کیگ کی حالیہ رپورٹ کیگ کی حالیہ رپورٹ  سرکار کو متعدد مواصلات کمپنیوں  نے لگایا  8 ہزار کروڑ کا چونا 

حال ہی میں کیگ یعنی کمپٹرولر اینڈآئوڈیٹرجنرل آف انڈیا کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں بہت ساری باتیں کہی گئی ہیں جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ کس طرح سے کچھ مواصلات کی کمپنیوں نے سرکار کوتقریباً 8ہزار کروڑ کا چونا لگایا ہے۔ ان کمپنیوں میں انڈین ایئرٹیل، ووڈا فون اور آئڈیا سمیت پرائیویٹ سیکٹر کی 6 مواصلاتی کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے 2010-2011 سے 2014-2015 کے دوران اپنے ریونیو 61,064.5 کروڑ روپے کم کر کے دکھایا۔ اس سے سرکار کو 7,697.6 کروڑ روپے کی کم ادائیگی کی گئی۔ یعنی کہ ان کمپنیوں کی وجہ سے ہندوستان کی سرکار کو تقریباً 7ہزار 697  کروڑ روپے کا ریونیو نقصان ہوا ہے۔ کیگ نے پارلیمنٹ میں 21جولائی کو یہ رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6 آپریٹروں نے کل 61,064.5 کروڑ روپے کا ایڈجسٹیڈ گروس ریونیو یعنی اے جی آر کم کرکے دکھایا ۔کیگ نے پانچ آپریٹروں بھارتیہ ایئر ٹیل، ووڈافون انڈیا، آئڈیا سیلیولر، ریلائنس کمیونیکیشن اور ایئر سیل کے لئے 2010-2011سے 2014-2015 تک ان کے کھاتوں کا آڈٹ کیا۔وہیں سِستیما شیام کے لئے  مدت  کی حد 2006-2007 سے 2014-2015 تک رہی۔کیگ نے کہا کہ ریونیو کو کم کرکے دکھانے کی وجہ سے سرکار کو 7,697.62کروڑ روپے کی کم ادائیگی کی گئی۔ اس کم ادائیگی پر مارچ 2016 تک سود 4,531.62  کروڑ روپے بیٹھتا ہے ۔کیگ کے مطابق ایئرٹیل پر 2010-2011 سے 2014-2015 کے دوران سرکار کے لائسنس فیس اور اسپیکٹرم یوز فیس کے مد کا  سود  2,602.24 کروڑ روپے اور اس پر سود کا 1,245.91 کروڑ روپے بنتا ہے۔ ووڈا فون پر کل بقایا 3,331.79 کروڑ روپے بنتا ہے جس میں سود کا 1,178.84کروڑ روپے ہے۔ اسی طرح آئڈیا پر کل بقایا 1,136.29 کروڑ روپے کا ہے۔ اس میں سود 657.88 کروڑ روپے بیٹھتا ہے۔ انیل امبانی کی قیادت والی  ریلائنس  کمیونیکیشن پر 1,911.17 کروڑ روپے کا بقایا ہے۔ اس میں 839.09 کروڑ روپے سود کے بیٹھتے ہیں۔ ایئر سیل پر بقایا 1,226.65 کروڑ روپے اور سستیما شیام پر 116.71 کروڑ روپے کا ہے۔ نیو ٹیلی کمونیکیشن پالیسی کے تحت لائسنس ہولڈروں کو اپنے ایڈجسٹیڈ گروس ریونیو کا ایک حتمی حصہ سرکار کو سالانہ لائسنس فیس کی شکل میں دینا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل آپریٹروں کو اسپیکٹرم یوز فیس بھی دینا ہوتا ہے۔کیگ کی یہ رپٹ ایسے وقت آئی ہے جبکہ بڑی مواصلات کی کمپنیوں کو کئی مورچوں پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریلائنس جیو کی انٹری کے بعد موجود آپریٹروں کی آمدنی اور منافع پر کافی دبائو ہے۔کمیونیکیشن انڈسٹری پر مختلف مالی اداروں اور بینکوں کا 6.10 لاکھ کروڑ روپے کا بقایا ہے۔ غور طلب ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کی یہ مواصلاتی کمپنیاں ملک کے الگ الگ حصوں میں کنزیومروں کو موبائل سروس مہیا کراتی ہیںلیکن یہ کمپنیاں سرکار کی کمیونیکیشن پالیسی اور مرکزی سرکار کے قاعدے و قانون کو ماننے کے لئے رکاوٹ ہوتی ہیں۔ پہلے بھی پرائیویٹ مواصلاتی کمپنیوں پر بے قاعدگیوں میں شامل ہونے کا الزام لگا ہے۔ بہر حال کیگ کی رپورٹ سے  الگ  غور کریں تو حال ہی میں وزیر مملکت برائے مواصلات منوج سنہا نے قرض میں ڈوبی مواصلاتی کمپنیوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی۔ مواصلات کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ منوج سنہا کی یہ ملاقات کمپنیوں کو گھاٹے اور قرض کی مار سے بچانے کو لے کر ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں بھارتیہ ایئر ٹیل کے چیئر مین سنیل متل، ریلائنس کمیونیکیشن کے چیئر مین انیل امبانی، آئڈیا سیلیولر کے منیجنگ ڈائریکٹر ہمانشو کپانیا ، ٹاٹا سنس کے ڈائریکٹر ایشات حسین اور ریلائنس جیو کے بورڈ ممبر مہیندر ناہٹا موجود تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک چلی اس میٹنگ کے بعد منوج سنہا نے کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی اِنٹر منسٹریل گروپ کی  رپورٹ  آنے والی ہے۔ سرکار قرض میں پھنسی اس صنعت کے لئے مثبت قدم اٹھائے گی ۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کارپوریٹ کے مسائل کے تئیں مثبت رخ دکھانے والی سرکار کسانوں سے جڑے مسئلوں پر ہمیشہ ہی لا تعلق بنی رہتی ہے۔کسانوں کی قرض معافی یا دوسرے ایشوز پر تب تک ان کی بات نہیں سنی جاتی ،جب تک یہ آندولن کا راستہ نہیں اپنا لیتے یا سرکار کو ان سے کوئی انتخابی فائدہ نہیں دکھائی دیتا۔ حال ہی میں تمل ناڈو کے کسانوں کا دہلی کے جنتر منتر پر ہوا آندولن سب نے دیکھا۔ کسان سرکار تک اپنی بات پہنچانے کے لئے کوشش کرتے رہے اور سرکار انہیں نظر انداز کرتی رہی۔ ان کے مسائل کے تئیں مثبت رخ دکھانے کی یقین دہانی تو دور،وزیر اعظم ان سے ملے تک نہیں۔ وزیر خزانہ ملے بھی تو انہوں نے گیند وزیر زراعت کے پالے میں ڈال دیا اور جب یہ کسان وزیر زراعت سے ملے تو انہوں نے کسانوں کے مسائل کو وزیر خزانہ سے جڑا بتا کر اپنا پلہ جھاڑ لیا۔ ہندوستان کی ایک اہم ایجنسی ، ریٹنگ انڈیا کی ایک حالیہ  رپورٹ  کہتی ہے کہ 2011 سے 2016 کے درمیان کمپنیوں پر تقریباً 7.4 لاکھ کروڑ کا قرض ہوگا، جس میں سے چار لاکھ کروڑ کے قریب قرض معاف کر دیا جائے گا۔یہ سوچنے  والی  بات ہے کہ کسانوں کی قرض معافی پر ہائے توبہ  مچانے والی سرکار اور انتظامیہ کارپوریٹ کی قرض معافی پر کیوں  خاموشی اختیار کرلیتی ہے ۔اور تو اور اسے معیشت کے لئے ضرورت بتا دیا جاتا ہے۔ جب کسانوں کی قرض معافی کی بات کی جاتی ہے تو اوپر بیٹھے ذمہ دار لوگوں کو اس میں معیشت کا نقصان دکھائی دینے لگتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *