مظفرپور میں وقف افسر- مافیا کی سازباز وقف کی ساڑھے ساتھ بیگھہ زمین آخر کہاں گئی؟

2009 میں متولی اصغر حسین نے مولانا کاظم شبیب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا، تبھی سے وقف کی ملکیت پر قبضہ کی بات اٹھنے لگی تھی۔ جنوری 2016 میں اس معاملے کو ایم ایل اے رودل رائے نے بھی اسمبلی میں اٹھایا تھا۔ مولانا نے اپنی مدت کار سے ہی تقی خاں وقف بورڈ کی زمین کو تلاش کرنا شروع کردیا تھا۔ اسی بیچ شیعہ وقف بورڈ کی ہدایت پر متولی اصغر حسین نے مولانا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد بھی مولانا خود ساختہ طور پر اپنے عہدے پر بنے رہے، اس کے ساتھ ہی وقف کی املاک کو تلاش کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ وقف کی املاک پر قبضہ کو لے کر شیعہ وقف بورڈ ان پر ایف آئی آر بھی درج کراچکا ہے۔ان پر کئی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی پولیس ان پر ہاتھ ڈالنے سے جھجکتی رہی۔ وقف بورڈ نے بھی کئی بار ضلع انتظامیہ کو خط لکھ کر ٹھوس کارروائی کرنے کو کہا تھا۔ آخری بار انتظامیہ کو بھیجے خط میں وقف بورڈ نے ہائی کورٹ جانے کی وارننگ بھی دی تھی۔ لوگ بتاتے ہیں کہ انتظامیہ مستعد ہوتا تو اس معاملے کو ٹالا جاسکتا تھا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟ مظفر پور کے چندوارہ کے کمرہ محلے میں محمد تقی خاں وقف و بنارس بینک چوک کے پاس صغریٰ بیگم وقف اسٹیٹ کی زمین بیچنے کو لے کر پانچ چھ سال سے تنازع چل رہا ہے۔کمرہ محلے کے شیعہ مسجد کے امام سید محمد کاظم شبیب اس کے خلاف اپنے حامیوں کے ساتھ لگاتار تحریک چلارہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ وقف افسروں اور زمین مافیا کی سازباز سے وقف کی زمین بیچی جارہی ہے۔ بچی ہوئی زمین پر بنی دکانوں ومکانوں سے کرایہ وصول کرکے وقف افسران اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ اسے لے کر گزشتہ ہفتہ صغریٰ وقف کی زمین پر بنی دکانوں اور مکانوں میںتالہ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ حالانکہ تب انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد وہ مان گئے تھے۔ اس کے بعد مولانا نے 21 جولائی کو وقف کمیٹی سے جڑے لوگوں کے گھروں کا گھیراؤ اور تالہ بندی کا اعلان کیا۔ مولانا کی مانگ تھی کہ وقف بورڈ کے افسر یہاںآکر لوگوں کو سوالوں کا جواب دیں یا ڈی ایم سطح سے مختلف وقف کی لوکل کمیٹی بناکر نگرانی کریں ۔ بتایاجاتا ہے کہ کمرہ محلہ تنازع پر اس دور کے مسہری سی او نوین بھوشن اور ڈی سی ایل آر مشرقی محمد شاہجہاں نے سال بھر پہلے ہی جانچ رپورٹ ڈی ایم کو سونپ دی تھی۔ لیکن طویل عرصہ تک یہ فائل دھول چاٹتی رہی۔ دونوں افسروں نے جوائنٹ رپورٹ میں بتایا تھا کہ زمین کی جانچ کے لیے محکمے کے پاس پرانا سروے دستیاب نہیں ہے۔ نئے سروے میں وقف کی زمین چار بیگھہ گھٹ گئی ہے جو تنازع کی اہم وجہ ہے۔ پرانے سروے میں وقف کی کل زمین 7 بیگھہ 9 کٹھا تھی۔17 جنوری 1981 کوشائع نئے سروے میں تقی خاں وقف بورڈ کی زمین محض 3 بیگھہ 10 کٹھا رہ گئی ہے۔ دونوں سروے میںتقی خاں وقف بورڈ کی زمین کے رقبہ میں 4 بیگھہ کا فرق آگیا ہے۔ مولانا کاظم شبیب اس چار بیگھہ زمین کی غیر قانونی فروخت اور قبضہ کا الزام لگارہے ہیں۔ دونوں افسروں نے جانچ رپورٹ میںیہ بھی کہا ہے کہ سال 1988 سے 1991 کے بیچ وقف کی اجازت سے متولی نے ڈھائی کٹھا زمین بیچی ہے۔ مولانا وقف کی اجازت سے ہوئی اس فروخت کو بھی غیر قانونی بتارہے ہیں۔
کہاجارہا ہے کہ امام باڑہ میںرہنے والے کرایہ داروں سے کرایہ کی وصولیابی بھی تنازع کا ایک سبب ہے۔ 20 جولائی کو ضلع انتظامیہ کو صورت حال کی نزاکت کا احساس ہوگیا تھا۔ 21 جولائی کو 9 مقامات پر مجسٹریٹ کی قیادت میں پولیس اہلکاروں کا ڈیپوٹیشن کیا گیا تھا۔ مولانا نے اپنے حامیوںکے ساتھ جمعہ کی نماز کے بعد کرنل حسین کی رہائش، نواب تقی خاں امام باڑہ کے متولی سید عابد اصغر اور صغریٰ وقف کے متولی سید اے حسین کے گھر پر تالا لگا دیا۔ مولانا نے نمازکے بعد انتظامیہ کو بات چیت کے لیے دس منٹ کاوقت دیا اور کہا کہ وقف بورڈ کے چیئرمین ،سی او اور انسپکٹر عارف رضا عوام کے سامنے آکر وقف جائیداد کا حساب دیں۔ انھوںنے کہاکہ ان کی لڑائی وقف جائیداد بیچنے والوںکے خلاف ہے۔ وقف تنازع میں مولانا سید کاظم شبیب اور ان کے حامیوں کے ذریعہ تالہ بندی کے بعد جمعہ کو پولیس نے کارروائی کی۔اس پر پولیس اور مولانا کے حامیوں میںجم کر وبال ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چندوارہ میںواقع ٹیچرز ٹریننگ کالج کا پورا علاقہ میدان جنگ میںبدل گیا۔ مولانا کے رہائشی احاطے اور دیگر مقامات سے پولیس پر روڑے بازی کی گئی۔اس دوران بھیڑ نے فائرنگ بھی کی۔ بھیڑ کو ہٹانے کے لیے پولیس نے بھی آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ اس میںمولانا سمیت درجنوں حامی زخمی ہوگئے، جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔وہیں بھیڑ نے پولیس پر روڑے برسانے کے ساتھ ہی لال مرچ پاؤڈر بھی پھینکا۔ بھیڑ اتنی مشتعل ہوگئی تھی کہ اس نے پولیس کے ذریعہ چھوڑے گئے آنسو گیس کے گولے اٹھاکر پولیس کی جانب پھینک دیے۔ تب پولیس گیٹ توڑ کر مولانا کے رہائشی احاطے میں داخل ہوئی، جہاں بھیڑاو ر پولیس میں جم کرمڈبھیڑ ہوئی۔ روڑے بازی میںایس ڈی او مشرقی سنیل کمار اور شہر ڈی ایس پی آشیش آنند سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل امام کا قافلہ پکی سرائے روڑ پر واقع بی بی صغریٰ وقف اسٹیٹ کے متولی ایم اسرار حسین کے گھر پہنچا اور تالہ بندی کردی۔ تب وقف کی زمین پر بسے دکانداروںکے علاوہ محلے کے دیگر لوگ بھی مشتعل ہوگئے۔ لوگوں نے بنارس بینک چوک پر ٹائر جلاکر جام لگا دیا اور سڑک پر دھرنا دینے لگے۔ سینئر پولیس افسروں سے بات چیت کے بعد ایس ڈی او اور مشرقی و سٹی ڈی ایس پی مولانا کو گرفتار کرنے پہنچے۔ اس دوران پولیس افسروں نے مولانا سمیت 31 لوگوںکو گرفتار کرلیا۔

 

 

کمرہ محلہ وبال کے حوالے سے مسہری سی او ناگیندر کمار اور سٹی تھانیدار کے پی سنگھ نے ایک جوائنٹ رپورٹ سونپی۔ اس میںکہا گیاکہ اگر مولانا سید کاظم شبیب کو گرفتار نہیںکیا جاتا تو برادری کے لوگوں کے بیچ خون خرابہ ہوجاتا۔ اس دوران مولانا 500 سے زیادہ حامیوں کے ساتھ گھر پر موجود تھے۔ رپورٹ کی بنیاد پر سٹی تھانے میںکیس درج ہوا، جس میںمولانا سمیت 31 کو نامزد اور 500 نامعلوم لوگوں پر الزام لگایا گیا۔ اس واقعہ میںچار الگ الگ ایف آئی آر دیگر تھانوں میںبھی درج کی گئیں۔
محمد تقی خاں وقف اسٹیٹ کمرہ محلہ کی رپورٹ ضلع انتظامیہ نے سرکار کو بھیجی ہے۔ اس میںمولانا کاظم شبیب اور دیگر کے ذریعہ ناجائز ڈھنگ سے مکان اور دکان پر قبضہ کرنے اور بد امنی پھیلانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس تنازع کے لیے انتظامیہ نے مولانا اورا ن کے حامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بہار اسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ کے ذریعہ ان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان پر حامیوں کے ساتھ وبال کرنے کی بھی جانکاری اس میں دی گئی ہے۔ اس دوران مولانا پر لگاتار قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور بہار اسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ کا حکم نہیں ماننے کے الزام بھی لگے ہیں۔ مولانا نے 21 جولائی کو بھی کمرہ محلہ کے کرنل حسین،متولی افتخار الدین حیدراور سراج حسین کے گھروں میں تالہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے مجسٹریٹ اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی مولانا نے اپنے حامیوں کے ساتھ گھروں میں تالہ بندی کرنے گئے مجسٹریٹ اور پولیس اہلکاروں پر حملہ بول دیا۔
ادھر مظفر پور کے ایس ایس پی وویک کمار نے اے ڈی جی ہیڈکوارٹر اور اسپیشل برانچ کے اے ڈی جی سمیت دیگر کو بھیجی رپورٹ میں پولیس پر روڑ ے بازی اور مرچ پرپاؤڈر پھینکنے کے بعد بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیے جانے کی بات کہی ہے۔ انھوں نے رپورٹ میںکہا ہے کہ لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے لیے مجسٹریٹ اور پولیس کی تعیناتی کی گئی تھی۔ رپورٹ میںمولانا پر نگر، برہمپورہ سمیت دیگر تھانوں میں دس مجرمانہ معاملے درج ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ مولانا کے ذریعہ تالہ بندی کرنے کی جانکاری پولیس کو پہلے سے تھی۔ احتیاطاً مجسٹریٹ اور پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود مولانا اور ان کے حامیوں کے ذریعہ جبراً ماحول بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ وہیں اس معاملے کو لے کر لکھنؤ میںبھی چنگاری سلگنے لگی ہیں۔ مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی کی طرف سے جاری پریس نوٹ و ویڈیو بھی مظفرپور میں وائرل ہونے کا چرچا ہے۔ اس میں مولانا پر لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے مجلس علماء ہند کی بات چیت کا ذکر ہے۔ وزیر داخلہ سے مولانا اور ان کے حامیوں کی رہائی اور وقف املاک کو بیچ رہے زمین مافیا پر کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔ وائرل بیان میں نقوی نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے بعد پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے تحت احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ اسی دوران پولیس انتظامیہ نے نمازیوں پر لاٹھی چارج کردیا اور گھر کی عورتوں کو بے رحمی سے پیٹا۔ مولانا اور ان کے ساتھیوں کو رہا نہیںکرنے پر علماء ہند نے بہار بھون پر مظاہرہ کرنے کی وارننگ بھی دی ہے پریس بات چیت میں مولانا رضا حسین ، مولانا حبیب حیدر، مولانا نثار احمد کے علاوہ مولانا فیروز حسین بھی موجود تھے۔ وہیںحسن چک بنگرا کے پیش امام مولانا سید شمسی رضوی اور مولانا سید علی ا مام نے بھی بے قصور عورتوں، بچوں اور بزرگوں پر لاٹھی چارج کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مولانا کو آزاد نہیں کیا گیا تو بہار کے تمام علماء مظفر پور میں احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ لوگ اپنے جسم پر تلوار اور بلیڈ سے وار کرکے خود کو لہولہان کر لیں گے۔ اس دوران کسی طرح کے حادثے کے لیے انتظامیہ ذمہ دار ہوگا۔ ادھر مالے کے ضلع سکریٹری کرشن موہن نے پولیس کے ذریعہ مولانا سمیت دیگر کی پٹائی کرکے زمین مافیا کو وقف کی زمین بیچنے کی کھلی چھوٹ دینے کا الزام لگایا ہے۔

 

 

اب مختلف وقف اسٹیٹ کی املاک کی سیکورٹی کو لے کر بڑا تنازع محمد تقی خاں وقف اسٹیٹ، صغریٰ بیگم شیعہ وقف اسٹیٹ و امام باڑہ وقف اسٹیٹ کا ہی ہے۔ ان تینوں وقف اسٹیٹ کی املاک کو لے کر مولانا کاظم شبیب پہلے سے ہی کہتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ وقف اسٹیٹ کے افسروں کی سازباز سے زمین مافیا اسٹیٹ کی املاک پر قبضہ کررہے ہیں اور وقف بورڈ ان کا ڈھال بنا ہے۔ اس کے علاوہ مظفر پور کے چھاتا بازارمیںواقع سنی وقف اسٹیٹ نمبر 1170 پر بھی حال میں تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ اس کی دو ایکڑ زمین پر زمین مافیا نے قبضہ کرکے سڑک کی تعمیر بھی شروع کرادی تھی۔ مافیا کے بڑھتے دباؤ کے بعد وقف اسٹیٹ کے سبھی ممبروں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ نے کمیٹی بھنگ کرتے ہوئے ایس ڈی او سنیل کمار کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔ رام باغ میںواقع حاجی پورہ وقف اسٹیٹ نمبر 1190- کی جائیداد کو لے کر بھی تنازع چل رہا ہے۔ لوگوں نے اقلیتی بہبود کمیٹی سے شکایت کی ہے کہ اس اسٹیٹ کی زمین پر 250 لوگوں نے مکان بنا لیے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ، 35-40 لوگوںسے زمین کا ایگریمنٹ کرکے انھیںقبضہ بھی دلایا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *