آزمائش میں پھر گھرے نتیش

’’بِہار میں بَہار ہے، اب نتیش کمار ہے ‘‘۔20 ماہ پرانی مہا گٹھ بندھن سرکار کے ڈرامائی اختتام کے بعد سیاسی گلیاروں میں یہ جملہ ایک بار پھر زور و شور سے گونج رہا ہے۔ نتیش سرکار کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اب ریاست کے عوام صرف دو چہروں پر ٹکٹکی لگائے ہوئے ہیں، جس میں پہلا نام نتیش کمار اور دوسرا نریندر مودی کا ہے۔ مہا گٹھ بندھن کے مہا جھگڑے نے تقریباً ایک مہینے تک اس ریاست کو ہر لحاظ سے بندھک بنا کر رکھ دیا تھا ۔حالانکہ اس کی اسکرپٹ ٹوینٹی ٹوینٹی انداز میں دہلی اور گرو گرام میں لکھی گئی لیکن اس اسکرپٹ کو عملی جامہ راجگیر اور پٹنہ میں پہنایا گیا ۔خیر تابڑ توڑ انداز میں مہا گٹھ بندھن کی سرکار کا اختتام ہوا اور این ڈی اے کی سرکار بہار میں بن گئی۔ سرکار نے 108 کے مقابلے 131 ووٹوں سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کرلیا۔ اس دوران لگائے گئے الزامات اور دن رات چلی زبانی جنگ کو پورے ملک نے دیکھا اور سنا ۔اس لئے ہم تفصیل سے اس طرف نہیں جائیں گے لیکن جس طرح بہار میں مہا گٹھ بندھن کا تجربہ ناکام ہوا اور نتیش کمار نے اپنی 17سال پرانی بی جے پی سے دوستی کی کتاب ایک بار پھر کھولی ،اس سے سیاست میں بار بار کہی جانے والی یہ بات جس میں کہا جاتاہے کہ سیاست امکانات کا کھیل ہے اور اس میں کچھ بھی ممکن ہے پھر سو فیصد سچ ثابت ہوئی۔
لاکھ ٹکے کا سوال
اب لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ آخر پچھلے 20 مہینے میں ایسا کیا ہو گیا کہ نتیش کمار کا پیار لالو پرساد سے ختم ہو گیا اور انہیں بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ اگر ہم تیجسوی کیس کو مرکز میں رکھ کر اس کہانی کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو پھر بحث میں ہوئے اس سیاسی تبدیلی کو آدھے ادھورے منظر میں ہی دیکھ اور سمجھ پائیںگے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اگر مکمل اور پوری کہانی کو سمجھنا ہے تو نتیش کمار کے اس بیان پر غور کیا جائیجو انہوں نے حلف لینے کے ٹھیک بعد دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے ساتھ ترقی ہماری سرکار کی ہی نہیں میری زندگی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ریاست کی ترقی کے لئے میں کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں۔ بہار کی ترقی کے لئے جو کچھ کرنا پڑے گا، میں کروں گا۔
دراصل لالو -رابڑی کے لمبے دور حکومت کو اکھاڑ کر جب 2005 میں نتیش کمار نے بہار میں اپنی سرکار بنائی تھی تو اس وقت بھی انہوں نے ترقی کی رفتار کے تئیں اپنی لگن کو ظاہر کیا تھا اور پانچ سال کے اپنے پہلے دور کار میں انہوں نے انتھک محنت کرکے بہار کوپھر سے پٹری پر لانے کا کارنامہ کر دکھایا ۔نتیش اس کے بعد سوشاسن (گڈگورننس ) بابو بن گئے اور ملک و دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ بہار جیسی بیمار ریاست ایک مضبوط ہاتھوں میں جاکر کتنی بدل سکتی ہے ۔
بدقسمتی سے اپنے دوسرے دور کار میں نتیش کو اتنی کامیابی نہیں مل پائی کیونکہ مرکز اور ریاست کے درمیان سیاسی کشمکش نے بہار کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ گجرات سے نکل کر قومی فلک پر نریندر مودی کی دھماکہ خیز انٹری نے نتیش کو ازسر نو غور کرنے پر مجبور کردیا۔ نتیش نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑا اور لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد لالو پرساد اور کانگریس کے ساتھ مل کر مہا گٹھ بندھن کا تجربہ کیا۔ تجربہ کامیاب رہا اور نتیش کمار ایک بار پھر ریاست کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ نتیش کمار کی اصلی آزمائش یہیں سے شروع ہو گئی۔

 

 

ترقی کے جس ایجنڈے کو وہ آگے بڑھانا چاہتے تھے، اس پر اتحادی پارٹی بریک لگانے لگی۔ بلا وجہ مداخلت کی وجہ سے بڑے انتظامی تبادلے یا تو متاثر ہوئے یا نہیں ہو پائے۔ اس کے نتیجے میں ضلعوں کی ترقی پوری طرح ٹھپ ہونے لگی۔ سکریٹریٹ سے لے کر کلکٹریٹ تک میں افسروں کی رسہ کشی نے ترقی کا چکا جام کر دیا۔ کس کی بات سنیں اور کس کی نہ سنیں ،یہ فیصلہ کرنا ،افسروں کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔ نتیش کے شراب بندی کے فیصلے سے کچھ مہینوں تک تو ان کی شبیہ نکھری لیکن تھانوں کی ملی بھگت سے شراب کی اسمگلنگ جاری رہی جس سے عام لوگوں کے دلوں میں نتیش کے کام کرنے کے طریقے پر سوالیہ نشان لگنے لگا۔لیکن سیاسی وجوہات سے نتیش چاہتے ہوئے بھی مجبور تھے۔نتیش سمجھنے لگے کہ جب تک سائنٹفک سسٹم میں روایتی تبدیلی نہیں ہوگی، تب تک شراب پر پوری طرح روک لگانا ممکن نہیں ہے۔
نتیش کی مجبوری
شراب بندی میں لیکیج کے بعد نتیش کمار اپنی ترقی کے ایجنڈے کو مشن موڈ میں آگے بڑھانا چاہتے تھے تاکہ عوام کے بیچ ان کی ساکھ پر کوئی داغ نہیں لگے لیکن دشواری یہ ہونے لگی کہ بنیادی ڈھانچہ کے لگ بھگ سارے محکمہ جات راشٹریہ جنتا دل کوٹے میں ہونے کی وجہ سے نتیش سیاسی وجوہات سے ان محکموں میں زیادہ مداخلت کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔ مشکل تب اور بڑھ گئی، جب نریندر مودی نے بھی بہار کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے خزانے کا دروازہ بند کر دیا۔ریاست کی کئی ترقیاتی اسکیمیں فنڈ کے فقدان میں دم توڑنے لگیں۔ بہار کے وزیروں کو دہلی میں فنڈ کے بجائے صرف یقین دہانی مل رہی تھی۔ سڑک اور سینچائی کی اسکیموں کو فنڈ کی کمی کھانے لگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ترقیاتی اسکیموں پر دوہری مار پڑ گئی۔ ایک تو پیسے کی کمی اور دوسری طرف صحیح پلاننگ کا فقدان۔ دھیرے دھیرے نتیش کمار کو یہ احساس ہونے لگا کہ نریندر مودی کی سرکار کے تعاون کے بغیر اب ان کی ترقی کے ایجنڈے کو پنکھ نہیں لگ سکتا۔ نتیش کمار کو محسوس ہو گیا کہ اگر ایسا چلتا رہا تو ان کی وکاس پروش ہونے کی شبیہ کو گہرا دھکا لگ سکتا ہے۔ لہٰذا نتیش کمار اب اس مشکل صورت حال سے نکلنے کا بہانہ ڈھونڈنے لگے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ نتیش کمار جب ایک کتاب کے رسم اجراء پروگرام کے سلسلہ میں دہلی گئے تھے، تب اسی درمیان گرو گرام میں ان کی امیت شاہ سے خفیہ ملاقات ہوئی۔اسی ملاقات میں سارے گلے شکوے مٹ گئے اور اسکرپٹ لکھنے کی تیاری شروع کر دی گئی۔ حالانکہ بعد میں دونوںطرف سے اس طرح کی کسی بھی ملاقات کی تردید کی گئی۔ کہا گیا کہ یہ ساری باتیں من گھرت ہیں، لیکن تیزی سے بدلتے سیاسی واقعات کو دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس ملاقات کی سچائی کیاتھی؟خیر نوٹ بندی ، سرجیکل اسٹرائک اور پھر صدر جمہوریہ کے انتخاب نے جنتا دل یونائٹیڈ اور بی جے پی کے ساتھ چلنے کا راستہ تیار کر دیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا ،وہ سب کے سامنے ہے۔

ترقی کا ایجنڈا
اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد نتیش کمار نے پھر دوہرایا کہ ترقی اور صرف ترقی ہی ان کا ایجنڈا ہے اور سبھی اسے محسوس بھی کریںگے۔ انصاف کے ساتھ ترقی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ بہار کو سنوارنے میں تعاون کریں۔ نتیش کمار سمجھ رہے ہیںکہ جس طریقے سے یہ نئی سرکار بنی ہے، اس کی بنیاد ہی ترقی پر ٹکی ہے۔ 1990 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مرکز اور ریاست میں ایک ہی گٹھ بندھن کی سرکار ہے ۔اب یہ بہانہ بھی نہیں چلے گا کہ مرکز میں دوسری گٹھ بندھن کی سرکار ہے، اس لئے ریاست کے ساتھ تفریق ہو رہی ہے، جس سے ترقی کے کام متاثر ہورہے ہیں۔نریندر مودی کی شبیہ بھی ترقی کرنے والے لیڈر کی ہے اور نتیش کمار بھی اسی مزاج کے ہیں ۔اس لئے اب اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے۔
بہار کو اسپیشل پیکج کی بات ہو یا پھر اسپیشل اسٹیٹس کی، ان میں سے کم سے کم ایک تو نتیش کمار کو حاصل کرنا ہی ہوگا۔ مرکز کے تعاون سے راجیو گاندھی شہری آواس یوجنا، ہائوسنگ فار آل، دین دیال انتیودے یوجنا، راشٹریہ شہری آجیویکا مشن، سوچھ بھارت مشن، نمامی گنگے وغیرہ کئی اہم اسکیمیں ریاست میں چل رہی ہیں۔ اب لوگوں کو امید بندھی ہے کہ ان اسکیموں کو نئی رفتار ملے گی اور ریاست کی صورت حال سنورے گی۔ گنگا پر بننے والے میگا پلوں کا کام بھی سست ہو گیا تھا، جس سے شمالی بہار کے لوگوں کو مسائل سے نجات نہیں مل پارہی ہے۔ اب امید ہے کہ اس سمت میں بھی تیزی سے کام ہوگا۔ برونی میں ریفائنری سے جڑے دو بڑے پروجیکٹس کو پورا کرانا نتیش سرکار کی ترجیحات میںہونا چاہئے کیونکہ اب مرکزی سرکار کا تعاون ملنا طے ہے۔یہ پروجیکٹ پورا ہونے سے بہار میں روزگار کے کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔نریندر مودی نے انتخابی بھاشنوں میں شمالی بہار کو سیلاب سے بچانے کا وعدہ کیا تھا، اس کا بھی اب ٹیسٹ ہونا ہے۔ بہار میں دو نئے ایمس کھولنے کا وعدہ بھی نریندر مودی نے کیا تھا۔پہلے تو یہ کہا جارہا تھا کہ ریاستی سرکار زمین نہیں دے رہی ہے، لیکن اب تو کوئی بہانہ چلے گا نہیں ۔یہی بات مرکزی اسکولوں کے کھولنے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
ریاست میں لمبے وقت سے کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی بڑا کارخانہ لگا ہے۔ کاروبار سے جڑی تنظیموں نے نتیش کمار سے اپیل کی ہے کہ اپنی نئی اننگز میں وہ صنعتوں کو مضبوط ڈھانچہ فراہم کریں اور ایسا ماحول بنائیں جس سے ملک کے باہر سے بھی لوگ یہاں سرمایہ کاری کرنے آئیں۔امتحانات میں ناروا رویے کا داغ دھونے کا بھی وقت آگیا ہے۔ اسکول اور کالجوں میں تعلیم کی سطح سدھرے اور امپلائمنٹ ایجوکیشن کو بڑھاوا ملے ۔ایسی امید ریاست کے عوام نتیش سرکار سے کر رہے ہیں۔ کہا جائے تو ایک آگ کا راستہ ہے جس پر نتیش کمار کو اب ساڑھے تین سال چلنا ہے۔انہیں اپنے اس مدتِ کار میں ترقی کی ایک ایسی کہانی لکھنی ہوگی جو انہوں نے اپنے پہلے دور کار میں لکھی تھی ۔اگر وہ اپنے پہلے دور کار میں سوشاسن بابو اور وکاس پروش کہلائے تھے تو اس کے پیچھے ان کی محنت اور کچھ کر گزرنے کا عزم تھا۔ اب ایک بار پھر وہی چیلنج نتیش کمار کے سامنے ہے۔ امید یہی کی جارہی ہے کہ نتیش کمار اپنا ہی ریکارڈ خود توڑیںگے۔ مہا گٹھ بندھن توڑ کر انہوں نے راتوں رات این ڈی اے کی سرکار بہار میں بنائی ہے اور اسے صحیح ٹھہرانے کے لئے نتیش کمار کو ترقی کے کاموں کے لئے انتھک محنت اور مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تبھی اس نئی سرکار اور دوستی کی اہمیت اجاگر ہوگی ورنہ پھر مہاگٹھ بندھن میں ہی کیا دشواری تھی۔

 

 

 

سی بی آئی چھاپے سے شروع ہوا اختلاف
5جولائی
ریلوے کی جائیداد کو ٹھیکہ پر دینے کے معاملے میں لالو پرساد کے ساتھ رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو پر سی بی آئی نے درج کیا ایف آئی آر ، کارروائی کی تیاری ۔
7جولائی
لالو کے پٹنہ سمیت 12 ٹھکانوں پر سی بی آئی کی چھاپہ ماری ۔اگلے دن بیٹی میسا اور داماد شلیش کے تین ٹھکانوں پر ای ڈی کی چھاپہ ماری۔
9جولائی
راجگیر سے نتیش کمار لوٹے۔ تیجسوی پر کارروائی کا دبائو بڑھا۔ زمین لکھانے کے معاملے میں ای ڈی نے سی بی آئی سے ایف آئی آر کی کاپی مانگی ۔
10جولائی
نتیش نے فون پر لالو یادو سے بات چیت کی۔ راشٹریہ جنتا دل ایم ایل ایز کی میٹنگ میںتیجسوی کے استعفیٰ نہیں دینے کا فیصلہ۔ترجمانوں کی بیان بازی ہوئی تیز۔
11 جولائی
نتیش کمار نے جن پر الزام لگے ہیں، ان لوگوںکو عوام اور میڈیا کے سامنے حقیقت پیش کرنے کو کہا۔4 دنوں میں صورت حال واضح کرنے کا فرمان ۔
12جولائی
نتیش نے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی سے بات چیت کی۔نہیں نکلا مہا گٹھ بندھن بچانے کا کوئی موثر فارمولہ
14 جولائی
لالو نے کہا کہ ہم کسی کی گیدڑ بھپکی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ریاستی کانگریس صدر اشوک چودھری نے نتیش سے بات چیت کی اور لالو سے ملے۔
16جولائی
لالو اور نتیش کے بیچ صلح کرانے کی شرد یادو اور شیوا نند تیواری کی کوشش بیکار ۔گٹھ بندھن پر منڈلانے لگا خطرہ ۔
18جولائی
کابینہ کے بعد تیجسوی نے نتیش کو دی صفائی ۔وزیر اعلیٰ نے کچھ اور نکات پر توضیح مانگا ۔مہا گٹھ بندھن میں صلح کے لگنے لگے قیاس۔
19 جولائی
دہلی میں سونیا گاندھی نے جنتا دل یونائٹیڈ لیڈر شرد یادو سے ملاقات کی۔ وہیں پٹنہ میں اشوک چودھری جنتا دل یونائٹیڈ اور راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈروں کے بیچ رابطہ بنائے رکھے۔
21جولائی
راشٹریہ جنتا دل چیف نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے قومی جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہا کہ گٹھ بندھن پر نتیش فیصلہ کریں گے۔
22جولائی
نتیش نے دہلی میں راہل گاندھی سے تیجسوی پر لگے بدعنوانی کے الزامات کی چرچا کی۔ راہل نے کہاکہ مل کر بات چیت سے نکلے مسئلے کا حل۔
24جولائی
دہلی میں کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملے تیجسوی ۔اپنے اوپر لگے الزامات پر دی صفائی۔ سونیا کی طرف سے نہیںکی گئی کوئی یقین دہانی۔
25جولائی
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی حلف برداری تقریب میں حصہ لینے کے بعد نتیش شام کو پٹنہ لوٹے۔بیان دیا مہا گٹھ بندھن بچانا اجتماعی ذمہ داری ۔
لالو خاندان کو لے کر بڑے خلاصے
11اپریل
بِہٹا میں شراب فیکٹری سرمایہ کاری گھوٹالہ اجاگر ۔
13 اپریل
کام کے عوض میں زمین اور پراپرٹی دینے کے گھوٹالہ کا پردہ فاش۔
21 اپریل
ڈی لائٹ مارکیٹنگ کمپنی کا نام بدل کرلارا (لا سے لالو، را سے رابڑی ) پروجیکٹ کا پردہ فاش
22 اپریل
ڈی لائٹ مارکیٹنگ،اے کے انفو سسٹم کی طرز پر تیسری کمپنی اے بی ایکسپوٹرس پرائیویٹ لمیٹیڈ کا پردہ فاش
24اپریل
نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے اے بی ایکسپورٹ میں 98 فیصد شیئر کا پردہ فاش
3مئی
نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے ذریعہ محض پانچ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے 115 کروڑ روپے کی کمپنی کے مالک بننے پر سوال ۔
5مئی
پٹرول پمپ الاٹمنٹ اور زمین لیز ہیرا پھیری کا پردہ فاش۔
12 مئی
دہلی میں 100کروڑ روپے کی لاگت سے لالو یادو کی بڑی بیٹی اور راجیہ سبھا ممبر میسا بھارتی اور ان کے شوہر شلیش کمار کی مکھوٹا کمپنیوں کا پردہ فاش۔
14مئی
منی لانڈرنگ کے معاملے میں جیل میں بند سریندر جین اور وریندر جین، شراب کاروباری اوم پرکاش کتیال اور اشوک کمار بنتھیا کے ذریعہ کروڑوں روپے کی زمین پوری کمپنی لالو خاندان کو سونپنے پر سوال
16مئی
ایک اور حوالہ آپریٹر ویویک ناگپال کی کمپنی کے ایچ کے ہولڈنگ لمیٹیڈ کے ذریعہ لالو کنبے کو تقریبا 50 کروڑ روپے سے زیادہ کی زمین سونپنے کا پردہ فاش۔
17 مئی، وزیر صحت تیج پرتاپ یادو کے ذریعہ اورنگ آباد میں اپنے نام سے خریدی گئی کروڑوں کی 45 ڈسمل زمین کو مینی فیسٹو میں چھپانے کا الزام۔
29 مئی
یہ بھی الزام لگا کہ سابق وزیر سودھا شری واستو اور وزیر خزانہ عبد الباری صدیقی سے بھی آپریٹیو سوسائٹی کی زمین لالو خاندان نے لکھوا لی ۔
30مئی
لالو پر وزیر ریلوے رہتے ہوئے ایم پی ایم ایل اے کو کو آپریٹیو سوسائٹی کے پانچ پلاٹ 207,208,209,210اور 211 پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔
31مئی
لالو کو ایم پی ، ایم ایل اے کوآپریٹیو سوسائٹی کے رہائشی پلاٹ کا کاروباری فائدہ اٹھانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
6جون
سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کے ذریعہ کھٹال میں کام کرنے والے نوکر للن چودھری سے جائیداد عطیہ لینے کا پردہ فاش ۔
14جون
لالو کنبے کو زمین دینے والے کھٹال کرمی للن چودھری کے لیجسلیٹیو اسمبلی میں چپراسی ہونے کا پردہ فاش۔
4 جولائی
لالو سرکار میں وزیر رہے برج بہاری پرساد کی بیوی رما دیوی کے ذریعہ تیج پرتاپ یادو کو پونے چار برس کی عمر میں 13 ایکڑ زمین دیئے جانے کا پردہ فاش۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ نتیش کمار جب ایک کتاب کے رسم اجراء پروگرام کے سلسلہ میں دہلی گئے تھے، تب اسی درمیان گرو گرام میں ان کی امیت شاہ سے خفیہ ملاقات ہوئی۔اسی ملاقات میں سارے گلے شکوے مٹ گئے اور اسکرپٹ لکھنے کی تیاری شروع کر دی گئی۔ حالانکہ بعد میں دونوںطرف سے اس طرح کی کسی بھی ملاقات کی تردید کی گئی۔ کہا گیا کہ یہ ساری باتیں من گھرت ہیں، لیکن تیزی سے بدلتے سیاسی واقعات کو دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس ملاقات کی سچائی کیاتھی؟خیر نوٹ بندی ، سرجیکل اسٹرائک اور پھر صدر جمہوریہ کے انتخاب نے جنتا دل یونائٹیڈ اور بی جے پی کے ساتھ چلنے کا راستہ تیار کر دیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا ،وہ سب کے سامنے ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *