این سی پی یو ایل کی خود مختاری کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے

اردو ہندوستان کی ایک ایسی زبان ہے جو بلا تفریق مذہب وملت مختلف ریاستوں میںبولی سمجھی جاتی ہے،لکھی پڑھی جاتی ہے،فلم اور فلمی گانوںکی زینت بنتی ہے۔ البتہ چند ریاستوںکو چھوڑ کر بیشتر ریاستوںمیں ملازمت سے جڑے نہیںرہنے کے سبب اس زبان کا استعمال اور اثر و رسوخ کم ضرور ہوا ہے۔ مگر اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ زبان زندہ ہے او رزندہ رہے گی۔ اسے زندہ رکھنے میںمسلم اقلیتی تعلیمی اداروں اور مدارس کے علاوہ سرکاری و غیر سرکاری دونوں طرح کے اداروں او رتنظیموں کا بڑا کردار ہے۔ اس سلسلے میںاردو خبارات و رسائل اور کچھ اردو چینلوں و اردو پورٹلس / ویب سائٹس کے ساتھ اردو پبلشرز کی خدمات کو بھی ہرگز نظرانداز نہیںکیا جاسکتا ہے۔
جہاںتک آزاد ہندوستان میںسرکاری کی جانب سے اس کے پروموشن کی کوششوںکاسوال ہے، اس ضمن میںپہلی باضابطہ کوشش 5 مئی 1972 کو ہوئی تب مرکز میںفائز اندراگاندھی حکومت نے ایک قرارداد کے ذریعہ اس وقت کے وزیر مملکت برائے ورکس اینڈ ہاؤسنگ اندرکمار گجرال جو کہ 1997-98 میںملک کے وزیر اعظم بھی رہے، کی سربراہی میںایک خصوصی کمیٹی بنائی۔ یہ گجرال کمیٹی کے نام سے بعد میںمعروف بھی ہوئی۔ ا س کی 269 صفحات اور 187 سفارشات پر مشتمل متعلقہ مسائل اور ایشوز کی احاطہ بندی کرتی ہوئی رپورٹ 8 مئی 1975 کو مرکزی حکومت کو سونپی گئی مگر یہ خود اندراگاندھی حکومت کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی۔ پھر ایمرجنسی کے بعد مرارجی دیسائی حکومت کے دوران 30 جنوری 1979 کو یہ مرکزی کابینہ اور 21 فروری 1979 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی موضوع بحث بنی۔

 

 

اس میںکوئی شبہ نہیںکہ گجرال کمیٹی رپورٹ کے مکمل طور پر نفاذ نہ ہونے کے باوجود اردو کے پروموشن میںیہی کسی نہ کسی حدتک معاون و مددگار ثابت ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1998 میںقومی سطح پر وجود میںآئی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے قیام کے پس منظر میںگجرال کمیٹی کی رپورٹ ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اندرکمار گجرال کو 24 مئی 1999 کو اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میںاسسینٹرل یونیورسٹی کا اولین چانسلر بنایا گیا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے اردو کے پروموشن میںایک اور بہت ہی اہم اور غیر معمولی قدم 1990 کی دہائی کے وسط میںآٹونومس ادارہ نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل) کا قیام ہے۔ یکم اپریل 1996 سے یہ اردو زبان کے پروموشن کے لیے قومی نوڈل ایجنسی کے طور پر فعال ہے۔ اس کے چار نکاتی اغراض و مقاصد میںاردو زبان کو پروموٹ، ڈیولپ اور پروپیگیٹ کرنا شامل ہے۔گزشتہ 21 برسوں میںاین سی پی یو ایل نے 1172 کتابیں مختلف موضوعات پر شائع کی ہیں جن میں این سی ای آر ٹی اور ایسوسی ایٹید ٹیکسٹ کتابیں شامل ہیں۔ دو دہائیوں کے قلیل عرصہ میںیہ یقیناً قابل فخر کارنامہ ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس قلیل مدت میںیہ عظیم الشان کام اس لیے انجام دیا جاسکا کہ آٹونومس ادارہ ہونے کے سبب اس نے اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کیا۔ مگر چند ماہ سے اسے جامعہ ملیہ اسلامیہ یا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میںضم کردینے کی تجویز سے اس کی خود مختاری کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری حلقوں میںاس کی خود مختاری کو درپیش خطرہ کو لے کر زبردست بحث چل رہی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مذکورہ دونوں یونیورسٹیاں سینٹرل یونیورسٹیاں ہیں۔ این سی پی یو ایل کو اگر ان میںسے کسی ایک میںضم کیا جاتا ہے تو یہ اس کا ایک شعبہ یا ڈپارٹمنٹ بن کر رہ جائے گا۔ تب اس کی کارکردگی اور اختیارات بھی محدود ہوجائیں گے اور اس کی آٹونومس حیثیت بھی ختم ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو حلقے میںاس تجویزکی کھل کر مخالفت ہورہی ہے۔

 

 

گرچہ گزشتہ 2 اگست 2017 کو نئی دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر (آئی آئی سی) میںمنعقد این سی پی یو ایل کی 24 ویں مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل (اعلیٰ تعلیم) ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے نے اردو حلقہ میںپائی جارہی گہری تشویش کے پیش نظر یہ اظہار خیال کیا ہے کہ این سی پی یو ایل کی خود مختاری قائم رہے گی اور چونکہ مرکزی حکومت این سی پی یو ایل کے دائرہ اثر اور سرگرم کارکردگی سے پوری طرح واقف ہے ، لہٰذا نہ تو اس ادارہ کو کہیںضم کیا جائے گا اور نہ ہی ختم کیا جائے گا، مگر اردو حلقوں میںپوری طرح اطمینان نہیںپایا جارہا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ این سی پی یو ایل اپنی21 سالہ کارکردگی سے حکومت ہی نہیں ملک بھر کو واقف کرائے۔ اس لحاظ سے این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم کا یہ اعلان بہت مناسب اور بروقت معلوم پڑتا ہے کہ دسمبر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس اس کی 21 سالہ کارکردگی پر محیط ہوگی۔
لیکن اتنا ہی کافی نہیں ہوگا۔ این سی پی یو ایل کی جس طرح خود مختاری شکوک و شبہات کے گھیرے میںآگئی ہے، اسے دور کرنے کے لیے خود مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوادیکر کو کھل کر غیر مبہم انداز میں بیان دینا چاہیے کہ این سی پی یو ایل کی آٹو نومس حیثیت کو کسی بھی حال میںڈسٹرب نہیںکیا جائے گا اور یہ آٹونومس ادارہ کے طور پر برقرار رہے گا۔ ایک ایسے وقت میںجب ہندوتو مؤرخ دینا ناتھ بترا کی سربراہی میںسرگرم آر ایس ایس سے وابستہ ادارہ شکشا سنسکرتی اتھان نیاس این سی ای آر ٹی کے درسی متن سے اردو کے الفاظ اور اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کے اشعار کو حذف کیے جانے کی سفارش کی خبر آرہی ہے، این سی پی یو ایل جیسے آٹو نومس قومی ادارہ کا اس کی اپنی حیثیت میںباقی اور زندہ رہنا اشد ضروری ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *