان پر لاٹھی چارج اور گرفتاری ہو جاتی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ جب عالیہ یونیورسٹی کے نام پر حکومت ووٹ مانگ سکتی ہے ؟ اس یونیورسٹی کیلئے اقلیتوں کیلئے مختص فنڈ کا ایک بڑا حصہ دیدیا جاتا ہے تو پھر کیا مسلم دانشوروں اور سماجی کارکنان اور مسلم لیڈران کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ عالیہ یونیورسٹی میں جاری تعطل کو ختم کرانے اور تعلیمی نظام کو بحال کرنے کیلئے کوشش کریں ۔یہ بات درست ہے کہ تعلیمی اداروں میں باہری عناصر کی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے مگر جب ایک خاص حکمت عملی کے تحت ایک اقلیتی ادارہ کو برباد کیا جارہا ہے تو کیا حکومتی سطح پر اس کیلئے کوشش نہیں ہونی چاہیے؟جب جادو پورمیں ہڑتال ہوتی ہے تو وزیر تعلیم فوری حرکت میں آجاتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ پھر عالیہ یونیورسٹی کے ہڑتال پر حکومت کیوں خاموش رہتی ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عالیہ یونیورسٹی میں 90فیصد طلباء کا تعلق مسلم طبقے سے ہے اس لیے حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے؟ دراصل جوقومیں اپنے بچوں کے مستقبل سے آنکھ پھیر لیتی ہیں، ان کے بچوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *