برقع پہن کر برقع کے خلاف احتجاج

لوگ اپنی بات منوانے کے لئے عجیب و غریب طریقہ اختیار کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں آسٹریلیا کے ایوان میں اس بات پر بحث چل رہی تھی کہ برقع پر پابندی عائد کی جائے یا نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب معاملہ زیر بحث ہے تو ہر سیاسی پارٹی کو اپنی رائے دینے کا حق ہے اور اس کے لئے قانونی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے مگر ایک خاتون ممبر نے جو کہ برقع پر پابندی عائد کرنے کے حق میں تھیں، ایوان میں برقع پہن کرآگئیں ۔ اس سے وہ عملی طور پر یہ بتانا چاہتی تھیں کہ کوئی بھی شخص برقع میں پہن کر اپنی شناخت آسانی سے چھپا سکتا ہے۔

 

 

 

دراصل دائیں بازو کی جماعت ’ون نیشن‘ سے وابستہ ایک رکنِ پارلیمان پالین ہینسن سینیٹ ایوان میںاْس وقت برقع پہن کر آ گئیں جب اْن کی جماعت برقع پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دینا چاہتی تھی۔بظاہر اس اقدام کا مقصد برقع کی طرف توجہ مبذول کروانا تھا، تاہم اٹارنی جنرل جارج برینڈس نے اْن کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے انھیں یہ باور کروایا کہ اْن کا یہ اقدام مذہبی تنظیموں کو ناگوار گزر سکتا ہے۔
جب وہ سینیٹ میں آئیں تو حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اْن کا استقبال کیا۔انھوں نے کہا کہ ’نہیں سینیٹر ہینسن، ہم برقعے پر پابندی نہیں لگا سکتے۔اپنے بیان میں سینیٹر ہنسن نے کہا کہ ’آج کل کے جدید آسٹریلیا میں عوامی مقامات پر چہرے کو پورا ڈھکنا بڑا مسئلہ ہے اور اس پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے۔‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *