شیعہ وقف بورڈ کا بابری مسجد پر دعویٰ

نئی دہلی۔ ملت اسلا میہ اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب شیعہ وقف بورڈ نے اچانک سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کر کے بابری مسجد پر حق ملکیت کا دعویٰ کردیا۔ شیعہ وقف بورڈ کے ذیعہ سپریم کورٹ میںداخل کیے گئے حلف نامہ میںشیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے کہا ہے کہ متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر ہونی چاہیے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر مسلم علاقے میںمسجد کی تعمیر ہونی چاہیے۔
وسیم رضوی نے کہا ہے کہ بابری مسجد شیعہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے، اس لیے اس معاملے میںدوسرے فریقین سے بات چیت کا حق صرف شیعہ وقف بورڈ کو ہے۔ سپریم کورٹ کو دیے گئے حلف نامہ میں شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے کہا ہے کہ اگر رام مندر اور بابری مسجد کی تعمیر ہوجاتی ہے تو ایک زمانے سے پیدا ہوئی بدا منی ختم ہوجائے گی۔

 

اس سلسلے میں مسلم اکابرین کے بھی بیان آئے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر جماعت مولانا جلال الدین عمری نے کہا ہے کہ اس سے اتحاد کو نقصان پہنچے گا۔ مولانا محسن علی تقوی نے کہا ہے کہ وقف کی زمین فروخت کرنے والے اب بابری مسجد کا سودا کررہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی کا کہنا ہے کہ اس پٹیشن کا مقدمہ پر کوئی اثر نہیںپڑے گا۔ فرمان احمد نقوی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آخر 56 سال تک کہاںسوتا رہا وقف بورڈ۔
واضح ہوکہ بابری مسجد معاملے پر سپریم کورٹ کی سہ رکنی بینچ 11 اگست سے سماعت کرنے جارہی ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *