پھر سے پُر عزم ملائم

ہندوستانی سیاست میں ایسے لوگ گنے چنے ہیں جنہوں نے صرف اور صرف اپنی صلاحیت کی بنیاد پر اعلیٰ مقام بنایا ہو۔ ان چند ناموں کی لسٹ میں ملائم سنگھ کا نام آتا ہے لیکن ملائم سنگھ اس لئے سب سے الگ ہیں کہ جہاں انہوں نے اپنے پورے خاندان کو سیاست میں مستحکم کیا اور جن کے اوپر سب سے زیادہ بھروسہ کیا، جنہیں پچیس سالوں تک سجایا سنوارا، پالا پوسا، ان کے اگر یہ الفاظ صحیح ہیں کہ’’ وشواس گھات سے ہندوستان کی سیاست میں اگر کوئی سب سے دُکھی آدمیہے تو وہ ملائم سنگھ یادو ہیں‘‘۔ملائم سنگھ یادو جب بات کرتے ہیں ،تب ان کے چہرے پر اب جوش نہیں دکھائی دیتا، ان کی آنکھیں سونی ہیں، ان کی مسکراہٹ درد بھری ہے۔ ان کی زبان میں وہ کھنک نہیں ہے اور یہ سب اس لئے ہوا ہے کہ جس خاندان کو ملائم سنگھ یادو نے سیاست میں اونچی سطح پر پہنچایا، اس خاندان نے انہیں پورے طور پر صرف اپنے سے الگ ہی نہیں کیا ،ایک طرح سے انہیں دھوکہ بھی دیا۔
درس و تدریس سے سیاست تک
ملائم سنگھ کی زندگی کے بارے میں سب کوپتہ ہے کہ وہ کیسے ایک انٹر کالج میں ٹیچر تھے جہاں سے انہوں نے دھیرے دھیرے بالکل کچھوے کی رفتار سے اپنے پیر سیاست کی طرف بڑھائے۔ کیسے وہ چودھری چرن سنگھ کے نزدیک گئے۔ کیسے ان پر لوہیا کے نظریات کا اثر پڑا اور انہوں نے لوہیا کے اصولوں کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا۔ کیسے وہ چودھری دیوی لال کے نزدیک گئے ۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ رام نریش یادو رہے ہوں یا بنارسی داس گپتا، جنتا پارٹی کی سرکاروں میں ملائم سنگھ وزیر بنے اور انہوں نے پورے وسط اتر پردیش کے مغربی حصے کو اپنی سیاست کے زیر اثر بنا ڈالا۔ ایٹہ، اٹاوہ ، مین پوری ، فرخ آباد، کانپور، علی گڑھ ان کی سیاست کے مضبوط قلعہ کی شکل میں تبدیل ہوگئے اور اسی دوران انہوں نے اپنے خاندان کے لوگوں کو سیاست میں مستحکم کرنا شروع کیا۔ ملائم سنگھ یادو اترپردیش میں کئی بار وزیر اعلیٰ بنے۔ انہوں نے کانشی رام جی کے ساتھ ہاتھ ملا کر اترپردیش کی سیاست کو پورے طور پر بدل ڈالا۔ وہ بعد میں مرکز میں وزیر رہے۔ وزیردفاع کے طور پر ان کا جوانوں کے ساتھ رابطہ آج بھی فوج کے جوانوں کو یاد ہے، بھلے ہی وہ ریٹائر ہو گئے ہوں۔ ملائم سنگھ ملک کے وزیرا عظم بنتے بنتے رہ گئے۔ ملائم سنگھ کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف لالو یادو کی ضد نے انہیں وزیراعظم بننے نہیں دیا۔
لیکن اہم یہ نہیں ہے،اہم یہ ہے کہ اتنی قد آور شخصیت کا حامل لیڈر جس کے پاس کہنے کے لئے کارنامے ہی کارنامے ہیں، وہ آج سب سے دُکھی کیوں بیٹھا ہو اہے؟اس دُکھ کا سب سے بڑا سبب ان کے اپنے چچا زاد بھائی پروفیسر رام گوپال یادو ہیں۔ ملائم سنگھ نے سب سے پہلے سیاست میں اپنے بھائی رام گوپال یادو کو اتارا۔ پروفیسر رام گوپال کو یہ خواب میں بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ راجیہ سبھا میں جائیں گے۔آج کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جو ان دنوں اترپردیش بی جے پی کے سروے سروا تھے ،انہوں نے ملائم سنگھ یادوسے کہا کہ اگر وہ اپنے خاندان کے کسی آدمی کو راجیہ سبھامیں بھیجنا چاہیں تبھی وہ مدد کرسکتے ہیں ،ورنہ نہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے ایک پل میں فیصلہ کیا اور اپنے دفتر کو ہدایت دی کہ وہ پروفیسر رام گوپال یادو کا نامنیشن پیپر تیار کریں اور دوسری طرف انہوں نے رام گوپال یادو کو فون کیا کہ وہ جلد سے جلد لکھنؤپہنچیں۔ رام گوپال یادو کو کوئی اندازہ نہیں تھا۔وہ لکھنؤ پہنچے، نامنیشن پیپر پر دستخط کئے اور وہ راجیہ سبھاپہنچ گئے۔
ملائم سنگھ یادو نے دوسرے بھائی جو دراصل ان کے سگے بھائی ہیں، شیو پال سنگھ یادو کو اترپردیش کی سیاست میں آگے بڑھایا اور دونوں کا عملی میدان تقریباً بانٹ دیا۔ پروفیسر رام گوپال قومی سیاست کررہے تھے اور شیو پال یادو اترپردیش کی سیاست کررہے تھے۔ ملائم سنگھ یادو دہلی میں ہر بات کے لئے پروفیسر رام گوپال یادو کے اوپر منحصر تھے۔ دراصل رام گوپال یادو ان کے آنکھ، ناک، کان ہاتھ اور پیر سب بن چکے تھے۔ امر سنگھ کے ساتھ رشتہ رہا ہو، امر سنگھ کے ساتھ رشتہ کا ٹوٹنا رہا ہو، یہ سب ملائم سنگھ نے پروفیسر روم گوپال یادو کی رائے سے کیا۔ انیل امبانی کو راجیہ سبھا میں بھیجنا ہو، بھلے ہی پہلی صلاح امر سنگھ کی تھی لیکن ملائم سنگھ کو سمجھانے کا کام رام گوپال یادو نے کیا۔ جن دنوں امر سنگھ، ملائم سنگھ یادو کے چہرے کی شکل میں سارے ملک میں پہچانے جاتے تھے اور امر سنگھ کے فیصلے کا مطلب ملائم سنگھ یادو کا فیصلہ ہوتا تھا۔ اس وقت بھی فیصلہ لینے کے پیچھے کی طاقت پروفیسر رام گوپال یادو تھے۔ امر سنگھ پروفیسر رام گوپال یادو کو ہر لیڈر کے یہاں لے جاکر مستحکم کررہے تھے۔ دوسری طرف رام گوپال یادو ملائم سنگھ کا دماغ بن چکے تھے۔ صلاح امر سنگھ کی ہوتی تھی اور فیصلہ رام گوپال یادو کا ہوتا تھا۔

 

 

رام گوپال یادو کا رول
25سالوں تک ملائم سنگھ یادو نے پروفیسر رام گوپال یادو کے کہنے پر فیصلے لئے، کہنے پر فیصلے بدلے۔ ابھی تین سال پہلے ملائم سنگھ کے گھر پر اپوزیشن لیڈروں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سب نے ایک پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔یہ فیصلہ اس معنی میں انوکھا تھا کہ ملائم سنگھ یادو کی پارٹی کاجھنڈا، ان کا انتخابی نشان، ان کی پارٹی کا نام ، پارلیمنٹ کے بورڈ اور پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو ہوں، اس پر سب کی رضامندی ہو گئی۔ اس میٹنگ میں سبھی اہم لیڈر شامل تھے اور ملک میں ایک بڑا سیاسی بدلائو ہونے کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن پروفیسر رام گوپال یادو کے سمجھانے کے بعد تین مہینے کے اندر ہی ملائم سنگھ یادو نے اس فیصلے کو پلٹ دیا۔
اس سے پہلے اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے بعد ملائم سنگھ یاد وکو دو تہائی سے زیادہ اکثریت ملی تھی اور جب یہ فیصلہ ہونے کا وقت آیا کہ کون وزیرا علیٰ بنے گا تب پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ میں سب سے پہلے پروفیسر رام گوپال یادو نے کہا کہ اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ بنیں گے اور کون بنے گا۔ کوئی کچھ نہیں بولا ،صرف شیو پال یادو نے کہا کہ 6 مہینے نیتا جی یعنی ملائم سنگھ یادو وزیراعلیٰ رہیں، اکھلیش ان کے ساتھ وزیر رہیں۔اس کے بعد ملائم سنگھ یادو دہلی کی سیاست دیکھیں اور اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ بنیں۔2 دن اسی کشمکش میں گزر گئے ۔تیسرے دن صبح ملائم سنگھ یادو نے شیو پال یادو کو بلایا اور کہا کہ سب لوگ اکھلیش کے لئے کہہ رہے ہیں اس لئے تم بھی مان جائو۔ اکھلیش یادو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔
ملائم سنگھ کا یہیں سے من کھٹا ہونا شروع ہوا۔ ملائم سنگھ چاہتے تھے کہ اترپردیش اس طرح چلے کہ آگے آنے والے انتخابات میں جن میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات شامل تھے ، سماج وادی پارٹی زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے ۔ وہ اکھلیش یادو کو سرکار چلانے کے گُربتاتے جاتے تھے لیکن اکھلیش یادو ان صلاحوں کے اوپر کوئی عمل نہیں کررہے تھے۔ ان دونوں میں خفیہ تھا کہ کیوں اکھلیش یادو ان صلاحوں کے اوپر کوئی عمل نہیں کررہے تھے۔اب یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ پروفیسر رام گوپال یادو کی صلاح کے اوپر ان فیصلوں کو عملی جامہ نہیں پہنا رہے تھے۔ پروفیسر رام گوپال یادو نے اکھلیش یادو کے وزیراعلیٰ بنتے ہی اکھلیش یادو کے دل اور دماغ کا کام کرنا شروع کردیا۔ ملائم سنگھ اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پائے کہ کیوں اکھلیش یادو ان کی بات نہیں مان رہے ہیں۔ انہوں نے کئی بار اکھلیش یادو کو سمجھایا کہ سب سے پہلے کسانوں کے حق کی اسکیمیں جنہیں کسان دیکھ بھی سکیں، سمجھ بھی سکیں اور اپنی زندگی میں ان کا فائدہ بھی لے سکیں، اولین ترجیحات کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔لیکن اکھلیش یادو کے زیادہ تر ترقیات کے فیصلے شہری علاقوں کو لے کر ہوئے۔ تشہیر بہت ہوئی لیکن اس تشہیر نے اکھلیش یادو کے لئے ایک مصیبت انتخاب کے وقت کھڑی کر دی کہ ان مشتہر نتائج کو جب لوگ اپنے آس پاس دیکھنے لگے توانہیں کہیں وہ زمین پر دکھائی نہیں دیئے۔ پروفیسر رام گوپال یادو کی رائے پر اکھلیش نے اترپردیش کی سرکار چلائی اور انہوں نے اپنے سگے چچا شیو پال یادو کو ایک کونے میں کھڑا کردیا۔ اکھلیش یادو کی کابینہ میں اگر سب سے زیادہ قابل رحم صورت حال کسی کی تھی تو وہ شیو پال یادو کی تھی۔ ملائم سنگھ شیو پال یادو سے کہتے تھے ، شیو پال یادو اکھلیش یادو سے کہتے تھے ،اکھلیش یادو اسے سن کر منع بھی نہیں کرتے تھے اور کام بھی نہیں کرتے تھے۔ دراصل اکھلیش یادو شاید یہ بھول نہیں پائے کہ شیو پال یادو نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی تجویز آنے پر پارلیمنٹری بورڈ میں ان کی مخالفت کی تھی اور یہیں پر اقتدار کا موقف اور اقتدار کی شبیہ سامنے آتی ہے۔ کیونکہ پروفیسر رام گوپال یادو نے اکھلیش یادو کا نام تجویز کیا تھا اس لئے وہ اکھلیش یادو کے دل اور دماغ پر اپنے والد ملائم سنگھ یادو سے زیادہ جادو بن کر سوار ہو گئے۔
ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کے درمیان اسمبلی انتخابات میں ٹکٹوں کو لے کر تنائو بڑھ گیا۔ ملائم سنگھ چاہتے تھے کہ پارٹی کے پرانے کارکنوں کو ٹکٹ دیا جائے۔ جبکہ اکھلیش یادو نے پچھلے چار سال سے وزیرا علیٰ رہتے ہوئے جن لوگوں کو نئی پارٹی کی شکل میں تیار کیا تھا، جن میں ٹھیکہ دار تھے، زیادہ تر نوجوان تھے، جن کا عوام کے بیچ میں کوئی کام نہیں تھا ،ان لوگوں کو ٹکٹ دیئے۔ ملائم سنگھ کو لگا کہ یہ سب انتخاب ہار جائیں گے اور انہوں نے اکھلیش سے کہا کہ اکھلیش یہ سارے لوگ انتخاب ہار جائیں گے لیکن اکھلیش یادو نے اس کے اوپر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اس کے پہلے لوک سبھا کے انتخابات میں پارٹی کی بری طرح ہار ہوئی اور پانچ ہی ارکان پارلیمنٹ جیتے، وہ بھی ملائم سنگھ کے خاندان کے لوگ تھے۔
اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ تقسیم کے وقت اکھلیش یادواور شیو پال یادو کا باہمی اختلاف انتہا پر تھا۔ اکھلیش یاد ونے بڑی ہی سمجھداری اور ہوشیاری سے شیو پال یادو کو کنارے لگا دیا۔ شیو پال یادو وہ فیصلے کرتے تھے جنہیں ملائم سنگھ یادو کہتے تھے لیکن ملائم سنگھ یادو اپنے سارے فیصلے اکھلیش کو دھیان میں رکھ کر کرتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اکھلیش آج نہیں تو کل زمین کی سچائی کو سمجھ جائیں گے اور اس بیچ میں پروفیسر رام گوپال یادو، ملائم سنگھ کے ساتھ کم ،اکھلیش یادو کے ساتھ زیادہ نظر آتے تھے۔

 

 

 

جب ملائم کے آنسو نکلے
اسی دوران جب رام گوپال یادو نے لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کی کانفرنس میں یہ تجویز رکھی کہ اکھلیش یادو کو قومی صدر بنایا جائے تب ملائم سنگھ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ انہیں لگا کہ ان کے ساتھ اگر کسی نے بے وفائی کی ہے تو وہ رام گوپال یادو ہیں۔ آج ملائم سنگھ یاد کرتے ہیں کہ رام گوپال یادو کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی، گائوں میں زمین نہیں تھی، شاید تین یا چار بیگھہ زمین تھی۔ ملائم سنگھ یادو نے پروفیسر رام گوپال یادو ،ان کے بیٹے کو، اپنے بڑے بھائی کے بیٹوں کو، چھوٹے بھائی کے بیٹوں کو، سب کو انہوں نے سیاست میں مستحکم کیا ۔لگ بھگ سارے ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ دور کے رشتہ دار لیجسلیٹو اسمبلی میں ہیں اور جب ملائم سنگھ کی ساری زندگی کی کمائی کے اوپر اکھلیش یادو قابض ہو رہے تھے، جس کا منصوبہ پروفیسر رام گوپال یادو کا تیار کیا ہوا تھا تو اس میں ملائم سنگھ کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ صرف شیو پال یادو ان کے ساتھ تھے۔
آج ملائم سنگھ جب پچھلے دنوں کو یاد کرتے ہیں تو آنکھوں کا وہ سونا پن ان سب کے دل کو تھرا دیتا ہے جو اپنے خاندان کو، کارکنوں کے اوپر سیاست میں مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو اکھلیش یادو کے رویے سے اتنے دکھی نہیں ہیں ،جتنا وہ پروفیسر رام گوپال یادو کے رویے سے دکھی ہیں۔ 25 سال کا جشن پروفیسر رام گوپال یادو نے فائیو اسٹار ہوٹل میں منایا جس میں وزیرا عظم نریندر مودی گئے لیکن وہ شخص جس نے رام گوپال یادو کو اس لائق بنایا کہ وہ 25 سال کا جشن منا سکے، وہ وہاں پر نہیں تھے اور پروفیسر رام گوپال یادو، ملائم سنگھ کے گھر انہیں بلانے کے لئے نہیں گئے۔
ملائم سنگھ یادو کو اس بات کا بھی بہت دکھ ہے کہ پروفیسر رام گوپال یادو کے خاندان کو توڑنے کی سیاست نے دھرمیندر یادو جو بدایوں سے ممبر پارلیمنٹ ہیں ،ان کو بھی زہریلا کردیا ہے ۔اپنے کسی دوست سے ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ دھرمیندر یادو نے تو ان کی اپنی زمین کے اوپر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ دھرمیند یادو کے ساتھ ساتھ مین پوری کے ممبر پارلیمنٹ تیج پرتاپ یادو جو ان کے پوتے لگتے ہیں، وہ سارے لوگ ان کے دکھ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
پروفیسر رام گوپال یادو اس ملک کے سب سے بڑے سیاسی خاندان میں اتنی پیٹھ کر چکے ہیں کہ بتانے والے بتاتے ہیں کہ اکھلیش یادو کے دو بچوں سے جتنا ملائم سنگھ پیار کرتے تھے، کرتے ہیں، اب ان بچوں کو دیکھنے کے لئے انہیں کافی انتظار کرناپڑتا ہے۔ لوگوں کو شاید اس کمیسٹری کے بارے میں اندازہ ہو کہ باپ کو جتنا اپنا بیٹا پیارا نہیں ہوتا ہے، اس سے زیادہ بیٹے کا بیٹا پیارا ہوتا ہے۔ اکھلیش یادو کے دو بچے ہیں۔ وہ دو بچے پہلے ملائم سنگھ کے پاس جب جاتے تھے تب ملائم سنگھ اپنی بیماری تک بھول جاتے تھے۔ لیکن ان بچوں کا ملائم سنگھ یادو کے پاس جانا کافی کم ہو گیا ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے ساری زندگی ہر طرح کے دائوں اور پینچ لگا کر صرف اپنے کو اوپر نہیں بڑھایا بلکہ اپنے خاندان کو بھی بڑھایا ۔ انہوں نے ان تمام رکاوٹوں کو ہٹایا جو پروفیسر رام گوپال یادو کے راستے میں آسکتی تھیں ،شیو پال یادو کے راستے میں آسکتی تھیںیا خود ان کے بیٹے اکھلیش کے راستے میں آسکتی تھیں۔انہوں نے اپنی بہو یعنی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کو جتنا پیار دیا ،وہ ملائم سنگھ کے خاندان کو جاننے والے ستائش کے طور پر بتاتے ہیں لیکن ڈمپل یادو بھی اب ملائم سنگھ یادو سے لگ بھگ نہیں ملتی ہیں۔دیواریں پاس پاس ہیں، دروازے کھڑکیاں لگے ضرور ہیں لیکن کھلتے نہیں ہیں۔
نیا عزم
اس لئے اترپردیش کی سیاست میں انتہائی اکیلے مایوس مستقبل کے امکانات میں اپنے لئے نئے چیلنج ڈھونڈتا ہوا اگر کوئی آدمی ہے تووہ ملائم سنگھ یاد وہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ستمبر مہینے سے اترپردیش کی کمیشنریوں میں کانفرنس کرنا شروع کریں گے۔ لیکن جس بات کو پروفیسر رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو نہیں سمجھ رہے ہیں ،وہ یہ ہے کہ ملائم سنگھ پہلوان ہیں،ملائم سنگھ نے لاٹھیاں کھائی ہیں، ملائم سنگھ کے اوپر گولیاں چلی ہیں،ملائم سنگھ نے اپنی جان بچانے کے لئے خود گولیاں چلائی ہیں۔ ملائم سنگھ یادو مایوس ہو سکتے ہیں لیکن ہار نہیں سکتے۔ پہلوان وہی ہوتا ہے جو لنگوٹی باندھ کر اکھاڑے میں گر جائے اور پھر دھول جھاڑتا ہوا کھڑا ہوکر سامنے والے کو للکارے۔ ملائم سنگھ عمر کے اس دور میں بھی اترپردیش میں نئی سیاست کے لئے لوگوں کے بیچ کا ذہن بنارہے ہیں اور جب ملائم سنگھ ستمبر میں شروع ہونے والے اپنے دورے کے بارے میں بتاتے ہیں تو ان کا چہرہ وہی 30سال پہلے کے ملائم سنگھ جیسا ہو جاتاہے۔ اس مسکراہٹ میں اور اپنا درد پینے والی مسکان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
ابھی بھی یہ بھروسہ کرنا چاہئے کہ ملائم سنگھ ہاریں گے نہیں،ملائم سنگھ نئے سرے سے تال ٹھونک کر کھڑے ہوں گے اور اترپردیش کے لوگوں کو اپنے ساتھ ایک بار پھر کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہیں پر مجھے کہاوت یاد آتی ہے ’’سو سونار کی ،ایک لوہار کی ‘‘۔ ملائم سنگھ کا ماضی جدو جہد والا ہے مگر قابل فخر ہے۔ ملائم سنگھ کا مستقبل بھی قابل فخر بنے، یہ ان کے درد جاننے اور سمجھنے والے ان کے ساتھی ایشور سے لگاتار دعا کررہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *