منیش تیواری نے بھی کانگریس پر سوال اٹھائے

کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے کانگریس کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 2009 میں206 سیٹیںجیتنے والی کانگریس کا 2014 میں 44سیٹوں پر سمٹ جانا یقینی طور پر تشویش کا سبب ہے۔ نئے چیلنجز کا مقابلہ خاص طور سے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں جانے کے لیے پارٹی کو اپنی سوچ ، طریقہ کار اور حکمت عملی میںتبدیلی کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنی بات نئے اور مؤثر ڈھنگ سے عوام کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔
انھوںنے کہا کہ پانچ ریاستوں میںسے دو ریاستوں گوا اور منی پور میں کامیابی کے باوجود ہمیں سیاسی مینجمنٹ کی کمزوری ہونے کی وجہ سے حکومت بنانے سے محروم ہونا پڑا۔ یہ الیکشن 2-3 سے کانگریس کے حق میں ہونے کے باوجود بی جے پی 1-4 سے حکومت بنانے میںکامیاب ہوگئی۔

 

 

 

واضح ہوکہ منیش تیواری سے قبل سینئر کانگریسی لیڈر جے رام رمیش نے بھی کانگریس کے کام کاج کے تعلق سے تبصرہ کیا تھا۔ انھوںنے کہا تھا کہ کانگریس اپنے وجو دکے بحران سے گزر رہی ہے اور سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ مسٹر نریندر مودی اور مسٹر امت شاہ کی قیادت والی بی جے پی سے عام طریقے سے مقابلہ نہیں کیا جاسکے گا اور اس کے لیے نئے ڈھنگ سے کام کرنا ہوگا۔انھوں نے پارٹی کے کام کاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلطنت چلی گئی ہے لیکن ہمارا رویہ اب بھی سلطان جیسا ہے۔
راہل گاندھی کی قائدانہ صلاحیت پر اٹھنے والے سوالات پر منیش تیواری نے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیںہیںکہ پارٹی کے لوںکا ان پر بھروسہ نہیںہے، اب تو دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی میںیقین کا اظہار کررہی ہیں۔ انھوں نے کہا مسٹر گاندھی کی امیج خراب کرنے کے لیے جو پروپیگنڈہ ہوتا رہا ہے، پارٹی اس کا مناسب طور پر جواب نہیںدے پائی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *