راگھویندر کے کرتوت جھانسی اے ڈی ایم دفتر سے ہوتی تھی فوج کی جاسوسی

بھکاری سنگھ ڈومری
اتر پردیش میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا نیٹ ورک کافی تیزی سے پھیل رہا ہے۔یہی نیٹ ورک آئی ایس آئی ایس جیسی دہشت گرد تنطیموں کو بھی مدد پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کو ہندوستانی فوج کی خفیہ اطلاعات بیچنے کے الزام میں پکڑے گئے جھانسی اے ڈی ایم کے اسٹینو راگھویندر اہروار سے ایسے کئی اہم سراغ ملے ہیں۔ اسٹینو یو پی اے ٹی ایس کی حراست میں ہے۔ راگھویندر نے اپنا جرم قبول کرلیاہے۔ اینٹی ٹیریرسٹ اسکوائڈ ( اے ٹی ایس ) کے مطابق اسٹینو راگھویندر اہروار جولائی 2009 سے جولائی 2017 تک جھانسی اے ڈی ایم صدر دفتر میں کام کرتا تھا اور موجودہ وقت میں اے ڈی ایم جوڈیشیل کے یہاں کام کررہا تھا۔ وہ ہندوستانی فوج سے جڑے خط کتابت کو دیکھتا تھا اور اس کی اطلاعات آئی ایس آئی کو مہیا کراتا تھا۔
راگھویندر کا قبول جرم
اے ٹی ایس کے ڈی ایس پی منیش سونکر کے سامنے راگھویندر نے قبول کیا کہ ببینا فیلڈ فائرنگ رینج (بی ایف ایف آر ) میں فائرنگ پریکٹس کے لئے ہندوستانی فوج کی مختلف یونٹیں آتی رہتی ہیں، اس سے متعلقہ اطلاع ان سبھی یونیٹس کے ذریعہ کلکٹر جھانسی کو خفیہ خط کے ذریعہ دی جاتی ہے۔ اطلاع کی کاپی اے ڈی ایم صدر دفتر بھی بھیجی جاتی ہے، جہاں سے وہ راگھویندر کے ذریعہ لیک ہو جاتی تھی۔
خود کو میجر یادو بتانے والا کوئی شخص 2009 سے ہی فون پر اس سے اطلاعات حاصل کرتا تھا۔ مذکورہ نام نہاد میجر یادو بدل بدل کر 9عدد والے موبائل نمبر سے کال کیا کرتا تھا۔ ان موبائل نمبروں کو جاسوسی کے لئے کام کرنے والے غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج نیٹ ورک کا حصہ بتایا گیا ہے۔ اے ٹی ایس نے بتایا کہ فوج نے اس کی توثیق کی ہے کہ میجر یادو نام کا کوئی آدمی وہاں مقرر نہیں رہا ہے۔
اے ٹی ایس اس بات کی بھی جانچ کر رہا ہے کہ اس معاملے میں اے ڈی ایم کا کیا کردار تھا۔ اے ٹی ایس نے آئی بی کی اطلاع پر اسٹینو کو حراست میں لے لیا ہے۔ ملزم کے پاس سے لیپ ٹاپ،موبائل،پین ڈرائیو اور کئی سم کارڈ برآمد کئے ہیں۔ اے ٹی ایس اسے حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کے لئے لکھنو لایا ہے۔
اے ٹی ایس نے کہا کہ کافی دنوں سے خبر مل رہی تھی کہ جھانسی کے اے ڈی ایم آفس سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو فوج سے جڑی خفیہ اطلاعات بھیجی جارہی ہے۔ اسٹینو رگھویندر اسی ڈیسک پر تعینات تھا، جہاں سے اطلاعات لیک ہو رہی تھی۔ جھانسی میں فوج کی بڑی چھائونی ہے جسے سیکورٹی کے لحاظ سے حساس مانا جاتا ہے۔

 

 

 

اس کے پہلے بھی اے ٹی ایس نے غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کے ذریعہ جاسوسی کرنے والے ایک گینگ کا بھنڈا پھوڑ کیا تھا۔ اس نیٹ ورک کو پاکستان سے کنٹرول کیا جارہا تھا۔ پولیس نے اس نیٹ ورک سے جڑے 11 آئی ایس آئی ایجنٹوں کو گرفتار کیا تھا۔ ٹیلی فون ایکسچنج نیٹ ورک کے سرغنہ گلشن کو دہلی کے مہرولی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ غیر قانونی ایکسچنج میں فوج کالس کو روٹر کے ذریعہ روٹ کرکے الگ الگ سرکاری محکموں میں کال کیا جاتا تھا اور اس اس کے ذریعہ سے سرکاری محکموں سے خفیہ جانکاریاں جمع کی جاتی تھی۔ اس کے بارے میں ملٹری انٹلی جینس کو جب اندیشہ ہوا تو معاملے کی شکایت کی گئی۔
اے ٹی ایس کو شبہ ہے کہ اس سے جڑے لوگ سرکاری افسروں کے نیٹ ورک میں گھسے ہوئے ہیں۔ اے ٹی ایس نے لکھنو، ہردوئی ، فیض آباد اور سیتا پور میں چھاپہ مار کر ایسے پانچ غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج پکڑے تھے۔ غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کے ذریعہ سے آئی ایس آئی ایجنٹوں کا گروپ ایک طرف جاسوسی کر رہا تھا تو دوسری طرف سرکار کو کروڑوں کا چونا بھی لگا رہا تھا۔ اے ٹی ایس کے افسروں نے بتایا کہ جموں و کشمیر ملٹری انٹلی جینس کو اس بارے میں سب سے پہلے بھنک لگی، جب یو پی کے نمبروں سے آرمی یونٹس پر کال آرہے تھے ۔ اطلاع ملنے پر اے ٹی ایس نے ان نمبروں کی جانچ کی تو پایا کہ غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کے ذریعہ سے ہندوستان کے باہر سے کال کئے جارہے ہیں، لیکن ڈسپلے پرہندوستان کا ہی نمبر دکھتا تھا۔ تبھی اے ٹی ایس نے لوگوں کو آگاہ کیا تھا کہ کوئی آدمی اگر کسی ہندوستانی آئی ایس ڈی کوڈ( +91) کے ذریعہ کال کرے اور یہ کہے کہ وہ غیر ملک میں ہے تو ایسے کال کے تئیں محتاط ہو جانا چاہئے۔ اس کی اطلاع پولیس اور ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی کو فوری طور پر دینی چاہئے۔یہی کالس غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کے ذریعہ آنے والی فرضی آئی ایس ڈی کال ہوتی ہیں جو ملک کی سیکورٹی کے لئے بڑا خطرہ ہے۔
دیگر گرفتاریاں
اس معاملے میںٰ اے ٹی ایس نے لکھنو سے سیتا پور کے رہنے والے راہل رستوگی اور شیوندر مشرا لکھنو کے امین آباد کے رہنے والے ہرشت گپتا ، راجہ جی پورم کیوشال ککڑ اور بلند شہر کے راہل سنگھ کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کے پاس تین لیپ ٹاپ، 12 سم باکس ، لگ بھگ 87 کارڈس ، 25موبائل فون ڈاٹا کارڈ اور دیگر موصلاتی اشیاء برآمد کی گئیں ۔ہردوئی سے ملزم ویتن کمار دیکشت کو گرفتار کرکے اس کے پاس سے 16 اور 32 اسلاٹ کے دو سم باکس، 13 سم کارڈ ووڈا فون ،دو لیپ ٹاپ ، دو پین ڈرائیو اور چار موبائل فون برآمد کئے گئے تھے۔ سیتا پور سے ترشی ہیرا، شیام بابو، اتم شکلا اور وکاس ورما کو گرفتار کیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کے ذریعہ جاسوسی کئے جانے کا سراغ مدھیہ پردیش میں بھی ملا تھا۔ اس میں بی جے پی کے بھی دو کارکنان ملوث پائے گئے تھے۔ تب بڑا ہو ہلہ بھی مچا تھا۔ تب یہ بھی خلاصہ ہوا تھا کہ ملک بھر میں پانچ سو سے زیادہ غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کام کررہے ہیں۔ جاسوسی ریکٹ کے ممبر غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج کے ذریعہ سے ہی ففوج سے جڑی اہم جانکاری سرحد پار بیٹھے اپنے آقائوں کو بھیجتے تھے۔ سرحد پار سے ہی ان لوگوں کو حوالہ کے ذریعہ پیسہ بھیجا جاتا ہے۔
اے ٹی ایس نے ایسے قریب 50کھاتے ضبط کئے ہیں ۔گروہ سے جڑے تین لوگوں کو ہر ماہ آئی ایس آئی کی طرف سے آٹھ لاکھ روپے دیئے جاتے تھے۔ پچھلے سال جموں کے آر ایس پورا میں آئی ایس آئی کے دو ایجنٹ گرفتار کئے گئے تھے۔ انہی سے یہ سراغ ملا تھا کہ وہ ستنا کے رہنے والے بلرام نام کے ایک شخص کو پیسے دیتے تھے اور اطلاعات حاصل کرتے تھے۔اس کے بعد ستنا سے بلرام کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بلرام کی نشاندہی پر ہ باقی 11لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔
اے ٹی ایس نے فیض آباد سے جس آئی ایس آئی ایجنٹ آفتاب کو گرفتار کیا تھا، اس نے خلاصہ کیا کہ وہ دہلی میں بیٹھے آئی ایس آئی ہینڈلر مہربان علی کے رابطہ میں تھا۔ اسی کے کہنے پر وہ فوج کی جاسوسی کرتا تھا۔ اس نے فوج کے موومنٹ سے جڑی کئی جانکاریاں پاکستانی ایجنسی کو دی تھی۔ مہربان علی پاکستان سفارت خانہ کا ملازم تھا۔ مہربان علی کے مدد سے آفتاب دو بار پاکستان بھی گیا تھا۔ وہاں اسے جاسوسی کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ وہ لکھنو، فیض آباد اور امرتسر میں فوج کے موومنٹ کی جانکاری کوڈ ورڈ کے ذریعہ پاکستان میں بیٹھے آئی ایس آئی ہینڈلر کو دیتا تھا۔ وہ دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے بھی رابطہ میں رہتاتھا۔ اے ٹی ایس نے آفتاب کو پکڑنے کے بعد ممئی سے الطاف قریشی اور جاوید کو بھی گرفتار کیا۔ اے ٹی ایس کا دعویٰ ہے کہ یہ تینوںملزم پاکستانی سفارتخانہ اور آئی ایس آئی کو ہندوستان سے خفیہ اطلاعات جمع کرکے فراہم کرواتے رہے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ کے ملازم مہربان علی کی ہدایتوں پر ہی الطاف قریشی کو جاوید پیسے فراہم کراتا تھا۔ الطاف نے ان اطلاعات کے لئے آفتاب علی کے کھاتے میں پیسے جمع کرائے تھے۔
پکڑے گئے آئی ایس آئی ایجنٹ آفتاب کی نانی پاکستان میں رہتی ہیں۔ آفتاب نے پاکستان جانے کے لئے دہلی میں پاکستانی سفارت خانے میں ویزہ کی درخواست دی تھی۔ ویزہ نہیں ملنے پر وہ مہربان علی کے رابطہ میں آیا۔ مہربان علی نے اس سے کہا تھاکہ وہ آئی ایس آئی کے لئے کام کرے گا تو اسے ویزہ دلوا دیا جائے گا۔ اس کے بعد آفتاب نے فیض آباد میں فوج کے موومنٹ کے کچھ فوٹو مہربان علی کو دیئے تھے۔ اس پر اس کا ویزہ جاری ہو گیا تھا۔ کراچی کے گرین ٹائون علاقے میں اپنی نانی کے گھر پر وہ کئی مہینے رہا۔ اس کے بعد اسے لاہو رمیں ٹریننگ دیا گیا۔ہندوستان آنے پر اس نے مہربان علی سے ملنا جلنا جاری رکھا۔ اس دوران آفتاب لگاتار فیض آباد فوجی بیس کے ویڈیو اور فوٹو وائٹس ایپ کے ذریعہ پاکستان بھیجتا رہا۔ اس کے پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ میں رہنے کے کئی ثبوت اے ٹی ایس کو ملے ہیں۔ فیض آباد ہی نہیں ،وہ امرتسر سے بھی فوج کے موومنٹ کی جانکاریاں پاکستان بھیجتا رہا۔
اسی کڑی میں یو پی کے اے ٹی ایس نے دہلی کے پنجابی باغ علاقے میں ایف آئی آئی ٹی ، جے ای ای کے نام پر غیر قانونی انٹر نیشنل ٹیلی فون ایکسچنج چلانے والے ماسٹر مائنڈ گلشن کو گرفتار کیا تھا۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ہدایت میں گلشن وہاں سے انٹر نیشنل ٹیلی فون ایکسچنج چلا رہا تھا۔ اس طرح کے غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچنج لکھنو، سیتا پور ، فیض آباد اور ہردوئی میں چل رہے تھے۔

 

 

 

 

دہشت گردوں کے نیٹ ورک
اتر پردیش کے تین درجن سے زیادہ اضلاع میں آئی ایس آئی کا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے دور حکومت میں اسمبلی میں ایک سوال کے دوران اس وقت کی سرکار کی طرف سے یہ رپورٹ ایوان میں رکھی گئی تھی۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ خاص طور پر مغربی اترپردیش میں آئی ایس آئی کا نیٹ ورک تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ وہائٹس اپ گروپ سے لڑکوں کو جوڑ کر انہیں اطلاعات شیئر کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔
سیکورٹی ایجنسی کو ایسے چار مشتبہ پاکستانیوں کے نمبر ملے جو لگاتار بریلی کے طلباء کے رابطہ میں تھے۔ طلباء کے پاس کچھ مشتبہ لوگوں کی کال سعودی عرب سے بھی آرہی تھی۔ مغربی اترپردیش کے بریلی، مراد آباد، پیلی بھت ،میرٹھ، مظفرنگر، بجنور ، علی گڑھ، آگرہ، سہارنپور، امروہا، غازی آباد اور سنبھل جیسے ضلعوں میں آئی ایس آئی کی سرگرمیاں تیزی سے برھی ہیں۔ بریلی کے دیوان خانہ علاقے کے معمولی فوٹو گرافر بن کر پاکستان کے لئے جاسوسی کا کام کرنے والے اعجاز کی گرفتاری سے خفیہ ایجنسیاں چوکس ہوئیں۔ یہ بات اور پختہ ہو گئی ہے کہ مغربی یو پی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے گرگے بڑی تعداد میں چھپے ہوئے ہیں۔بریلی میں فضائیہ ایئر بیس کے نز دیک ریٹھورا کے پاس پکڑے گئے دو کشمیری نوجوانوں سے بھی پولیس کو اس بارے میں کئی اہم سراغ ملے تھے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *