جدوجہد اور خود اعتمادی کا دوسرا نام کنگنا رانا وت ہے

بالی ووڈ کی ادکارہ کنگنا راناوت کی زندگی میں کافی اتار چڑھائو رہا ہے۔ انہیں زندگی میں ہر چیز چاہے۔ وہ چھوٹی ہو یا بڑی لڑنے کے بعد ہی حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میرے سفر میں ایک ہی پہلو سامنے آتا ہے کہ مجھے ہر چیز لڑ کر ہی ملی ہے۔ ان یہ بھی کہنا ہے کہ ‘اب تو یہ لڑائی میری زندگی کا اصول بن گئی ہے۔ مجھے اس سے مشکل بھی نہیں ہے۔ میرا جو حق ہے میں اسے لے کر ہی رہوں گی۔
کنگنا راناوت اپنے گھر سے اپنی جیب میں محض 1500 روپئے لے کر ممبئی پہنچیں۔ انہوں نے وہ کبھی ممبئی دیکھا تک نہیں تھا۔ انہوں نے بسوں میں، ٹرینوں میں دھکے کھائے، کبھی تو فٹ پاتھ پر راتیں بتانے کی نوبت بھی آئی۔ اوبڑ کھابڑ راستوں سے گزریں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت کی جدوجہد بھری دنیا ایک الگ دنیا تھی۔ اور آج جب میں اپنی بی۔ایم۔ڈبلو گاڑی میں بیٹھ کر جاتی ہوں تو یہ ایک الگ دنیا محسوس ہوتی ہے۔ نہ ہی وہ خود کو خوبصورت مانتی ہیں اور نہ ہی انہوں نے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے ۔ لیکن انہوں نے کامیابی کے لئے جدوجہد کی۔ انہیں کئی طعنے برداشت کرنے پڑے۔ ممبئی جیسے شہر میں اور فلمی دنیا میں وہ روانی کے ساتھ انگریزی نہ بول سکنے والی اسٹرگلر تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ “میرا انگریزی بولنے کا لہجہ ٹھیک نہیں تھا جس کا خوب مذاق اڑایا جاتا تھا۔ لوگ ایسا سلوک کرتے جیسا منہ کھولنا بھی گناہ ہو۔ میں نے اتنے بُرے دن دیکھے ہیں کہ مجھ جیسی کسی عام لڑکی کی فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کی ہمت بھی نہ ہو۔”
آج ان کی کہانی کامیابی کی ایک داستان ہے جس نے انہیں ایک بڑے مقام پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ اس مقام سے ان جیسی دوسری لڑکیاں ان کی تقلید اور پیروی کرتی ہیں اور اسی مقام کو حاصل کرنے کا خواب دیکھتی ہیں لیکن انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کنگنا کا یہ مقام کتنی جدوجہد اور محنت، صبر اور لگن کے بعد حاصل ہوا ہے۔
کرن جوہر نے جب کنگنا راناوت کو اپنے مشہور ٹی وی شو ‘کافی ود کرن میں مدعو کیا تھا تو شاید سوچا بھی نہ ہوگا کہ ان کی یہ مہمان ان پر کتنا بھاری پڑنے والی ہیں۔فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کے موضوع پر کنگنا نے کرن کو آڑے ہاتھوں لیا تو پروگرام کے بعد کرن نے انھیں ‘وومن کارڈ کھیلنے والی اداکارہ کہا۔ کچھ روز یہ تماشا چلا اور اس میں کئی اور لوگ بھی کود پڑے۔لیکن اب لگتا ہے کہ کرن کو بات پھر بھی ہضم نہیں ہوئی۔ کرن نے اس موضوع کو ایک بار پھر چھیڑا اور وہ بھی پوری انڈسٹری کے سامنے۔ آئییفا ایوارڈز کی میزبانی کے دوران انھوں نے ایک بار پھر کنگنا کو غصہ دلانے کی کوشش کی اور سیف علی خان نے ان کا ساتھ دیا۔
تقریب میں جب اداکار ورون دھون فلم ‘ڈھیشوم کے لیے ایوراڈ لینے پہنچے تو سیف نے کہا کہ ورون انڈسٹری میں اپنے والد ڈیوڈ دھون کی وجہ سے ہیں اور وہ اپنی ممی شرمیلا ٹیگور کی وجہ سے اس پر کرن نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پاپا کی وجہ سے انڈسٹری میں آئے اس کے بعد تینوں نے ‘اقربا پروری زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ورون اور سیف نے کرن جوہر کی فلم ‘بولے چوڑیاں بولے کنگنا گانا شروع کر دیا۔ اس پر کرن نے کہا کہ کنگنا نہ کہو تو ہی اچھا ہے۔ اب جو کرن نے کیا اس پر کنگنا کا کیا ردِ عمل ہوگا یہ دیکھنا بھی دلچسپ رہے گا۔ اگرچہ کرن اس واقعہ کو محض مذاق کہہ کر معافی مانگ چکے ہیں لیکن اب یہ مذاق انھیں کتنا مہنگا پڑے گا اس کا فیصلہ کنگنا ہی کریں گی۔

 

 

 

اذان پر کنگنا کا رد عمل
سونو نگم کے اذان والے ٹویٹ پر ہر موضوع پر بے باکی سے اپنی رائے کا اظہار کرنے والی اداکارہ کنگنا راناوت کا کہنا ہے کہ انہیں اذان کی آواز بہت پسند ہے ۔کنگنا کا کہنا ہے کہ ‘میں کسی اور کے لئے نہیں بول سکتی ، لیکن اپنی بات کروں تو مجھے اذان بہت پسند ہے۔خیال رہے کہ پیر کو سونو نگم نے اذان کی آواز سے نیند ٹوٹنے پر صبح صبح چار ٹویٹ کئے تھے ، جس کے بعد ان کی چوطرفہ تنقید شروع ہوگئی تھی ۔ سونو نے لاؤڈ سپیکر سے اذان کو مذہبی زبردستی بتایا تھا۔
کنگنا نے کہا کہ ‘جب ہم لکھنؤ میں تنو ویڈس منو کی شوٹنگ کر رہے تھے ، تب مجھے اذان کی آواز کافی پسند آتی تھی، میں صرف اپنے بارے میں بتا سکتی ہوں، کوئی بھی مذہبی کام ہو، خواہ وہ گرودوارہ ہو یا بھگوت گیتا یا پھر اذان مجھے ذاتی طور پر یہ کافی پسند ہے، میں ذاتی طور پر عبادت گاہوں جیسے مسجد، مندر اور چرچ جانا پسند کرتی ہوں۔
تاہم کسی تنازع سے بچنے کیلئے کنگنا نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ‘لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو سونو نگمکہا اس پر توجہ نہیں دی جانی چاہئے، جو کچھ انہوں نے کہا وہ ان کا اپنا نظریہ ہے اور اس کی عزت کی جانی چاہئے، مجھے لگتا ہے اس خیال کو سوشل میڈیا تک لانے کا مطلب ہی اس پر بحث شروع کرنا تھا۔
کنگنا اور ریتک روشن کا تنازع عیاں ہے۔ گزشتہ سال دونوں فنکاروں کے درمیان یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا ، جب کنگنا نے ایک انٹرویو میں رتیک کو ‘سلی ایکس ‘ کہا تھا۔ معاملہ اس وقت مزید گرما گیا جب دونوں نے ایک دوسرے کو قانونی نوٹس بھیجا ۔
كرن جوہر کے شو پر کنگنا نے کرن پر کئی الزامات لگائے ، جس کے جواب میں کرن نے کہا ‘میرے شو پر کنگنا نے خاتون کارڈ کھیلا اور خود کو متاثرہ بتایا۔ کنگنا کو ایسے ہمدردی لینے کی عادت چھوڑ دینی چاہئے۔
کنگنا نے پرینکا کو نقلی ہنسی کی ملکہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ نقلی ہنسی کا ایوارڈ اگر دیا جائے گا، تو وہ پرینکا کے نام ہو جائے گا ، کیونکہ بالی ووڈ میں پرینکا کی ہنسی سب سے نقلی لگتی ہے۔
کرن جوہر کے شو پر کنگنا نے کہا کہ میں کسی بھی خان کے ساتھ کام نہیں کروں گی ، کیونکہ میں ایسی کسی بھی فلم میں کام نہیں کر سکتی، جس میرا رول ہیرو سے کم ہو۔ کنگنا کا یہ جواب سن کر کرن بھی خاموش ہو گئے۔ اس بیان کے بعد ہی کنگنا کے ہاتھوں سے شاہ رخ خان کے اپوزٹ پیشکش کی گئی فلم نکل گئی۔

 

 

 

ادھین سمن اور کنگنا کی محبت کی کہانی سے تو سب واقف ہیں، مگر یہ رشتہ ٹوٹتے ہی کنگنا نے ادھین پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا جو اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ شیکھر سمن نے کنگنا کو ‘کوکین ہیروئن تک کہہ دیا ہے۔
کنگنا کے مزاج کا عالم یہ ہے کہ ٹیلنٹ شو ‘دی وائس انڈیا سیزن 2’ میں رنگون کے پروموشن کے لئے پهنچي کنگنا شو کی اینکر پر بھڑک گئیں۔ دراصل اینکر نے کنگنا کی نقل کر دی تھی ، تو جواب میں کنگنا نے کہا کہ دل کیا کہ تھپڑ مار دوں۔
کرن کے ہی شو پر کنگنا نے عالیہ بھٹ پر ‘لکی اسٹار کڈس کہہ کر طنز کیا ، جو کہ عالیہ کو پسند نہیں آئی۔ تب عالیہ نے کنگنا کو پلٹ کر کے کرارا جواب دیا۔
کنگنا راناوت کا کہنا ہے کہ آج کے دور کی خواتین خوداعتمادی سے بھری ہیں۔ کنگنا راناوت سمجھتی ہیں کہ آج کی خواتین سمجھداری، خوداعتمادی اوراپنی شناخت کے ایک مضبوط جذبہ سے بھرپور اور آزاد ہیں۔ ان کے پاس اپنی رائے اور خود کی شناخت کا مضبوط جذبہ ہے۔ آج کی خواتین کو بخوبی معلوم ہے کہ انہیں اپنی شخصیت کا کس طرح اظہار کرنا ہے۔ کنگنا کا کہنا ہے کہ اسٹائل اپنی شخصیت کے اظہار کا راستہ ہے۔ یہ دوسروں کو آپ کی شخصیت کے بارے میں بتاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرااسٹائل دوسروں کو یہ بتا تا ہے کہ میں کون ہوں۔میں اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں آرام دہ اور خوداعتمادی سے بھرپور دکھنا چاہتی ہوں۔
کنگنا راناوت کا اپنی فلموں کے انتخاب کے حوالے سے کہنا تھا کہ کبھی بھی بالی ووڈ کنگ شاہ رخ سمیت کسی بھی خان کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہوں گی کیونکہ میں کسی بھی خان کے ساتھ فلم میں کام کر کے خود کو پیچھے چھپانا نہیں چاہتی بلکہ ہمیشہ اپنی قابلیت دکھانے پر یقین رکھتی ہوں۔بالی ووڈ خانز کے ساتھ کام کر کے اپنے کرئیر کو مزید اچھا بنانے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کنگنا کا کہنا تھا کہ میں ایک کامیاب اداکارہ ہوں اور خانز کے ساتھ کام کر کے ایسا کیا ملے گا جو میں نے ابھی تک اپنے کرئیرمیں حاصل نہ کیا ہو۔ میرے لاتعداد مداح بھی ہیں اوراس سے زیادہ مجھے کیا چاہیے جب کہ سب کو پتہ ہے کہ خانز کی فلموں میں ہیرو ایک ہی ہوتا ہے لیکن میں اپنی فلموں میں انفرادی طورپربڑا کام یا ایک برانڈ کی تعمیرکرنا چاہتی ہوں، اگرکسی اور کی فلم میں جا کرکام کروں گی تو یہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر ان کی کامیابی کے پیچھے اپنی اداکاری دکھانے کے مترادف ہو گا۔دوسری جانب اداکارہ نے کہا کہ مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان بھی مجھ سے فلموں کے بارے میں بات کرتے ہیں اور میں شاہ رخ خان کی بھی بہت بڑی مداح ہوں، ایسا نہیں ہے کہ بالی ووڈ خانز سے ملاقات کے وقت میرا رویہ ٹھیک نہیں ہوتا، میں بھی سپر خانز کے ساتھ کام کرنا چاہتی تھی لیکن اپنی فلم ‘‘تنو ویڈس منو’’ کے بعد مجھے احساس ہوا کہ جس فلم میں میرا بڑا کردار نہ ہو تو اس سے مداحوں کو سخت مایوسی ہو گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *