سنجیدگی سے مسئلے کا حل نکالنا چاہئے

اب یہ صاف ہو گیا ہے کہ بی جے پی 2019 کے انتخابات کے لئے پوری طرح سے جُٹ گئی ہے۔اسے اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ گجرات کی محض ایک راجیہ سبھا سیٹ کو اتنا بڑا ایشو بنانے کا کوئی سبب نہیں تھا۔ کل تین سیٹیں تھیں، دو بی جے پی کے پاس ، ایک کانگریس کے پاس ۔ انتخاب ایسے ہی ہونا چاہئے تھا۔لیکن جس طریقے سے بی جے پی نے اس انتخاب کو لیا ،وہ الگ ہی کہانی کہتا ہے۔
امیت شاہ اور اسمرتی ایرانی کا منتخب ہونا پکا تھا۔ تیسرے امیدوار کے لئے انہوں نے کانگریس کے ایک ایم ایل اے کو لالچ دے کر احمد پٹیل کے سامنے میدان میں اتار دیا۔ اگر دوسرے طریقے سے دیکھیں تو احمد پٹیل شاید ہی راجیہ سبھا میں زیادہ بولتے ہوں یا موجود رہتے ہوں۔ احمد پٹیل بی جے پی کے موقف اور نظریات کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ یعنی بی جے پی اس انتخاب کے ذریعہ دو چیزیں قائم کرنا چاہتی تھی۔ ایک تو یہ کہ اس سیٹ کو جیت کر راجیہ سبھا میں ایک اضافی سیٹ حاصل کی جائے جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ سونیا گاندھی کے سیاسی صلاح کار کی ہار یقینی کرنا ۔ نتیجہ آنے کے بعد ہوا یہ کہ جو آدمی تین سال پہلے تک سونیا گاندھی کا سیاسی صلاح کار تھا، وہ اب گجرات کا لیڈر بن گیا ہے۔ آپ نے اس آدمی کو دبائو میں لیڈر بنا دیا ہے۔ یہ سب اقتدار کے پھوہڑپن اور گھمنڈ کو دکھاتا ہے۔ وزیرا عظم یہ سب باتیں سمجھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے امیت شاہ کو بہت زیادہ فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔ گجرات میں جو کچھ ہوا اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے ۔ اس سے نہ تو گجرات اور نہ ہی ملک کے باقی حصے میں انہیں کوئی فائدہ ملنے والاہے۔خیر دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

 

 

 

اقتدار کا گھمنڈ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ادھر کشمیر میں بی جے پی آرٹیکل 35A ہٹانا چاہتی ہے، تاکہ غیر کشمیری، کشمیر میں زمین خرید سکے۔ یہاں دو حقائق ہیں، ایک تو یہ کہ کوئی بھی آدمی سنجیدگی سے اگر یہ سوچتا ہے کہ اس سے ملک کے باقی حصے سے بھاری تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے کشمیر چلے جائیں گے تو ایسا سوچنا کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔کوئی بھی آدمی اپنے گھر سے دس کلو میٹر دور جا کر بسنا نہیں چاہتا۔کشمیر جا کر بسنا تو بہت دور کی بات ہے۔ دوسری بات یہ کہ ڈوگرا کے وقت سے ہی، صرف 370 کی بات نہیں ہے، زمین صرف کشمیریوں (جموں و کشمیر ) کے لئے ہی رہی ہے۔ اس میں ہندو -مسلم جیسی کوئی بات نہیں رہی ہے۔
ظاہر ہے ،ناگپور سے آپریٹ ہونے والے لوگ چاہتے ہیں کہ کشمیر پر ہندوئوں کا قبضہ ہوجائے۔آپ کیا سوچتے ہیں کہ ہندو کشمیر میں اکثریت میں آجائیں گے؟جموں میں تو اکثریت ہے۔ آپ زمین خریدنے کی منظوری دے دیں گے تب بھی آپ اکثریت میں نہیں آپائیں گے۔ یہ سب جلد بازی (کوئیک فکس ) میں کیا گیا بیوقوفانہ حل ہے۔بدقسمتی سے یہ لوگ اقتدار میں ہیں اور ان کے دور حکومت کے تین سال گزر چکے ہیں۔یہ بہت بڑا وقت ہے جس میں مودی اپنا کام سیکھ چکے ہوں گے لیکن کسی ڈوبھال یا ویپن راوت کی صلاح پر اس طرح کا کوئیک فکس سولیوشن ملک کے لئے افسوسناک ہے۔یہ ملک اتنا بڑا ہے کہ اسے ایسے اوچھے طریقے سے نہیں چلایا جاسکتا ہے۔
چین کے ساتھ ڈوکلام کا ایشو زیادہ اہم ہے کیونکہ پہلی بار چین نے اس جگہ کو نشانہ بنایا ہے، جہاں تین ملکوں کی سرحدیں جڑتی ہیں۔ اس سے پہلے چین نے ایسا کام 1963 میں کیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھوٹان، ہندوستان کے قریب آ گیا۔ جواہر لال نہرو نے یہ بیان دیا تھا کہ اس واقعہ کے بعد بھوٹان ہندوستان کے ساتھ ہے ۔ چین فی الحال بھوٹان کو ڈرا کر ان کی سرحد میں گھسنا چاہتا ہے،وہاں لڑائی چاہتا ہے۔
میں یہ سوچ کر پریشان ہوتا ہوں کہ اگر سکم ہندوستان میں نہیں ہوتا تو کیا ہوتا؟اگر ایسا نہیں ہوا ہوتا تو دارجلنگ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا اور سکم تو بھگت ہی رہا ہوتا۔ جس طرح سے سکم کا ہندوستان کے ساتھ الحاق ہوا تھا، اس سے سبھی لوگ پوری طرح سے متفق نہیں ہو سکتے لیکن یہ ملکی مفاد میں تھا اور اس کا کریڈٹ اندرا گاندھی کو دیا جانا چاہئے کہ سکم ہندوستان کے ساتھ شامل ہوا۔ بہر حال سیاست میں چیزیں بدلتی رہتی ہیں۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ سچائی اس بات پر انحصار کرتی ہے کہ آپ یروشلم کے کسی حصے میں رہتے ہیں۔

 

 

 

جے رام رمیش نے حال ہی میں ایک بیان دیا ہے کہ سلطنت چلی گئی لیکن رویہ سلطان والا ہی رہ گیا ہے لیکن جے رام رمیش کون ہیں، وہ بھی اسی کانگریس کا حصہ ہیں۔ سینئر لیڈر ہیں، راہل گاندھی کے قریبی ہیں۔ ان کی بات صحیح ہو سکتی ہے لیکن انہیں یہ بات عوامی طور پر نہیں کہنی چاہئے تھی۔یہ بات وہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اندر رکھ سکتے تھے۔ انہیں سونیا گاندھی سے بات کرنی چاہئے تھی کہ جمہوری طریقے سے لوگوں میں اپنی پَیٹھ بنانی چاہئے لیکن مجھے نہیںمعلوم کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔
دگ وجے سنگھ ایک بے حد ہوشیار ،موثر اور بہترین لیڈر ہیں۔ ان کے پرکتر کر کانگریس بار بار ان کی توہین کرتی ہے۔یہ بہت ہی عجیب وغریب معاملہ ہے کہ کانگریس بی جے پی کی مدد کررہی ہے، بی جے پی کانگریس کی مدد کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مانو دونوں ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں۔
نتیش کمار نے ایک یو ٹرن لیا ہے۔ اس سے اپوزیشن کو دھکا لگا ۔نتیش کمار نے یہی سوچا ہوگا کہ اپوزیشن انہیں وزیر اعظم عہدہ کا امیدوار نہیں مان رہی ہے، اس لئے کیوں نہیں وزیر اعلیٰ کے طور پر خود کو مضبوط بنایا جائے۔ ان کی ذاتی سوچ کے مطابق ایسا فیصلہ صحیح ہو سکتاہے لیکن نظریاتی اور اپوزیشن کی سیاست کے حساب سے دیکھیں تو یہ ایک افسوسناک فیصلہ تھا۔ شرد یادو ان کے ساتھ جاتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے؟
کل ملا کر ملک ایک بہت اچھی حالت میں نہیں ہے۔ سرکار نے نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل قائم کیا ہے۔ بینک کرپسی لاء (دیوالیہ قانون ) ،یہ سب امریکہ کی نقل ہے۔یہ سب ہندوستان میں کام نہیں کرے گا۔ ہندوستان میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو اسے سمجھ سکیں۔ اگر کل بقایا 56لاکھ ہے اور کمپنی سالانہ کروڑوں روپے کا ٹرن اُووَر دے رہی ہے تو کمپنی کیا بینک کرپسی کے لئے درخواست دے گی؟کیا اس طرح سے بینک کرپسی کو سمجھا ہے؟یہ دماغ کا دیوالیہ پن بتاتا ہے ۔ وزیر خزانہ اور کارپوریٹ منسٹر کو اس پر دھیان دینا چاہئے اور این سی ایل ٹی کو ٹریک پر واپس لانا چاہئے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *