مسلمان نہیں، سکھ ایک درگاہ کا خادم ہے

دور دور تک ڈھول تاشوں کی آواز سنائی پڑتی ہے۔ راستے میں لوگوں کا ہجوم بھی ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے اٹاری سے صوفی بزرگ حضرت خدمت علی شاہ اور حضرت عظمت علی شاہ کی درگارہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔درگاہ کے مناروں پر ہرے جھنڈے ہیں جن پر چاند تارے بنے ہوئے ہیں۔ عقیدت مندوں کے ہاتھوں میں چادریں ہیں جن پر یا تو کلمہ یا قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔ درگاہ میں سجادہ نشین بھی ہیں۔مگر ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ ان سب کا تعلق سکھ مذہب سے۔ درگاہ کی زیارت کرنے والے بھی اور اس کے دیکھ بھال کرنے والی بھی سب کے سب سکھ ہیں۔یہاں ہر ہفتے بدھ کے روز میلہ لگتا ہے جس میں قوالی ہوتی ہے، ثفافتی پروگرام ہوتے ہیں اور صوفی کلام پڑھا جاتا ہے اور لنگر بھی لگتا ہے۔
درگاہ کی تاریخ پرانی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے یہ درگاہ اس وقت تعمیر کی گئی تھی جب یہاں مغل بادشاہ جہانگیر کی حکومت تھی۔ان کا خیال ہے کہ یہ درگاہ 1640 سے 1670 کے درمیان بنائی گئی تھی۔اس علاقے میں مغل بادشاہ جہانگیر کی آرام گاہ ہوتی تھی جہاں وہ اپنے سفر کے دوران ٹھہرا کرتے تھے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت خذمت علی شاہ اور حضرت عضمت علی شاہ بھی اس دور میں یہاں آئے تھے۔

 

 

یہ صوفی سنت کس ملک، کس شہر سے آئے تھے اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ستر برس قبل یہ درگاہ بہت بری حالت میں تھی۔ درگاہ کھنڈر بن چکی تھی اور پیروں کی قبریں بری حالت میں تھیں۔ بٹوارے کے وقت جب مقامی مسلمان پاکستان چلے گئے اس کے بعد یہاں کے سکھوں نے اس درگاہ کی دوبارہ آبادکاری کا کام شروع کیا جس کے لیے مقامی لوگوں نے عطیہ دیا۔ 1640 کے قریب یہاں ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی لیکن اب وہ بری حالت میں ہے۔1947 میں ہندوستان کا بٹوارہ ہوا، پنجاب بھی تقسیم ہوا، اور راجہ تال کے مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر سرحد پار چلے گئے۔پشتوں سے سکھوں کی عقیدت ان صوفی سنتوں میں رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘ بٹوارے کے بعد بھی سرحد پار کے مسلمان اس درگارہ پر آیا کرتے تھے اور چادر چڑھایا کرتے تھے۔سرحد پر خار دار تاریں کچھ ہی سالوں پہلے لگائی گئی ہیں۔ جب خار دار تاریں نہیں تھی تب لوگ زیارت کے لیے یہاں آتے تھے۔ یہ میل ملاپ کی جگہ تھی۔ جب سے تاریں لگائی گئیں تب ہی سے سرحد پار کے لوگوں نے یہاں آنا بند کیا ہے۔درگاہ کی دیکھ بھال کرنے والے سکھ ضرور ہیں لیکن انہوں نے مسلمانوں کے رسم و رواج کو زندہ رکھا ہے۔
درگارہ کی ورکنگ کمیٹی کے صدر وراثت سنگھ بتاتے ہیں کہ ‘عقیدت اپنے آپ میں مکمل ہوتی ہے۔ ہم سکھ ہیں، ہم گردوارہ جاتے ہیں۔ لیکن ان صوفی سنتوں میں بھی ہمارا یقین اتنا ہی مضبوط ہے۔ ملک کو تو تقسیم کر دیا گیا لیکن وہ ہمارے عقیدہ کو نہیں بانٹ سکے’۔راجہ تال میں مسلمان آبادی نہیں ہے لیکن یہ درگاہ مقامی سکھوں کی عقیدت کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *