نیشنل میڈیکل کمیشن بل 2017- تعلیم و صحت عام آدمی کی پہنچ سے اب بھی دور

وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی سربراہی والے مرکزی وزراء کے گروپ (جی او ایم) نے تبدیلی کی کچھ تجاویز کے ساتھ نیشنل میڈیکل کمیشن بل (2017) کے مسودے کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ اب اس بل کو پارلیمنٹ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد نیشنل میڈیکل کمیشن ، سال 1956میں پاس میڈیکل کونسل آف انڈیا ایکٹ کی جگہ لے لے گا۔ اس مسودے کے خلاف انڈین میڈیکل کونسل نے ملک کے الگ الگ حصوں میںمخالف کرکے اس کے کئی پروویژنس پر اپنا اعتراض درج کرایا تھا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے سال نیتی آیوگ کے اس وقت کے نائب چیئرمین اروند پنگڑھیا کی سربراہی میںبنی چار رکنی کمیٹی کے ذریعہ نیشنل میڈیکل کمیشن (ایم ایم سی) بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا۔ اس بل کو عام کرکے اس پر عوام اور طبی پیشہ سے جڑے الگ الگ مفاد ہولڈرس سے تجاویز مانگی گئی تھیں۔
کئی تجاویز
ملک میںمیڈیکل تعلیم اور اور اعلیٰ معیار کے ڈاکٹر مہیا کرانے،جدیدترین تحقیق کو اپنے کام میںشامل کرنے اور میڈیکل اداروں کا وقتاً فوقتاً معائنہ کرنے سے متعلق کئی تجاویز اس نیشنل میڈیکل کمیشن میں رکھی گئی ہیں۔ نئے بل کے مطابق،ایم بی بی ایس گریجویٹس کو ڈاکٹری کی پریکٹس کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے ایک ایگزٹ ایگزام پاس کرنا ہوگا۔ یہ ایگزام پوسٹ گریجویٹ کورسیز میںداخلے کے لیے نیشنل ا لیجبلٹی ٹیسٹ (نیٹ) کا بھی کام کرے گا۔ اس بل میںچار خود مختار بورڈ تشکیل کرنے کا پروویژن رکھا گیا ہے۔ گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن تعلیم کے آپریشن، میڈیکل اداروں کی ریٹنگ اور معائنے ، ڈاکٹروں کا رجسٹریشن اور میڈیکل ایتھکس کولاگو کرنا ،اس بورڈ کی ذمہ داری ہوگی۔ حالانکہ نیتی آیوگ کے ذریعہ تیار کردہ مسودے میںکمیشن کے ممبران کو نامزد کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس پر ملک کے الگ الگ حصوں کے ڈاکٹروں نے اعتراض جتایا تھا، اس کے بعد جی او ایم نے اس پروویژن میںتبدیلی کرتے ہوئے اس میںکچھ منتخب ممبروںکو بھی شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔
اس بل کے منظور ہوجانے کے بعد اس سے ملک میںمیڈیکل تعلیم پر دور رس اثرات تو پڑیںگے ہی، لیکن اس سے طبی خدمات میںکسی خاص تبدیلی کی گنجائش نظر نہیںآرہی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میںسب کو معیار ی طبی خدمات فراہم کرائی جائیں۔ ملک کے الگ الگ حصوں سے آنے والی طبی خدمات سے متعلق خبروں پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ صورت حال کتنی خراب ہے۔ ان خبروںکے ذریعہ سامنے آئے سوالوں کا جواب موجودہ بل کے مسودے میںنہیںہے۔ ملک میںدیہی سطح پر طبی خدمات تو پہلے سے ہی چرمرائی ہوئی ہیں۔
ادھر کامرشیلائزیشن نے علاج اتنا مہنگا کردیا ہے کہ غریب آدمی کسی نجی اسپتال میں علاج کرانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتاہے۔ نجی اسپتالوں میں غریبوں کے لیے مفت علاج کا جو پروویژن ہے، اسے بھی انتظامیہ نے پیسے کمانے کے لالچ میں چھین لیا ہے۔ اس کام میںملک کے بڑے بڑے اور مشہور اسپتال شامل ہیں۔ پچھلے سال دہلی کے پانچ نجی اسپتالوں (میکس سپر اسیشلٹی ہاسپٹل، فورٹیس اسکارٹس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ، شانتی مکند ہاسپٹل،دھرم شیلا کینسر ہاسپٹل اور پشپاوتی سنگھانیہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ) پر 600 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا گیا تھا۔ ان اسپتالوں پر الزام تھا کہ انھوں نے اقتصادی طور پر کمزور طبقے کے مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن اس جرمانے کے بعد بھی حالات بدلے نہیں ہیں۔ اسپتالوںکے ذریعہ علاج سے انکار کی خبریںیا علاج میںلاپرواہی یا صرف پیسے اینٹھنے کے لیے ضروری علاج کے معاملے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔

 

 

 

 

ہیلتھ سروس کو لے کر یہ بل خاموش کیوں؟
اسپتالوں کے غیر ذمہ دارانہ غیر انسانی سلوک کی اس ننگی اور دل دہلانے والی تصویر کو کون بھول سکتا ہے، جس سے انتظامیہ ایمبولینس کہ سہولت مہیا نہیں کرائے جانے کے سبب ایک غریب آدیواسی کو اپنی مردہ بیوی کی لاش کو ایک ریاست میں دس کلومیٹر تک کندھے پر ڈھونا پڑا تھا۔طبی خدمات کولے کر یہ بل خاموش ہے۔ ایتھکس کی بات صرف تعلیم کی سطح پر ہے ۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میںسب کے لیے طبی خدمات فراہم کی جاسکے۔
ملک کے سبھی نجی میڈیکل کالج فائدہ کمانے والے ادارے بن گئے ہیں۔ ہر ایڈمیشن سیشن کے وقت، نجی میڈیکل کالجوں کی فیس کے نام پر کروڑوں روپے تک کی اگاہی کی خبروںسے اخبار بھرے رہتے ہیں۔ موجودہ بل میں بھی اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ کالج انتظامیہ اپنے کوٹے سے داخلہ دے سکتے ہیں۔ اس مجوزہ بل کے مسودے میںڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ معیار والے ڈاکٹر مہیا کرانے اور جدید ترین تحقیق کو اپنے کام میںشامل کرنے کے لیے (فائدہ کمانے والے) میڈیکل کالج کھولنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے۔ اس بل میںیہ بھی کہا گیا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن ، نجی کالجوں کی صرف 40 فیصد سیٹوںکی فیس کو ہی کنٹرول کرے گا۔ ا س کا مطلب یہ ہوگا کہ کالج اپنی مرضی سے جتنی فیس رکھنا چاہے رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے کمیٹی نے یہ دلیل دی ہے کہ اگر این ایم سی نے فیس کنٹرول کی تونجی سرمایہ کار کالج کھولنے میںاپنا پیسہ لگانے سے گھبرائیںگے او رملک میںمیڈیکل تعلیم کی توسیع کامقصد ناکام ہوجائے گا۔
اب سوال یہ اٹھتاہے کہ فی الحال جب ملک میںفار پرافٹ میڈیکل کالج کھولنے کا پروویژن نہیں ہے تب یہا ںکالجوں کے ذریعہ فیس کے نام پر کروڑوں روپے اینٹھے جارہے ہیں۔لیکن ان کالجوں کو منمانی فیس وصول کرنے کی اجازت ملنے کے بعد کیا صورت حال ہوگی، یہ سمجھنا مشکل نہیںہے۔ ویاپم جیسے ایڈمیشن کے دلالوں کا جو بازار گرم ہوگا، یہ سمجھنا مشکل نہیںہے۔ ویاپم جیسے ایڈمیشن کے دلالوں کا جو بازار گرم ہوگا، وہ الگ۔ ظاہر ہے ، میڈیکل تعلیم کا خرچ بڑھنے سے طبی خدمات اور زیادہ مہنگی اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہوجائیں گی۔ سب سے اہم یہ کہ جب کالجوں کی فیس کروڑوں روپے ہوگی تو کم آمدنی کے زمرے میںآنے والی 80 فیصد سے زیادہ آبادی کے لیے تعلیم کی یہ وسعت بے معنی ہوجائے گی۔ پچھڑی، شیڈول کاسٹ،شیڈول ٹرائب کے لوگ اس فیس کا بوجھ برداشت نہیںکرپائیںگے۔

 

 

 

مسئلہ صلاحیت ومعیار کا
اب رہی بات معیار کی، تو اس سلسلے میںیہ کہاجاسکتا ہے کہ جب پرائیویٹ کالج کھولنے کی بات چل رہی تھی،اس وقت بھی یہی دلیل دی جارہی تھی کہ ایسا کرنے سے تعلیم کے معیار میںبہتری آئے گی۔ ایک مطالعے کے مطابق، پرائیوٹ کالجوں سے پاس ہونے والے 80 فیصد انجینئر کسی کام کے نہیںہیں۔ اس بل میں اس حقیقت کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایم بی بی ایس پاس کرنے والے ہر طالب علم کو پریکٹس لائسنس حاصل کرنے کے لیے ایک کل ہند ٹیسٹ میں بیٹھنا ہوگا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب کسی طالب علم نے امتحان پاس کرلیا تو اسی طرح کے امتحان سے گزرنے کاکیا جواز ہے؟ ایسے میڈیکل کالج ہی کیوں کھلنے دیے جائیںجہاں تعلیم کے معیار میں شک کی گنجائش ہو؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیکل میںداخلے کے لیے سرپرستوں کو بچوں کی کوچنگ پر لاکھوںروپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اب اس امیدسے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ ایم بی بی ایس کی پڑھائی میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد اس ٹیسٹ کوپاس کرنے کے لیے بھی کوچنگ کا کاروبار شروع ہوجائے گا۔
کل ملاکر دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بل سے طبی خدمات میںبہتری ہو یا نہ ہو، سطحی میڈیکل کالجوں کا سیلاب آجانے کی پوری گنجائش ہے۔ نتیجتاً میڈیکل جیسی اعلیٰ تعلیم غریب اور محروم طبقے کے طلبہ کی پہنچ سے دور ہوجائے گی، دوسری طرف غریب مریض علاج کے بغیرمرتے رہیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *