مودی حکومت نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کبھی اقلیتی ادارہ نہیں رہا

مودی حکومت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی درجہ پر سپریم کورٹ میں اپنی حمایت واپس لینے جا رہی ہے۔ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل اس سلسلہ میں کورٹ میں نیا حلف داخل نامہ کرنے والی ہے جس میں لکھا جائے گا کہ جامعہ کو اقلیتی درجہ دیا جانا ایک غلطی تھی۔

 

انڈین ایکسپریس میں شائع ایک خبر کے مطابق، وزارت سپریم کورٹ کو یہ بھی بتائے گی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کبھی اقلیتی ادارہ نہیں رہا کیونکہ پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت اس کا قیام عمل میں آیا تھا اور مرکزی حکومت اسے مالی مدد دیتی ہے۔
خیال رہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے قومی کمیشن ( این سی ایم ای آئی) نے 22 فروری 2011 کو اس وقت کی یو پی اے حکومت میں جامعہ کو ایک مذہبی اقلیتی ادارہ کا درجہ دیا تھا۔ اخبار نے اس سے پہلے بھی شائع اپنی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ 15 جنوری 2016 کو اٹارنی جنرل آف انڈیا نے اس وقت اسمرتی ایرانی کے تحت وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو مشورہ دیا تھا کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کورٹ میں اپنے موقف کو بدل کر یہ موقف پیش کرے کہ جامعہ ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور یہ کہ اس سلسلہ میں این سی ایم ای آئی نے جو رولنگ دی تھی وہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *