برسات کے موسم میں ضروری احتیاط

برسات کا موسم جہاں ایک طرف چہروں پر شادابی لاتا ہے وہاں یہ موسم کچھ احتیاط کا بھی متقاضی ہے۔ اس موسم میں بادلوں کی اٹکھیلیاں دل میں خوشیوں کا احساس بھرتی ہیں اور انسان ایک عجیب ترنگ اور سرمستی کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ لمحہ لمحہ بدلتی موسم کی صورتحال کبھی گرمی کی شدت کم کرتی ہے اور کبھی حبس جی جلانے لگتا ہے۔ درخت اور چرند پرند بھی اس موسم کو اسی شدت سے محسوس کرتے ہیں جس طرح انسان اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بارش کے بعد ہر طرف ہریالی آنکھوں کو بھلی لگتی ہے اور اگر اس دوران میں ہوا چل پڑے تو درختوں کی لہکتی ڈالیاں ایک عجیب سحر طاری کر دیتی ہیں۔ اس سب کے ساتھ ساتھ برسات کے موسم میں مختلف قسم کے امراض لاحق ہونے کاخطرہ ہوتا ہے۔

 

 

 

 

ان میں ہیضہ، ٹائیفائڈ، اسہال اور مچھروں اور آلودہ پانی کے سبب لاحق ہونے والے امراض شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بارش میں بھیگ جانے کی وجہ سے کھانسی، نزلہ، زکام، دمہ اور الرجی بھی لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس موسم میں سب سے زیادہ احتیاط کھانے پینے کے معاملے میں کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے گھر میں صفائی ستھرائی کا زیادہ خیال رکھیں، خاص طور پر باورچی خانے کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔ برتن استعمال کرنے سے پہلے انہیں صابن سے خوب اچھی طرح دھو لیں۔ کھانے پینے کی اشیا ڈھانپ کر رکھیں۔ برسات کے موسم میں گوشت کھانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ زیادہ روغنی اور مرچ مصالحے والی غذاوٴں کے بجائے ہلکی پھلکی اور زود ہضم اشیا کھانا زیادہ بہتر ہے۔ بازاری غذائیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ برسات کے موسم میں سرکا، لیموں اور کیری کا شربت پینا چاہیے۔ سرکے میں ہری مرچ اور پیاز ڈال کر کھانا مفید ہوتا ہے۔ پانی اُبال کر پینا چاہیے۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ صابن سے خوب اچھی طرح دھونا چاہئیں۔ سبزیاں اور پھل خوب دھو کر کھانا چاہئیں۔ بارش کے موسم میں بچوں کا زیادہ خیال رکھیں۔ بچے غذائی بے احتیاطی کے سبب اسہال میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسہال میں مبتلا بچوں کو او آر ایس (نمکول) پلانا چاہیے، اس لیے کہ ان کے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ او آر ایس پلانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے، اس لیے کہ او آرایس میں گلوکوز، سوڈیم کلورائیڈ، سوڈیم نائٹریٹ اور پوٹاشیم کلورائیڈ ہوتا ہے، جو نمکیات کی کمی پوری کر دیتا ہے اور بچے جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی صفائی پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے ہم سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، وہ اگر آلودہ ماحول میں رہیں گے تو ان پر بیماریوں کے حملہ آور ہونے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ اس لیے انہیں کھانے پینے اور دیگر معاملات میں ترتیب سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس موسم میں بے وقت کھانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ احتیاطی عمل صرف بچوں کیلئے ہے، بلکہ ان کی ضرورت ہر عمر کے افراد کیلئے اتنی ہی فائدہ مند ہے جتنی بچوں کیلئے، اس لیے گھر کے تمام افراد کو ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے تاکہ صحت مند رہتے ہوئے اس موسم سے لطف اندوز ہو سکیں۔
بشکریہ :اردو پوائنٹ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *