کوسی میں شرد یادو ’منڈل مسیحا‘ قرار دیئے گئے

پورے کوسی میں آج کل ایک سوال کافی چرچا میں ہے۔ جگہ جگہ سیاسی مزاج کے لوگ ایک دوسرے سے جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوسی میں شرد یادو راشٹریہ جنتاد ل کو بچائیں گے یا راشٹریہ جنتا دل یہاں شرد یادو کو سہارا دے گا۔ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔ حالانکہ اسے لے کر کوسی میں سیاسی بساط بچھ چکی ہے کہ راشٹریہ جنتا دل اور شرد یادو، دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ شرد یادو کے حالیہ کوسی یاترا کو ماہرین اسی نظریہ سے دیکھ رہے ہیں۔
’جن سنواد یاترا ‘کے بہانے کوسی کی زمین پر ایک بار پھر سے جنتا دل یو کے سابق قومی صدر اور راجیہ سبھا ممبر شرد یادو نے اپنی سیاسی زمین ٹٹولی ۔ انہوں نے وہاں راشٹریہ جنتا دل کے وجود کی بھی جانچ کی ۔انہیں عوامی حمایت بھی ملی۔ کوسی کے لوگوں نے انہیں کوسی میں راشٹریہ جنتا دل کی ڈوبتی نیا کا پار لگانے والا کہا، تو وہیں بہو جن چوپال کے طلباء اور راشٹریہ جنتا دل حامیوں نے شرد یادو کو منڈل مسیحا قرار دیا۔ وی پی منڈل کی زمین کوسی میں پہلے ایک نعرہ بلند کیا جاتا تھا’’ روم ہے پوپ کا اور مدھے پورا ہے گوپ کا‘‘۔ لیکن جب شرد یادو ،نتیش کمار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگے تب یہ نعرہ بھی ٹھندا پڑ گیا۔ اب شرد یادو کو منڈل مسیحا قراردیئے جانے کے بعد پھر سے ریزرویشن کی بجھتی آگ کو تازہ کیا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ ریزرویشن کا فائدہ پانے والی برادریوں کو بیدار کرنے، خاص طور پر یدو ونشیوں کے جذبات بھڑکانے کی بھی پوری کوشش شروع ہو گئی ہے۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ کوسی کی زمین پر منڈل مسیحا وی پی منڈل طرح کے لیڈروں کی قربانی کی مارکیٹنگ کرنے میں راجیہ سبھا ممبر شرد یادو کو مہارت حاصل ہے۔ سیاسی ماہرین کی مانیں تو کوسی ڈویژن میں بی جے پی کی ویسی عوامی مقبولیت نہیں ہے جس پر وہ اترا سکیں۔کانگریس کے بنیادی ووٹ ہی بی جے پی کو ملتے ہیں۔ بی جے پی کے بنیادی ووٹ کہے جانے والے بنیا طبقہ پر کوسی میں بی جے پی نے کبھی توجہ نہیں دی۔ لہٰذا بی جے پی کا جنتا دل یو کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنا بھلے ہی بہار اور ملک میں لہر پیدا کرے لیکن مشکل گھڑی میں بھی کوسی میں راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کا اتحاد بھاری پڑ سکتاہے۔

 

 

 

 

اس وقت مدھے پورا اور سوپول لوک سبھا حلقے کی کل 13سیٹوں میں سے جنتا دل یو کے پاس 8، راشٹریہ جنتا دل کے پاس 4، اور ایک سیٹ بی جے پی کے قبضے میں ہے جبکہ سہرسہ ضلع کے سمری بختیار پور ڈویژن کا اسمبلی حلقہ کھگڑیا لوک سبھا حلقے کے تحت ہے اور اس سیٹ پر بھی جنتا دل یو کا ہی قبضہ ہے۔ اب مہا گٹھ بندھن ٹوٹ جانے سے جنتا دل یو کی 9سیٹوں میں سے سوپول ہیڈکوارٹر کی سیٹ چھوڑ کر ،باقی پر راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس گٹھ بندھن کو فائدہ مل سکتاہے۔ ابھی سوپول لوک سبھاسیٹ پر کانگریس کا ہی قبضہ ہے۔ راجیش رنجن عرف پپو یادو کی بیوی رنجیتا رنجن یہاں سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ جنتا دل یو سے الگ ہونے کے بعد کوسی میں بی جے پی صرف ایک سیٹ ہی نکالنے میں کامیاب رہی تھی ۔ادھر کوسی میں جنتا دل یو کے سیٹنگ ایم ایل ایز میں سے صرف ایک سیٹ ہی نکالنے میں کامیاب رہے تھے۔ ادھر کوسی میں جنتا دل یو سیٹنگ ایم ایل ایز کو ابھی سے ہی یہ فکر ستانے لگی ہے کہ بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن کے بعد اب سیٹوں کی تقسیم کیسے ہوگی۔ دوبارہ ٹکٹ لینے سے محروم رہنے والے جنتا دل یو ایم ایل ایز کا بھی ایک بڑا حصہ شرد یادو کے ساتھ آجائے گا۔ انہی سب حالات کو دھیان میں رکھتے ہوئے شرد یادو نے ابھی سے راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ سُر ملانا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ راشٹریہ جنتا دل کی سبھی سیٹوں پر بی جے پی اور اس کے اتحادی کی جیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جنتا دل یو کی سیٹوں کی تقسیم کا تنازع کیسے سلجھے گا ؟یہ جنتا دل یو کے لئے فکر کی بات ہوگی۔ اسے لے کر ابھی سے اندازوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ ان سب سے الگ، یہ بات تو طے ہے کہ کوسی میں راشٹریہ جنتا دل کی ڈوبتی نیا کو شرد یادو کے پتوار کی درکار ہے، وہیں شرد یادو کو بھی لوک سبھا ممبر کی شکل میں پارلیمنٹ پہنچنے کے لئے راشٹریہ جنتا دل کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ بھی ہے کہ کوسی میں اپنی ’’ جن سنواد یاترا ‘‘کے دوران شرد یادو نے ریاست کے جنتا دل یو -بی جے پی اتحاد کی کھل کر مخالفت کی۔
اس’ جن سنواد یاترا ‘ میںشرد یادو کے حامیوں میں جنتا دل یو کے سہرسہ ضلع صدر دھنک لال مکھیا کے علاوہ جنتا دل یو کا کوئی قد آور لیڈڑ یا ایم ایل اے شامل نہیں ہوا۔ دھنک لال مکھیا اپنے سینکڑوں حامیوں اور کچھ مقامی لیڈروں کے ساتھ پوری یاترا میں شرد یادو کے ساتھ رہے۔ شرد یادو کا ساتھ دینے کے سبب جنتا د ل یو نے کئی مقامی لیڈروں کے ساتھ دھنک لال مکھیا کو بھی پارٹی سے نکال دیا ہے۔ دھنک لال مکھیا پچھلے چار ٹرم سے صدر بنے ہوئے تھے۔ پچھلی بار تو تمام مخالفتوں کے باوجود شرد یادو کی کوشش سے ہی وہ صدر بنائے گئے۔ جنتا دل یو سے معطل ایسے تمام لیڈر اب اسی امید میں ہیں کہ شرد یادو جلد سے جلد رشٹریہ جنتا دل اور کانگریس گٹھ بندھن کا ہاتھ تھامیں تاکہ انہیں بھی ان کے ساتھ ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ کھڑے ہونے کا انعام مل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *