اب تو جگ ظاہر ہے معصوم بچوں کی اندیکھی

لڑکیوں کے تئیں سماجی اندیکھی کے احساس کو دیکھتے ہوئے کسی نے کبھی یہ نعرہ گڑھا تھا کہ ’’نہ آنا اس ملک میں لاڈو ‘‘ لیکن ہم بات کررہے ہیں،سسٹم کی اس اندیکھی کی جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے  یکساں  ہے ۔یہ وہ اندیکھی ہے جو ہمارے ملک میں جنم لینے والے 7لاکھ 30ہزار بچوں کو  پیدا ہونے  کے ایک مہینے کے اندر ہی مرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ وہ اندیکھی ہے جو 10 لاکھ 50ہزار بچوں کو پہلا جنم دن بھی نہیں منانے دیتی۔ یہی اندیکھی ہمیں بھی یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ ’’نہ آنا اس ملک میں بچوں ‘‘۔لڑکیوں کے تئیں سماجی اندیکھی کے احساس کو دیکھتے ہوئے کسی نے کبھی یہ نعرہ گڑھا تھا کہ ’’نہ آنا اس ملک میں لاڈو ‘‘ لیکن ہم بات کررہے ہیں،سسٹم کی اس اندیکھی کی جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے  یکساں  ہے ۔یہ وہ اندیکھی ہے جو ہمارے ملک میں جنم لینے والے 7لاکھ 30ہزار بچوں کو  پیدا ہونے  کے ایک مہینے کے اندر ہی مرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ وہ اندیکھی ہے جو 10 لاکھ 50ہزار بچوں کو پہلا جنم دن بھی نہیں منانے دیتی۔ یہی اندیکھی ہمیں بھی یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ ’’نہ آنا اس ملک میں بچوں ‘‘۔ہمارے یہ کہنے کے پیچھے کا درد یہ ہے کہ ہندوستان میں جنم لینے والے 40فیصد بچے 5سال کی عمر پورا کرنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کی تعداد 2 لاکھ 91ہزار 288 ہے جو اپنا پانچواں جنم دن بھی نہیں منا پاتے ۔ وہیں 14سال کے 4 لاکھ 31ہزار 560 بچوں کی موت ہر سال ہوتی ہے۔ 2016 میں ہی نمونیہ اور ڈائریا سے 2لاکھ 96ہزار 279 بچوں کی موت ہو گئی۔ یہ سبھی اعدادو شمار ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او ) کے ہیں۔

 

 

 

 

آزادی کے 70سال بعد بھی اگر نمونیہ اور ڈائریا سے ہر سال لاکھوں بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے  ہیں تو یہ ہندوستان جیسے ملک کے لئے شرمندگی کی بات ہے۔ شرم کرنے والی بات تو یہ بھی ہے کہ بم، گولہ بارود کے معاملے میں اہم ممالک کی لسٹ میںشامل ہونے کے لئے انتھک کوشش کررہا ہمارا ملک بچوں کی ایک بڑی آبادی کی بھوک مٹا پانے میںبھی ناکام ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او ) کی ہی رپورٹ کہتی ہے کہ بھوکے بچوں کی تعداد میں 118 ملکوں کی لسٹ میں ہندوستان کا نمبر 97واں ہے۔ یعنی ہم نیچے سے 21ویں نمبر پر ہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ جب ہم اپنے بچوں کو کھانا نہیںکھلا سکتے تو پھر صحت مند کیسے رکھ سکتے ہیں۔موجودہ وقت میں جبکہ ہماری سرکار کے لئے ملک کی اندرونی نہیں، بلکہ عالمی اداروں کی رپورٹ معنی رکھتی ہے ، اس وقت ڈبلیو ایچ او کی یہ رپورٹ سرکار کے لئے شرمندگی کی بات ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ہی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں ابھی 39 فیصد بچے غذائی قلت کے شکار ہیں۔ 6سال تک کے 2کروڑ 30لاکھ بچے غذائی قلت کے شکار ہیںجن کی جسمانی نشو ونما رک  گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں ، گندے پانی کے سبب ہونے والی بیماریوں سے ہر سال تقریباً 15لاکھ بچے مر جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں سے ہر سال جو 10 لاکھ لوگ مرتے ہیں، ان میں سے آدھے بچے ہوتے ہیں۔ ملک میں ہر سال 12 لاکھ سے زیادہ بچے ایسی بیماریوں سے مر جاتے ہیں، جن کا علاج ممکن ہے لیکن افسوس کہ  ان کے لئے  معمولی علاج بھی ہندوستان میں ممکن نہیں ہے۔ جہاں دور دراز دیہی علاقوں میں پرائمری ہیلتھ سینٹر تک پہنچنے کے لئے بھی سینکڑوں کلو میٹر کی دوری طے کرنی پڑتی ہو، جہاں شہروں میں بھی ایمبولینس کی سہولت فراہم نہیں ہو اور جہاں گارڈ ہی کمپائونڈر کا کام کرے ہوں ، وہاں ہم کیسے طبی وسائل کی بہتری کی توقع کرسکتے ہیں۔بچوں کی موت کے اوسط  کے معاملے میں ہندوستان کا حال اتنا خراب ہے کہ فی ہزار بچوں میں  سے 37بچے پیدا ہوتے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، وہیں اموات کا اوسط ابھی بھی 167 ہے۔یہ حال تب ہے جبکہ ان میں  کمی  کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ 21مارچ 2017 کو راجیہ سبھا میں یہ اعدادوشمار گناتے ہوئے ہیلتھ منسٹر جے پی نڈا نے اسے بڑی کامیابی بتایا تھا، جبکہ سرکار کے لئے یہ ایک بڑی تشویش کی بات ہونی چاہئے۔ غور طلب ہے کہ جو بچوں کی اموات کا اوسط ہمارے ملک میں 37 ہے ، وہ ترقی یافتہ ملکوں میں 5 سے بھی کم ہے۔ بچوں کے لئے ہندوستان کو غیر محفوظ بتانے والے ان اعدادو شمار کے پیچھے کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ ہماری سرکار طبی سہولیات پر جی ڈی پی کا صرف 1.4 فیصد حصہ خرچ کرتی ہے۔ بچوں کی صحت کے معاملے میں ریاستوں کے حالات اس طرح ہیں: 5 سال کے بچے میں غذائی قلت  بچوں کی شرح اموات ماں کا پہلا دودھ نہیں ملابہار :  48.3یوپی :  64یو پی :75  یو پی :  46.3چھتیس گڑھ: 54اتراکھنڈ: 72.2جھارکھنڈ : 45.3مدھیہ پردیش : 51راجستھان : 70.6میگھالیہ :  43.8آسام : 48دہلی : 70.9مدھیہ پردیش:42بہار : 48 پنجاب:  69.3(یہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 4- کے اعدادو شمار ہیں ۔دیئے گئے سبھی اعدادو شمار فیصد میں ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *