کشمیر کے علمبرداروں کے لئے خطرے کی گھنٹی

جولائی 28 کو جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ایشو اٹھایا تو اس سے کئی لوگ دلبرداشتہ ہوئے ۔اس کے علاوہ ان کے بیان نے ایک بار پھر گٹھ بندھن اتحادی بی جے پی کے رویے کی طرف سب کا دھیان متوجہ کیا ،کیونکہ اس نے اس حساس ایشو پر اپنی پوزیشن صرف کاغذوں تک محدود رکھی تھی۔ حالیہ واقعہ جس میں اس ایشو کو سپریم کورٹ کی ایک بڑی بینچ میں چیلنج کیا گیا ہے ،کے معاملے میں محبوبہ نے انتباہ دیا تھا کہ اگر اس طرح کا چیلنج جاری رہا تو کشمیر میں ہندوستانی ترنگا اٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ محبوبہ کے اس بیان پر فوری طور پر رد عمل ان کے اتحادی بی جے پی کی طرف سے آیا۔ پی ایم او کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے ایک طرح سے محبوبہ کے بیان کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ریاست سمیت ہندوستانی ترنگا ہر جگہ لہرائے گا۔ ریاستی بی جے پی اکائی نے ان کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 35 اے کوئی بہت پاکیزہ چیز نہیں ہے جسے چھوا نہ جاسکے ۔
سپریم کورٹ میں جو معاملہ چل رہا ہے، اسے ایک غیر سرکاری تنظیم جموں و کشمیر اسٹڈی سینٹر کے ذریعہ دائر کیا گیا ہے۔یہ این جی او بی جے پی کے نظریاتی ماخذ آر ایس ایس کے ذریعہ چلایا جارہا ہے۔ ریاست کے جھنڈے کو چیلنج دینے والا ایک دیگر معاملہ بی جے پی لیڈر ، سابق آئی پی ایس آفیسر اور موجودہ وقت میں لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر فاروق خاں کے ذریعہ درج کیا گیا ہے۔ ستم یہ ہے کہ بی جے پی نے ریاست کی آئینی صورت حال کی سیکورٹی کا بھروسہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) کے ساتھ گٹھ بندھن کیا تھا اور اب وہی انصاف کا سہارا لے کر اس کے خلاف جنگ چھیڑ ے ہوئے ہے۔ اب تک سپریم اور ہائی کورٹ میں دفعہ 370 کی آئینی حیثیت کو چیلنج دینے والے 6 معاملے التوا میں ہیں۔
دراصل بی جے پی اپنے دونوں اسٹینڈ 370 ختم کرنے اور پی ڈی پی کے ساتھ گٹھ بندھن کے ایجنڈے (اے او اے ) میں شامل کشمیرکے خصوصی درجے کی حفاظت کرنے، کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جہاں ایک طرف گٹھ بندھن کے ایجنڈے ( اے او اے ) میں شامل کشمیر کی آئینی حیثیت کے تحفظ پر اپنے استثنیات کو برقرار رکھا ہے، وہیں دوسری طرف عدالت کے ذریعہ اسے چیلنج بھی کیا ہے۔ یہ پی ڈی پی اور اس کے ووٹ بینک کے ساتھ دھوکہ کی ایک واضح مثال ہے۔ اے او اے کے ذریعہ بی جے پی نے اقتدار میں حصہ داری حاصل کی اور ایجنڈے میں جو بھی وعدہ کیا، اس پر کبھی اس کا بھروسہ ہی نہیں تھا۔ اقتدار کے لئے اس نے ایک ایسی پارٹی سے سمجھوتہ کیا جو اس کے نظریات سے بالکل الگ ہے۔ ایسا کر کے بی جے پی نے کشمیر کے لئے کچھ نہیں کیا لیکن یہ صاف کر دیا کہ یہ پارٹی بھی وعدہ خلافی کے معاملے میں کانگریس سے الگ نہیں ہے۔ دہلی نے 1947 سے جو رخ اپنایا ہے، اسے بی جے پی نے مضبوطی ہی دی ہے۔

 

 

 

محبوبہ مفتی نے دہلی کے سمینار میں جو کہا تھا، وہ بڑا سیاسی بیان تھا ۔ یقینی طور سے اس بیان نے بی جے پی کو بے چین کر دیا تھا۔ یہ بیان بی جے پی کے بنیادی ایجنڈے کو متاثر کرتا ہے۔ بی جے پی 2019 کے عام انتخابات تک اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کررہی ہے اور دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔ باقی غیر بی جے پی کے زیر انتظام ریاستوں کو جیتنا ہی اس کا ایجنڈ ا ہے ۔ مشکل صرف جموں و کشمیر ہے ۔جہاںمسلم اکثریت والی ریاست میں یہ کام پی ڈی پی کی مدد سے پورا کیا گیا ہے۔
کشمیر پچھلے دنوں جس بدلائو سے گزرا ہے، اس پر بی جے پی نے دھیان نہیں دیا ہے۔ بہت زیادہ فوج پر انحصار دہشت گردی کو ختم کر سکتا ہے لیکن موثر سیاسی جذبے کو بھی ختم کرنا اس کی پالیسی ہے۔ کشمیر کے سیاسی مسئلے کے حل سے جڑے جذبوں کو بے اثر بنانا،اس کا واضح پیغام ہے۔ حالیہ دنوں نیشنل جانچ ایجنسی (این آئی اے ) کے ذریعہ سے علاحدگی پسند حریت کانفرنس کے لیڈروں کو پھنسانے کے لئے کی گئی کارروائی، بی جے پی کی کشمیر پالیسی کا ایک نمونہ ہے۔ حالانکہ جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، ان پر کارروائی میں لاپرواہی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ہے لیکن یہاں پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدم اطمینان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی آوازوںکو ختم کرنے کے لئے اسے ایک بڑے ڈیزائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ کشمیر کی تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک مثال کشمیر کانسپریسی ہے ، جس میں نئی دہلی پیچھے ہٹ گئی تھی اور شیخ محمد عبد اللہ کو مین سٹریم میں لانے کے مقصد سے اسے دبا دیا تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے کشمیر میں پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے۔ نہ صرف پاکستانی پیسہ نے اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ ہندوستانی پیسے نے بھی کشمیر کو تباہ کرنے میں کم غلط کردار نہیں ادا کیا ہے۔ حالانکہ نریندر مودی کی سرکار کے آنے کے بعد آج حریت شک کے دائرے میں ہے لیکن تین سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ حریت کو نشانہ بنا کر نئی دہلی شدت پسند عناصر کے لئے جگہ بنا رہی ہے، جو کشمیر میں تشدد کی بنیاد کی توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اس سے نئی دہلی کو کشمیر معاملے میں فوجی کارروائی کو منصفانہ ثابت کرنے میں مدد ملے گی؟ شاید ہاں، حریت کو ایک دیگر سیاسی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا سکتاہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ کوئی بھی قانون سے بچ نہیں سکتا لیکن عدم اتفاق کے سُر کو کچلنے کے لئے بدلے کے جذبے سے بھی کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ سیاسی نظریات کی لڑائی ہے اور اسے سیاسی طور سے لڑا جاسکتاہے، انتظامی طریقوں کے ذریعہ نہیں۔ محبوبہ نے یہ بھی کہا کہ ایک نظریہ کو جیل میں نہیں ڈالا جاسکتاا ور نہ ہی اسے مارا جاسکتا ہے۔یہ وہ سچائی ہے جو کشمیر میں زوروں پر ہے۔
کسی خاص سیاسی نظریہ کو مار کر یا پابندی لگا کر ہندوستانی سرکار نہ خود کی اور نہ ہی ہندوستان حامی کیمپ کی مدد کر رہی ہے۔یہی بات محبوبہ کے جھنڈے والے بیان میں سامنے آئی۔ کشمیر میں ہندوستان حامی پارٹیاں ہندوستان کی علمبردار ہیں۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی سیاست،ریاست کے خصوصی درجے میں پنہاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسپیشل اسٹیٹس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ انہیں بے چین کر دیتی ہے۔ اگر خصوصی درجے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے تو وہ انہیں غیر متعلقہ بنا دیگی۔ محبوبہ نے سچ کہا ہے کہ وہ پھر جھنڈے کو اٹھانے کی حالت میں نہیں ہوں گی۔ پچھلے کچھ سالوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مین اسٹریم کی پارٹیوں ( این سی – پی ڈی پی – کانگریس ) کے لئے کشمیر میں عوامی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ جب محبوبہ دہلی میں بول رہی تھیں تو انہوں نے ریاست کے اسپیشل اسٹیس کے تحفظ کے لئے این سی کے ریاستی صدر ناصر اسلم وانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ا ین سی سے مدد مانگی تھی ۔

 

 

دہلی کے اڑیل رویے کے سبب مین اسٹریم کی پارٹیوں کی حمایت کم ہو رہی ہے۔ 7اپریل کوسری نگر پارلیمانی سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب نے یہ صاف کر دیا کہ انہوں نے کیسے اپنی زمین کھو دی ہے۔ اننت ناگ انتخاب کا التوا ، اس حقیقت پر اپنی مہرلگاتا ہے۔ ریاست میں ہندوستان مخالف جذبات کا سیلاب آگیا ہے لیکن نئی دہلی اسے نہیں مانتی ، جس کی وجہ سے مین اسٹریم پارٹیوں کی حمایت کا دائرہ سکڑ گیا ہے۔ آئی ایس آئی ایس جھنڈے یا کسی دہشت گرد کے ذریعہ جاری ویڈیو، جس میں القاعدہ چیف مقرر کیا جارہاہے ،کو دکھانا یہ ثابت کرتاہے کہ ایسے ناپسندیدہ عناصر کی حوصلہ افزائی کرنے میں کس کا فائدہ چھپا ہوا ہے۔
محبوبہ مفتی کے جھنڈے والے بیان کو زمینی سطح پر لوگوں کے رد عمل سے جوڑ کر دیکھنا چاہئے۔ لیکن وہ اسے نہیں سمجھ پائیں گے ۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ڈی پی ایک ایسی پارٹی کو منظوری دے رہی ہے جو اسی کے آخری رسم اداکرنے پر تلی ہوئی ہے۔ پی ڈی پی کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ۔ اسپیشل اسٹیٹس کے ساتھ کوئی بھی چھڑ چھاڑ مین اسٹریم کی پارٹیوں کو نیست و نابود کر دے گی اور آخر میں بی جے پی بچے گی، چاہے عوام رہیں ،نہ رہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *