اصل سوال تو 2022 کا ہے

اس بار کے 15 اگست نے ہمیںبہت سارے نئے ’گیان‘ دیے۔ ایک گیان تو یہ دیا کہ وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کی زبان، بالکل کومہ اور فل اسٹاپ کے ساتھ ایک ہے۔ انداز بھی ایک ہے۔ دونوں نے مل کر جو باتیںملک کے سامنے رکھیں،اس نے میرے جیسے لوگوں کو بہت روشن کردیا۔ میک انڈیا، جس سے نیا ہندوستان بنتا، کامیاب ہوگیا ہے اور اب میک اِن انڈیا، نیوانڈیا بن گیا ہے۔ مطلب نیا ہندوستان بن رہا ہے۔ اب نیا انڈیا نام ، ایک اخبار نیا انڈیا نام کا نکلتاہے اور اس کے ایڈیٹر بہت خوش ہوںگے کہ ان کا نام وزیر اعظم نریندر مودی کو بہت پسند آیا۔
لیکن مجھے جو گیان ملا، وہ گیان یہ ملا کہ ہم لوگوں کو نوکریاں د ے چکے ہیں، ملک کا نوجوان خوش ہے، کسان کا 90 فیصد سے زیادہ قرض معاف ہوچکا ہے۔ بہت سارے منصوبے وزیر اعظم مودی نے نئے نام سے شروع کیے ہیں۔ ان منصوبوں کا کوئی رشتہ پہلے سے چل رہے منصوبوں سے نہیں ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے سارے پرانے منصوبوں کا نام بدل کر نئے منصوبوں کا چہرہ بنا دیا ہے، وہ غلط کہتے ہیں۔ مودی جی نے بالکل نئے منصوبے شروع کیے ہیں اور ملک میں خوشحالی ہی خوشحالی ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ صرف دروازہ کھولنے کی دیر ہے، خوشحالی کی آندھی ہماری زندگی میںآنے والی ہے۔اور یہ سب جان کر ہمیں اتنا تعجب ہوا اور اچھا لگا کہ ہمیں اپنے آس پاس انھیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے کانوں میں بس آواز آنی چاہیے کہ ہندوستان بدل رہا ہے۔ ہندوستان تقریباً بدل گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ہندوستان ’مہا شکتی ‘ بن گیا ہے۔
ساری دنیا میں گھوم کر ہم باہر کا انویسٹمنٹ ہندوستان میںلانے کی با ت کرتے تھے،ہمارے پردھان سیوک جی۔ وہ انویسٹمنٹ ضرور آگیا ہوگا لیکن اس کے اعداد وشمار ہمارے پاس دستیاب نہیںہیں۔ خواہ مخواہ لوگ بے وقوفی کی بات کرتے ہیں کہ نوٹ بندی سے ملک کی ترقی نہیںہوئی، بلکہ کتنے ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہوگئے اس نوٹ بندی کی تشہیر میں۔ اس کا بھی کوئی مطلب نہیںہے۔ ریزرو بینک اگر نہیںحساب لگاپارہا ہے کہ کتنے روپے اس کے پاس آئے، اس کے باوجود کہ لوگ مانگ کررہے ہیں، کم سے کم یہ تو بتاؤ، نوٹ بندی کی وجہ سے جو نوٹ بدلے گئے، کتنے آئے؟ ان سوالوں کابھی کوئی مطلب نہیںہے کیونکہ کالادھن ختم ہوچکا ہے۔ اس کا مطلب آزادی سے لے کر اب تک جتنے بھی سوال کالے دھن کو لے کر کھڑے ہورہے تھے،وہ بے وقوفی کے سوال تھے۔ کیونکہ کالا دھن کتنا آیا، کم سے کم یہی سرکار کو پتہ نہیں ہے۔ کبھی دو لاکھ کروڑ کہتے ہیں، کبھی تین لاکھ کروڑ کہتے ہیں۔ وہ کالے دھن کا حساب کیاہے۔ اگر پردھان سیوک جی کی ابھی کی بات مانیں تو ہم کوئی بھی رقم کہہ سکتے ہیںکہ یہ کالا دھن ہے۔ اور کالا دھن اب سویس بینکوںمیںپنامہ میںیا ڈفرینٹ آئی لینڈس میں، دنیا کے جو ٹیکس ہیون ملک مانے جاتے ہیں،ماریشس میںنہیںہے۔ دہشت گردوںکو تو کوئی فنڈنگ ہو ہی نہیں رہی ہے اور وہ فنڈنگ بند ہوگئی۔ دہشت گردی پر کنٹرول ہواہے کیونکہ کشمیر میںپتھر بازی کم ہوئی ہے اور یہ ہم نے کہا ہے کہ ہماری نوٹ بندی کی وجہ سے یہ ہوا ہے۔ کیونکہ روپیہ ان کونہیںپہنچ پارہا ہے۔ اس لیے اب کشمیر میںنوجوان پتھر نہیںچلا رہے ہیں۔ اتنی گیان کی باتیںان اخباوں کو بھی نہیںپتہ جو دن رات آرتی اتارنے میںلگے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس بھی ان دلیلوں کو ثابت کرنے کی وجہیںضرور ہوں گی۔ لیکن وہ کوئی بھی وجہ ہمیںنہیںبتاپارہے ہیں۔ شاید بتانا نہیںچاہتے۔لیکن میں اور میرے جیسے لاکھوں کروڑوں لو گ اپنا ماتھا پیٹ رہے ہیں، اپنی عقل کو کوس رہے ہیں کہ ہمیں یہ سب کیوں نہیںدکھائی دیا اور نہیں دکھائی دیتا ہے تو اس کا مطلب ہمارا آئی کیو گڑبڑ ہے۔ ہماری سمجھ گڑ بر ہے۔ ہماری ذہانت کو کہیںزنگ لگ گیا ہے۔

 

 

 

 

ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم 2022 میںاس ملک کو نیا بنتا ہوا دیکھیں گے۔ نیا بنا ہوا دیکھیں گے۔ ہر ایک شخص کومکان ملیںگے ، تین سال میںکتنے لوگوںکو مکان ملے، اس کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔ اچانک 2022 میں ہمارے ملک کے سبھی بے گھر لوگوںکو گھر مل جائیںگے۔ کسان کی فصل کا بھاؤ بڑھ جائے گا، اس کی آمدنی دوگنی ہوجائے گی۔ کیسے ہوگی؟ یہ سوال کرنا آج کی تاریخ میںبہت غلط ہے۔ جاوید اختر جیسے لوگوں کو تو سزا ہونی چاہیے جو نیا حکم نامہ کی نظم سنا رہے ہیں۔ آپ جاوید اختر کی وہ نظم سنیے،نیا حکم نامہ اور جاوید اختر کو ہزاروں گالیاں دیجئے کہ تم کو اس ملک میںہونے والی ترقی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس ترقی کے بارے میںلکھو بھائی۔ یہ کیا لکھ رہے ہو کہ ہوائیں چلیںتو پوچھ کے چلیں ، سمندرمیں لہریںاٹھیں تو کتنی اٹھیں گی، یہ پہلے افسروں سے پوچھ لیں۔ یہ سب بے وقوفی اور واہیات باتیں ہیں۔
اس 15 اگست پر وزیر اعظم مودی نے اور ملک کے عظیم صدر جمہوریہ نے جو تقریر کی ہے، وہی زندگی کا آخر ی سچ ہے۔ جس کو اس سچ کے اوپر بھروسہ نہیں ہے، اسے اس ملک میںآزادی سے اور چین سے جینے کا حق نہیںہے۔ اسے چاہیے کہ وہ موم ہو جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اپنا گیان بڑھاؤ۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی اس بے وقوفی بھرے گیان کو، جو ان باتوں کو سچ نہیںمانتا ہے،اپنے دماغ کو کسی قید خانے میں، کال کوٹھری میںڈال دے۔میںیہ سب باتیں اس لیے کہہ رہاہوں کہ مجھے آپ سے کہتے ہوئے بہت خوشی ہورہی ہے کہ اس بار ہمیںیہ پتہ چلا کہ 2019 کے الیکشن کے لیے کوئی مدعا ہی نہیںہے۔ 2019 کے الیکشن میں تو عوام موجودہ پالیسیوں کی حمایت ہی کرنے جارہے ہیں بلکہ 450 بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کو جتانے جارہے ہیں۔ 412 سیٹیں راجیو گاندھی کو ملی تھیں، اس سے زیادہ کی جیت ہونے والی ہے۔ اس لیے 2019 کا تو کوئی سوال ہے ہی نہیںسوال 2022 کا ہے۔ اگر ہم 2022 میںاس سرکار کو نہیںدیکھنا چاہتے ہیں یا ہم سوال اٹھاتے ہیں تو ہم سارے اچھے موضوعات کو کوڑا بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو ہونا نہیںچاہیے۔ جیسے ہرایک کو مکان مل جائے گا، ہر ایک کو روٹی مل جائے گی ، کسان کی آمدنی بڑھ جائے گی، یہ سب چیزیں 2022 میں ہوںگی۔
2022 میں اور کیا کیا ہوگا؟ نئی اقتصادی پالیسی آجائے گی۔ ہماری شرح ترقی 10 کو پار کرجائے گی۔ کوئی غریب نہیںرہے گا اور رہے گا بھی تو کیا ہوا۔ ان غریبوں کی کوئی حیثیت نہیںہوگی۔ ان کو کسی بھی طریقے سے دو روٹی مل جائیں، اتنا ہی کافی ہے۔ ہمارے ملک میں نکسل واد کا مسئلہ ہے، ہمارے ملک میں ذات پات کا تناؤ ہے،ہمارے ملک میںفرقہ وارانہ تناؤ ہے، ان سارے سوالوں کا کوئی مطلب نہیں ہے، نہ ان کو چھونے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک نئے ہندوستان ، نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہم نئے بھارت کو 2022 میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ میںان سارے سوالوں کے آگے اپنے کو بونا پاتا ہوں۔ میں چاہتا ہوںکہ ایسا ہی ہو۔ میں اپنے ساتھیوںسے، خاص طور سے جرنلزم میںکچھ لوگ ہیں، جو ابھی بھی اپنا قلم اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رویش کمار جیسوں سے کہتا ہوں کہ اگر آسانی سے جینا ہے ، سکھ سے جینا ہے تو ان سوالوں کو مت اٹھاؤ۔ اسے دیکھو جو وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کہہ رہے ہیں۔ وہ دکھائی کیوں نہیںدیتاتم کو۔ ابھی میںنے دیکھا کہ آج کل اے بی پی نیوز کے ابھیسار شرما،گورکھپور کے حادثے کو لے کر تھوڑا زیادہ ہی بے چین ہوگئے ہیں۔ ان سے بھی مجھے کہنا ہے کہ تمہاری بیوی سرکاری نوکری کرتی ہے او ر تم اے بی پی نیوز میںہو۔ کیا چاہتے ہو کہ اس کا کالا پانی،انڈمان میںتبادلہ ہوجائے یا تمہیں اے بی پی سے نکال دیا جائے۔ ضمیر کیوں اچانک بولنے لگتا ہے؟ آپ کے ضمیر میںکچھ گڑبڑ ہے۔ اس کو ٹھیک کیجئے، اس کو تھوڑا ٹائٹ کیجئے۔ ضمیر کو بہت زیادہ نہیںبولنا چاہیے،سمجھنا چاہیے۔ جو ہمیںسمجھانے کی کوشش ہورہی ہے، اسے سمجھنا چاہیے۔ میںآپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ امت شاہ کہتے ہیںکہ ایسے حادثے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اس میںپریشانی کی کیا بات ہے۔ مانئے اس کو کہ وہ صحیح کہتے ہیں۔ اور جب وہ یہ کہتے ہیں تو اس میںیہ شامل ہے کہ ایسے حادثے بھی ہوں گے اور دوسری طرح کے حادثے بھی ہوںگے۔ ایک دن آپ غائب ہوجائیںگے،آپ کو پتہ نہیںچلے گا۔تو کیا ہوا؟

 

 

 

2022 میںایک نیا ملک بننے والا ہے، جس میںبھلے ہی وہ پانچ فیصد لوگ ہوں لیکن انھیںسب کچھ ملے گا۔ جن کونہیںملے گا ، ان کی کئی حیثیت نہیںہوگی۔ انھیںخاموش رہنے کی ہی سزا دی جائے گی۔ تو اگر ہم نے وزیر اعظم صاحب اور صدر جمہوریہ صاحب کی باتوں سے کوئی غلط مطلب نکالنے کی کوشش کی ہو تو اس کے لیے ہم دونوں سے ہی معافی چاہتے ہیں۔ میںاپنے کو سدھار رہا ہوں۔ میں2022 میںایک نئے ہندوستان کو ویسا دیکھ رہا ہوں جیسا وزیر اعظم صاحب آپ اور صدر جمہوریہ صاحب آپ ہمیں دکھانا چاہتے ہیں۔ آپ کو اس دویہ گیان کو ٹھوس روپ دینے کے لیے جتنی بدھائی دی جائے اتنی کم ہے۔ پھر سے آپ دونوںکو 15 اگست کی تقریر کے لیے اور ملک کو نئی حقیقت سے متعارف کرانے کے لیے بہت شکریہ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *