سعودی عرب بنام قطر انانیت کے بیچ میں پھنسی اقتصادی پابندی

مشرقی وسطیٰ کی زمین دو طاقتوں کے درمیان برتری کی سرد جنگ کی گواہ رہی ہے۔ خطہ میں سعودی عرب اور ایران نے اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑاجس کے اثرات مختلف وقتوں میں الگ الگ شکلوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں قطر پرسعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے والے چھ عرب ممالک میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔
13 مطالبات کیا ہیں؟
سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے قطر پر اقتصادی پابندی بھی عائد کردی اور اس پابندی کو ہٹانے کے لئے 13مطالبات کی ایک فہرست پیش کردی جس کے مطابق قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ عرب ممالک کی جانب سے پابندی کا شکار اخوان المسلمون سے تمام تعلقات توڑ لے۔چاروں ممالک کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تمام افراد کو ان ممالک کے حوالے کرے۔ ایسے شدت پسند گروہوں کی مالی امداد بند کرے جنہیں امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ان حکومت مخالف شخصیات کی فہرست فراہم کرے جنہیں قطر نے مالی مدد فراہم کی ہے۔ سیاسی، اقتصادی اور دیگر معاملات میں خلیج تعاون کونسل کے موقف سے ہم آہنگی پیدا کرے۔الجزیرہ کے علاوہ اعرابی21 اور مڈل ایسٹ آئی جیسے خبر رساں اداروں کی مالی مدد بند کرے۔ دراصل قطر جس کی سرحدیں سعودی عرب سے ملتی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا ملک ہے ، ایران کے ساتھ نرم رویہ رکھتا رہا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ قطر، ایران سے دوری بنائے رکھے تاکہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع نہ مل سکے لیکن سعودی عرب کے اس مطالبے کو قطر اپنے اندرونی معاملوں میں مداخلت سمجھتا ہے اور اسی لئے اس نے سعودی عرب کے دبائو کے باجود کبھی ایران سے کاروباری تعلقات کو ٹھندا نہیں ہونے دیا۔
سعودی عرب کو پورا یقین تھا کہ قطر اقتصادی دبائو میں آکر ایران سے اپنے تعلقات منقطع کرلے گا اور اس طرح خطہ میں اس کی برتری قائم رہے گی،لیکن سعودی عرب کی ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور قطر نے سعودی عرب کے تمام مطالبات کو مسترد کرکے نہ صرف ایران سے تعلقات کو بحال رکھا بلکہ ترکی سے بھی اس نے اپنے رشتے ماضی کی بہ نسبت زیادہ مضبوط کرلیا۔ اب جو ایران جزوی طور پر مشرق وسطیٰ میں دخل اندازی کرتا تھا ،قطر سے تعلقات مضبوط ہونے کے سبب کھل کر سامنے آگیا ہے اور قطر کے ساتھ اس کے تجارتی روابط تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسا اس لئے کہ سعودی عرب نے قطر کے خشکی راستے کو بالکل بند کردیا ہے لہٰذا قطر اب اپنے تمام رسد وسامان ایران سے سمندری راستے سے منگوا رہا ہے اور اس طرح قطر روز بروز سعودی عرب سے دور اور ایران اور ترکی سے قریب ہوتا جارہا ہے ۔اس طرح دیکھا جائے تو سعودی عرب کی تمام تدبیریں الٹی پڑ گئیں ۔ سعودی عرب خود اپنے ہی دام میں خود کو پھنستا ہوا دیکھ کر ان 13 مطالبات کو جو اس نے پابندی ہٹانے کے لئے مشروط کیا تھا ،نرم کرکے 6 مطالبات میں سمیٹ دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر قطر ان 6 مطابات کو پورا کردے تو پابندی ہٹائی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے قطر سے جو 6 مطالبات کئے ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ قطر دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو ہر صورت میں ختم کرے اور ان کی مالی مدد بند کرنے کا عہد کرے۔دوحہ تشدد اور نفرت بھڑکانے کی تمام کارروائیاں ختم کرے ۔قطر 2013 کے ریاض معاہدے اور اس سے وابستہ تمام شرائط پر عمل کرے اور خلیج تعاون کونسل کے 2014 کے لائحہ عمل کے مطابق اس پر عمل کرے۔ قطر مئی 2017 میں ریاض میں عرب امریکا سربراہ کانفرنس کے تمام اعلانات پر عمل اور اس کے نتائج کو تسلیم کرے۔قطر ہمسایہ ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کر تے ہوئے حزب اختلاف یا اداروں کی غیر قانونی حمایت اور امداد بند کرے۔قطر سمیت تمام خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی ہر شکل و صورت کو ختم کرنے میں مکمل طور پر حصہ دار بنے اور خطے اور عالمی امن و استحکام کے خطرات سے نمٹنے میں تعاون دے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ قطر نے اب تک ان 6 مطالبات پر بھی کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔اس کا مطلب صاف ہے کہ ان مطالبات پر عمل درآمدکرنے کی جتنی جلدی سعودی عرب کو ہے ،اتنی جلدی قطر کو نہیں ہے۔کیونکہ قطر کی ضرورتیں سمندری راستے سے ایران اور ترکی پورا کررہا ہے جبکہ ایران کا یہ عمل مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے اثرو رسوخ کو کم کرتا چلا جارہا ہے۔ اس لئے وہ چاہتاہے کہ جتنی جلدہو، اس پابندی کو ختم کرکے ایران کی قطر میں دلچسپی کو ختم کیا جاسکتے۔

 

 

پابندی کی 5 وجوہات
بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے جو پابندی عائد کی ہے، اس کے پانچ وجوہات ہیں۔ ان میں پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ خطہ سے ایران کے اثرو رسوخ کو ختم کرنا چاہتاہے اور اسی مقصد کی خاطر وہ قطر پر اپنے ہمنوا ملکوں کے ساتھ مل کر دبائو بنا رہا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ بہار عرب کے نام پر مشرقِ وسطیٰ میں آئی انقلابی لہر کے بعد سیاسی تبدیلیوں کے دوران قطر اور ہمسایہ ممالک نے مختلف عناصر کی حمایت کی تھی۔دوحہ نے جن اسلام پسندوں کی حمایت کی تھی، ان میں سے کچھ اپنے ممالک میں سیاسی فوائد اٹھا پائے ہیں۔مثال کے طور پر 2013 میں جب مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو معزول کیا گیا تو قطر نے ان کی جماعت اخوان المسلمین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ یاد رہے کہ مصری حکومت نے اخوان المسلمین پر پابندی لگا رکھی ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں۔سعودی عرب کے مطابق قطر پر اخوان المسلمین، داعش اور القاعدہ سمیت مختلف دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروہوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب امریکہ کا حلیف ہے اور وہ خطہ میں کسی ایسے بیان کو ناپسند کرتا ہے جوامریکی موقف کے خلاف ہو۔ یہ نیا بحران اس وقت شروع ہوا جب قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے ایک مبینہ بیان پر رپورٹ شائع ہوئی جس میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ موقف پر تنقید کی گئی۔ سعودی عرب کو ایک عرصہ سے تہران کے موقف اور خطے میں اس کے عزائم پر تشویش رہی ہے۔ سعودی بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ اکثریت والے علاقے قطیف میں دوحہ ایران کی پشت پناہی حاصل رکھنے والے گروہوں کی شدت پسندی کی کارروائیوں میں مدد کر رہا ہے۔قطر پر یمن میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام لگایاگیا ہے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ لیبیا اس وقت سے عدم استحکام کا شکار ہے جب سے سابق رہنما معمر قذافی کو 2011 میں بے دخل کرنے کے بعد ہلاک کیا گیا تھا۔ لیبیا کی ملٹری میں طاقتور حیثیت رکھنے والے خلیفہ ہفتار جنہیں مصر اور متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ ملک کے مشرقی شہر تبروک میں قائم حکومت کے حامی ہیں جبکہ قطرطرابلس میں قائم حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ اس اختلاف نے بھی سعودی عرب اور قطر کے درمیان خلیج پیدا کی ہے۔
پانچواںسبب یہ ہے کہ سعودی عرب قطر پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ میڈیا ا کو استعمال کرکے سرکشی کے جذبات ابھار رہا ہے۔ قطری میڈیا نے اخوان المسلمین کے ممبران کو پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ بہر کیف ان پانچ وجوہات نے سعودی عرب اور قطر کے بیچ بڑی خلیج پیدا کردی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ سعودی عرب موقع پاتے ہی اپنے ہمنوا ملکوں کے ساتھ مل کر قطر کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی راہ ہموار کرلی ہے ۔
عالمی کپ قطر کی مجبوری
لیکن ان سب کے باجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ قطر کو دیر سویر اس پابندی کو ختم کرنے کے لئے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا ہی ہوگا کیونکہ 2022 میں دوحہ میں عالمی کپ منعقد ہونے جارہا ہے۔ اس سلسلے میں قطر کے وزیر مالیات علی العمادی کا کہنا ہے کہ’’ دوحہ کی جانب سے 2022 کے عالمی کپ کے منصوبوں پر ہفتہ وار خرچ ہونے والی رقم تقریباً 50 کروڑ ڈالر ہے۔ قطری وزیر کی توقعات کے مطابق یہ اخراجات آئندہ تین سے چار برس تک اسی سطح پر جاری رہیں گے۔ اس دوران اسٹیڈیم ، ہائی ویز ، ریل کی پٹریاں اور نئے اسپتال بنائے جائیں گے‘‘۔اس کا یہ مطلب ہوا کہ دوحہ کو 2022تک تقریباً 96 ارب ڈالر درکار ہوں گے جو دوحہ کے خلاف چار ملکی بائیکاٹ اور اقتصادی پابندیوں کے بعد ایک دشوار امر ہوگیا ہے ۔کیونکہ کریڈٹ ریٹنگ کی معروف ایجنسی پوئرس اینڈ اسٹنڈرڈ کی جانب سے 8 جون کو جاری ریٹنگ میں قطر کے ریال کی قیمت میں کمی کے ساتھ اس کی کریڈٹ ریٹنگ گزشتہ 11 برسوں میں نچلی ترین سطح پر دکھایا گیا ہے۔ ایجنسی نے طویل مدت کے قرضوں کے لیے قطر کی کریڈٹ ریٹنگ کو AA سے کم کرکے مائنس AA کر دیا ہے اور اس کو منفی اثر کی حامل کریڈٹ مانیٹرنگ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریٹنگ میں ایک بار پھر کمی کا قوی امکان ہے۔ خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کے جاری رہنے کے ساتھ قطر میں تعمیراتی سیکٹر کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔قطر میں کام کرنے والی عالمی تعمیراتی کمپنیاں اس وقت اپنے معاہدوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں تا کہ بائیکاٹ کے نتیجے میں اضافی لاگت اور اخراجات سے گریز کیا جا سکے۔قطر کا ہدف ہے کہ 2022 کے عالمی کپ سے متعلق تعمیرات اور تنصیبات کا دو تہائی حصہ 2018 کی پہلی سہ ماہی تک مکمل طور پر تیار ہو۔ اس ہدف کو بھی قطر اور تعمیراتی کمپنیوں کے درمیان معاہدوں کی نوعیت کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہے۔
عام طور پر ایف آئی ڈی آئی سی کے نام سے معروف تعمیرات کے روایتی معاہدے عمل درآمد کے وقت میں کسی طرح کی رکاوٹوں اور مسائل کی صورت میں ٹھیکے دار کو منصوبے کی تکمیل کے واسطے اضافی وقت کا حق دیا جاتا ہے ، مگر ان معاہدوں میں لاگت میں اضافے کے مقابل ٹھیکے دار کو مزید مالی رقوم حاصل کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاگت میں اضافے کی وجہ سے ان منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنا انتہائی دشوار امر ہوگا۔یہ تمام دشواریاں اقتصادی پابندی کی وجہ سے درپیش ہیں جن پر قابو پانے کے لئے قطر کو اقتصادی پابندی کو ختم کرانے کے لئے پیش قدمی کرنی ہی پڑے گی۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *