دفاعی سودے میں سپاری كا خطرناك كھیل

دفاعی سودے سے جڑے آرمس ڈیلرس اور دلالوں نے باہمی مقابلہ بازی میں ایک دوسرے کو نمٹانے کے لئے اترپردیش کے مافیا سرغنہ کوسُپاری دی تھی۔ بالی ووڈ کی طرح بڑے بڑے کارپوریٹ ادارے بھی اپنے مدمقابل یا مخالف کو ہٹانے کے لئے ’’ کنٹریکٹ کیلرس ‘‘ کا سہارا لیتے ہیں، اس حقیقت کے اجاگر ہونے کے بعد بھی سی بی آئی نے اس کی تہہ میں جانے کی ضرورت نہیں سمجھی یا اسے تہہ میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سلسلے میں کئی اہم ذرائع سی بی آئی کے ہاتھ لگے، لیکن یہ معاملہ اس لئے بھی آگے نہیں بڑھا کیونکہ سی بی آئی جیسی خفیہ ایجنسیوں میں بھی آفیسر الگ الگ آرمس ڈیلروں کے پیادے کے طور پر کام کرتے، ایک دوسرے کو اطلاعات لیک کرتے اور مد مقابل کو ٹھکانے لگانے میں آسان ذریعہ بنتے پائے گئے ہیں۔ اس کے لئے خاص طور پر جیلوں میں بند مافیا سرغنائوں سے مدد لی جاتی ہے۔ مافیا سرغنائوں کو جیل سے آپریٹ کرنے میں آسانی رہتی ہے،وہ پکڑے بھی نہیں جاتے اور باہر ان کے ’’ ہِٹ مین ‘‘ اپنا کام نمٹاتے رہتے ہیں۔
ناقابل تردید حقیقت
آپ کو یہ اطلاع عجیب و غریب لگے گی لیکن یہ سرکاری سچائی ہے کہ دفاعی سودے سے جڑے آرمس ڈیلروں، دلالوں اور ان کے مددگار نوکر شاہوں نے ’’ روڑے ہٹانے کے لئے ‘‘ دائود ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم تک کو ٹھیکہ دیا۔اس میں ایک ٹھیکہ آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما کو راستے سے ہٹانے کے لئے اترپردیش کے بدنام مافیا سرغنہ منا بجرنگی کو ملا تھا۔ اس کی اطلاع ملنے پر اقتدار کوریڈور سے لے کر پولیس اور سی بی آئی محکمے تک خوب کھلبلی مچی۔ سی بی آئی کے لئے پریشانی یہ تھی کہ آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما اربوں روپے کے دفاعی سودہ گھوٹالے اور’ نیوَل وار روم لیک ‘معاملے میں سرکاری گواہ بن چکا تھا۔لہٰذا اس کی حفاظت بے حد ضروری تھی۔ ابھیشیک ورما سے سی بی آئی کو لگاتار کئی اہم سراغ مل رہے تھے۔
ایسے میں سی بی آئی کے لئے یہ اطلاع حیران کرنے والی تھی کہ بے حد حساس اور اہم سرکاری گواہ کو جیل میں ہی نمٹانے کی تیاری ہو چکی ہے۔ جیل میں سرکاری گواہ کی سرگرمیوں کی ریکی کی جارہی تھی اور الگ الگ وسائل سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ جیل میں اس کی سرگرمیوں کی نگرانی میں سی بی آئی کے بھی کچھ درمیانی سطح کے آفیسر رات دن جٹے ہوئے تھے۔وہ اپنے سرکاری اختیار کا بے جا استعمال کر رہے تھے اور کوئی انہیں مہرے کی شکل میں استعمال کر رہا تھا۔ یہ بات دستاویزوں میں بھی آچکی ہے۔ سی بی آئی ایک طرف دفاعی سودہ گھوٹالے کی ایمانداری سے جانچ کرر ہی تھی تو دوسری طرف سی بی آئی کے ہی کچھ آفیسر کچھ دیگر افسروں کے ساتھ مل کر دفاعی سودہ گھوٹالے میں ملوث کچھ خاص لوگوں کو بچانے اور کچھ کو قربانی کا بکرا بنانے کے لئے حقائق کو توڑنے مروڑنے میں لگے ہوئے تھے۔
بہر حال سرکاری گواہ کو سیکورٹی فراہم کرانے کے مد نظر تہاڑ جیل میں ابھیشیک ورما اور اس کی رومانیائی بیوی آنکا ماریہ ورما کو بلیٹ پروف جیکٹ مہیا کرائی گئی۔ دفاعی قواعد اور پی ایم او سے لے کر سی بی آئی اور دہلی پولیس کے بیچ اس مسئلے پر صلاح و مشورہ چل ہی رہا تھا کہ تبھی تہاڑ جیل میں بند مافیا سرغنہ اور دائود ابراہیم گروہ سے جڑے رہے بدنام جرائم پیشہ منا بجرنگی کا ایک خط تہاڑ جیل مینجمنٹ کے ہاتھ لگ گیا جس میں منا بجرنگی نے دفاعی سودہ گھوٹالے کے سرکاری گواہ ابھیشیک ورما کو مہیا کرائی گئی بلیٹ پروف جیکٹ کے بارے میں آر ٹی آئی ( حق اطلاعات قانون ) کے تحت اہم جانکاریاں مانگی تھیں۔ آر ٹی آئی کا سہارا لے کر یہاں تک جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ ابھیشیک ورما کب کب بلیٹ پروف جیکٹ پہنتا ہے اور جیل سے کورٹ لے جانے کے وقت اور کورٹ کی کارروائیوں کے دوران اسے بلیٹ پروف جیکٹ پہننے کی سرکاری اجازت ملی ہوئی ہے یا نہیں ؟
سی بی آئی کا قانونی سائیڈ دیکھنے والے ایک وکیل نے کہا کہ یہ جانکاریاں اس ارادے سے بھی مانگی گئی تھیں کہ معاملہ اتنا طول پکڑے اور متنازع ہو جائے کہ جیل میں مل رہی یہ سہولت اس سے واپس لے لی جائے تاکہ پھر آرام سے ٹارگٹ کو نمٹایا جاسکے۔ آر ٹی آئی کے تحت اطلاع مانگنے والی درخواست پر پریم پرکاش سنگھ کا دستخط تھا۔بعد میں یہ بات کھلی کہ پریم پرکاش سنگھ کوئی اور نہیں، خود منا بجرنگی ہے ۔پھر آناً فاناً سرکاری گواہ اور اس کی بیوی کو ’’وائی کیٹگری ‘‘ کی سیکورٹی کے تحت تہاڑ جیل میں ہی 24 گھنٹے کا مضبوط سیکورٹی نظام مہیا کرایا گیا تھا۔

 

ستم ظریفی
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہائی پروفائل دفاعی سودہ گھوٹالے کے سرکاری گواہ کا صفایا کرنے کے لئے کن لوگوں نے منا بجرنگی کو سُپاری دی تھی، اس کا پتہ لگانے کے بجائے مرکزی سرکار نے منا بجرنگی کو تہاڑ جیل سے ہٹا کر یو پی کی جیل میں روانہ کر دیا۔ یہ پورا معاملہ ہی دبا دیا گیا جبکہ یہ مقدمہ انتہائی حساس تھا اور اس کا کُھلنا ملک مفاد میں ضروری تھا لیکن اس طرف سے خفیہ ایجنسیوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ دفاعی سودہ گھوٹالے کے سرکاری گواہ ابھیشیک ورما نے اس مسئلے میں سی بی آئی کو کئی اہم سراغ دیئے تھے۔ اس نے آرمس ڈیلنگ میں لگے کئی مد مقابل افراد کے نام بھی بتائے تھے۔ اس نے ایسے بھی لوگوں کے نام بتائے تھے، جو کئی ملکوں میں آرمس ڈیلنگ میں بچولیے کا دھندہ کرنے والی امریکی کمپنی گینٹن لمیٹیڈ کے مالک سی ایڈمنڈ ایلین سے ملی بھگت کرکے غلط حقیقت پیش کرکے قانون کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ دفاعی سودہ گھوٹالہ معاملے میں درج ایف آئی آر میں اصلی گینٹن لمیٹیڈ کو مجرم نہ بنا کر اس کی سبسڈیئری کمپنی گینٹن انڈیا لمیٹیڈ کو مجرم بنا دیا گیا تھا۔ اس میں بھی ابھیشیک ورما کو چھوڑ کر کسی دیگر کا نام نہیں تھا جبکہ گینٹن انڈیا لمیٹیڈ کے کچھ دیگر کرتا دھرتا بنیادی کمپنی گینٹن لمیٹیڈ یو ایس اے کے مالک ایلین اور کچھ افسروں کے ساتھ مل کر ایک بکرے کو قربان کرنے کی تکڑم رچنے میں لگے تھے۔ اس کی گہرائی سے جانچ ہوتی تو کئی سفید پوش چہرے ننگے ہوتے جو دفاعی سودے میں تہہ تک ملوث ہیں۔لیکن ان کے بارے میں لوگ کچھ نہیں جان پائے جن کے بارے میں ملک کے لوگ کچھ جان پاتے ۔ان کا بھی کیا ہوا؟مودی سرکار نے یو پی اے سرکار کے دور حکومت میں ہوئے اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید گھوٹالے پر خوب شور مچایا لیکن اس معاملے میں مودی سرکار نے کیا کیا؟فضائیہ کے سابق چیف ایس پی تیاگی کو گرفتار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ دفاعی سودے میں ملوث پائے گئے لندن کے ہند نژاد دولت مند کاروباری سدھیر چودھری، این آر آئی ویپن کھنہ ، سابق بحریہ چیف سریش نندا جیسی ہستیوں کا بھی سی بی آئی کچھ نہیں بگاڑ پائی۔
سی بی آئی کے ہی کچھ آفیسر بتاتے ہیں کہ دفاعی سودہ گھوٹالہ معاملے میں ابھیشیک ورما اگر سرکاری گواہ نہیں بنتا تو اسے بڑے ہی منصوبہ بند طریقے سے نمٹا دیا جاتا۔ سی بی آئی کے آفیسر یہ بھی مانتے ہیں کہ سرکاری گواہ بننے کے بعد ابھیشیک ورما نے جن افسروں اور جن دلالوں کے مشکوک کردار کے بارے میں باقاعدہ تحریری طور پر بتایا ،اسے سی بی آئی نے دفاعی سودہ معاملے سے متعلقہ نہیں بتاکر دبا دیا۔وہ معاملہ آگے نہیں بڑھا۔
گینٹین انڈیا لمیٹیڈ کے ایک ڈائریکٹر وکی چودھری نے سی بی آئی انسپکٹر راجیو سولنکی، انسپکٹر ستیندر سنگھ اور سب انسپکٹر اویناش کمار کے سامنے سی بی آئی دفتر میں ہی ابھشیک کو راستے سے ہٹانے کی دھمکیاں دی تھی ۔ اس کی باضابطہ اطلاع سی بی آئی کی ایس پی مینو چودھری اور سی بی آئی ڈائریکٹر کو دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ ابھیشیک کی رومانیائی بیوی آنکا ماریا ورما سے ملنے آئی رومانیہ کی سفیر وِیلریکا ایپورے کے سامنے ہی سی بی آئی کے ایس ایس پی امنیش گیر نے آنکا کو دھمکیاں دیں، اس پر سفیر نے انہیں مریادا میں رہنے کی تاکید کی تھی۔ سی بی آئی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر او پی گلہوترا نے بھی اس بات کی توثیق کی تھی کہ ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعہ ورما جوڑے کو دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ اس بارے میں ان کا اور دہلی کے پولیس کمشنر کے بیچ باضابطہ بات چیت بھی ہوئی تھی، پھر ورما جوڑے کی سیکورٹی کا پختہ انتظام تو کیا گیا لیکن جانچ کے نظریئے سے یہ مسئلہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر رہے اشوک اگروال ، سی بی آئی کے ایس ایس پی رمنیش گیر اور انسپکٹر راجیش سولنکی کے نام اس معاملے میں سامنے آئے اور سرکاری گواہ کو دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ دفاعی سودہ معاملے کو دوسری سمت میں موڑنے کی کوششیں کرنے کی شکایتیں بھی ہوئیں، لیکن سی بی آئی نے اسے اپنی جانچ کے فریم میں نہیں رکھا ۔ جبکہ وزارت داخلہ نے اس شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی ویجلنس کمیشن کو ضروری کارروائی کرنے کو کہا تھا۔
سی بی آئی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر (پالیسی ) جاوید احمد کے سامنے بھی یہ معاملہ پہنچا،لیکن انہوں نے بھی اس کی جانچ کرانے کے بجائے اسے ٹال دینا ہی بہتر سمجھا۔ ابھیشیک ورما پر دفاعی سودے میں کروڑوں روپے کی دلالی اور رشوت خوری کا جو الزام سی بی آئی کے ایس ایس پی رمنیش گیر اور اشوک اگروال نے لگایا تھا، وہ ثابت نہیں ہوا اور عدالت نے اسے بری کر دیا۔ سی بی آئی کے ہی کچھ آفیسر کہتے ہیں کہ اس کے بعد تو ان لوگوں کے خلاف جانچ ہونی چاہئے تھی جنہوں نے پورے دفاعی سودہ معاملے کو توڑنے مروڑنے کی مجرمانہ حرکتیں کی تھیں لیکن کارروائی آگے بڑھانے کی ہری جھنڈی نہیں ملی۔ الزام تھا کہ دفاعی آلات بنانے والی جرمنی کی کمپنی ’’رئین میٹل ‘‘ نے ورما کو ملک کے دفاعی سودے سے جڑے افسروں کو رشوت دینے کے لئے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ڈالر دیئے تھے لیکن عدالت میں یہ الزام ثابت نہیں ہوا۔

 

 

اہم حقائق
اس معاملے میں یہ قابل ذکر ہے کہ تہاڑ جیل مینجمنٹ کی مداخلت پر دہلی کے لودھی روڈ تھانے میں درج ایف آئی آر میں یہ حقیقت سامنے رکھی جاچکی تھی کہ وِکّی چودھری اور اشوک اگروال نے دائود ابراہیم کے کنٹریکٹ کیلر منا بجرنگی کو سپاری دی ہے۔ اُدھر سرکاری گواہ کو ملی بلیٹ پروف جیکٹ کے بارے میں آر ٹی آئی کے ذریعہ سراغ لینے کی کوشش کرنے والے مافیا سرغنہ منا بجرنگی سے بھی سی بی آئی نے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی۔ سرکار نے بس اتنا کیا کہ منا بجرنگی کو تہاڑ جیل سے ہٹا کر پہلے سلطان پور جیل پھر جھانسی جیل بھیج دیا۔ مافیا سرغنائوں کے جیلوں سے دھندہ چلانے کی اطلاع ملنے پر اتر پردیش کی یوگی سرکار نے جیلوں میں بند کئی مافیائوں کو ادھر اودھر بھیجنے کا حکم جاری کیا۔ اسی میں منا بجرنگی کو جھانسی سے پیلی بھت جیل ٹرانسفر کیا گیا لیکن اس نے سپریم کورٹ سے اپنا ٹرانسفر رکوا لیا۔ منا بجرنگی لمبے وقت سے جھانسی جیل میں بند ہے۔ اس کی بیوی سیما سنگھ نے اس بار اپنی پارٹی ’’کرشنا پٹیل ‘‘ اور پیس پارٹی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر ماڑیاہو اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑی لیکن وہ ہار گئی۔
منا بجرنگی اتر پردیش کے جونپور ضلع کا رہنے والا ہے۔ 29نومبر 2005 کو غازی پور ضلع میں محمد آباد حلقہ کے ایم ایل اے کرشنا نند رائے کا قتل کرنے کے بعد اس کا نام سرخیوں میں آیا تھا۔ اس قتل واردات کے بعد وہ نیپال بھاگ گیا تھا اور دائود کے قریبی دوست مرزا دلشاد بیگ کے گھر میں چھپا ہوا تھا۔ منا بجرنگی کی جڑیں مہاراشٹر میں بھی بہت گہری ہیں۔ ٹھیکہ پر قتل کرنا اس کا سب سے بڑا کاروبار ہے ۔پرتگال میں گرفتار ابو سلیم کے ہندوستان لائے جانے کے بعد دائود ابراہیم نے اس کا صفایا کرنے کا ٹھیکہ منا بجرنگی کو ہی دیا تھا۔ منا بجرنگی کا اصلی نام پریم پرکاش سنگھ ہے۔ ممبئی میں رہتے ہوئے ہی اس کا عالمی جرائم پیشہ گروہ سے رابطہ بنا اور کئی بار وہ بیرون ملک بھی گیا۔ نجف گڑھ کے ایم ایل اے بھرت سنگھ کے قتل کرنے کے پیچھے بھی منا بجرنگی کا ہی نام آیا تھا۔
آرمس ڈیلر سنجے بھنڈاری کا فرار
اربوں روپے کا بینک لون ہڑپ کر کے بیرون ملک بھاگے ہوئے صنعتکار وجے مالیہ کے بارے میں توخوب ہلہ مچا اور انگلیاں اٹھیں۔مالیہ کو بیرون ملک بھاگنے میں کس نے مدد کی؟ اسے لے کر خوب الزام تراشی ہوئی لیکن ملک کے دفاعی سودوں میں رشوت خوری اور کمیشن خوری کرانے والے ہتھیار ڈیلر سنجے بھنڈاری کو ملک سے بھگانے میں کن لوگوں نے اور کن ایجنسیوں نے مدد کی، اس پر کوئی بات نہیں اٹھی۔ سنجئے بھنڈاری ،سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کا خاص دوست ہے۔ مفرور سنجئے بھنڈاری کو تلاش کرنے میں بھی خفیہ ایجنسیاں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔ کہا گیا کہ سنجئے بھنڈاری کی گرفتاری کے لئے انٹر پول سے نوٹس جاری ہو گئی ہے لیکن آپ کو بتا دیں کہ خفیہ ایجنسیاں انٹر پول کی نوٹس کے نام پر سفید جھوٹ پیش کررہی ہیں۔ سنجئے بھنڈاری کی گرفتاری کے لئے انٹر پول سے کوئی ریڈ کارنر یا ایلو کارنر نوٹس نہیں جاری ہوئی ہے۔ یہاں سی بی آئی کی وانٹیڈ لسٹ کی اسکین کاپی آپ کے سامنے بھی رکھ رہے ہیں، جس میںآپ دیکھیں گے کہ سنجے بھنڈاری کا نام کہیں نہیں ہے۔
خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع آرمس ڈیلر سنجئے بھنڈاری کی فرار کو مافیا لیڈر نوکر شاہ گٹھ جوڑ کے ہدف کا نتیجہ بتاتے ہیں۔ فرارہونے میں کس مافیا گروہ سے مدد لی گئی، یہ سرکاری طور پر تو جانچ کا موضوع ہے لیکن غیر سرکاری طور پر خفیہ ایجنسیوں کے خاص ذرائع کو اس مافیا کے بارے میں پتہ ہے جس سے سنجئے کو بھگانے میں مدد لی گئی۔ انٹرنیشنل اسلحہ ڈیلروں کے اس مافیا سرغنہ سے قریبی رابطے ہیں ۔

 

 

آرمس ڈیلر سنجئے بھنڈاری جن حالات میں ملک چھوڑ کر بھاگا، وہ منصوبہ بند سرکاری بندوبست کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ نے سنجئے بھنڈاری کا پاس پورٹ پہلے ہی ضبط کر رکھا تھا۔پھر وہ غیر ملک کیسے بھاگا؟سرکاری ایجنسیاں کہتی ہیں کہ سنجئے بھنڈاری نقلی پاسپورٹ کے ذریعہ بھاگا، لیکن سرکاری طور پر اس کی توثیق بھی نہیں کرتیں ۔ اگر سرکاری ایجنسیاں باضابطہ طور پر توثیق کر دیں کہ سنجئے بھنڈاری نقلی پاسپورٹ کے ذریعہ بھاگا تو انہیں نقلی پاسپورٹ بننے سے لے کر اس ایئر پورٹ تک کا بیورا دینا ہوگا جہاں سے اس کی روانگی ہوئی اور امیگریشن نے اسے کلیئرنس دیا۔ وزارت داخلہ یہ کہہ چکی ہے کہ کسی بندرگاہ یا ایئر پورٹ سے اس کے نکلنے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
آرمس ڈیلر سئے بھنڈاری کے خلاف آفیشیئل سکریٹ ایکٹ کے تحت دہلی میں کیس درج ہوا تھا۔ دہلی کے ڈیفنس کالونی میں سنجئے بھنڈاری کے گھر سے فضائیہ سے جڑے کچھ خفیہ دستاویز ملے تھے۔ آرمس ڈیلر نے خفیہ ایجنسیوں کے سامنے یہ قبول بھی کیا تھا کہ اس کے کمپیوٹر سے برآمد ای میل پیغام ،اس کے اور رابرٹ واڈرا کے بیچ کے تھے۔ سنجئے بھنڈاری کے خلاف باقاعدہ وزارت دفاع کی طرف سے سنسد مارگ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔ سنجئے کی پُراسرار فرار پر اندھیرے میں ہاتھ بھانجتی ایجنسیوں نے جھینپ مٹانے کے لئے اس کی 21کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی ہے۔ جبکہ انہی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ بیرون ملکوں میں سنجئے بھنڈاری کی بے شمار جائیداد ہے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو سنجئے بھنڈاری اور رابرٹ واڈرا کی غیر ملکوں میں کئی شیئر جائیدادوں کا بھی پتہ چلا ہے۔ رابرٹ واڈرا کے دوست آرمس ڈیلر سنجئے بھنڈاری نے یو پی اے کے دور حکومت میں ہندوستانی فضائیہ کے لئے سوئٹزرلینڈ کی کمپنی ’’ پائلٹس ‘‘ سے چار ہزار کروڑ روپے کے ٹرنر ایئر کرافٹ کی خرید کی ڈیل کرائی تھی۔ اس میں اربوں روپے کی کمیشن خوری ہوئی تھی، جس کی جانچ چل رہی تھی کہ سنجئے کو بیرون ملک بھگا دیا گیا۔
باکس
آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما کے رہے ہیں راہل گاندھی سے گہرے تعلقات
ایک طرف آرمس ڈیلر سنجئے بھنڈاری کی رابرٹ واڈرا سے دوستی رہی ہے تو دوسری طرف آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما کے راہل گاندھی سے گہرے تعلقات رہے ہیں۔ ابھیشیک کی رومانیائی بیوی آنکا ماریہ بھی راہل گاندھی سے مل چکی ہے۔ راہل نے اپنے گھر پر ہی آنکا سے ملاقات کی تھی ۔ دفاعی سودے کی چھان بین کے عمل میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ہتھیار کمپنی ’’ سگ سائور ‘‘ کے افسروں کے ساتھ راہل گاندھی نے 6 دسمبر 2011 کو اپنے گھر پر ایک گھنٹے تک میٹنگ کی تھی۔ اس ملاقات میں بھی ابھیشیک ورما اور اس کی بیوی شامل تھی۔ اس میٹنگ کے اگلے ہی دن ورما اور جرمن ہتھیار کمپنی کے افسروں نے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سریش کمار سے جیسلمیر ہائوس میں ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد ابھیشیک ورما ، اس کی بیوی اور ہتھیار بنانے والی کمپنی کے دیگر افسروں کی اس وقت کے وزیر مملکت برائے دفاع ایم پلم راجو سے وزارت دفاع میں ملاقات ہوئی تھی۔
باکس
منی لانڈرنگ میں بھی کام آ رہے منظم مجرم گروہ کی سرگرمی لگاتار بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اس کام کے لئے بھی اب مجرم گروہوں سے ہی مدد لی جارہی ہے۔ سوئٹزرلینڈ سرکار سرکاری طور پر یہ خلاصہ کر چکی ہے کہ منی لانڈرنگ کاروبار کے تار منظم جرائم پیشہ گروہوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس میں ہندوستان کے جرائم پیشہ گروہ بھی شامل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ سرکار کی ایجنسی منی لانڈرنگ رپورٹنگ آفس سوئٹزرلینڈ ( ایم آر او ایس ) نے کہا کہ 2013 میں 1,411 مشتبہ سرگرمیوں میں تین ارب سویس فرینک شامل تھے۔ یہ رقم ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 20,000 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں منظم جرائم پیشہ گروہوںکا سرگرم کردار دیکھا گیا۔ کالے دھن کو سفید کرنے کے کام میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کا کردار لگاتار بڑھتا ہی جارہاہے۔ صرف سوئٹزرلینڈ کے معاملے میں 2012 میں ایسے معاملے 97 تھے جو 2013 میں بڑھ کر 104 ہو گئے۔ منی لانڈرنگ کاروبار میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کی شمولیت 2014 میں 135، 2015 میں 150 اور 2016 میں تقریبا 200 تک پہنچ گئی۔ کالا دھن سفید کرنے میں لگے منظم جرائم پیشہ گروہوں میں ہندوستان، چین اور برازیل کے گروہ اول پائے گئے ہیں۔ کالا دھن جمع کرنے کے معاملے میں سوئٹزرلینڈ کو زرخیز زمین کہا جاتا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی سرکاری رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ یہاںسے ہونے والی ٹیرر فنڈنگ میں ہندوستان کے منظم جرائم پیشہ گروہوں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *