سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ 3 طلاق کے خلاف

آج صبح سپریم کورٹ کے تین ججوں جسٹس کورین جوزف، جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس یویوللت نے اکثریت سے تین طلاق کے خلاف ،اور چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ایس عبدالنظیر نے اقلیت سے تین طلاق کے حق میں ، اپنا اپنا فیصلہ سنایا۔ اسی کے ساتھ ساتھ تین طلاق پر چھ ماہ کے لیے روک لگادی گئی اور پارلیمنٹ سے اس سلسلے میںقانون بنانے کو کہا گیا۔
خاص بات یہ ہے کہ مذکورہ تین ججوں کی نظر میںتین طلاق غیر آئینی ہے جبکہ دو ججز اسے غیر آئینی نہیںمانتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کھیہر کا واضح طور پر کہنا ہے کہ تین طلاق آئین کی دفعات 14,15,21 اور 25 کے خلاف نہیں ہے، لہٰذا یہ آئینی ہے۔

 

 

 

ویسے سپر یم کورٹ کے پانچوں ججوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیںامید ہے کہ لیجسلیچر قانون سازی کے وقت مسلم پرسنل لا ء کو مدنظر رکھے گا او رتمام پارٹیوں کو اپنی سیاست دور رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ میںعرضی داخل کرنے والی سائرہ بانو نے اس اکثریتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کے مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر سیدقاسم رسول الیاس نے کہا کہ وہ اقلیتی فیصلے کے حق میں ہیں۔ بورڈ کے دوسرے رکن اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے چیئرمین منظور عالم نے بھی اقلیتی فیصلے کو حق بجانب بتایا ہے۔ ان دونوں شخصیات کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میںقانون سازی کے وقت اس کے ارکان کو مسلمانوں اور شریعت کے موقف کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں کی اس بات سے اتفاق کیا کہ قانون سازی کے وقت پارلیمنٹ کے ارکان کو مسلم پرسنل لاء کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *