ندوۃ العلما لکھنؤ میں 23برس قبل چھاپہ ماری کے بعد دیوبند میں ریڈ

گزشتہ کئی روز سے مغربی اترپردیش کے اضلاع پر نظریں جمائے انسداد دہشت گرد اے ٹی ایس ٹیم نے کل 6اگست کی علی الصباح دیوبند میں چھاپہ ماری کرتے ہوئے تین مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ ان کا ایک ساتھی فرار بتایا جارہاہے۔ مذکورہ تینوں نوجوان بنگلہ دیش میں ممنوعہ تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے ایک سرگرم رکن کے رابطہ میں بتائے جاتے ہیں۔ ای ٹی ایس نے پہلے مظفر نگر کے گائوں کٹیسرہ سے ممنوعہ تنظیم کے رکن عبداللہ المامون کو گرفتار کیا جس کے بعد دیوبند میں چھاپہ ماری مہم شروع کی۔ حراست لیے گئے طلبا میں کشمیر میں تیرہ گائوں کپوارہ کے رہنے والے دانش میر ولد علی محمد اور بہار میں گائوں نوادہ پوسٹ تلک پور ضلع بھاگلپور کے رہنے والے عبدالرحمن ولد محمد فاروق ہیں۔ ان تینوں نوجوانوں کو فی الحال پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

 

واضح رہے کہ کسی مدرسہ پر یہ پہلی چھاپہ ماری نہیں ہے دسمبر1994میں جب مرکز میں پی وی نرسمہارائو کی سربراہی میں کانگریس اور ریاست اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں حکومت قائم تھی تب آئی بی نے مشتبہ ایک آئی ایس آئی فرد کےشبہ میں ندوۃ العلما لکھنؤ میں اطہر ہاسٹل کے کمرہ20پر چھاپہ ماری کی تھی بعد میں جب ندوۃ کے ناظم حضرت مولانا علی میاںؒ نے اس پر ناراضگی كااظهار كیا اور اندرون و بیرون ملك احتجاج هوا تب كمره نمبر20سے حراست میں لیے گئے 7طلبا كو فوراً رها كردیا گیاتھا اور وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو ندوۃ العلما لكھنؤ کے لیے دولاکھ روپے کا گرانٹ اور ساتوں طلبا کو 50ہزار فی کس کا زرمبادلہ کا اعلان کیا تھا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے چھاپہ ماری میں ملوث مقامی پولس آفیسروں کا ٹرانسفر بھی کردیا تھا۔ اس طرح تقریباً 23برس بعد کسی بڑے مدرسہ پر یہ دوسری بار چھاپہ ماری ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *