گندگی اٹھانے کا رواج ملک کے ماتھے پر ہنوز بدنما داغ

ہاتھ سے گندگی اٹھانے،سر پر ڈھونے یا مینوئل اسکیوینجنگ کا گھناؤنا اور غیر انسانی کام آج بھی ہمارے ملک میںنہ صرف جاری ہے بلکہ اس کام میںلگے ہوئے  صفائی ملازمین اور بے وقت اموات کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیںلے رہا ہے۔ تازہ واقعہ مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع کا ہے۔ یہاں سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے کی وجہ سے چار نوجوان صفائی ملازمین کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس کے مطابق 31 جولائی کی صبح وجے سیہوٹے (20)، ایشور سیہوٹے (35)،نیش گوئل (35) اور رنکو گوئل (16) صفائی کرنے کے لیے  سیپٹنک  ٹینک میںاترے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی ٹینک سے زندہ واپس نہیں آسکا تھا۔ خبروں کے مطابق اس کام کے لیے 8000 روپے محنتانہ طے کیا گیا تھا۔ مدھیہ پردیش کے واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ پچھلے مہینے ملک کی راجدھانی دہلی میں دیکھنے کو ملا۔ یہاں جنوبی دہلی کے گھیٹورنی علاقے میںسیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران چار صفائی ملامین بے وقت موت کے منہ میں سما گئے۔ اگر صفائی ملازمین کی بہبود اور مینوئل اسکیوینجنگ پر روک لگانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ادارے صفائی  کرمچاری آندولن  کے اعداد وشمار پر یقین کیا جائے تو 2014اور 2016 کے دوران سیپٹک ٹینکوں اور سیور لائنوں کی صفائی کے دوران سیپٹک ٹینکوں اور سیور لائنوں کی صفائی کے دوران ملک میں1300 صفائی ملازمین کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ یہ صورت حال اس وقت ہے جب اس رواج کے خلاف قانونی پروویژن موجود ہے۔ہاتھ سے گندگی اٹھانے،سر پر ڈھونے یا مینوئل اسکیوینجنگ کا گھناؤنا اور غیر انسانی کام آج بھی ہمارے ملک میںنہ صرف جاری ہے بلکہ اس کام میںلگے ہوئے  صفائی ملازمین اور بے وقت اموات کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیںلے رہا ہے۔ تازہ واقعہ مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع کا ہے۔ یہاں سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے کی وجہ سے چار نوجوان صفائی ملازمین کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس کے مطابق 31 جولائی کی صبح وجے سیہوٹے (20)، ایشور سیہوٹے (35)،نیش گوئل (35) اور رنکو گوئل (16) صفائی کرنے کے لیے  سیپٹنک  ٹینک میںاترے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی ٹینک سے زندہ واپس نہیں آسکا تھا۔ خبروں کے مطابق اس کام کے لیے 8000 روپے محنتانہ طے کیا گیا تھا۔ مدھیہ پردیش کے واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ پچھلے مہینے ملک کی راجدھانی دہلی میں دیکھنے کو ملا۔ یہاں جنوبی دہلی کے گھیٹورنی علاقے میںسیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران چار صفائی ملامین بے وقت موت کے منہ میں سما گئے۔ اگر صفائی ملازمین کی بہبود اور مینوئل اسکیوینجنگ پر روک لگانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ادارے صفائی  کرمچاری آندولن  کے اعداد وشمار پر یقین کیا جائے تو 2014اور 2016 کے دوران سیپٹک ٹینکوں اور سیور لائنوں کی صفائی کے دوران سیپٹک ٹینکوں اور سیور لائنوں کی صفائی کے دوران ملک میں1300 صفائی ملازمین کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ یہ صورت حال اس وقت ہے جب اس رواج کے خلاف قانونی پروویژن موجود ہے۔باعث شرمندگی گندگی کا رواج ملک کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جسے دیکھ کر سب کو شرمندگی تو سب کو محسوس ہوتی ہے اور سبھی ایک آواز میں اس کے خاتمہ کی بات بھی کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر اس کے خاتمے کو لے کر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی دیتی۔ اس رواج کے خلاف سالوںسے آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ سیاسی سطح پر سب سے پہلی آواز 1901 کے کانگریس اجلاس میںمہاتما گاندھی نے اٹھائی تھی۔ انھوں نے اسے ملک کے اوپر ایک بدنماداغ قرار دیاتھا۔

 

 

 

دراصل گاندھی جی کے بعد اس رواج کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی کمی نہیںرہی ہے۔ موجودہ سرکار اور پچھلی سرکاروں نے بھی اس غیر انسانی کاروبار کا نوٹس لیا۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسے نسلی رنگ بھید کہا تھا، وہیںموجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسے ملک کے ماتھے پر کلنک بتاتے ہوئے اس کے جلد سے جلد خاتمے کے لیے عام لوگون کا تعاون چاہتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس برائی کے خلاف سیاسی قوت ارادی کے دکھاوے کی کوئی کمی نہیں ہے۔  پھر آخر  کیا وجہ ہے کہ 1901 میں گاندھی جی نے جس رواج کو ملک کا کلنک بتاکر اس سے نجات حاصل کرنے کی آواز اٹھائی تھی،آزاد ہندوستان میں بھی اس آواز کو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے کانوں تک پہنچنے میں تقریباً آدھی صدی کا وقت لگ گیا۔ اس رواج کے خلاف ہندوستان میں پہلی بار 1993 میں قانون بنایا گیا۔ بہرحال آزادی کے تقریباً پچاس سال بعد سرکاری سطح پر کچھ آہٹ دکھائی دی اور 1993 میں گندگی ڈھونے والوں کے روزگار اور خشک ٹوائلٹس کی تعمیر پر روک لگانے کے لیے ایک قانون پاس کیا گیا۔ 1993 میں ہی صفائی کرمچاری آیوگ کی تشکیل ہوئی۔ چونکہ اس قانون میں بہت ساری خامیاں تھیں اس لیے 2013 میں ایک اور قانون پاس کیا گیا۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہاتھ سے گندگی اٹھانے اور سر پر ڈھونے کا رواج نہ صرف جاری ہے بلکہ اس پیشے کو اپنانے پر مجبور لوگ سیپٹک ٹینکوں اور سیوروں کی صفائی کے دوران لگاتار موت کا شکار بھی بن رہے ہیں۔ آئے دن سیور اور سیپٹک کی صفائی کے دوران زہریلی گیسوں کی لپیٹ میںآکر سیکڑوںلوگ مارے جارہے ہیں۔  خصوصی قانون کا اثر  سال 1993 میںگندگی ڈھونے والوں کو روزگار اور خشک ٹوائلٹس کی تعمیر (ممنوع) ایکٹ 1993 میں پاس کرکے گندگی ڈھونے کا رواج اور خشک ٹوائلٹس کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ حالانکہ اس قانون کے تحت قصورواروں کو ایک سال کی قید اور دو ہزار روپے جرمانہ کا پروویژن رکھا گیاتھا لیکن یہ قانون کبھی صحیح ڈھنگ سے لاگو نہیں ہوا۔ چونکہ قانون پاس ہونے سے قبل ہی اس کے غلط استعمال کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ اسی کے مدنظر اس میںیہ پروویژن رکھا گیا کہ ایسے تمام معاملوں میںصرف ضلع مجسٹریٹ ہی مقدمہ دائر کرسکتا تھا۔ صفائی کرمچاری آندولن کے کنوینر وجواڈا ولسن کے مطابق اس قانون کے تحت 1993 سے لے کر 2002 تک ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا لیکن اس کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ 1993سے قبل اس رواج سے جڑے لوگ باہر آنے اور آواز اٹھانے میں شرم محسوس کرتے تھے، وہ یہ قانون لاگو ہونے کے بعد نہ صرف باہر آکر آواز اٹھانے لگے بلکہ اس کام کو چھوڑ کر متبادل روزگار کی تلاش بھی کرنے لگے۔  اس میںکوئی شک نہیںکہ سرکاری سطح پر یہ قانون لاگو کرنے میںکسی طرح کی کوئی قوت ارادی نہیںدکھائی دی۔ سرکاری سطح پر  محض ٹال مٹول کی کوشش ہوتی رہی ۔ سال 1993 اور 2012 کے بیچ مرکزی سرکار اور سریاستی سرکاروں کی طرف سے  اس  رواج کو پوری طرح سے ختم کرنے کے لیے کئی بار مدت میعادبدلی گئی لیکن حالات جوں کے توں بنے رہے۔ صفائی کرمچاری آیوگ کی تشکیل کا بھی کوئی متوقع نتیجہ سامنے نہیں آیا بلکہ الٹا اثر یہ ہونے لگا کہ اگر کسی غیر سرکاری ادارہ یا سول سوسائٹی کا کوئی شخص اس مسئلے کو لے کر سرکار یا کسی ذمہ دار افسر کے پاس جاتا تو اسے آیوگ میںاپنی شکایت درج کرنے کے لیے کہہ کر  اپنا  پلہ جھاڑ لیا جاتا تھا۔ صفائی کرمچاری آیوگ اور 1993 کا قانون اس رواج کو ختم کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے اور گندگی کے رواج کو ختم کرنے کی کئی حدیںبدلنے کے باوجود صورت حال میںکوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ایسے  میں سول سوسائٹی اور اس شعبے میں کام کرنے والی رضاکار تنظیموںکے دباؤ کے بعد 2013 میںہاتھ سے میلا ڈھونے والے ملازمین کے لیے پرہبیشن آف امپلائمنٹ ایز مینوئل اسکیوینجر اینڈ دیئر رہیبلی ٹیشن ایکٹ پاس ہوا۔ اس قانون میںیہ پروویژن رکھا گیا کہ سیپٹک ٹینک اور سیور کی صفائی کرنے والوںکے بھی مینوئل اسکیوینجیر منظور کیے جائیںگے۔ کوئی بھی انسان صفائی کے لیے سیور کے اندر نہیں جائے گا، اگر جائے گا بھی تو ایمرجنسی کی حالت میں اور کافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ۔ ایکٹ میں اس رواج سے جڑے لوگوں کی بازآبادکاری کے لیے مالی مدد دینے کے لیے سروے کرانے کا بھی پروویژن رکھا گیا تھا۔ لیکن ابھی تک کے جو اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں، ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قانون پر کچھوے کی رفتار سے پیش رفت ہورہی ہے۔ حالیہ دنوں میںسرکار نے صفائی ملازمین کی باز آبادکاری سے متعلق جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں، ان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔عدالتی احکام ملک کی عدالتوں نے وقتاً فوقتاً اس سنگین مدعے کا نوٹس لیتے ہوئے سرکاروں سے کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا جو اس نے 27 مارچ 2014 کو ایک صفائی ملازم کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے میںکورٹ نے سبھی ریاستوں اور مرکز کی زیر انتظام ریاستوں کو 2013 کا قانون پوری طرح نافذ کرنے، سیوروں اور سیپٹک ٹینکوں میںہوانے والی موتیں روکنے، 1993 کے بعد سیور سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران سبھی مرنے والوں کے منحصرین کو دس لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے تین سال بعد سرکار کی طرف سے جو اعداد و شمار دیے جارہے ہیں،اس میںقانونی لیپاپوتی زیادہ ہے اور زمینی سطح پر کام کم۔ حال ہی میں سرکار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 91 فیصد صفائی ملاز مین کو ایک بار دی جانے والی 40,000 روپے کی رقم کا معاوضہ دیا چکا ہے۔اعداد وشمار کیا کہتے ہیںبہرحال سرکار یہ دعویٰ تو کررہی ہے کہ اس نے 91 فیصد صفائی ملازمین کو امدادی رقم دے دی ہے لیکن یہ نہیں بتا رہی ہے کہ اس نے 2011 کی مردم شماری میں جتنے لوگوں نے اپنا پیشہ مینوئل اسکیوینجنگ بتایا تھا،ان میںسے 93 فیصد کی پہچان سرکار ابھی تک نہیں کرپائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے وزیر تھاور چند گہلوت نے لوک سبھا کو بتایا کہ اس پیشہ سے جڑے 12,742 لوگوں کی پہچان کرکے 11,598 لو گوں کو 40,000 روپے کا معاوضہ دے دیا گیا ہے اور ان کے اسکل ڈیولپمنٹ کے لیے بھی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ 2011 کی سماجی ، اقتصادی اور ذات برادری کی مردم شماری میںملک کے 1,82,505  خاندانوں میں سے کم سے کم ایک ممبر اس کام سے جڑا ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ تعداد آج اس سے کہیںزیادہ ہوگی۔ بہرحال اعداد و شمار کے کھیل کی ماہرسرکار نے 91 فیصد کا آنکڑہ پیش کرکے اپنی  پیٹھ تھپتھپالی لیکن بڑ اسوال جو تھا، وہ وہیں کا وہیں رہا۔ جہاں تک سیپٹک ٹینکوں اور سیور کی صفائی کے دوران مرنے والے صفائی ملازمین کا سوال ہے تو اس بارے میںسرکار نے ابھی تک اس بارے میںسبھی ریاستوںنے سروے کا کام بھی پورا نہیںکیا ہے۔ مینوئل اسکیوینجرس کی بازآبادکاری کے لیے خود روزگار منصوبہ ٰ(ایس آر ایم ایس) کا بجٹ بھی کم کردیا گیا ہے۔ ا س منصوبے کے تحت کم سود پر پانچ لاکھ روپے تک کے لون کا پروویژن ہے۔ گزشتہ تین سالوں میںصرف 658 پروجیکٹس کی منظوری ملی ہے جو نشان زد صفائی ملازمین کا صرف پانچ فیصد ہے۔

 

 

 

 

ابھی تک سال 2017-18 کے لیے ایک بھی پروجیکٹ منظور نہیںہوا ہے۔ خودروزگار منصوبہ بندی کی مد میںگزشتہ تین سالوں میں98 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اس کے لیے صفائی ملازمین میں خواندگی کی کمی اور اپنا روزگار منصوبہ شروع کرنے کے لیے قوت ارادی کا فقدان بتایا جارہا ہے۔ غور طلب ہے کہ صفائی کرمچاری آندولن نے سال 2014 میں ایک سیور اور سیپٹک ٹینکوں میں مرنے والے 1327 صفائی ملازمین کی ایک فہرست تیار کی تھی، جن میں سے صرف 3 فیصد کو ہی معاوضہ مل پایا تھا، باقی کو موت کی سرکاری  تعریف میں الجھاکر رکھ دیا گیا تھا۔ہاتھ سے گندگی ڈھونے کے رواج کو سب سے زیادہ طاقت خشک ٹوائلٹس سے ملتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی مردم شماری کے اندراج میں گھال میل کا الزام ہے کیونکہ سماجی، اقتصادی اور ذات برادری کی مردم شماری کے فارم میںخشک ٹوائلٹس کے بجائے گندا آنسینٹری ٹوائلٹ کا کالم لاکر اس کو لفظوں  کے مایاجال میںالجھا دیا گیا ۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ خشک ٹوائلٹس کس طبقے کے لوگوں کے یہاں اور کس علاقے میںزیادہ پائے جاتے ہیں۔ سوچھ ابھیان میںگندگی کا پہلوغائبسوچھ بھارت ابھیان کے تحت جو شوچالے بن رہے ہیں اور کیسے ان کا استعمال ہورہا ہے، اس پر ’چوتھی دنیا‘ کئی رپورٹ شائع کرچکا ہے۔ سوچھ بھارت ابھیان میںمیلا ڈھونے سے نجات پانے جیسی کوئی با ت نہیںکہی گئی ہے، سارا زور صرف ٹوائلٹس کی تعمیر پر ہے۔ ظاہر ہے جب ملک میںکروڑوں  ٹوائلٹس  بنیںگے اور ان کے سیپٹک ٹینک کی صفائی کا کوئی میکینکل بندوبست نہیںہوگا تو اسے کسی انسان کو ہی اپنے ہاتھوںسے صاف کرنا ہوگا۔ یعنی یہ غیر انسانی رواج بدستور جاری رہے گا اور سیپٹک ٹینکوں میںصفائی ملازمین کی موت ہوتی رہے گی۔ ریلوے کے کھلے ٹوائلٹس انسانی گندگی کو ریلوے ٹریکس پر گرادیتے ہیں، جسے کوئی صفائی ملازم اپنے ہاتھوںسے صاف کرتا ہے۔ اس سال ریل ڈبوں میںچالیس ہزار بایو ٹوائلٹس فراہم کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔اس رواج سے جڑے زیادہ تر لوگ شیڈول کاسٹ کے ہوتے ہیں جو سیکڑوں سالوںسے چھواچھوت کا شکار رہے ہیں۔ لیکن صفائی ملازمین کا المیہ یہ ہے کہ ان کا کام انھیںشیڈول کاسٹ میںبھی سب سے نچلے پائیدان پر کھڑا کردیتا ہے اور ذات برادری کے بائیکاٹ کا بھی سامناکرنا پڑتا ہے۔ سرکاروں نے تو قانون بنا دیا ہے۔ عدالتیں بھی سرکاروں کو حکم جاری کرتی رہتی ہیں، لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں  کچھ  ہوتا ہوا دکھائی نہیںدیتا۔ صفائی ملازمین کا سروے نہیں ہوا ہے۔ ان کی بازآبادکاری کے لیے بجٹ میںہر سال کمی کی جارہی ہے۔ لے دے کر اسکل ڈیولپمنٹ پر تان توڑ دی جاتی ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ کی خستہ حالی پر اخبار بھرے پڑے ہیں۔ کسی شخص کو سیور اور سیپٹک ٹینک میںبغیر کسی صحیح اوزار کے صفائی کرانا قانوناً جرم ہے جس کے لیے دس سال کی قیدا ور پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانہ کا پروویژن ہے۔ اگر صفائی  کرچاری  آندولن کے اعداد وشمار کو صحیح مان لیا جائے تو 1327 اموات کے بعد بنگلور میں پہلی بار غیر ارادی قتل کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پہلے ایسے معاملوں میں لاپرواہی سے ہوئی موت کا معاملہ درج کیا جاتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ چاہے موجودہ سرکار ہو یا اس سے پہلے کی سرکاریں،ان کے قول و فعل میںبہت فرق ہے۔ اب تک کی جو صورت حال ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مینوئل اسکیوینجنگ کے تئیںنہ تو پہلے کی سرکاریں سنجیدہ تھیں اور نہ ہی موجودہ سرکا سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ اس لیے سول سوسائٹی کو ہی آگے آکر اس داغ سے پاک سماج کو نجات دلانی پڑے گی۔  مختلف ریاستوں کی صورت حال آندھرا پردیش 78آسام 191 بہار 137چھتیس گڑھ 3کرناٹک 726مدھیہ پردیش 36اڑیسہ 237پنجاب 91راجستھان 322تمل ناڈو 363اترپردیش 10,317اتراکھنڈ 137مغربی بنگال 104

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *