یو پی کی اسکولی تعلیم میں گھوٹالہ ہی گھوٹالہ 

یو پی بیسک ایجوکیشن ، پرنٹرس ایسوسی ایشن کے مطابق بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی کلاس ایک سے آٹھ تک کی نصابی کتابوں کے پرنٹ اور  دستیابی  کے لئے ہونے والے ٹینڈر میں 300 کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ پرائمری اسکولوں کی کتابوں کو لے کر ہونے والی تاخیر کے پیچھے  بڑا گھپلہ ہے۔ یو پی بیس ایجوکیشنل پرنٹرس ایسو سی ایشن کے صدر شیلندر جین اور نائب صدر ویویک بنسل کا کہنا ہے کہ تعلیمی سیشن 2017-18 میں گزشتہ 15برسوں سے چلے آرہے نظام کو بھنگ کرتے ہوئے حکومت کی چہیتی کمپنی کو کاپی وکتابوں کی فراہمی کا ٹھیکہ دیا جا رہا ہے۔ نوئیڈا میں بُردا ڈرک انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کو تعلیمی محکمہ نے ٹھیکہ دلانے کے لئے طرح طرح کے ہتھ کنڈے آزمائے۔کیسے رچی گئی سازش؟سرکار نے پرانے نظام کو توڑتے ہوئے سیکورٹی منی کو 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ کر دیا ہے۔ ٹینڈر کی غیر مناسب شرط  لگا  کر اور کارٹیل بنا کر بُردا کمپنی کو کام دیئے جانے کی سازش رچی گئی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ریاست سے بدعنوانی ختم کرکے رہیں گے لیکن کتابوں کی خرید کے لئے ای ٹینڈر سے سرکار کنی کاٹ رہی ہے ۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں گزشتہ 15برسوں سے 35-40  پرنٹرس کام کرتے آرہے ہیںلیکن اس بار صرف 13پرنٹروں کا سنڈیکیٹ بنا کر کیوں کام کیا جا رہا ہے؟اس سوال کا جواب سرکار کے پاس نہیں ہے۔ اس میں بھی 80فیصد کام بُردا کمپنی کو دیا جا رہا ہے۔ جب پچھلے سال 23پرنٹرس جولائی میں  فراہمی کو جنوری تک پوری نہیں کر پائے تو اس بارصرف 13پرنٹرس اس کام کو کیسے پورا کر پائیں گے؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان 13پرنٹروں  میں 12  فرمیں فرضی ہیں اور یہ بردا کمپنی کی چھرا نام کا ادارہ ہے۔بردا کمپنی تعلیمی سال 2016-17 میں جنوری تک کتابوں کی فراہمی نہیں کر پائی۔ اس کے باجود اس وقت کے سکریٹری اجے سنگھ یادو نے الٰہ آباد کے کلکٹر کے منع کرنے کے باوجود بردا کو اضافی وقت دیا اور اسے بلیک لسٹیڈ بھی نہیں کیا۔ اس بار لگ بھگ تین سو کروڑ روپے کا کام بردا کمپنی کو دیا جارہا ہے جبکہ یہ کام 35-40 پرنٹروں کو بانٹ کر دیا جاتا تو کام وقت سے ہوتا اور ریاسست کو 100 کروڑ روپے کی بچت بھی ہو جاتی ۔جین نے بتایا کہ تعلیمی محکمہ کی اس بڑی دھاندلی کو لے کر ایسو سی ایشن نے وزیر تعلیم انوپما جائسوال اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو موریہ سے ملاقات کی اور جانچ کی مانگ کی۔ جانچ کا بھروسہ بھی ملا لیکن یہ صرف بھروسہ ہی رہ گیا۔  بُردا  کمپنی کی ناکردگیقابل ذکر ہے کہ بُردا کمپنی پچھلے سال وقت پر کتابوں کی سپلائی نہیں کر پائی تھی اور دیر سے دی گئی کتابیں بھی گھٹیا کاغذ پر چھاپی گئی تھیں۔ لیکن اس پر حکومت کا دھیان نہیں جاتا ۔گزشتہ 9 مئی 2017 کو بیسک ایجوکیشن ڈائریکٹر سرویدر وکرم سنگھ نے بردا کمپنی کو ٹینڈر نہیں دینے کی سفارش حکومت سے کی تھی لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹینڈر میں بردا کمپنی کا ریٹ بھی کافی زیادہ ہے،اس کے باوجود اسے منظوری دی گئی جس سے محکمہ کو لگ بھگ 55کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ بیسک ایجوکیشن ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سال صرف 13 کمپنیاں ہیں اور اتنے کم وقت میں وہ کتابیں نہیں دے پائیں گی، اس لئے پھر سے ٹینڈر کرایا جائے لیکن حکومت نے دبائو دے کر ان کی تجویز بدلوا دی اور اسی کمپنی کو ٹینڈر تھما دیا۔ بردا ڈرک انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کو پچھلے سال بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے تقریبا 15کروڑ کا جرمانہ لگایا تھا۔جانکاروں کا کہنا ہے کہ گھٹیا کاغذ پر کتابوں کے چھپنے، غلطیاں رہنے اور پرنٹنگ کے نقائص رہنے کے باوجود اس بار پھر بردا کمپنی پر جرمانہ نہیں کئے جانے کی ابھی سے اسکیم تیار ہو گئی ہے۔ بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کتابیں چھپنے کے لئے 90 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اس کے بعد گریس پیریَڈ بھی دیا جاتا ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر ، اکتوبر سے پہلے بچوں کو کتابیں  نہیں  مل سکتیں۔کیگ کی رپورٹ میں بھی یہ بات آئی ہے کہ پچھلے سیشن میں 97 لاکھ بچوں کو کتابیں نہیں ملیں۔ اس وقت ٹینڈر کا 90فیصد کام اسی بُردا ڈرک  انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کے پاس تھا۔ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے کتابوں کی جب پوری ادائیگی  کی تھی تو پھر آدھی سے زیادہ کتابوں کی سپلائی کیوں نہیں ہوئی؟ان کتابوں کے نام پر 125 کروڑ سے زیادہ رقم کن کن لوگوں کی جیب  میں گئی؟یہ سوال سامنے ہے۔ سرکاری کتابوں کی چھپائی کا ٹینڈر دینے میں کی گئی من مانی کے بارے میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تک شکایت پہنچ چکی ہے۔ وشو ہندو مہا سنگھ کے لیڈر دگ وجے سنگھ رانا نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر  بیسک ایجوکیشن کے محکمہ کے چیف سکریٹری کے اس بدعنوانی میں ملوث رہنے کی شکایت کی ہے۔ اپنی شکایت میں انہوں  نے کہا ہے کہ پرائمری بچوں کو دی جانے والی  فری کتابوں میںبڑے  پیمانے پر کمیشن خوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ نوئیڈا کی فرم میسرس بردا ڈرک انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کو خاص طور پر فائدہ پہنچانے کے لئے چیف سکریٹری نے سارے قوانین طاق پر رکھ دیئے۔ 2000 سے 2016 تک یو پی سرکار ریاست میں کتابوں کا ٹینڈر 40 فرموں کو دیا جاتا تھا  جس کے لئے باقاعدہ سیکورٹی منی جمع کراکر ٹینڈر نکالا جاتا تھا لیکن 2016 میں بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری اجے سنگھ نے اس مینڈیٹ کو بدل دیا۔ انہوں نے 40 کے بجائے صرف ایک فرم کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ لیا۔ اتنا ہی نہیں، کاغذ ملوں سے یہ بھی خط لکھوا کر منگایا گیا کہ وہ بُردا ڈرک  انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کو ہی اپنا مال سپلائی کریں گے۔کیسے ہوئی ملی بھگت؟الزام ہے کہ ملی بھگت کے تحت چیف سکریٹری نے ریاست میں کتابوں کی سپلائی کے لئے 158 کروڑ کا ٹھیکہ بغیر تکنیکی صلاحیت کی جانچ  کئے کمپنی کو دے دیا۔ جبکہ کئی دیگر فرمیں کم ریٹ پر سپلائی دینے کے لئے لائن میں تھیںلیکن چیف سکریٹری نے قوانین میں بدلائو کر کے بُردا کمپنی کو بغیر کوئی سیکورٹی منی جمع کرائے ہی ٹھیکہ دے دیا۔یہ سخت قانون بتا رہا ہے کہ اگر کوئی کمپنی وقت سے کتابوں کی سپلائی نہیں دے پاتی ہے تو اس پر جرمانہ لگتا ہے لیکن کتابوں کی سپلائی میں مہینوں دیر کرنے کے باوجود فرم پر جرمانہ نہیں لگایا گیا اور نہ اس پر کوئی کارروائی کی گئی۔ جبکہ الٰہ آباد کے کلکٹر سنجے کمار نے تحریری طور پر کہا تھا کہ مذکورہ فرم پر 60 کروڑ روپے کا جرمانہ اور اسے بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی کرنی چاہئے لیکن حکومت نے اسے درکنار کر دیا۔ پوری ریاست میں یہ سوال اٹھتے رہے کہ ایسے داغدار فرم کو دوبارہ  ٹھیکہ کیوں دیا جارہا ہے؟فرم پر لگائی  گئی پنالٹی کی کارروائی آگے کیوں نہیں بڑھی؟اسے  بلیک  لسٹ میں کیوں نہیں ڈالا گیا؟لیکن  ان سوالوں کے جواب میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ دسمبر تک پرائمری اسولوں میں کتابیں نہیں  تقسیم کی گئیں ور جو تقسیم ہوئیں  ،وہ بڑی غلطیوں کے ساتھ لیکن محکمہ آنکھ اور کان دونوں میں تیل ڈالے خاموش بیٹھا رہا۔ غلطیوں کی انتہا یہ رہی کہ کلاس سات اور آٹھ کی کتابوں کا نصاب ہی بدل دیا گیا۔ اس ناقابل عفو چوک پر ریاست کے قاری کتاب کے متن آفیسر نے بھی مذکورہ فرم کے خلاف کارروائی کے لئے حکومت کو لکھا لیکن وہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ہی ثابت ہوئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اترپردیش  کے گورنر رام نائک نے بھی اس معاملے پر حکومت کو کارروائی کے لئے لکھا تھا لیکن اسے بھی ٹھنڈے بستے  میں  ڈال دیا گیا۔  اس کا نتیجہ ہے کہ پچھلے سال ششماہی امتحانات تک 50فیصد کتابیں  ہی اسکولوں میں فراہم ہو پائی تھیں۔ اس بار بھی ساڑھے بارہ کروڑ کتابوں کی چھپائی  کے لئے 31 دسمبر 2016 کو ٹینڈر دیا گیا تھا۔ ٹینڈر کی آخری تاریخ 6فروری 2017تھی۔تقریبا دو درجن سے زیادہ فرموں نے درخواست دی تھی۔ سات مارچ کو ٹیکنیکل بڈ کھولی گئی جس میں 13لوگوں کو اہل پایا گیا تھا لیکن تین مئی تک فائننشیل بڈ کھولی گئی۔ گھوٹالے کی بساط بچھائی جا رہی تھی۔ چھپائی کا ٹھیکہ الاٹ کرنے میں تگڑا کمیشن چلتا ہے۔ پچھلے سال 13 کروڑ 21لاکھ 86 ہزار 500 کتابوں کی چھپائی کے لئے ٹینڈر مانگی  گئی تھی۔ پرائیویٹ پبلیشرس کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے ایک بار ٹینڈر انوائٹ کرنے کے بعد اس میں دو بار ترمیم کی گئی۔ اس کام کی لاگت 450کروڑ تھی، جس میں 250کروڑ روپے کتابوں کی  چھپائی پر اور 200 کروڑ روپے واٹر مارک پیپر پر خرچ کئے جانے تھے۔ پچھلے سال ایک روپے 38 پیسے کے ریٹ سے چھپائی ہونی تھی۔ اس میں ایک ایسی کمپنی سے کاغذ لیا گیا جو گھاٹے کی وجہ سے ہڑتال جھیل رہی تھی اور واٹر مارک پیپر پیداکرنے کی صلاحیت کی شرط کو پورا بھی نہیں کر رہی تھی۔ جس کمپنی کو کاغذ سپلائی کرنا تھا اس کی یومیہ کی پیداوار صلاحیت کم سے کم 200 میٹرک ٹن دکھائی گئی جبکہ اس کمپنی کی یومیہ واٹر مارک پیپر پیدوار صلاحیت صرف 60ٹن میٹرک ٹن ہی تھی۔ اب تو آگیا نیا لوٹ کوڈبیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ  کے آفیسر اور اساتذہ آپس میں سانٹھ گانٹھ کرکے بچوں کی کتابیں تو کھاہی رہے ہیں، ان کے ڈریس بھی ہضم کررہے  ہیں۔ ریاست کے کئی اضلاع سے لگاتار ایسی شکایتیں حکومت تک پہنچ رہی ہیں لیکن حکومت اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔ ڈریس گھوٹالے کاہی ایک دلچسپ واقعہ بدایوں ضلع کا سامنے آیا جہاں بچوں کا ڈریس بنانے کے لئے آئے ساڑھے سات کروڑ روپے سب نے مل کر کھا لئے ۔اس بڑے گھوٹالے پر حکومت کی خاموشی ہے۔ بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ  کے ذریعہ سرکار بچوں کو دو جوڑی ڈریس دیتی ہے جس کی قیمت تقریبا چار سو روپے ہے۔ بدایوں ضلع کو اس کے لئے ساڑھے سات کروڑ روپے ملے لیکن وہ ہضم  کر لیا گیا۔  ایک آفیسر نے کہا کہ یو پی کے سارے اضلاع کو اس میں شمار کر لیجئے، اس گھوٹالے سے کوئی ضلع اچھوتا نہیں ہے ، اس میں راجدھانی لکھنو بھی شامل ہے۔ اب تو یوگی سرکار نے نیا ڈریس کوڈ بھی جاری کر دیا ہے۔ بدعنوانی آفیسر اور مافیا خوش ہیں۔ ان کے لئے یہ ہے نیا لوٹ کوڈ۔  اترپردیش کی پبلک  لائبریریوں کے لئے کتابیں خریدنے کی ذمہ داری ریاستی سرکار کی ہے لیکن سرکار کی کتاب خرید نے کی اسکیم پر بدعنوان لیڈر ، نوکر شاہ ، ناشر ، مافیا  اور دلال قابض ہیں۔ نصابی کتابیں خریدی نہیں جا رہیں کیونکہ اس کے مصنف یا ناشر بد عنوان سسٹم کو رشوت نہیں چڑھاتے لہٰذا لائبریریوں میں گھٹیا کتابیں خرید کر رکھی جارہی ہیں۔ اس وجہ سے بیدار قاریوں اور  محنتی طلباء کی آمد لائبریریوں میں کم ہوتی جارہی ہے۔ اچھی کتابیں اور اچھے مصنف حاشئے پر ہیں۔ ناشریں کی تمام جعلی فرمیں ہیں، جو کتابوں کی خرید کے گورکھ دھندے میں ملوث ہیں۔ ایجوکیشن مافیا سرکار پر حاوی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *